ڈاکٹر ساجد الرحمٰن صدیقی

2 کل کتب
دکھائیں

  • 1 کتابت و تدوین حدیث (جمعہ 29 اگست 2014ء)

    مشاہدات:3158

    دورِجدید میں بعض تعلیم یافتہ حضرات کے ذہنوں میں یہ غلط خیال پایا جاتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی احادیثِ مبارکہ اپنے اولین دور میں ضبطِ تحریر میں نہیں لائیں گئیں بلکہ صرف زبانی نقل وروایت پر اکتفاء کیاگیا۔اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دروخلافت میں کم از کم ایک صدی گزرجانے کے بعد احادیث کے لکھے جانے اور ان کو مدون کئے جانے کے کام کا آغاز ہوا۔ یہ خیال بالکل غلط ہے اورعلمی وتاریخی حقائق کے خلاف ہے ۔ صحابہ کرام ﷢ کے نزدیک علم سے مراد علم ِنبوت تھا (یعنی قرآن وحدیث) انہوں اپنی تمام زندگیاں قرآن وحدیث کے علم کے حصول میں لگا دیں۔ حضرت ابو ھریرہ ﷜نےزندگی میں کوئی مشغلہ اختیارنہیں کیا سوائے احادیث رسول اللہ ﷺ کے حفظ کرنے اوران کی تعلیم دینے کے ۔حضرت عبد اللہ بن عمر و العاص، حضرت انس ، حضرت علی ﷢ کے پاس احادیث کے تحریر ی مجموعے موجود تھے ۔ زیر نظر کتاب ’’کتابتِ وتدوین حدیث صحابہ کرام﷢ کے قلم سے ‘‘ مصر سے طبع شدہ ایک عربی کتاب ’’کتابۃ الحدیث بالاقلام الصحابۃ‘‘ کا ترجمہ ہے محترم ڈاکر ساجدالرحمن صدیقی صاحب نے اسے بعض جزوی تبدیلیوں اور چند اضافوں کے ساتھ اردو کےقالب میں ڈھالا ہے۔ جس   میں فاضل مصنف نے مستند حوالوں کے ساتھ اس حقیقت کو ثابت کیا ہے کہ صحابہ کرام﷢ نے احادیث کےمحموعے اور صحائف مدون اور مرتب کئے اور احادیث مبارکہ کو خود زمانۂ نبوت میں نبی کریم ﷺ کی اجازت اور آپ کے حکم سےضبط تحریر میں لاتے رہے۔ پہلی صدی ہجری میں کتابت وتدوین حدیث کا بہت عظیم الشان کام ہوا او رپھر اس کام کو حضرت عمر بن عبد العزیز نےباق...

  • 2 اسلامی فقہ کے اصول و مبادی (پیر 10 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:2445

    دنیا میں ہمیشہ تغیرات اور تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔کبھی کوئی ایسا دور نہیں گزرا کہ اس عالم میں جمود طاری ہو گیا ہو۔انسان کی ساری تاریخ انقلاب اور تغیرات سے بھری پڑی ہے۔لیکن موجودہ صدی میں تغیرات اور تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے۔ان تغیرات وتبدیلیوں نے امت مسلمہ کو ایک چیلنج سے دوچار  کر دیا ہے۔ایسا چیلنج جس کا تعلق براہ راست فقہ اسلامی کے احیاء اور تدوین نو سے ہے۔اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے جہاں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جدید تمدنی مسائل کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے تلاش کیا جائے وہیں جدید اسلوب کے مطابق فقہی کتب کی تدوین واشاعت کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اہل علم اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی فقہ کے اصول ومبادی "محترم ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں فقہ اسلامی کے  اصول ومبادی کو بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)


5 کل کتب
دکھائیں

  • 1 جدید جاہلیت (بدھ 31 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2264

    دور جدید کے مفکرین اسلام میں محمد قطب کا نام اس لحاظ سے سر فہرست ہے کہ انہوں نے اپنی تصانیف میں بڑی خوبی اور عقلی استدلال کے ساتھ اسلام کی ایسی تعبیر نو پیش کی ہے جو جدید ذہن کے لئے قابل قبول ہو سکے۔آپ اسلامی علوم پر گہری نگاہ اور نظر بصیرت کے ساتھ جدید علوم پر مضبوط گرفت اور ناقدانہ رائے رکھتے ہیں۔انہوں نے تہذیب نو کا ہمہ جہتی مطالعہ کیا ہے اور مغربی تہذیب کے فکری بودے پن کی نشاندہی کی ہے،اور اس مادہ پرست تہذیب کے بخئیے ادھیڑ کر ثابت کیا ہے کہ اس کی ساری چمک دمک دراصل جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے۔انہوں نے اس موضوع پر اس کے علاوہ بھی کتب تصنیف کی ہیں،جن میں "الانسان بین المادیۃ والاسلام"،"منھج التربیۃ الاسلامیۃ"،"التطور والثبات فی النفس البشریۃ"قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "جدید جاہلیت"محترم محمد قطب کی کتاب "جاھلیۃ القرن العشرین" کا اردو ترجمہ ہے ،اور ترجمہ کرنے کی سعادت محترم ساجد الرحمن صدیقی نے حاصل کی ہے۔اس کتاب میں مصنف نے جاہلیت کی تاریخ اور اسلام اور جاہلیت کی کشمکش کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جدید جاہلیت تاریخ کی تمام جاہلیتوں میں سے سب سے بد ترین ،سب سے خبیث اور سب سے عیار جاہلیت ہے۔اور اس جاہلیت نے انسانیت کو اس قدر مصائب وآفات میں مبتلاء کر دیا ہے کہ تاریخ میں کبھی انسانیت اس قدر ہولناک مصائب سے دوچار نہیں ہوئی ہے۔اور اب انسانیت کے لئے واحد راہ نجات یہی ہے کہ وہ اسلام کی جانب لوٹ آئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام انسانوں کو صراط مستقیم پر چلائے۔آمین(راسخ) متفرق کتب 

  • 2 فقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ (جمعہ 15 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2509

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئے اب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ شام کے معروف عالم دین  ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی﷾ ظہران یونیورسٹی سعودی عرب کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔اب تک وہ چاروں خلفاءے راشدین  کی فقہ کے علاوہ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن مسعود  ...

    فقہ 
  • 3 اسلام اور سیکولرزم (جمعہ 26 جون 2015ء)

    مشاہدات:4630

    ایک آزاد ملک میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو اور انہیں سیاسی اقتدار بھی حاصل ہو،وہاں اسلام کا دائرہ کار کیا ہونا چاہئے؟وہ مسلمانوں کی فقط انفرادی زندگی ہی سے متعلق رہے یا ریاستی امور میں بھی اس کی بالا دستی کو تسلیم کیا جائے؟یہ مسئلہ ان فکری مسائل میں سر فہرست رہا ہے جو بیسویں صدی کے دوران پوری اسلامی دنیا میں زیر بحث رہے۔ مصر کو اس اعتبار سے مسلم دنیا میں نمایاں مقام حاصل ہے کہ یہاں ان بنیادی فکری مسائل پر بھرپور بحث ہوتی رہی ہے،اور انہی مسائل میں اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کا مسئلہ بھی موجود ہے۔اس صدی کی تیسری دہائی میں علی عبد الرزاق کی "الاسلام واصول الحکم"نامی کتاب سامنے آئی۔ جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا حکومت اور اس سے متعلقہ مسائل اسلام کے دائرہ کار کا حصہ نہیں ہیں۔اس کتاب کی اشاعت پر مصر کے دینی حلقوں میں شدید رد عمل پیدا ہوا اور اس موقف کی بڑے جوش وخروش سے تردید کی گئی۔الغرض بیسویں صدی میں دونوں نکتہ نظر کی متعدد کتب چھپ کر سامنے آئیں۔چند سال قبل مصر کے بائیں بازو کے ایک وقیع مفکر اور صاحب قلم جناب احمد فواد زکریا نے اپنی تحریروں سے خالص سیکولر نقطہ کی شدت سے وکالت کی ۔اس بار اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے عالم عرب کے نامور صاحب علم محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب سامنے آئے، اور زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور سیکولرزم ایک موازنہ" تصنیف فرما کر سیکولرزم کے تصور کی نفی کی اور اسلام کے نظام حکومت کے خدوخال کو واضح کیا۔کتاب اصلا عربی میں لکھی گئی ہے جس کا اردو ترجمہ محترم ساجد الرحمن صدیقی صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی آپ ک...

  • 4 حرمت سود (جمعرات 13 اگست 2015ء)

    مشاہدات:2758

    سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود سے رک جائے تو پہلے جو سود کھا چکا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے مگر جو پھر بھی سود کھائے تو یہی لوگ دوزخی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے بندے کو پسند نہیں کرتا ۔ زیر تبصرہ کتاب" حرمت سود " مصر کے مشہور فقیہ اور استاذ ابو زہرہ  کی  کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔اور ترجمہ م...

  • 5 اسلام کا نظام حکومت اردو ترجمہ احکام السلطانیہ (اتوار 23 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:1112

    اسلام کا نظام ِ حکومت سیاسی دنیا کےلیے ناموسِ اکبر ہے  حاکمیت کی جان ہے ۔ اسلامی نظام حکومت کا  مآخذ اللہ کاآخری قانون ہے۔تمام برائیوں کا خاتمہ کرتاہے اور تمام بھلائیوں کاحکم  دیتا ہے جو انسان ِ کامل  کو  اللہ تعالیٰ کا نائب بناتا ہے۔ اوراسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ  ماوردی  کہتے  ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔ اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا  اور اسی کانتیجہ  ہے کہ  مسلمان ہمیشہ اپنی حکومت کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضہ ہے ۔قرآن پاک اور اح...


  • 0 کل کتب
    دکھائیں

    اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

    ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1528
    • اس ہفتے کے قارئین: 5030
    • اس ماہ کے قارئین: 32724
    • کل قارئین : 45920731

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں