جامع الاصول ( الوجیز فی اصول الفقہ ) جدید ایڈیشن(3059#)

عبد الکریم زیدان
ڈاکٹر احمد حسن
شریعہ اکیڈمی اسلام آباد
657
16425 (PKR)
14.5 MB

وہ علم جس  میں احکام کے مصادر ،ان کے دلائل کے ، استدلال  کے  مراتب اور استدلال کی شرائط سےبحث کی جائے او راستنباط کے طریقوں کووضع کر کے  معین قواعد کا استخراج کیا جائے  کہ جن قواعد کی پابندی کرتے ہوئے  مجتہد  تفصیلی  دلائل سے احکام  معلوم کرے ، اس علم کا  نام اصول فقہ ہے ۔علامہ  ابن خلدون کے بقول اس وجہ سے یہ علم علوم شریعت میں سے  سب سے عظیم، مرتبے میں سب سے بلند اور  فائدے کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتبرہے (مقدمہ ابن خلدون ص:452)جس طرح کسی بھی زبان کو جاننے کےلیے  اس زبان کے قواعد واصول  کو سمجھنا ضروری ہے  اسی طر ح فقہ میں مہارت حاصل  کرنےکے لیے  اصول  فقہ  میں دسترس  اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے  اس علم کی اہمیت  کے  پیش نظر  ائمہ فقہاء و محدثین نے  اس موضوع پر  کئی کتب تصنیف کی ہیں اولاً  امام شافعی نے الرسالہ کے  نام سے    کتاب تحریرکی  پھر اس کی روشنی میں  دیگر اہل  علم نے کتب  مرتب کیں۔ اصول  فقہ کی تاریخ میں  بیسویں صدی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ا  س دور میں علم اصول فقہ نےایک نئی اٹھان لی اوراس بر کئی جہتوں سے کام کاآغاز ہوا:مثلاً تراث کی تنقیح وتحقیق ،اصول کاتقابلی مطالعہ ،راجح مرجوح کاتعین اور مختلف کتب میں بکھری مباحث کو  یک جا پیش کرنےکے ساتھ  ساتھ  موجودہ قانونی اسلوب اور سہل زبان میں پیش کرناوغیرہ ۔اس میدان میں کام کرنےوالے اہل علم میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر عبد الکریم زیدان  کا بھی ہے۔ اصول فقہ  پران کی  مایۂ کتاب ’’ الوجیز فی اصول الفقہ‘‘ اسی اسلوب کی نمائندہ کتاب ہے  اور اکثر مدارس دینیہ میں شامل نصاب  ہے ۔
زیر نظر  کتاب  ’’ جامع الاصول ‘‘ سید عبدالکریم  زیدا ن کی اصول  فقہ   کے موضوع پر جامع  عربی  کتاب ’’الوجیز فی اصول الفقہ‘‘ کا ترجمہ ہے  ۔ فاضل مصنف نے اس  کتاب کو   چارابو اب(باب اول :حکم کی مباحث۔ باب دوم :احکام کے دلائل کی بحث  میں۔باب ثالث:احکام کے استنباط کے طریقہ  اور قواعد اور ان کے ساتھ ملحق قواعد ترجیح  اور ناسخ  ومنسوخ۔باب  چہارم : اجتہاد ا راس کی شرائط ،مجتہد،تقلید اوراس  کےتعریف۔) میں  تقسیم کرکے   مثالوں کے ساتھ   تفصیلی مباحث پیش کی  ہیں ۔ مصنف  نے  اس میں ہر مسئلے کے بارے  میں بنیادی اوراہم اصول اختصار وجامعیت کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ اس کتاب کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ مؤلف نے کسی ایک مکتب فکر  کے اصول پیش  نہیں کیے اور نہ کسی خاص مکتب فقہ کی تقلید وحمایت کی ہے۔اختلافی مسائل میں مصنف نے مختلف آراء کا محاکمہ کیا ہے اور آخر میں اپنی رائے پیش کی ہے ۔ عربی کتاب کو اردو قالب میں ڈھالنےکی سعادت  ڈاکٹر احمد حسن نے  حاصل کی  ہے۔مترجم نےترجمہ کے علاوہ حاشیے میں بعض مقامات پر اضافاجات بھی کیے  ہیں۔اس سے قبل یہ کتاب مجتبائی پریس لاہور سے شائع ہوئی تھی لیکن اس میں   کچھ پیرا گراف   ترجمہ ہونے سے رہ گئے تھے۔اس ایڈیشن میں   ڈاکٹر عبدالحی ابڑو صاحب نے  کتاب کی دوبارہ   نظر ثانی کی اور جن پیراگراف کا ترجمہ رہ گیا تھا ان  کا ترجمہ کرکے  کتاب میں شامل کردیا ہے  اورمکمل کتاب   کو کمپوز کروا کر  طباعت کےاعلیٰ معیار پر شائع کیا۔جس کی وجہ سےیہ ایڈیشن پہلے ایڈیشن سے  زیادہ مفید ہوگیا ہے۔امید ہے یہ کاوش اصول فقہ کے طلبہ  اور علمائے کرام کےلیے مفید ثابت ہوگی۔یہ کتاب اپنے موضوع میں افادیت او رجامعیت  کے پیش نظر   وفاق المدارس  سلفیہ  او راکثر مدارس دینیہ کے  نصاب میں شامل ہے ۔(م۔ا)
 

عناوین

 

صفحہ نمبر

ابتدائیہ

 

17

کچھ ترجمے کے بارے میں

 

21

مقدمہ

 

25

اصول فقہ کی تعریف

 

25

مرکب اضافی ہونے کےاعتبار سے

 

25

لقب کےاعتبار سے

 

30

اصول فقہ کی غرض و غایت

 

32

علم اصول فقہ کا آغاز وارتقا

 

33

اصول فقہ کے مباحث کےبارے میں علماء کے اسالیب

 

37

ترتیب موضوعات

 

40

باب اول : مباحث حکم

 

41

فصل اول : حکم اور اس کی اقسام

 

43

پہلی مبحث : حکم کی تعریف اور اس کی بنیادی اقسام

 

43

حکم شرعی کی قسمیں

 

46

حکم تکلیفی اور حکم وضعی کےدرمیان فرق

 

47

دوسری مبحث:حکم تکلیفی کی اقسام

 

49

واجب

 

50

واجب کی قسمیں

 

51

بلحاظ وقت ادا

 

51

مقدار کے اعتبار سے واجب کی قسمیں

 

52

مطلوب کے تعین وعدم تعین کےاعتبار سےواجب کی قسمیں

 

53

مکلف بہ کےاعتبار سے واجب کی قسمیں

 

54

مندوب

 

56

مندوب کی اقسام

 

56

حرام یامحرم

 

59

حرام کی قسمیں

 

60

مکروہ

 

63

مکروہ کی قسمیں

 

64

مباح

 

65

عزیمت و رخصت

 

67

رخصت کی قسمیں

 

69

رخصت کا حکم

 

70

تیسری مبحث: حکم وضعی کی قسمیں

 

73

سبب

 

73

سبب کی قسمیں

 

73

اسباب کے مسببات کے ساتھ ربط

 

74

سبب اور علت

 

75

شرط

 

76

شرط اور رکن

 

76

شرط اور سبب

 

77

شرط کی قسمیں

 

77

مانع

 

79

صحیح وباطل

 

81

باطل و فاسد

 

83

فصل دوم: حاکم

 

87

حاکم کے بارے میں تین نظریے

 

88

فصل سوم : محکوم فیہ

 

93

پہلی مبحث : محکوم فیہ کی شرائط ( صحت تکلیف کی شرائط

 

95

دوسری مبحث : نسبت کےاعتبار سے محکوم فیہ کی مختلف حیثیتیں

 

100

اللہ تعالیٰ کا حق ( حق اللہ )

 

100

بندے کا حق ( حق العبد)

 

102

فصل چہارم: محکوم علیہ

 

105

تکلیف کے صحیح ہونے کی شرائط

 

105

شرط تکلیف پر اعتراضات

 

106

فصل پنچم : اہلیت اور اس کے عوارض

 

111

پہلی مبحث : اہلیت

 

111

اہلیت وجوب

 

111

اہلیت ادا

 

112

کامل اور ناقص اہلیت

 

113

پہلا دور : دور جنین

 

113

دوسرا دور: پیدائش سے سن تمیز تک

 

114

تیسرا دور : سن تمیز سےبلوغ تک

 

116

چوتھا دور: بالغ ہونے کے بعد کا دور

 

117

دوسری مبحث : اہلیت کےعوارض

 

118

عوارض کی قسمیں

 

118

قدرتی عوارض ( عوارض سماوی)

 

119

جنون (دیوانگی )

 

119

فتور عقل ( عتابت )

 

120

نسیان

 

121

نیند اور بےہوشی

 

122

مرض

 

123

موت

 

126

اکتسابی عوارض

 

129

جہل ( ناواقفیت )

 

129

خطا

 

132

ہزل ( مذاق)

 

134

سفاہت

 

137

نشہ

 

148

اکراہ(مجبور کرنا)

 

155

باب دوم : احکام کےمآخذ

 

167

مآخذ احکام کی مختلف قسمیں

 

169

فقہ اسلامی کےمآخذ کی ترتیب

 

172

فصل اور : قرآن مجید

 

175

قرآن کی تعریف اور اس کی حجیت

 

175

قرآن کی خصوصیات

 

175

اعجاز قرآن کے مختلف پہلو

 

178

احکام قرآن

 

179

قرآن مجید میں احکام کی تفصیل

 

181

احکام کے بیان کرنے میں قرآن کا اسلوب

 

183

احکام پرقرآن مجید کی دلالت

 

185

فصل دوم: سنت

 

187

سنت کی تعریف

 

187

سنت بحثیثت ماخذ قانون

 

188

ماہیت کےاعتبار سے سنت کی قسمیں

 

191

سند کےاعتبار سے سنت کی قسمیں

 

196

متواتر سنت

 

196

سنت متواترہ کی قسمیں

 

197

سنت مشہورہ

 

199

سنت آحاد( خبر واحد)

 

200

سنت آحاد پر عمل کی شرطیں

 

201

سنت آحاد کی قبولیت کے لیےمالکی فقہا کی شرطیں

 

202

سنت آحاد کی قبولیت کےلیےحنفی فقہاء کی شرطیں

 

203

وہ احکام جو سنت سےثابت ہیں

 

207

احکام پر سنت کی دلالت

 

207

فصل سوم: اجماع

 

223

اجماع کی تعریف

 

223

اجماع مجتہدین کی اصطلاحی تعریف کا تجزیہ

 

224

اجماع کی حجیت

 

226

اجماع کی قسمیں

 

228

اجماع صریح ( عزیمت )

 

228

اجماع سکوتی ( رخصت )

 

229

دو قولوں پر اجماع کے بارے میں اختلاف

 

231

اجماع کی سند

 

234

انعقاد اجماع کا امکان

 

235

دور حاضر میں اجماع کی سند اوراس کے انعقاد کا امکان

 

238

فصل چہارم: قیاس

 

243

ارکان قیاس

 

244

قیاس کی مثالیں

 

245

قیاس کی شرائط

 

247

اصل سے متعلق شرطیں

 

248

فرع سے متعلق شرطیں

 

250

علت سے متعلق شرطیں

 

252

علت ایک ظاہر وصف ہونا چاہیے

 

257

علت ایک منضبط اورغیر متبدل وصف ہونا چاہیے

 

258

وصف حکم کےمناسب ہونا چاہیے

 

259

علت ایک متعدی وصف ہونا چاہیے

 

260

علت ایسے اوصاف میں ہونی چاہیے جن کو شارع نے غیر معتبر نہ قرار دیا ہو

 

261

 

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1490
  • اس ہفتے کے قارئین: 10425
  • اس ماہ کے قارئین: 38119
  • کل قارئین : 45982117

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں