دکھائیں کتب
  • 81 تاریخ ملت جلد اول (ہفتہ 25 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:4261

    تاریخ  ایک  ضروری اور مفید علم  ہے  اس  سے ہم کو دنیا کی تمام نئی اور پرانی قوموں کےحالات معلوم ہوتے ہیں او رہم ان کی ترقی اورتنزلی کےاسباب سے واقف ہوجاتے ہیں ہم جان  جاتے ہیں کہ کس طرح ایک قوم عزت کےآسمان کا ستارہ  بن کر چکمی اور دوسری قوم ذلت کے میدان کی گرد بن کر منتشر ہوگئی۔اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ  دنیا میں مذہب اسلام کی ابتداء انسان کی پیدائش کے ساتھ  ہوئی ۔ دنیا میں جس قدر پیغمبر آئے ان  سب نے  اپنی  امت کو اسلام ہی کاپیغام سنایا۔یہ ضرور ہے کہ خدا  کایہ پیغام دنیا کے ابتدائی زمانہ میں اس وقت کی ضرورتوں ہی کے  مطابق تھا جب دنیا نے ترقی کی منزل میں قدم رکھا  اور اس کی ضرورتوں میں اضافہ ہوا تو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ اس پیغام  کو مکمل صورت میں لے کر آئے۔ عام طور پر اللہ تعالیٰ کے اس مکمل پیغام کو ہی اسلام کہا جاتاہے ۔ اس لیے  تاریخ ِاسلام سے اس گروہ کی تاریخ مراد لی جاتی ہے جس نے اللہ  تعالیٰ کے آخری پیغمبر  حضرت  محمد مصطفیٰﷺ  کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے اس  مکمل اسلام کو قبول کیا ۔دنیا  کی اکثر قوموں کی تاریخ ، کہانیوں اور قصوں کی صورت میں  ملتی ہے  ۔ مگر اسلام کی تاریخ  میں یہ بات نہیں ہے ۔ اور مسلمانوں  نے شروع ہی سے اپنی تاریخ کو مستند طور پر لکھا  ہے اور ہر بات کا حوالہ دےدیا ہے  ۔یہی وجہ  ہے کہ دنیا کی تاریخ میں ’’ تاریخ اسلام‘‘ ایک خاص امتیاز رکھتی ہے ۔اس...

  • 82 تاریخ مکہ مکرمہ (پیر 16 مئی 2011ء)

    مشاہدات:14364

    مکہ مکرمہ کو روزہ اول سے دینی و مذہبی اعتبار سے مرکزیت حاصل رہی ہے اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے انسانوں  کے لیے بالعموم اور اہل اسلام کے لیے بالخصوص تاریخی کشش رکھتا ہے ۔اس لیے اس شہر مقدس کی  تاریخ حیطہ تحریر میں لانا ازحد ضروری تھا ۔کیونکہ اس میں مسلمانوں کی قلبی تسکین کا سامان تھا۔عربی زبان میں تاریخ مکہ مکرمہ اور دعوت اللہ کے تعمیری مراحل کا بیان کتب تاریخ میں تو ہے ہی البتہ اردو دان طبقہ کے لیے مکہ مکرمہ کی قدیم و جدید تاریخ لکھنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔اس عمدہ تاریخی موضوع کو مکتبہ دارالسلام نے بروقت تاڑ کر تاریخ مکہ مکرمہ کے نام سے کتاب مرتب کی جو ظاہری  اور باطنی حسن سے آراستہ ہے ۔اس میں مکہ مکرمہ کی فضیلت و اہمیت ،مکہ کی ابتدائی آبادکاری بیت اللہ کی تعمیر ،تعمیر کعبہ کے مختلف ادوار میں تعمیری مراحل سمیت چاہ زم زم  کی کھدائی ،آب زم زم کی روح زمین کے پانیوں سے فوقیت ،حج کے احکام ،حدود حرم کا بیان اور مکہ مکرمہ کے فلاحی اداروں کا بیان عمدہ اسلوب نگارش سے مرتب کیا گیا ہے ۔کتاب میں انتہائی مفید اور معلومات افزاء ہے   جس کا مطالعہ قارئین کو ماضی و حال  سے روشناس کراتا ہے اور قلوب و اذہان میں مکہ مکرمہ اور کعبۃ اللہ کے بارے میں جو خیالات و احساسات ہیں ان کی خوب روحانی سیرابی کرتا ہے ۔
     

  • 83 تاریخ میں سفر (جمعرات 09 اگست 2018ء)

    مشاہدات:681

    تاريخ ايک ايسا مضمون ہے جس ميں ماضی ميں پيش آنے والے لوگوں اور واقعات کے بارے ميں معلومات ہوتی ہيں۔تاریخ کا لفظ عربی زبان سے آیا ہے اور اپنی اساس میں اَرخ سے ماخوذ ہے جس کے معنی دن (عرصہ / وقت وغیرہ) لکھنے کے ہوتے ہیں۔ تاریخ جامع انسانی کے انفرادی و اجتماعی عمال و افعال اور کردار کا آئینہ دار ہے۔ تاریخ انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں گزشتہ نسلوں کے بیش بہا تجربات آئندہ نسلوں تک پہنچاتی ہے، تاکہ تمذن انسانی کا کارواں رواں دواں رہے۔تاريخ دان مختلف جگہوں سے اپنی معلومات حاصل کرتے ہيں جن ميں پرانے نسخے، شہادتيں اور پرانی چيزوں کی تحقيق شامل ہے۔ البتہ مختلف ادوار ميں مختلف ذرائع معلومات کو اہميت دی گئی۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ اس کے توسط سے افراد و قوم ماضی کے دریچے سے اپنے کردہ اور نا کردہ اعمال و افعال پر تنقیدی نظر ڈال کر اپنے حال و استقبال کو اپنے منشا و مرضی کے مطابق ڈھال سکے۔ ابن خلدون کا کہنا ہے کہ مورخ کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض نقال نہ ہو بلکہ تاریخ سے متعلقہ تمام علوم کو جانتا ہو۔ اسے اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ حکمرانی و سیاست کے قواعد کیا ہیں؟  تاريخ ايک بہت وسيع موضوع ہے، اس لیےاس کی کئی طرح سے قسم بندی کی گئی ہے۔ زنظر کتاب ’’ تاریخ میں سفر‘‘  جناب عدنان  طارق کی تاریخی معلومات کے متعلق  ایک منفرد کاوش ہے ۔یہ کتاب تاریخی معلومات  کاایک قابل قدر ذخیرہ ہے  اور غالباً اردو  زبان میں اپنی نوعیت کی اولین کوشش ہے جس میں  واقعات کو سن وار بیان کرتے ہوئےتمام  معلوم تاریخ کا احاطہ کیا ہے ۔  مصنف...

  • 84 تاریخ نظریہ پاکستان (اتوار 09 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:1609

    نظریہ پاکستان سے مراد یہ تصور ہے کہ متحدہ ہندوستان کے مسلمان، ہندوؤں، سکھوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں سے ہر لحاظ سے مختلف اور منفرد ہیں ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح اساس دین اسلام ہے اور دوسرے سب مذاہب سے بالکل مختلف ہے، مسلمانوں کا طریق عبادت کلچر اور روایات ہندوؤں کے طریق عبادت، کلچر اور روایات سے بالکل مختلف ہے۔ اسی نظریہ کو دو قومی نظریہ بھی کہتے ہیں جس کی بنیاد پر 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیا۔پاکستان کی تاریخ پر لکھی ہوئی کتابوں میں عموماً منفی نقطۂ نظر پایا جاتا ہے ۔ حالانکہ مسلمانان ہند وپاکستان کی عظیم تاریخ ساز جدو جہدکو محض منفی رد عمل بتانا ان کے ساتھ ناانصافی ہے ۔
    زیر نظر کتاب ’’ تاریخ نظریہ پاکستان ‘‘ محترم جناب پروفیسر سید محمد سلیم کی کاوش ہے فاضل مصنف نے اس کتاب میں مطالعہ پاکستان کےلیے مثبت بنیادوں کو نمایاں کیا ہے مزیدبرآں پاکستان کی جدوجہد کو ملت اسلامیہ کی عمومی تاریخ سےمربوط انداز میں پیش کیاگیا ہے ۔اکثر مصنفین اور محققین نظریہ پاکستان اور تحریک پاکستان کا فہم حاصل کرنےمیں ناکام رہے ۔تحریک پاکستان کے حقیقی محرکات دریافت نہ کرسکے اور اسی باعث جدّوجہد پاکستان کی صحیح تاریخ لکھنے سے قاصر رہے ۔ کتاب ہذا کےمصنف کے پیش نظر قیام پاکستان کی صحیح مگر مختصر تاریخ لکھنا ہے ۔ بعید اور قریب عوامل کی نشاندہی کرنا ہے ہندوستان میں دستوری اصلاحات کا ارتقاء یا مسلم لیگ کی تاریخ لکھنا پیش نظر نہیں ہےبلکہ نظریہ پاکستان کے ارتقاء کو واضح کرنا ہے ۔(م۔ا)

  • 85 تاریخ پاکستان اور حکمرانوں کا کردار (جمعہ 23 جون 2017ء)

    مشاہدات:2063

    تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدو جہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔یوں تو تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز 23 مارچ 1940ء کے جلسے کو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل شروعات تاریخ کے اس موڑ سے ہوتی ہیں جب مسلمانان ہند نے ہندو نواز تنظیم کانگریس سے اپنی راہیں جدا کر لی تھیں ۔1930 ءمیں علامہ اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے اکیسیوں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر بر صغیر کے شمال مغبر میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کر دیا ۔ چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933 میں پاکستان کا نام دیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938 میں اپنے سالانہ اجلاس میں بر صغیر کی تقسیم کے حق میں قرار داد پاس کر لی ۔ علاوہ ازیں قائد اعظم بھی 1930 میں علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی جدو جہد کا فیصلہ کر چکے تھے ۔1940 تک قائد اعظم نے رفتہ رفتہ قوم کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ۔23مارچ 1940 کے لاہور میں منٹو پارک میں مسلمانان ہند کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں تمام ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مسلمانوں نے قافلے کی صورت سفر کرکے شرکت کی اور ایک قرار داد منظور کی جس کے مطابق مسلمانان ہند انگریزوں سے آزادی کے ساتھ ساتھ ہندوؤں سے بھی علیحدہ ریاست چاہتے تھے ۔ لیکن افسوس  کہ آج جب ایک عام پاکستانی اپنے روز مرہ کے معاملات کے سلسلے میں حکومت کے مختلف اداروں سے رابطہ کرتا ہے تو قدم قدم پر سر پیٹ کر رہ جاتا ہے۔اسے یقین ہو ج...

  • زیر تبصرہ کتاب " تاریخ ہند پر نئی روشنی " دراصل ابن فضل اللہ عمری دمشقی ﷫ (المتوفی  764ھ) کی ایک ضخیم اور کئی جلدوں پر مشتمل  قلمی عربی کتاب "مسالک الابصار فی ممالک الامصار" کے ہندوستان سے متعلق ایک باب کا اردو ترجمہ ہے اور ترجمہ کرنے کی سعادت محترم خورشید احمد فارق نے حاصل کی ہے۔مؤلف موصوف ﷫نے اپنی کتاب میں عام معلومات اور جنرل نالج کی چیزیں جمع کی ہیں۔اس کتاب کا ایک قلیل حصہ خود مؤلف کی ذاتی آراء ،مشاہدات یا ہمعصر اشخاص مثلا سیاحوں،سفیروں اور معلموں کے بیانات پر مبنی ہے۔اور ہندوستان پر جو طویل باب ہے وہ بیشتر زبانی معلومات پر مشتمل ہے۔مؤلف موصوف نے اس باب میں اپنے ہمعصر سلطان محمد بن تغلق (المتوفی 782ھ)کے حالات اور سیرت پر سیاحوں،معلموں اور سفیروں کی زبانی روشنی ڈالی ہے۔ممکن ہے ان لوگوں کے بعض بیانات مثلا وہ جن کا تعلق تغلق شاہ کی فیاضی اور فوج کے اعداد وشمار اور تنخواہوں سے ہے،مبالغہ یا سہو سے آلودہ ہوں،تاہم بحیثیت یہ باب نہایت اہم ہے کیونکہ اس میں ایسی نادر تاریخی،اجتماعی اور اقتصادی معلومات ہیں جن سے خود ہندوستان میں لکھی تاریخوں کا دامن خالی ہے۔اس کے علاوہ اس باب میں تغلق شاہ کی آئین جہاں داری اور پبلک  سیرت کی ایک ایسی تصویر بھی نظر آتی ہے جو اس تصویر سے بہت مختلف ہے جو بعض ہمعصر مؤرخوں نے ان سے ذاتی ناراضگی یا فقہی ومسلکی اختلاف کی بناء پر پیش کی ہے۔ (راسخ)

  • 87 تاریخ یورپ ( 1453 ء تا 1789 ء ) (اتوار 23 دسمبر 2018ء)

    مشاہدات:1137

    یورپ  دنیا کے سات روایتی براعظموں میں سے ایک ہے تاہم جغرافیہ دان اسے حقیقی براعظم نہیں سمجھتے اور اسے یوریشیا کا مغربی جزیرہ نما قرار دیتے ہیں۔ اصطلاحی طور پر کوہ یورال کے مغرب میں واقع یوریشیا کا تمام علاقہ یورپ کہلاتا ہے۔یورپ کے شمال میں بحر منجمد شمالی، مغرب میں بحر اوقیانوس، جنوب میں بحیرہ روم اور جنوب مشرق میں...

  • 88 تاشقند کا جوہری (پیر 29 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:4031

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے محترم طاہر نقاش نے تاریخ کے سچے واقعات کو کہانی کے انداز میں بیان کرنے کاسلسلہ شروع کیا ہے۔ ’تاشقند کا جوہری‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں تاشقند کے ایک تاجر کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے متعدد کہانیاں شامل کتاب کی گئی ہیں۔ جن میں قبر کی یاد، سخی حاتم، دو عجیب و غریب بہنیں، دیانت داری کا بدلہ، جھوٹے نبی کی دعا قبول ہو گئی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 89 تباہ شدہ اقوام (پیر 14 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:3840

    قرآنِ حکیم کابڑا حصہ اممِ سابقہ  کے  احوال وبیان پرمشتمل ہے  جو یقیناً غور وفکر کامتقاضی ہے ۔ان قوموں میں سےاکثر نے اللہ  کےبھیجے  ہوئے پیغمبروں کی دعوت کو مسترد کردیا اور ان کے ساتھ بغض وعناد اختیارکیا۔ ان کی اسی سرکشی کے باعث ان پر اللہ  کا غضب نازل ہوا اور وہ صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹادی گئیں۔آج کے دور میں بھی ماہرین آثار قدیمہ کی تحقیقات اوردرفیافتوں کے  نتیجے  میں  قرآنِ حکیم میں بیان کردہ سابقہ اقوام کی تباہی  کے حالات قابل ِمشاہدہ ہوچکے ہیں ۔زیر نظرکتاب  ’’تباہ شدہ اقوام‘‘ جوکہ  معروف رائٹر ہارون یحی کی تصنیف ہے ۔اس میں انہوں نے  احکامِ الٰہی  سے انحراف کے سبب ہلاک ہونے والے  چند معاشروں اور قوموں کا تذکرہ کیا ہے ۔یہ کتاب بتاتی ہے  کہ قرآن مجید میں ذکر کی جانے والی یہ اقوام کس طرح تباہ  ہوئیں۔اپنے موضوع پر یہ ایک  بےمثال کتاب ہے ۔کتاب ہذا کے  فاضل مصنف ہارون یحی نے بہت سی سیاسی اور مذہبی کتب  لکھیں  جو زیور طباعت سے آراستہ ہو  کر قارئین تک  پہنچ چکی ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم  اورناشرین  کی اس کوشش کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

  • 90 تحریک آزادی میں علماء کا کردار 1857 سے قبل (بدھ 12 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:3329

    تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدو جہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔یوں تو تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز 23 مارچ 1940ء کے جلسے کو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل شروعات تاریخ کے اس موڑ سے ہوتی ہیں جب مسلمانان ہند نے ہندو نواز تنظیم کانگریس سے اپنی راہیں جدا کر لی تھیں ۔1930 ءمیں علامہ اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے اکیسیوں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر بر صغیر کے شمال مغبر میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کر دیا ۔ چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933 میں پاکستان کا نام دیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938 میں اپنے سالانہ اجلاس میں بر صغیر کی تقسیم کے حق میں قرار داد پاس کر لی ۔ علاوہ ازیں قائد اعظم بھی 1930 میں علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی جدو جہد کا فیصلہ کر چکے تھے ۔1940 تک قائد اعظم نے رفتہ رفتہ قوم کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحریک آزادی 1857ء سےبھی پہلے شروع ہو چکی تھی، جس میں علماء کرام نے بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ زیر تبصرہ کتاب" تاریخ پاکستان اور حکمرانوں کا کردار "محترم فیصل احمد ندوی بھٹکلی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے 1857ء سے پہلے تحریک آزادی میں علماء کرام کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی ہےاور قیام پاکستان کے اسی پس منظر کو تفصیل سے بیان  کیا ہے۔(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 855
  • اس ہفتے کے قارئین: 11500
  • اس ماہ کے قارئین: 39194
  • کل قارئین : 45988992

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں