اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #2057

    مصنف : محمد رمضان یوسف سلفی

    مشاہدات : 2793

    مورخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی حیات و خدمات

    (جمعہ 16 مئی 2014ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ

    مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں آپ برصغیر پا ک وہند کے اہل علم طبقہ میں او رخصوصا جماعت اہل میں ایک معروف شخصیت ہیں آپ صحافی ،مقرر، دانش ور وادیب اور وسیع المطالعہ شخصیت ہیں ۔ ان کا شمارعصر حاضر کے ان گنتی کےچند مصنفین میں کیا جاتا ہے جن کے قلم کی روانی کاتذکرہ زبان زدِعام وخاص رہتا ہے تاریخ وسیر و سوانح ان کا پسندیدہ موضوع ہے او ر ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کے انہوں نے برصغیر کے جلیل القدر علمائے اہل حدیث کے حالاتِ زندگی او ر ان کےعلمی وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کردیا ہے مولانا محمداسحاق بھٹی ﷾ تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ مسائل فقہ میں بھی نظر رکھتے ہیں مولانا صاحب نے تقریبا 30 سے زائدکتب تصنیف کیں ہیں جن میں سے 26 کتابیں سیر واسوانح سے تعلق رکھتی ہیں مولانا تصنیف وتالیف کےساتھ ساتھ 15 سال ہفت روزہ الاعصتام کے ایڈیٹر بھی رہے الاعتصام میں ان کےاداریے،شذرات،مضامین ومقالات ان کے انداز ِفکر او روسیع معلومات کے آئینہ دار ہیں الاعتصام نے علمی وادبی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے اس کی ایک وجہ محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی انتھک مساعی اور کوششیں ہیں ۔زیر نظر کتاب مولانا اسحاق بھٹی ﷾ کی حیات وخدمات کے حوالے اہم کتاب ہے جس میں مولانا محمد یوسف سلفی ﷾ نے بھٹی صاحب کی سوانح حیات کا نہایت دلنشیں انداز میں عمدہ اور پر وقار تذکرہ تعارف پیش کیا ہے مولانا محمد رمصان یوسف سلفی ﷾ جماعت اہل حدیث پاکستان کےمعروف قلمکار ہیں ان کے مضامین ومقالات مختلف موضوعات پر ملک کے مؤقر رسائل وجرائد میں شائع ہوتے ہیں رہتے ہیں سلفی صاحب کتاب ہذا کے علاوہ تقریبا 8 کتب کے مصنف ہیں۔(م۔ا)

     

     

  • 2 #5379

    مصنف : محمد علی جانباز

    مشاہدات : 3996

    سنن ابن ماجہ اور اس کی شرح انجاز الحاجۃ

    (پیر 22 مئی 2017ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ

    مولانا محمد علی جانباز ﷫ ۱۹۳۴ء میں مشرقی پاکستان کے ضلع فیروز پور (بھارت) کے قصبہ بُدھو چک میں پیدا ہوئے۔ آپ نے تعلیم کا آغاز اپنے قصبہ ہی کی مسجد سے کیا۔ یہاں آپ کے استاد مولانا محمد﷫ تھے۔ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کی ابتدائی کتابیں بھی انہیں سے پڑھیں اور بعد ازاں اپنے استاد محترم محمد﷫ کی ترغیب پر1951ء میں آپ مدرسہ تعلیم الاسلام اوڈانوالہ ضلع فیصل آباد میں داخل ہوئے۔ یہاں پر آپ نے مولانا محمد صادق خلیلاور شیخ الحدیث مولانا محمد یعقوب قریشی  سے مختلف فنون کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۹۵۳ء میں آپ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں تشریف لے گئے۔ وہاں پر آپ نے شیخ العرب والعجم استاد العلماء حضرت العلام حافظ محمد محدث گوندلویاور استاد العلماء مولانا ابو البرکات احمد مدراسیسے کسبِ فیض کیا۔ یہاں سے فراغت کے بعد ۱۹۵۸ء میں جب جامعہ سلفیہ کا باقاعدہ آغاز ہوا تو آپ حضرت العلام حافظ محمد گوندلوی  کے ہمراہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد تشریف لے گئے۔ جامعہ سلفیہ میں آپ نے حافظ محمد گوندلوی سے صحیح بخاری، مؤطا امام مالک، حجۃ اللہ البالغہ، سراجی اور کئی ایک کتابوں کا درس لیا۔ حافظ محمد گوندلوی کے علاوہ آپ نے جامعہ سلفیہ میں ہی مولانا شریف اللہ خان سواتی اور حضرت مولانا پروفیسر غلام احمد حریری رحمہما اللہ سے بھی استفادہ کیا۔ اور اِسی اثناء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحانات بھی پاس کئے۔۱۹۵۸ء میں حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷫ کی تحریک پر آپ نے جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے ہی اپنے تدریسی دور کا آغاز کیا۔ ۱۹۶۲ء میں مولانا جانباز سیالکوٹ تشریف لے گئے ۔ وہاں پر آپ نے پہلے پہل مدرسہ دار الحدیث جامع مسجد اہلحدیث ڈپٹی باغ میں درس و تدریس شروع کی دو سال بعد یہ مدرسہ ڈپٹی باغ والی مسجد سے مسجد اہل حدیث ابراہیمی میانہ پورہ منتقل ہو گیا۔ اور مدرسہ کا نام دار الحدیث سے تبدیل کر کے جامعہ ابراہیمیہ رکھا گیا اور مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے درس و تدریس کا سلسلہ جاری و ساری رہا اور آپ کی شب و روز کی محنت کی وجہ سے جامعہ ابراہیمیہ ترقی کے منازل طے کرتا رہا۔ ۱۹۷۰ء میں مولانا محمد علی جانباز  نے جامعہ ابراہیمیہ کو جامع مسجد اہل حدیث محلہ لاہوری شاہ ناصر روڈ پر منتقل کیا۔ ۱۹۷۹ء تک آپ اسی مسجد میں درس و تدریس کا کام سر انجام دیتے رہے اور ۱۹۸۰ء میں جامعہ ابراہیمیہ کو مستقل طور پر الگ عمارت میں منتقل کیا او بعد میں اس کا نام ابراہیمیہ سے تبدیل کر کے جامعہ رحمانیہ رکھا گیا۔ جو اب بھی کتاب و سنت کی تعلیمات کو پھیلانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ مولانا جماعت اہلحدیث کے ممتاز عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ محقق، مؤرخ، مجتہد، فقیہ، ادیب اور دانشور تھے۔ آپ کی ذات محتاجِ تعارف نہیں۔ تفسیر، حدیث، فقہ، اصول فقہ، اسماء الرجال، تاریخ و سیر، منطق و فلسفہ، لغت و ادب اور صرف و نحو پر آپ کو کامل عبور تھا۔ حدیث اور اسماء الرجال پر آپ کی نگاہ وسیع تھی ۔علومِ اِسلامیہ میں جامع الکمالات ہونے کے ساتھ ساتھ مولانا صاحب عادات و خصائل کے اعتبار سے نہایت پاکیزہ انسان اور زُہد و ورع، تقویٰ و طہارت اور شمائل و اخلاق میں سلف صالحین اور علماءِ ربانیین کے اوصاف کے حامل تھے۔موصوف نے تدریس وتقریراور مختلف مضامین کے علاوہ متعدد عنوانات پر مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں سے شُہرہ آفاق کتاب اِنجاز الحاجہ شرح اِبن ماجہ (۱۲ جلدیں)، اہمیت نماز، صلوۃُ المصطفیٰ ﷺ، معراجِ مصطفیٰ، آلِ مصطفیٰ ﷺ، توہین رسالت کی شرعی سزا، احکامِ نکاح، احکامِ طلاق، حرمتِ متعہ بجوابِ جواز متعہ اور تاریخ پاکستان اور حکمرانوں کا کردار قابل ذکر ہیں۔مولانا 2008ء میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام تر محنتوں اور کاوشوں کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور آپ کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’سنن ابن ماجہ اور اس کی شرح انجاز الحاجۃ ‘‘ وطن عزیز کے معروف مضمون نگار ، سیرت نگار مصنف کتب کثیرہ محترم جنا ب عبدالرشید عراقی ﷾ کی تحریر ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کی سنن ابن ماجہ کی عظیم شرح انجاز الجاجۃ ، امام بن ماجہ اور سنن ابن ماجہ پر مختصر روشنی ڈالی ہے اور شیخ الحدیث مولانا جانباز ﷫ کی مختصر سوانح حیات ،برصغیر میں علمائے اہل حدیث کی خدمات حدیث کا اختصار کے ساتھ تذکرہ کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 3 #5381

    مصنف : محمد علی جانباز

    مشاہدات : 2314

    مشورہ اور استخارہ کی شرعی حیثیت

    (منگل 23 مئی 2017ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ

    اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ اسلام مسلمانوں کو تمام معاملات میں مشورہ کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ بعد میں پشیمانی اور ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں "شوریٰ" نام کی ایک سورت ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ کو صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ۔اور استخارہ کے معنیٰ ہیں خیر طلب کرنا، اور شریعت کی زبان میں اس سے خاص دعا مراد ہے۔ جب کسی معاملے کے مفید یا مضر ہونے میں تردد ہو اور کوئی ایک فیصلہ انسان کے لئے مشکل ہو جائے تو اس مشکل اور تردد کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعاءکرناتا کہ اس معاملے میں تردد دور ہو جائے اور مفید پہلو متعین ہو جائے، یہ دعاء”استخارہ“ کہلاتی ہے ۔ استخارہ در حقیقت مشورے کی ایک اعلیٰ ترین شکل ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ مشورہ اپنے ہم جنس افراد سے کیاجاتا ہے تاکہ ان کے علم و تجربہ سے فائدہ اٹھا کر مفید سے مفید تر قدم اٹھایا جائے، جبکہ استخارہ میں اللہ تعالیٰ سے عرض کیا جاتاہے کہ اے اللہ! ہمارے اس معاملے کے مفید اور مضر تمام پہلوؤں سے آپ بخوبی واقف ہیں، آپ کے علم میں جو پہلو ہمارے لئے ،مفید اور بہتر ہو اسے ہمارے سامنے روشن کرکے ، ہمارے دلوں کو اس کی طرف مائل و مطمئن کردیجئے۔لہذا کسی جائزمعاملہ میں جب تردد ہو تواس کی بہتری والی جہت معلوم کرنےکےلیےاستخارہ کرنا مسنون عمل ہے،حضوراکرم ﷺ کی احادیث سے اس کی ترغیب ملتی ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’مشورہ اور استخارہ کی شرعی حیثیت ‘‘ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کی تحریر ہے ۔ اس میں انہو ں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں استخارہ اور مشورہ کےمتعلق تمام ضروری مسائل کویکجا کردیا ہے تاکہ عوا م الناس اس سے آسانی مستفید ہوسکیں ۔ (م۔ا)

  • 4 #5394

    مصنف : محمد علی جانباز

    مشاہدات : 1420

    رزق حلال اور رشوت (محمد علی جانباز)

    (اتوار 28 مئی 2017ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ

    اسلام نے ہر اس ذریعہ اکتساب کو منع اور حرام قرار دیا ہے جس میں کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ کمایاجائے۔انہی حرام ذرائع میں سے ایک نہایت قبیح ذریعہ اکتساب رشوت ہے، جو شریعت کی نظر میں انتہائی جرم ہے اور یہ جرم آج ہمارے معاشرے میں ناسور کی مانند پھیل چکا ہے، جس کا سد باب مسلمان معاشرے کے لئے ضروری ہے۔رشوت انسانی سوسائٹی کا وہ بد ترین مہلک مرض ہے جو سماج کی رگوں میں زہریلے خون کی طرح سرایت کر کے پورے نظام انسانیت کو کھوکلا اور تباہ کر دیتا ہے ۔ رشوت ظالم کو پناہ دیتی ہے ۔ اور مظلوم کو جبراً ظلم برداشت کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ رشوت کے ہی ذریعے گواہ ، وکیل اور حاکم سب حق کو ناحق اور ناحق کو حق ثابت کرتے ہیں ۔ رشوت قومی امانت میں سب سے بڑی خیانت ہے ۔اسلامی شریعت دنیا میں عدل و انصاف اور حق و رحمت کی داعی ہے ۔ اسلام نے روزِ اول سے ہی انسانی سماج کی اس مہلک بیماری کی جڑوں اور اس کے اندرونی اسباب پرسخت پابندی عائد کی ۔ اور اس کے انسداد کے لیے انتہائی مفید تدابیر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ۔ جن کی وجہ سے دنیا ان مہلک امراض سے نجات پا جائے۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ رزق حلال اور رشوت ‘‘شارح سنن ابن ماجہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں کتاب وسنت کی روشنی میں رشوت کی حرمت پر خامہ فرسائی کی ہے ۔ تاکہ عامۃ الناس اس کے اخلاقی وروحانی مفاسد کو جان سکیں اور اس گناہ سے بچ سکیں۔ اللہ تعالیٰ اس مختصر کتاب کو اہل اسلام کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 5 #5515

    مصنف : عبد الحنان جانباز

    مشاہدات : 1050

    تذکرہ مساجد اہلحدیث سیالکوٹ شہر

    (ہفتہ 24 جون 2017ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ

    مساجد روئے زمین پر زمین کا سب سےبہتر حصہ ہیں احتراماً انہیں بیت اللہ یعنی اللہ کاگھر بھی کہا جاتاہے اسلا م اور مسلمانوں کامرکزی مقام یہی مسجدیں ہیں اور مسجد اللہ کا وہ گھر ہے جس میں مسلمان دن اوررات میں کم ازکم پانچ مرتبہ جمع ہوتےہیں اوراسلام کا سب اہم فریضہ ادا کرکے اپنے دلو ں کوسکون پہنچاتے ہیں ،مسجد وہ جگہ ہے جہاں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر ایک ہی قبلہ کی طرف رخ کر کے اللہ تعالیٰ کے سامنے بندگی کااظہار کرتے ہیں،او رمسجد ہی زمین پر اللہ کے نزدیک سب سے پاکیزہ متبرک اوربہترین جگہ ہے ۔نبی کریم ﷺ جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو سب سے پہلے آپ ﷺ نے جوعملی قدم اٹھایا وہ مسجد کی تعمیرتھی ۔قرآن مجید میں اور احادیث نبویہ ﷺ میں بے شمار مقامات پر مسجد کی اہمیت اور قدر منزلت کوبے بیان کیا ہے۔او ر کئی اہل علم نے مسجد کی فضیلت اور احکام ومسائل کے حوالے سے کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تذکرہ مساجد اہل حدیث سیالکوٹ ‘‘شارح سنن ابن ماجہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے صاجزادے مولانا عبدالحنان جانباز ﷾ کی مرتب شدہ ہے ۔فاضل مرتب نے اس کتاب کو دو ابواب میں تقسیم کیا ہے باب اول میں سیالکوٹ کی 94 مساجد کا تذکرہ کیا ہے ۔مساجد کے تعارف میں مسجد کا نام اور اس کے ساتھ اس کا محل وقوع ، سن تعمیر، سنگ بنیاد ، افتتاحی نماز پہلی اذان ، افتتاحی خطبہ اور اس کے بعد مسجد کا تاریخی پس منظر تفصیلاً بیان کیا ہے اور طرح مسجد کی تعمیرمیں جن حضرات نے مالی تعاون کیا ان کے اسمائے گرامی درج کیے ہیں ۔ کتاب کے آغاز میں علامہ ابو عمر عبدالعزیز سوہدروی نے اپنے تحقیقی مضمون ’’سیالکوٹ تاریخ کے آئینے میں ‘‘سیالکوٹ کی علمی وتاریخی حیثیت پر روشنی ڈالی ہے ۔ اور با ب دوم میں 68 علمائے کرام کے مختصر خود نوشت حالات بیان کیے ہیں۔ان مختصر حالات میں ان علماء نے اپنی تعلیمی وتدریسی زندگی کا تذکرہ کیا ہے اور یہ بھی بتایا دیا ہے کہ کہاں کہاں تدریسی خدمات سرانجام دی ہیں اور اس مسجد میں کتنے عرصہ سے وہ اپنا فرض منصبی انجام دے رہے ہیں ۔(م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1900
  • اس ہفتے کے قارئین 14550
  • اس ماہ کے قارئین 38090
  • کل قارئین49240245

موضوعاتی فہرست