اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #1062

    مصنف : عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری

    مشاہدات : 15945

    العلم والعلماء(عبد الرؤف جھنڈانگری)

    (ہفتہ 31 دسمبر 2011ء) ناشر : ندوۃ المحدثین گوجرانوالہ

    علم انسانیت کی معراج ہے ،جس کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل کرتا ،دین کی اساسیات سے واقف ہوتا اور مقصد حیات سے آگاہی حاصل کرتاہے ۔علم عظمت و رفعت کی علامت ہے اور علم ہی کی بدولت اللہ مالک الملک نے انسان کو دیگر مخلوقات سے فوقیت دی ۔کتاب وسنت میں دینی علم حاصل کرنے کی کافی ترغیب اور علما کے مراتب عام امتیوں سے اعلیٖ و افع بیان ہوئے ہیں ۔وحی کے علم کی حفاظت و ذمہ داری اور تبلیغ و اشاعت کا فریضہ علمائے امت پر عائد ہے ، اس مناسبت سے علماء کا فرض ہے کہ دینی علوم میں دلچسپی لیں اور کتاب وسنت کے احکام و فرائض ،فقہی مسائل اور ضروریات دین کے متعلقہ امور سے کما حقہ بہرہ مند ہوکر تبلیغ دین کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوں۔دینی علم سیکھنا اور سکھانا بہت معزز پیشہ ہے اور دینی تعلیم سے وابستہ افراد انتہائی قابل احترام ہیں ۔زیر نظر کتاب  میں علم کی فضیلت و اہمیت ،علماء کے فضائل ومناقب ، حصول علم کے لیے مصروف طلباء کی عظمت اورتعلیم سیکھنے اور سکھانے کے آداب کا بیان ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع بہترین تصنیف ہے ، جو قارئین کی علمی ذوق کو ابھارے گی اوران میں حصول علم کا نیا ولولہ پیدا کرے۔(ف۔ر)
     

  • 2 #2388

    مصنف : عبد الرشید عراقی

    مشاہدات : 2166

    تذکرہ ابو الوفا یعنی حافظ ثناء اللہ امر تسریؒ

    (پیر 25 اگست 2014ء) ناشر : ندوۃ المحدثین گوجرانوالہ

    شیخ الاسلام مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری﷫(1868۔1948ء) کی ذات محتاجِ تعارف نہیں۔آپ امرتسر میں پیدا ہوئے ۔ مولانا غلام رسول قاسمی ، مولانا احمد اللہ امرتسری ، مولانا احمد حسن کانپوری ، حافظ عبدالمنان وزیر آبادی اور میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحہم اللہ سے علوم دینیہ حاصل کیے۔ مسلک کے لحاظ سے اہل حدیث تھے اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے تمام زندگی کوشاں رہے۔ اخبار اہل حدیث جاری کیا۔ اور بہت سی کتب لکھیں ۔ فنِّ مناظرہ میں مشاق تھے۔ سینکڑوں کامیاب مناظرے کئے ۔ آب بیک وقت مفسر قرآن ، محدث ، مورخ ، محقق ،مجتہدو فقیہ ،نقاد، مبصر ،خطیب ومقرر ،دانشور ،ادیب وصحافی ، مصنف ، معلم ،متکلم ،مناظر ومفتی کی جملہ صفات متصف تھے۔قادیانیت کی   تردیدمیں نمایا ں خدمات کی وجہ سے آپ کو فاتح قادیان کے لقب سے نوازا گیا ۔ برصغیر کے نامور اہل قلم و اہل علم نے آپ کے علم و فضل، مصائب و بلاغت، عدالت و ثقاہت، ذکاوت ومتانت، زہد و ورع، تقوی و طہارت، ریاضت وعبادت، نظم و ضبط اور حاضر جوابی کا اعتراف کیا ہے۔علامہ سید سلیمان ندوی نے آپ کی وفات پر اپنے رسالہ معارف اعظم گڑھ میں لکھا: ”مولانا ثناء اللہ ہندوستان کےمشاہیرعلماء میں تھے۔ فن مناظرہ کے امام تھے۔ خوش بیان مقرر تھے۔متعدد تصانیف کے مصنف تھے۔ موجودہ سیاسی تحریکات سے پہلے جب شہروں میں اسلامی انجمنیں قائم تھیں اور مسلمانوں اور قادیانیوں اور آریوں اور عیسائیوں میں مناظرے ہوا کرتے تھے، تو مرحوم مسلمانوں کی طرف سے عموما نمائندہ ہوتے تھے۔ اور اس حوالے سے وہ ہمالیہ سے لے کر خلیج بنگال تک رواں دواں رہتے تھے۔اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف جس نے بھی زبان کھولی اور قلم اٹھایا اس کے حملے کو روکنے کے لئے ان کا قلم شمشیر بے نیام ہوتا تھا۔ اور اسی مجاہدانہ خدمت میں انہوں نے عمر بسر کر دی۔ مرحوم اسلام کے بڑے مجاہد سپاہی تھے۔ زبان اور قلم سے اسلام پر جس نے بھی حملہ کیا۔ اس کی مداخلت میں جو سپاہی سب سے آگے بڑھتا وہ وہی ہوتے۔ اللہ تعالی اس غازی اسلام کو شہادت کے درجات و مراتب عطا کرے‘‘(معارف اعظم گڑھ مئی ١٩٤٨ء)آپ کی حیات حدمات کے حوالے مختلف   اہل علم نے   کتب تصنیف کی ہیں ۔اور پاک وہند کے رسائل وجرائد میں   اب بھی آپ کی خدمات جلیلہ کے سلسلے میں مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’تذکرۂ ابو الوفا‘‘ معروف   مضمون نگار اور مؤرخ مولانا عبدالرشید عراقی﷾ کی تصنیف ہے ۔ جس میں عراقی صاحب نے شیخ الاسلام فاتح   قادیان ،امام المظاظرین مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری ﷫ کے حالات زندگی اور آپ کی علمی خدمات پر سیر حاصل بحث  اورجامع تبصرہ پیش کیا ہے ۔اللہ تعالی شیخ الاسلام کی دفاع اسلام کے لیے   خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی ٰمقام عطافرمائے (آمین) م۔ ا

  • 3 #2412

    مصنف : بشیر الرحمٰن صدیقی

    مشاہدات : 2563

    تقلید کیا ہے

    (جمعہ 12 ستمبر 2014ء) ناشر : ندوۃ المحدثین گوجرانوالہ

    کسی آدمی کی  وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ   ہو،نہ ہی  اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور ہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ  دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند  دہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے  فروغ حاصل ہوا  ہے ۔  امت کا  درد رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں ۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔زیر کتاب’’تقلید کیاہے ؟  تقلید کے موضو ع پر  مولانا چراغ دین  (اہل حدیث) اور  مولانا  قاضی شمس الدین  (دیوبندی ) مابین   تحریری مناظرہ کی  روداد ہے   جس  مولانا بشیر الرحمٰن صدیقی نے مرتب  کرکیا  اور  ادارہ ندوۃ المحدثین  گوجرانوالہ  نے   افادہ عام کے لیے شائع کیاہے ۔(م۔ا)

     

  • 4 #2549

    مصنف : محمد اسماعیل سلفی

    مشاہدات : 3387

    واقعہ افک

    (اتوار 26 اکتوبر 2014ء) ناشر : ندوۃ المحدثین گوجرانوالہ

    واقعہ افک سیرت نبوی کا ایک اہم واقعہ ہے۔ یہ منافقین کی طرف سے خانوادہ نبوی کو نشانہ بنانے کی سب سے بڑی کوشش تھی جس میں سیدہ عائشہ پر بدکاری کی تہمت لگائی گئی۔اس الزام کی بنا پر سیدہ اور ان کے گھر والے خصوصاً ان کے والد حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ اور سب سے بڑھ کر ان کے شوہر رسول خدا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ذہنی اذیت سے دوچارہوگئے ۔ اس دوران میں تمام مسلمان بھی گومگو اور باہمی اختلاف و انتشار کی کیفیت میں مبتلا رہے۔ایک مہینے تک بہتان تراشی اور ایذا رسانی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔اس کے بعد کہیں جاکر سورہ نور کی ابتدائی آیات  میں حضرت عائشہ کی براء ت اللہ تعالیٰ نے خود نازل کی اور یہ طوفان تھما۔اس کے بعد تہمت لگانے والے مسلمانوں کو اسی اسی کوڑے مارے گئے ،جو تہمت لگانے کی شرعی سزا ہے۔یہ ایک صحیح اور ثابت شدہ واقعہ ہے جس کا تذکرہ قرآن مجید اور متعدد احادیث صحیحہ کے اندر موجود ہے۔مگر بعض عقل پرستوں کو یہ واقعہ سمجھ نہیں آتا ،وہ اس کے راویوں پر مختلف قسم کے اعتراضات کر کے ان احادیث کو سرے سے ہی اڑا دیتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب"واقعہ افک"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷫ کی گرانقدر تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے ادارہ طلوع اسلام کی جانب سے اس واقعہ اور اس واقعہ کے راویوں پراٹھائے گئے اعتراضات کا مدلل اور دندان شکن جواب دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی ان جلیل القدر خدمات کو قبول فرمائے ،اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • 5 #2830

    مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف

    مشاہدات : 3662

    تحریک جہاد جماعت اہلحدیث اور علمائے احناف

    (اتوار 11 جنوری 2015ء) ناشر : ندوۃ المحدثین گوجرانوالہ

    دار العلوم دیو بند اور اس کے فیض یافتگان کی علمی ودینی خدمات برصغیر پاک وہند کی تاریخ کا ایک اہم باب ہےاور ان دوائر میں اپنے مخصوص فقہی نقطہ نظر کے مطابق انہوں نے جو کام کئے ہیں،اختلاف کے باوجود ان سے مجال انکار نہیں ہے۔لیکن تعلیمی ،تدریسی،تبلیغی اور تصنیفی خدمات کا دائرہ قومی وسیاسی خدمات سے مختلف ہے۔ضروری نہیں کہ تعلیم وتدریس اور تبلیغ سے شغف اور وابستگی رکھنے والا سیاست کا مرد میدان بھی ہو۔افسوسناک بات یہ ہے کہ وابستگان دیو بند نے اپنے اکابر کی سوانح وخدمات بیان کرنے میں اسی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ جن تک وہ اپنے اکابر کو میدان سیاست کا رستم وسہراب ثابت نہ کر دیں ،ان کی علمی عظمت اور تاریخی اہمیت ثابت نہیں ہو سکتی ہے۔لہذا انہوں نے تاریخ نگاری کی بجائے تاریخ سازی کا راستہ اختیار کیا اور متعدد ایسے فضائل اپنے نام کرنے کی کوشش کی جن کا ان کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " تحریک جہاد ،جماعت اہل حدیث اور علمائے احناف " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، عظیم مفسر قرآن اور انٹر نیشنل مکتبہ دار السلام کے شعبہ تحقیق کے مدیر محترم مولانا حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے دیوبندی اہل قلم کے افتراءات والزامات اور ان کی تاریخ سازی کی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے اور دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ تحریک جہاد میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے اہل حدیث علماء کرام تھے ،جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں پیش کیں اور تختہ دار پر جھول گئے۔(راسخ)

  • 6 #3014

    مصنف : سید حسین حسنی

    مشاہدات : 2198

    صاحب السیف والقلم (امام ابن تیمیہ)

    (اتوار 22 مارچ 2015ء) ناشر : ندوۃ المحدثین گوجرانوالہ

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ(661۔728ھ) کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے  جس طر ح اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ او رباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعد رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسرکی  ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے۔امام ابن  تیمیہ کی  حیات وخدمات  کےحوالے سے   عربی زبان میں  کئی  کتب اور یونیورسٹیوں میں ایم فل  ، پی ایچ ڈی  کے  مقالہ جات لکھے جاچکے ہیں ۔ اردو زبان میں  امام صاحب کے حوالے    سے کئی کتب اور  رسائل وجرائد میں  سیکڑوں مضامین ومقالات شائع  ہوچکے ہیں ۔   چند کتب  قابل ذکر ہیں ۔ابو زہرہ کی کتاب  جس کاعربی سے اردو میں ترجمہ  رئیس احمد جعفری ندوی  نے کیاہے   حضرت امام پر تحقیق کاحق ادا رکردیا۔ مولانا ابو الحسن ندوی﷫ نے اپنی مشہور تصنیف ’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ کی جلد دوم   امام ابن تیمیہ کےلیے  وقف کردی اورڈاکٹر غلام جیلانی  برق نے  ان پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی ۔ زیر نظر کتاب ’’ صاحب  السیف  والقلم ‘‘سید حسین  حسنی کی تصنیف ہےجس میں انہوں نے   امام ابن تیمیہ کے اصلاحی  کارناموں کو اجاگر کرنےکی کوشش کی  ہے اور بہترین انداز میں امام موصوف کی زندگی  کےمختلف پہلو پیش کیے  ہیں ۔مصنف  نے  امام   صاحب کے متعلق  جتنی  بھی  چھوٹی بڑی کتب لکھی گئی ہیں ان کا گہرا مطالعہ کیا مناسب اور موزوں  اقتباسات  اپنی اس کتاب میں  شامل کیے ۔ جن سے  نوجوان اور عمر رسیدہ  تعلیم یافتہ حضرا  ت  فائد اٹھا سکتے ہیں۔جبکہ   امام موصوف کے متعلق کئی  ایسی ضخیم کتابیں لکھی گئی ہیں ۔جن  میں فلسفہ وکلام اور تصوف کے دقیق مسائل سے بھی  بحث کی گئی  ہے ۔ ان سےوہی اصحاب علم زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو عربی کے قدیم جدلی علوم سے واقف ہو ں۔اللہ تعالیٰ  امام کو جنت الفردوس میں  اعلیٰ مقام عطافرمائے ا ور مصنف کی اس کاوش  قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)
     

     

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 870
  • اس ہفتے کے قارئین 4747
  • اس ماہ کے قارئین 56780
  • کل قارئین49481373

موضوعاتی فہرست