حافظ عماد الدین ابن کثیر

8 کل کتب
دکھائیں

  • 1 تاریخ ابن کثیر ترجمہ البدایہ والنہایہ ۔ جلد1 (بدھ 26 جنوری 2011ء)

    مشاہدات:28452

    اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم علیہ السلام کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

    تاریخ اسلام 

  • 2 تفسیر ابن کثیر(تخریج شدہ) جلد1 (پیر 02 مئی 2011ء)

    مشاہدات:29089

    دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصد...

  • 3 قصص الانبیآء، قرآن واحادیث صحیحہ کی روشنی میں (جمعرات 30 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:29463

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو پیدا کیا تو ان کے لیے ہدایت کا راستہ مبرہن کرنے کے لیےبہت سی برگزیدہ ہستیوں کو بھی مبعوث فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو خالق کی پہچان عطا کریں اور توحید خالص کا درس دیں۔ پیش نظر کتاب ’قصص القرآن‘ میں انہی بابرکت شخصیات کا ذکر خیر ہے۔ جنہوں نے راہ خدا میں آنے والی ہر تکلیف کا جواں مردی سے مقابلہ کیا اور خدا کا پیغام بندوں تک پہنچانے میں کسی پس و پیش سے کام نہ لیا۔  اس کتاب میں جہاں اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں فرشتے دیوانہ وار  آدم علیہ السلام کو سجدہ کرتے نظر آتے ہیں وہیں یوسف علیہ السلام تخت مصر پر براجمان دکھائی دیتے  ہیں۔ اس میں حضرت نوح علیہ السلام کی طویل داستان تبلیغ ہے تو ہودعلیہ السلام کی قوم پر آنے والے عذاب کا قصہ بھی درج ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نمرود کے سامنے سینہ سپر نظر آتے ہیں تو حضرت ایواب علیہ السلام طویل بیماری کے باوجود اپنے رب کا شکر ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ الغرض اس کتاب میں قرآن میں بیان کردہ تمام قصص کو یکجا کر دیا گیا ہے تاکہ اہل خرد عبرت و نصائح حاصل کر کے خالق حقیقی کے سامنے جبین نیاز کو جھکا دیں۔ یہ کتاب امام ابن کثیر کی مشہور زمانہ کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ سے ماخوذ ہے۔ جس کا اردو ترجمہ مولانا عطاء اللہ ساجد نے کیا ہے ۔ اس ترجمہ کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں قصص کے ذیل میں پیش کی جانے والی احادیث تحقیق و تخریج کے ساتھ پیش کی گئی ہیں اور متعدد نقشوں کی مدد سے جائے پیدائش اور مقامات ہجرت و وفات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ہر باب  کے آخر میں بیان کیے جانے والے نتائج و فوائد اور عبرتوں نے کتاب کی...

  • دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچ...

  • 5 قصص الانبیاء ( ابن کثیر) (جمعرات 05 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:5913

    ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ کائنات کی افضل اور بزرگ ترین ہستیاں انبیاء ﷩ ہیں ۔جن کا مقام انسانوں میں سے بلند ہے ۔اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں اپنے دین کی تبلیغ کے لیے منتخب فرمایا لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کےلیے انہیں مختلف علاقوں اورقوموں کی طرف مبعوث فرمایا۔اور انہوں نے بھی تبلیغ دین اوراشاعتِ توحید کےلیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ اشاعت ِ حق کے لیے شب رروز انتھک محنت و کوشش کی اور عظیم قربانیاں پیش   کر کے پرچمِ اسلام بلند کیا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جابجا ان پاکیزہ نفوس کا واقعاتی انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔ جس کا مقصد محمد ﷺ کو سابقہ انبیاء واقوام کے حالات سے باخبر کرنا، آپ کو تسلی دینا اور لوگوں کو عبرت ونصیحت پکڑنے کی دعوت دینا ہے بہت سی احادیث میں بھی انبیاء ﷺ کےقصص وواقعات بیان کیے گئے ہیں۔انبیاء کے واقعات وقصص پر مشتمل مستقل کتب بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’قصص الانبیاء‘‘ از امام ابن کثیر الدمشقی ﷫ انبیاء کے ایمان افروز حالات وواقعات پر مشتمل کتاب ہے ۔امام موصوف کی مایہ ناظ کتابوں میں سےایک ہے اور اپنے موضوع پر لکھی جانے والی اہم ترین کتابوں میں سے ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے جسے اردو قالب میں ڈھالنے کی سعادت ڈاکٹر حافظ عمران ایوب لاہوری ﷾ نے کی ہے ۔موصوف نے اس کتاب کا نہایت ہی سلیس اور رواں ترجمہ پیش کیا ہے۔ اسلوب عام فہم ہے، آیات واحادیث کی مکمل تخریج وتحقیق اوراکثر مقامات سے ضعیف اورموضوع روایات کو خارج کیاہے ۔مترجم موصوف نے اس کتاب کی اصل ترتیب کوبھی درست کیا ہے ،ایک ہی واقعہ میں روایات کے تکرار ک...

  • حافظ ابن کثیر﷫(701۔774ھ) عالمِ اسلام کے معروف محدث، مفسر، فقیہہ اور مورخ تھے۔ پورا نام اسماعیل بن عمر بن کثیر، لقب عماد الدین اور ابن کثیر کے نام سے معروف ہیں۔ آپ ایک معزز اور علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ ان کے والد شیخ ابو حفص شہاب الدین عمر اپنی بستی کے خطیب تھے اور بڑے بھائی شیخ عبدالوہاب ایک ممتاز عالم اور فقیہہ تھے۔کم سنی میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ بڑے بھائی نے اپنی آغوش تربیت میں لیا۔ انہیں کے ساتھ دمشق چلے گئے۔ یہیں ان کی نشوونما ہوئی۔ ابتدا میں فقہ کی تعلیم اپنے بڑے بھائی سے پائی اور بعد میں شیخ برہان الدین اور شیخ کمال الدین سے اس فن کی تکمیل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے ابن تیمیہ وغیرہ سے بھی استفادہ کیا۔ تمام عمر آپ کی درس و افتاء ، تصنیف و تالیف میں بسر ہوئی۔ آپ نے تفسیر ، حدیث ، سیر ت اور تاریخ میں بڑی بلند پایہ تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔ تفسیر ابن کثیر اور البدایۃ والنہایۃ آپ کی بلند پایہ ور شہرہ آفاق کتب شما ہوتی ہیں۔ البدایۃ والنہایۃ 14 ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس وقت ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سےاہم ہیں۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ...

  • وقوع قیامت کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سےہے اور ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے ۔ قیامت آثار قیامت کو نبی کریم ﷺ نے احادیث میں وضاحت کےساتھ بیان کیا ہے جیساکہ احادیث میں میں ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تک عیسیٰ بن مریم ﷤نازل نہ ہوں گے ۔ وہ دجال اورخنزیہ کو قتل کریں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا، یا پھر تلوار ہوگی۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف وحدہ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی ﷤کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔علامات قیامت کے حوالے سے ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں  ابواب بندی بھی کی ہے اور بعض اہل علم نے   اس موضوع پر کتب لکھی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’قرب قیامت کے فتنے اور جنگیں مع قیامت کےبعد کے احوال ‘‘ مشہور ومعروف مؤرخ ومفسر قرآن علامہ حافظ ابن کثیر کی کتاب النہایۃ فی الفتن والملاحم کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب آخری زمانے کے فتنوں اور آثار قیامت کے بارے میں انتہائی اعلیٰ درجے کی کتاب ہے ۔حافظ ابن کثیر ﷫ نے اس کتاب میں ان قرآنی آیات اور احادیث کو ذکر کیا ہے جو آخری زمانے کے فتنوں اور علامات قیامت سے متعلق ہیں کہ قیامت سے پہلے کون کون سے بڑے واقعات رونما ہونگے۔ چھوٹی بڑی نشانیاں کو ن سی ہیں؟ اس دار فانی سے جانے کے بعد صبح دوام زندگی تک کیا ہوگا ؟ میدان حشر میں کیا ہوگا؟شفاعت او رحساب کتاب...

  • 8 کائنات کیسے وجود میں آئی (جمعرات 28 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:2120

    اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔  ہمارے نبیﷺ کو ایک جامع اور مکمل شریعت دے کر مبعوث فرمایا اور  ہمارے فائدے کے لیے آسمان وزمین ‘پہاڑ‘ پرندے‘ جانور الغرض ہر ضروریات زندگی کو وجود بخشا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کائنات وجود میں تو آ گئی ہے مگر آئی کیسے؟ اس کے لیے زیر تبصرہ کتاب اپنے موضوع پر تفصیلاً کتاب ہے۔ یہ کتاب ’’قصۃ الخلق‘‘ جو کہ عربی زبان میں تھی کا اردو ترجمہ’’ کائنات کیسے وجود میں آئی‘‘ کے نام سے ہے اس میں مصنف نے قرآن کریم وصحیح احادیث نبویہﷺ کی روشنی میں کائنات کی تخلیق اور اس کے عدم سے وجود میں آنے کے حالات پر تفصیل سے کلام کیا ہے‘ نیز اس میں زمین وآسمان کی پیدائش‘ جنت ودوزخ‘ ملائکہ‘ ابلیس‘ جنات‘ لوح محفوظ وغیرہ کی تخلیق ان کے حالات وکیفیات کو قرآن کریم اور صحاح کی احادیث کی روشنی میں پوری جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہ کتاب محدثانہ طرز پر احادیث کی مکمل اسناد کے التزام کے ساتھ ترتیب دی گئی ہے۔ یہ کتاب سائنسی حقائق کے انکشافات کے کتاب نہیں ‘ نہ ہی اس کا مقصد سائنس کے نظریات کی تصدیق یا تکذیب ہے بلکہ قرآن وحدیث کے بیان کردہ یقینی وقطعی حقائق ہیں جن کے غلط اور ابطال ہونے کا ایک مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس میں...


  • 0 کل کتب
    دکھائیں

    اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

    0 کل کتب
    دکھائیں

    اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

    ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 2035
    • اس ہفتے کے قارئین: 6156
    • اس ماہ کے قارئین: 45724
    • کل قارئین : 47262974

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں