اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #3869

    مصنف : سیف الرحمن الفلاح

    مشاہدات : 2907

    تاریخ بیت اللہ شریف

    (منگل 22 دسمبر 2015ء) ناشر : مرکز الدعوۃ الاسلامیہ، اوکاڑا

    خانہ کعبہ، کعبہ یا بیت اللہ مسجد حرام کے وسط میں واقع ایک عمارت ہے، جو مسلمانوں کا قبلہ ہے، جس کی طرف رخ کرکے مسلمان عبادت کرتے ہیں۔ یہ دینِ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ صاحب حیثیت مسلمانوں پر زندگی میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے۔ سیدنا ابراہیم ﷤ کا قائم کردہ بیت اللہ بغیر چھت کےایک مستطیل نما عمارت تھی جس کےدونوں طرف دروازے کھلے تھےجو سطح زمین کےبرابر تھےجن سےہر خاص و عام کو گذرنےکی اجازت تھی۔ اس کی تعمیر میں 5 پہاڑوں کےپتھر استعمال ہوئےتھےجبکہ اس کی بنیادوں میں آج بھی وہی پتھر ہیں جو سیدنا ابراہیم ﷤ نےرکھےتھے۔ خانہ خدا کا یہ انداز صدیوں تک رہا تاوقتیکہ قریش نے 604ء میں اپنےمالی مفادات کےتحفظ کےلئےاس میں تبدیلی کردی کیونکہ زائرین جو نذر و نیاز اندر رکھتےتھےوہ چوری ہوجاتی تھیں۔قریش نےبیت اللہ کے شمال کی طرف تین ہاتھ جگہ چھوڑ کر عمارت کو مکعب نما (یعنی کعبہ) بنادیا تھا۔اور اس پر چھت بھی ڈال دی تاکہ اوپر سےبھی محفوظ رہے، مغربی دروازہ بند کردیا گیا جبکہ مشرقی دروازےکو زمین سےاتنا اونچا کردیا گہ کہ صرف خواص ہی قریش کی اجازت سےاندر جاسکیں۔ اللہ کےگھر کو بڑا سا دروازہ اور تالا بھی لگادیا گیا جو مقتدر حلقوں کےمزاج اور سوچ کےعین مطابق تھا۔ حالانکہ نبی پاک ﷺ (جو اس تعمیر میں شامل تھےاور حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنےکا مشہور زمانہ واقعہ بھی رونما ہوا تھا) کی خواہش تھی کہ بیت اللہ کو ابراہیمی تعمیر کےمطابق ہی بنایا جائے۔سیدنا عبداللہ بن زبیر ﷜ (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے اور سیدنا حسین ﷜ کی شہادت کےبطور احتجاج یزید بن معاویہ سےبغاوت کرتےہوئےمکہ میں اپنی خود مختاری کا اعلان کیا تھا) نےنبی پاک ﷜ کی خواہش کا احترام کرتےہوئے685ءمیں بیت اللہ کو دوبارہ ابرہیمی طرز پر تعمیر کروایا تھا مگر حجاج بن یوسف نے693ءمیں انہیں شکست دی تو دوبارہ قریشی طرز پر تعمیر کرادیا جسےبعد ازاں تمام مسلمان حکمرانوں نےبرقرار رکھا۔خانہ کعبہ کےاندر تین ستون اور دو چھتیں ہیں۔ کعبہ کےاندر رکن عراقی کےپاس باب توبہ ہےجو المونیم کی 50 سیڑھیاں ہیں جو کعبہ کی چھت تک جاتی ہیں۔ چھت پر سوا میٹر کا شیشے کا ایک حصہ ہےجو قدرتی روشنی اندر پہنچاتا ہے۔ کعبہ کی موجودہ عمارت کی آخری بار 1996ءمیں تعمیر کی گئی تھی اور اس کی بنیادوں کو نئےسرےسےبھرا گیا تھا۔ کعبہ کی سطح مطاف سےتقریباً دو میٹر بلند ہےجبکہ یہ عمارت 14 میٹر اونچی ہے۔ کعبہ کی دیواریں ایک میٹر سےزیادہ چوڑی ہیں جبکہ اس کی شمال کی طرف نصف دائرےمیں جوجگہ ہےاسےحطیم کہتےہیں اس میں تعمیری ابراہیمی کی تین میٹر جگہ کےعلاوہ وہ مقام بھی شامل ہےجو حضرت ابراہیم ﷤نےحضرت ہاجرہ علیہا السلام اور حضرت اسماعیل ﷤کےرہنےکےلئےبنایا تھا جسےباب اسماعیل کہا جاتا ہے۔ اب بھی حرم مکی کی توسیع وتعمیر کا کام جاری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تاریخ بیت اللہ شریف‘‘ مولانا سیف الرحمٰن الفلاح کی تصنیف ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں بیت اللہ کی مکمل تاریخ جمع کردی ہے۔ اس کے ہر حصے اور تمام متعلقات کے فضائل بھی تفصیلاً بیان کیے گئے ہیں جو محققانہ اور دلچسپ ہیں ۔مصنف موصوف نے کعبۃ اللہ، چاہ زمزم، مقام ابراہیم حجراسود، او رعمارا ت کعبہ وغیرہ سب ہی کو تاریخ کو تحقیق کے ساتھ لکھا ہے اور کتاب کاہر ہر حرف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مصنف کتاب اپنا تاریخی مزاج بھی رکھتے ہیں۔ مصنف موصوف نے منکرین حدیث اورمغرب زدہ حلقوں کی طرف سے پیدا کردہ بعض شبہات کابھی منجھے ہوئے انداز میں ازالہ کیاہے کتاب گومختصر ہے لیکن بیت اللہ شریف کے اجمالی تعارف کے لیے کافی مفید ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 1958ء میں شائع ہوئی ۔موجودہ ایڈیشن 1992 ء کا طبع شدہ ہے۔ اس میں فاضل مصنف کو بیت اللہ شریف اور اس کے دیگر ملحقہ مقامات کے تاریخی حالات کے سلسلہ میں جو نئی معلومات حاصل ہوئیں ان کا مناسب مقامات پر اضافہ کردیا گیا ہے۔ توسیعات سعودیہ کی مکمل رپورٹ جو انہیں سعودیہ کے آفس سیکرٹری نے بیان کی اسے بھی اس میں شامل کردیا ہے۔ اوراسی طرح حادثہ حرم مکی 1979ء کی اخباری رپورٹ اور ڈاکٹر حبیب الرحمن کیلانی کا مضمون حو توسیعات کے متعلق تھا ان کا آخر میں بطور ضمیمہ ذکر کیاگیا ہے۔ کتاب گومختصر ہے لیکن بیت اللہ شریف کے اجمالی تعارف کے لیے کافی مفید ہے۔ (م۔ا)

  • 2 #3939

    مصنف : جمال الدین ایم اے

    مشاہدات : 3716

    اصلاح معاشرہ

    (جمعہ 15 جنوری 2016ء) ناشر : مرکز الدعوۃ الاسلامیہ، اوکاڑا

    ہر صاحب عقل یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ معاشروں کی اصلاح وتعمیر میں قوموں کی فلاح وکامیابی وترقی چھپی ہے تاریخ گواہ ہےکہ ماضی میں جب تک مسلمانوں نےاپنے معاشرے کو اسلامی معاشرہ بنائے رکھا اس وقت تک مسلم قوم سر بلند رہی او رجیسے جیسے معاشرہ تباہ ہوگیاہے ویسے ویسے امتِ مسلمہ بھی اخلاقی زبوں حالی جڑ پکٹرتی چلی گئی چنانچہ معلوم ہوا کہ فوز وفلاح وکامیابی کے لیے اپنے معاشرے کی اصلاح کرناضرروی ہے معاشرےکی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں اور اصولوں کو اپنانا چاہیے او راسی پاک اوربے عیب ذات سے اصلاح طلب کرنی چاہیے۔سرور کائنات ﷺ کی بعثت کے وقت عرب معاشرہ جن گھناؤنے اعمال کامرتکب تھا قرآن وحدیث ہی کا نورتھا جس نے تاریک معاشرے کو روشن کرکردیا ان کی برائیوں کونیکیوں میں تبدیل کردیا ۔رزائل وفضائل کالباس پہنا دیا کہ وہ لوگ شرافت،دیانت،محبت ،اخوت، شرم وحیا اوراخلاق فاضلہ کے پتلے بن گئے ترقی کے زینے چڑہتے چڑہتے وہ اوج ثریا پر جا پہنچے اور نجات ِآخرت کی بشارتیں انہیں قرآن نے سنائیں۔حکومت ربانی کا فرض کہ وہ قانون کے زورسے بدیوں کو مٹاکر معاشرے کی اصلاح کر ے اور علمائے ربانی کوبھی چاہیے کہ وہ مسلمانوں کی اصلاح اورمعاشرےکو گناہوں کی آلوگی سے پاک کرنے کے لیے ان کو اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے ڈرائے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اصلاح معاشرہ ‘‘ مولاناجمال الدین صاحب کے اصلاح معاشرہ ان مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف اوقات میں مختلف رسائل وجرائد میں شائع ہوتےر ہے ۔ بعد ازاں افاد ہ عام کےلیے اسے کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔ اس کتاب میں مصنف موصوف نے ایسے دس بڑے حقوق ذکر کیے ہیں جن کی ادائیگی ہر کسی پر لازمی ہےیہ کتاب اگرچہ مختصر ہے لیکن اصلاح معاشرہ کےلیے نہایت مفید ہے ۔(م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1241
  • اس ہفتے کے قارئین 3167
  • اس ماہ کے قارئین 41561
  • کل قارئین49276163

موضوعاتی فہرست