اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #913

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 25412

    ترجمہ قرآن مجید(مولانا مودودی)

    (اتوار 11 ستمبر 2011ء) ناشر : ادارہ ترجمان القرآن لاہور

    اردو زبان میں قرآن حکیم کے متعدد تراجم ہو چکےہیں لیکن مولانا مودودی کا ترجمہ ان میں منفرد حیثیت رکھتا ہے ۔وہ خود فرماتے ہیں کہ ’’اردو زبان میں قرآن مجید کے جتنے ترجمے ہو چکے ہیں ان کے بعد اب کسی شخص کے لیے محض برکت وسعادت کی خاطر ایک نیا ترجمہ شائع کرنا وقت او رمحنت کا کوئی صحیح مصرف نہیں ہے۔اس راہ میں مزید کوشش اگر معقول ہوسکتی ہے تو صرف اس کی صورت میں جبکہ آدمی طالبین قرآن کی کئی ایسی ضرورت کو پورا کرے جو پچھلے تراجم سے پوری نہ ہوتی ہو۔‘‘اس کے بعد انہوں نے اپنے ترجمے کا اسلوب یہ بیان کیا ہے کہ ترجمے کو پڑھتے ہوئے ایک عام ناظر قرآن کا مفہوم ومدعا بالکل صاف صاف سمجھتا چلا جائے اور اس سے وہی اثر قبول کرے جو قرآن اس پہ ڈالتا چاہتا ہے اس لیے میں نے لفظی ترجمے کا طریقہ چھوڑ کر آزاد ترجمانی کا طریقہ اختیار کیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ ادبی اعتبار سے یہ ترجمہ انتہائی اعلیٰ مقام کا حامل ہے اور آزاد ترجمہ ہونے کے باوجود الفاظ قرآن سے قریب ترہے۔امید ہےکہ طالبین قرآن اس سے مستفید ہوں گے اور قرآنی مطالب سے واقفیت حاصل کر کے اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں گے۔(ط۔ا)

  • 2 #2332

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 4203

    سیرت سرور عالم جلد۔1

    (ہفتہ 16 اگست 2014ء) ناشر : ادارہ ترجمان القرآن لاہور

    ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت ﷜ سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ دنیا کی کئی زبانوں میں بالخصوص عربی اردو میں   بے شمار سیرت نگار وں نے   سیرت النبی ﷺ پر کتب تالیف کی ہیں۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول   آنے والی کتاب   الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔ زیر نظر کتاب ’’سیرت ِ سرورِ عالم ‘‘ سید ابو الاعلی مودودی کی   سیرت النی ﷺ پر جامع کتاب ہے جس کی ترتیب و تکمیل میں مولانا عبد الوکیل علوی ﷾(تلمیذ عبد اللہ روپڑی ) مولانانعیم صدیقی نے اہم کردار ادا کیا ۔یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے   جلداول   منصب نبوت ،نطام وحی،بعثت آنحضورﷺ اور ماقبل بعثت کے   ماحول او ر دعوت کی مخاطب قوم او ر عرب کےمختلف گروہوں کے احوال پر مشتمل ہے او ردوسری جلد نبی کریم ﷺ کی پیدائش سے لے کر ہجرت مدینہ تک کےاحوال واقعات کے متعلق ہے ۔اللہ تعالی اس کتاب کے مؤلف مرتبین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • 3 #2569

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 5351

    یہودیت قرآن کی روشنی میں

    (اتوار 02 نومبر 2014ء) ناشر : ادارہ ترجمان القرآن لاہور

    حضرت نوح ﷤ کے بعد حضرت ابراہیم ﷤ پہلے نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نےاسلام کی عالمگیر دعوت پھپلانے کےلیے مقرر کیا تھا ۔ انہوں نے پہلے خود عراق سے مصر تک اور شام و فلسطین سے ریگستان عرب کے مختلف گوشوں تک برسوں گشت لگا کر اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کی طرف لوگوں کو دعوت دی ۔حضرت ابراہیم﷤ کی نسل سے دوبڑی شاخیں نکلیں۔ ایک حضرت اسماعیل ﷤ کی اولاد جوعرب میں رہی۔قریش اور عرب کے بعض دوسرے قبائل کاتعلق اسی شاخ سے تھا۔دوسرے حضرت اسحاق ﷤ کی اولاد جن میں حضرت یعقوب، یوسف، موسیٰ،داؤد، سلیمان،یحییٰ ،عیسیٰ﷩ اور بہت سے انبیاء پیدا ہوئے ہوئے۔حضرت یعقوب کا نام چونکہ اسرائیل تھا اسی لیے یہ نسل بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔حضرت یعقوب﷤ کےچار بیویوں سے بارہ بیٹے تھے۔حضرت یو سف ﷤ اور ان کے بعد بنی اسرائیل کو مصرمیں بڑا اقتدار نصیب ہوا۔مدت دراز تک یہی اس زمانے کے مہذب دنیا کے سب سے بڑے فرماں روا تھے۔اور ان ہی کاسکہ مصر اوراس کے نواح میں رواں تھا۔اصل دین جو حضرت موسیٰؑ اور اسے پہلے اور بعد کے انبیاء لائے تھے وہ تو اسلام ہی تھا ۔ان انبیاء میں سے کوئی بھی یہودی نہ تھا اورنہ ان کےزمانے میں یہودیت پیدا ہوئی تھی۔یہ مذہب اس نام کے ساتھ بہت بعد کی پیدا وار ہے ۔یہ اس خاندان کی طرف سے منسوب ہے جو حضرت یعقوب﷤ کے چوتھے بیٹے یہودا کی نسل سے تھا ۔حضرت سلیمانؑ کے بعد جب ان کی سلطنت دوٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی تو یہ خاندان اس ریاست کامالک ہوا جو یہودیہ کےنام سے موسوم ہوئی اور بنی اسرائیل کے دوسرے قبیلوں نے اپنی الگ ریاست قائم کرلی جو سامریہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ پھر اسیریا نے نہ صرف یہ کہ سامریہ کو برباد کردیا بلکہ ان اسرائیلی قبیلوں کا بھی نام ونشان مٹادیا جو اس ریاست کے بانی تھے ۔ اس کے بعد صرف یہودا اوراس کے ساتھ بنیامین کی نسل ہی باقی رہ گئی جس پر یہود اکی نسل کےغلبے کی وجہ سے یہود کےلفظ کا اطلاق ہونے لگا۔اس نسل کے اندر کاہنوں ،ربیوں اورااحبار نےاپنے اپنے خیالات اور رجحانات کے مطابق عقائد اور رسوم او رمذہبی ضوابط کا جو ڈھانچہ صد ہابرس میں تیار کیا اس کا نام یہودیت ہے ۔اللہ کےرسولوں کی لائی ہوئی ربانی ہدایت کا بہت تھوڑا ہی عنصر اس میں شامل ہے اور اس کا حلیہ بھی اچھا خاصا بگڑ چکا ہے ۔ اسی بناپر قرآن مجید میں اکثر مقامات پر ان کو الذین ھادوا کہہ کر خطاب کیا گیا ہے یعنی اے وہ لوگو جو یہودی بن کر رہ گئے ہو۔قرآنک میں جہاں بنی اسرائیل کو خطاب کیاگیا ہے وہاں بنی اسرائیل کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور جہاں مذہب یہود کےپیروکاروں کوخطاب کیا گیا ہے وہاں الذین ھادوا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’یہودیت قرآن کی روشنی میں‘‘ ‘‘ مفکرِ اسلام سید ابو الاعلیٰ مودودی  (بانی جماعت اسلامی ) کی تصنیف ہے جسے   مولانا کی مختلف تحریروں کوان کے وسیع لڑیچر میں سے یکجا کر کے ترتیب دیا گیا ہے جو کہ اپنے موضوع پر جامع معلومات کی بنا پر ایک مستقل تصنیف کی حیثیت رکھتی ہے۔ مولانا مودودی کی تحریروں سے اس کتاب کوترتیب دنیے کے فرائض محترم نعیم صدیقی اور مولانا عبد الوکیل علوی ﷾ نے انجام دئیے ۔اللہ تعالیٰ سیدمودودی اور مرتبین کتاب ہذاکی دین اسلام کی اشاعت کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) (م۔ا)

  • 4 #2785

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 2447

    خطبات یورپ

    (پیر 29 دسمبر 2014ء) ناشر : ادارہ ترجمان القرآن لاہور

    مولانا سید ابو الاعلی مودودی ﷫ ایک نابغہ روز گار ہستی تھے۔ان کی زندگی کا مشن دعوت اسلامی اور اس کی تشریح وتوضیح وتوسیع تھا۔وہ جہاں بھی ہوتے ان کا اوڑھنا بچھونا اسلامی دعوت کا فروغ ہوتا تھا۔خطبات یورپ دراصل آپ کی ان تقاریر اور خطبات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے برطانیہ اور امریکہ کے سفر کے دوران وہاں کے مسلمانوں کے قائم کردہ اجتماعات سے کیں۔مولانا نے یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کی مشکلات کے بارے میں انہیں مفید مشورے دئیے اور ان کا صحیح حل پیش کیا ۔اور انہیں اسلام کے صحیح نمائندے اور اپنے مسلمان معاشروں کے حقیقی سفیر بن کر رہنے کی تلقین کی۔مولانا مودودی﷫ نے کلیساء یورپ کے پیغام کا بھی بڑا خوبصورت جواب دیا اور دنیائے عیسائیت کو صدیوں کے بعد یہ کھل کر بتایا کہ مسلمانوں کو ان سے کیا شکایات ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہارے بزرگوں کی تعظیم کرتے ہیں اور تم ہمارے بزرگوں کی اہانت کرتے ہو ،یہ کہاں کا انصاف ہے۔یہ ایک ایسی دل لگتی بات ہے جس کا یورپ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔یہ خطبات مختلف جرائد ورسائل میں بکھرے ہوئے تھے اور اخباری فائلوں میں دفن تھے۔ جنہیں محترم اختر حجازی صاحب نے ڈھونڈھ ڈوھونڈ کر ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔اللہ تعالی مولانا ﷫ کی ان محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 5 #3675

    مصنف : ڈاکٹر محمد امین

    مشاہدات : 3401

    عصر حاضر اور اسلام کا نظام قانون

    (منگل 20 اکتوبر 2015ء) ناشر : ادارہ ترجمان القرآن لاہور

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " عصر حاضر اور اسلام کا نظام قانون " محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں فقہ اسلامی،علم اصول فقہ،فقہ اسلامی کے امتیازی خصائص،اہم فقہی علوم اور مضامین ایک تعارف،تدوین فقہ اور مناہج فقہاء،اسلامی قانون کے بنیادی تصورات،مقاصد شریعت اور اجتہاد،اسلام کا دستوری اور انتظامی قانون،اسلام کا قانون جرم وسزا،اسلام کا قانون تجارت ومالیات،مسلمانوں کا بے مثال فقہی ذخیرہ ایک جائزہ،اور فقہ اسلامی دور جدید میں جیسے عنوانات جمع  ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور پاکستاب میں اسلامی قانون کا نفاذ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 6 #4319

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 4704

    الجہاد فی الاسلام (مودودی)

    (ہفتہ 12 مارچ 2016ء) ناشر : ادارہ ترجمان القرآن لاہور

    جہاد دینِ اسلام کی چوٹی ہے۔ جہاد اعلائے کلمۃ اللہ کا سب سے بڑا سبب اور مظلوموں و مقہوروں کو عدل انصاف فراہم کرنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کو دعوت و انذار کے بعد انتہائی حالات میں اللہ کے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت دی ہے او راللہ کے راستے میں لڑنے والے  مجاہد کے لئے انعام و اکرام اور جنت کا وعدہ کیا ہے اسی طرح اس لڑائی کو جہاد  جیسے مقدس لفظ سے موسوم کیا  ہے۔ جہاد کی اہمیت وفضلیت کے حوالے سے کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے باقاعدہ ابواب قائم کیے ہیں او رکئی اہل علم نے اس پر مستقبل عربی اردوزبان میں کتب تصنیف کی ہیں۔ زير تبصره كتاب"الجہاد فی الاسلام‘‘ مفکر اسلام سید ابو الاعلی مودودی﷫ کی تصنیف ہے جہاد کے موضوع پربڑی اہم کتاب ہے یہ کتاب آپ نے اس وقت لکھی جب آپ "الجمعیۃ" کے مدیر تھے۔ ایک شخص سوامی شردھانند نے شدھی کی تحریک شروع کی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہندو بنالیا جائے۔ چونکہ اس تحریک کی بنیاد نفرت، دشمنی اور تعصب پر تھی اور اس نے اپنی کتاب میں حضرت محمد ﷺ کی توہین کی جس پر کسی مسلمان نے غیرت ایمانی میں آکر سوامی شردھانند کو قتل کردیا۔ اس پر پورے ہندوستان میں ایک شور برپا ہوگیا۔ ہندو دینِ اسلام پر حملے کرنے لگے اور اعلانیہ یہ کہا جانے لگا کہ اسلام تلوار اور تشدد کا مذہب ہے۔ انہی دنوں مولانا محمد علی جوہر نے جامع مسجد دہلی میں تقریر کی جس میں بڑی دردمندی کے ساتھ انہوں نے اس ضرورت کا اظہار کیا کہ کاش کوئی شخص اسلام کے مسئلہ جہاد کی پوری وضاحت کرے تاکہ اسلام کے خلاف جو غلط فہمیاں آج پھیلائی جارہی ہیں وہ ختم ہوجائیں۔ اس پر سید مودودی نے الجہاد فی الاسلام کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس وقت سید مودودی کی عمر صرف 24 برس تھی۔ سید مودودی نے الجہاد فی الاسلام کی تصنیف کےدوران قرآن، حدیث، سیرت، تاریخ ،فقہ کے علاوہ تورات انجیل اور زبور نیز ویدوں، گیتا اور اور ہندوؤں کی دیگر مذہبی کتابوں کے اصل مصادر کا بھی براہ راست گہری نظر سے مطالعہ کیا۔علاوہ ازیں انھوں نے بین الاقوامی قوانین ، مغربی نظریات جدید تصورات جنگ کے اصل اور بنیادی مراجع سے بھی بھرپور استفادہ کیا۔ اس اہم ذخیرے میں سید مودودی نے جہاد کی اہمیت ومعنویت، حقیقت اور آداب وشرائط پر بھی روشنی ڈالی۔اور انہوں نے اس کتاب میں واضح کیا کہ دنیا میں حقیقی امن وصلح کا قانون اگر کسی مذہب کے پاس ہے تو وہ صرف اسلام ہے۔ باقی تمام مذاہب کے پاس نہ صرف جنگ کے لئے بلکہ دوسرے اہم معاملات کے لئے بھی تخریب کاری کے سوا کچھ نہیں ہے۔ انھوں نے جہاد اور قتال کی وضاحت کی کہ اسلام جہاد و قتال کس غرض اور مقصد کے لئے کرتا ہے۔ سید مودودی کی یہ قیمتی تحقیق پہلے جمعیۃ علماء ہند کے سہ روزہ ترجمانـ ’’الجمعیۃ‘‘ دہلی میں ۲۲شماروں میں مسلسل اسلام کا قانون جنگ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس کی پہلی قسط ۲۸ رجب ھ بمطابق۲ فروری ۲۷ ۱۹ ء میں شائع ہوئی۔ علامہ سید سلیمان ندوی کو یہ تمام مضامین بہت پسند آئے تو انھوں نے ان مضامین کو ۱۹۳۰ء میں کتاب کی صورت میں’ الجہاد فی الاسلام ‘کے عنوان کے تحت شائع کیا ۔ اورمعارف جنوری ۱۹۳۰ء کے شمارے میں کتاب کا مختصر تعارف ان الفاظ میں کرایا کہ: ’’اس کتاب میں اسلامی جہاد کے اصول و آداب، معترضین کے جوابات، مخالفین کے شکوک و شبہات کی تردید، یہودیوں ،عیسائیوں، ہندؤوں اور بود ھوں کے اصولو ں سے ان کا تقابل اور یورپ کے موجودہ قوانین جنگ پر تبصرہ نیز جہاد کے اسلامی قوانین سے ان کا موازنہ کیا گیا ہے۔ عربی اور انگریزی کی بہترین و مستنند کتابوں کے حوالے سے یہ بات لکھی گئی ہے۔ خیال رہے کہ اس ضروری مسئلے پراس سے زیادہ مسلسل اور مبسوط کتاب اب تک نہیں لکھی گئی۔ اور اسی طرح علامہ اقبال نے اس کتاب کے بارے میں فرمایا تھا: ”اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے۔ اللہ تعالیٰ مولانا مودودی  کے درجات بلند فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • 7 #4779

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 3431

    قوموں کے عروج و زوال پر علمی تحقیقات کے اثرات

    (جمعہ 07 اکتوبر 2016ء) ناشر : ادارہ ترجمان القرآن لاہور

    قوموں کا عرج و زوال قانون فطرت ہے کسی بھی قوم کا اقتدار اور عروج وزوال دیر پا ضرور ہو سکتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں ، قوموں کا عروج وزوال اگر چہ فطری قانون کے مطابق ہوتاہے تاہم ایسا نہیں ہوتاہے کہ اس میں اسباب و عوامل کو کچھ دخل نہ ہو ، کسی بھی قوم کے عروج و زوال میں بہت سے اسباب و عوامل فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں ، قوموں کے بارہا کے عروج وزوال کو دیکھتے ہوئے ان عوامل کو طے کر ناکوئی مشکل کام نہیں ہے ۔اہل علم نے اقوام کے ان عروج وزوال کے اسباب پر متعدد علمی تحقیقات کی ہیں، جن سے عروج وزوال کے اسباب کا بڑی وضاحت کے ساتھ جائزہ ہو جاتا ہے۔ ابن خلدون نے حکومتوں ، شاہی خاندانوں اور قوموں کے عروج و زوال کو پہلی مرتبہ سائنسی انداز میں سمجھنے کی کوشش کی ، اور اس عمل کے پس منظر میں جو قوانین کارفرما ہیں انہیں دریافت کرنے اور ان کے اثرات کو متعین کرنے کی کوشش کی ۔ وہ عروج و زوا کے اس عمل کو انسانی زندگی سے تشبیہ دیتا ہے کہ جس طرح ایک انسان بچپن ، جوانی اور بڑھاپے کے درجات طے کرکے موت سے ہم آغوش ہوجاتا ہے ، اسی طرح سے قومیں بھی ان مرحلوں سے گذر کر زوال پذیر ہوجاتی ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ موت سے دوچار ہونا ہر قوم کی تقدیر میں لکھا ہوا ہے اور ایسی کوئی صورت نہیں کہ قومیں خود کو موت سے بچا سکیں اور اپنی زندگی کو طول دے سکیں ۔ زیر تبصرہ کتاب" قوموں کے عروج وزوال پر علمی تحقیقات کے اثرات " جماعت اسلامی پاکستان کے بانی مولانا سید ابو الاعلی  مودودی﷫  کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے  اقوام کے عروج وزوال پر کی گئی علمی تحقیقات کے اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

  • 8 #5180

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 1626

    حقیقت اسلام

    (پیر 27 فروری 2017ء) ناشر : ادارہ ترجمان القرآن لاہور

    زیر تبصرہ کتاب"حقیقت اسلام" جماعت اسلامی پاکستان کے بانی مولانا سید ابو الاعلی مودوی﷫ کی تصنیف ہے ۔جس میں آپ کے وہ خطبات جمع ہیں جو انہوں نے 1938ء میں چند مہینوں تک مشرقی پنجاب کے ایک دیہاتی علاقے میں قیام کے دوران ارشاد فرمائے۔وہ فرماتے ہیں کہ وہاں میں نے جمعہ کے اجتماعات میں عام مسلمانوں کو دین سمجھانے کے لئے خطبات کا ایک سلسلہ شروع کیا اور چونکہ مخاطب ناخواندہ اور نیم ناخواندہ لوگ تھےچنانچہ ان خطبات میں زیادہ سے زیادہ عام فہم اور آسان زبان استعمال کی تھی۔انہیں تعلیم یافتہ لوگ بھی دین سمجھنے کے لئے پڑھ سکتے ہیں اور  اپنے ان پڑھ عوام کو سنا کر بھی یہ بتا سکتے ہیں کہ ان کا اصل دین کیا ہے۔یہ خطبات دراصل چانچ الگ الگ حصوں میں شائع کئے گئے ہیں،   جوحقیقت اسلام، حقیقت صوم وصلوۃ، حقیقت زکوۃ، حقیقت حج اور حقیقت جہاد کے موضوعات پر مشتمل ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ حقیقت اسلام ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 9 #6095

    مصنف : سید اسعد گیلانی

    مشاہدات : 1648

    خطبات انبیاء

    (ہفتہ 16 دسمبر 2017ء) ناشر : ادارہ ترجمان القرآن لاہور

    خالق کائنات نے زمین پر انسان کو پیدا کرنے کے بعد ایسے ہی نہی چھوڑ دیا بلکہ اس کی راہ نمائی اور ہدایت کا سامان مہیا کیا۔ اور اسے اپنی مرضی سے آگاہ کرنے کے لیے رسولوں اور نبیوں کا سلسلہ جاری کیا۔ تمام رسول مختلف قوموں اور زمین کے خطوں میں بندگی رب کی ایک ہی دعوت لے کر آتے رہےاور ان کی دعوت ان کا کردار اور طریق کار تقریبا ہر دور اور ہر انسانی معاشرے میں یکساں ہی رہا ہے۔ جس کی پوری تصویر قرآن پاک کی مختلف آیات میں بکھری پڑی ہے۔ اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔ شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اور خطبات کے ذریعے عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں۔  زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات انبیاءؐ‘‘اسعد علی گیلانی کی ہے۔ جس میں قرآن مجید کے بیان کردہ انبیاء کی دعوتی تقاریر کو مربوط اور یک جا کر دیا گیا ہے، تا کہ تاثر کی یکسانی سے دعوت فکر اور دعوت حق کی حقانیت کا اظہا رہو۔اور انبیاء کی مستند تقاریر کو دعوتی مراحل اور زمانی ترتیب کا لحاظ کرتے ہوئے مربوط کیا گیا ہے۔ تا کہ وحدثِ تاثر قائم رہے یہ تقاریر صرف قرآن مجید سے ہی اخذ کی گئی ہیں اور بہت ہی کم بائبل اور توریت سےبھی استفادہ کیا گیا ہے تا کہ ان کی تقاریر کو پڑھنے سے قاری کو محسوس ہو کہ بیشتر قوموں نے انبیاء کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کا درد ناک انجام ہوا۔گویا کہ اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ تمام انبیاء کی یکساں دعوت بیک وقت لوگوں کے سامنے آ جائے۔ اور انبیاء کی تقریروں کی روشنی میں اسلام کی تعلیمات اب قیامت تک کے لیے انسانوں کی راہ نما ہیں ۔ آخر میں ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

  • 10 #6673

    مصنف : حیدر زمان صدیقی

    مشاہدات : 1121

    اسلامی نظریہ اجتماع

    (پیر 02 جولائی 2018ء) ناشر : ادارہ ترجمان القرآن لاہور

    اسلام نے ا نسان کے یقین اور اس  کےاعمال کی بنیاد رکھی  ہے اس  ناقابل انکار حقیقت پر  کہ انسان خود بخو د  پیدا نہیں ہوا بلکہ کسی ذی شعور صاحب ادراک ہستی برتر نے اسے پیدا کیا ہے ۔ اور اس لیے انسانی  اعمال  وافکار کا محض اس کی رضا واطاعت کے لیے ہونا ضروری ہے ۔انسان کی زندگی انفرادی ، عائلی اوراجتماعی تمام تر اسی مقصد واصول کے تحت تو صحیح  ہے ورنہ غلط ہے۔انسان بولے تواس کے لیے  اور چپ رہے تو اس کے لیے ، شادی کرے بچوں سے محبت کر ے، پڑسیوں کی امداد  کرے یا ملی وقومی فرائض  کو ادا کر ے  الغرض تمام تر امور اسی  ذات واحد کی منشاء  کےلیے  ہوں۔ زیر تبصرہ کتا ب’’اسلامی نظریہ اجتماع‘‘   جناب حیدر زماں صدیقی کی   مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب میں  اسلام کے ہمہ گیر نظریہ اجتماع کی حقیقت اوراجزاء ترکیبی  سےبحث کی گئی ہے۔طرزِ بیان شگفتہ اور مدلل ہے مصنف نے دلنشیں انداز میں مسئلہ زیربحث سے متعلق تقریباً سب کچھ کہہ دیا ہے   پہلی دفعہ یہ کتاب تقسیم ہند کےوقت اگست؍1947ء کو  حید رآباد دکن سے شائع ہوئی۔موجود ہ ایڈیشن ادارہ  ترجمان القرآن ،لاہور نے  1989ء میں شائع کیا ہے۔(م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1912
  • اس ہفتے کے قارئین 7752
  • اس ماہ کے قارئین 59785
  • کل قارئین49530997

موضوعاتی فہرست