اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

اشتیاق احمد

  • نام : اشتیاق احمد

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #349

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 18041

    تھالی کا بینگن

    (تھالی کا بینگن) ناشر : دار السلام، لاہور

    انسانیت کو ہدایت کی روشنی دینےکےلیے اس دنیامیں بےشمار انبیاء آئےپہلے نبی ہونےکاشرف سیدنا آدم علیہ السلام  کوحاصل ہے او رآخری نبی ہونےکااعزازمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آیا۔انبیاء کی سیرت کامطالعہ کریں تو  یہ بات سمجھ میں آتی ہےکہ اللہ تعالی نےنبوت کی ذمہ داری کےلیے ایسے افراد کو چناجن کی زندگیاں ہر طرح کے عیب سے پاک تھیں۔سچائی ،پرہیزگاری  اور نیکی ان کا وصف تھا۔نبئی مہرباں صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین ہیں ۔آپ کےبعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کافیصلہ ہے۔لیکن کچھ لوگ ذاتی مفادات کےلیے ،اپنی دوکانداری چمکانے کے لیے نبوت کے بند کیے ہوئے محل میں نقب لگانےسے باز نہ آئے ۔ان میں سےایک جھوٹا نبی انگریزوں کےہاتھ سے تراشا ہوا مرزا غلام احمد قادیانی ہے ۔اس جھوٹے نبی کی پرورش کس نے کی؟، اس خاردار پودے کی آبیاری کسے نےکی؟،اس کی جھوٹی شخصیت کو نبوت کا لباس کس نے پہنایا ؟،اس گھٹیا تحریرات اور  خیالات کو الہام کیسے بنایا گیا ؟،یہ سب باتیں آپ کے سامنے’’تھالی کا بینگن ‘‘کی شکل میں پیش ہیں اس کتاب میں  جعلی نبوت کے حقائق کو بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیاہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ مرزا کی اپنی ہی تحریروں کی مدد سے  اس کی نبوت کے فتنے کو عیاں کیاگیاہے۔
     

  • 2 #3608

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1953

    عجیب بشارت

    (عجیب بشارت) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "عجیب بشارت" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں معاصی کی حرمت  کوبیان کیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے قصص الانبیاء کے حوالے سے شروع کئے گئے  سلسلے کی دسویں کڑی ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے سیدنا یعقوب   کی زندگی کو ایک قصے کی شکل میں بیان کیا ہے، جس میں دلچسپی کا عنصر بھی ہے اور دل پہ  چھا جانے والا گہرا اثر بھی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 3 #3609

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 3334

    آخری دعوت

    (آخری دعوت) ناشر : دار السلام، لاہور

    دینِ اسلام  ایک سیدھا اور مکمل دستورِ حیات ہے جس کو اختیار کرنے میں  دنیا وآخرت کی کامرانیاں پنہاں ہیں  ۔ یہ ایک  ایسی روشن شاہراہ ہے جہاں رات دن کا کوئی فرق  نہیں  اور نہ ہی اس میں کہیں پیچ خم ہے ۔ اللہ  تعالیٰ نے اس دین کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا اوررسول پاکﷺ کی زندگی  ہی میں  اس کی  تکمیل فرمادی۔عقائد،عبادات ، معاملات، اخلاقیات ، غرضیکہ جملہ شبہائے زندگی میں کتاب وسنت ہی  دلیل ورہنما ہے ۔ہر میدان میں  کتاب   وسنت کی ہی پابندی ضروری ہے ۔صحابہ کرام    نے کتاب وسنت کو جان سے  لگائے رکھا ۔ا  ن کے معاشرے میں کتاب وسنت کو قیادی حیثیت حاصل رہی  اور وہ  اسی شاہراہ پر گامزن رہ کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے ہمکنار ہوئے ۔ لیکن جو  ں جوں زمانہ گزرتا  گیا لوگ  کتاب وسنت  سے دور ہوتے گئے  اور بدعات وخرافات نے ہر شعبہ میں اپنے  پیر جمانے شروع کردیئے ۔ اور  اس  وقت بدعات وخرافات  اور علماء سوء نے پورے  دین کو  اپنی  لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وقت کے  راہبوں ،صوفیوں،  نفس پرستوں او رنام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے  قال اللہ وقال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار وخیالات اور   طرح طرح کی بدعات وخرافات  نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے  اسلام کی اصل  شکل گم ہوتی جارہی ہے ۔اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی  ہے۔دن کی بدعات  الگ  ہیں ، ہفتے کی بدعات الگ ،مہینے کی بدعات الگ،عبادات کی بدعات الگ ،ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔تیجا ، ساتواں ، دسواں اور چالیسواں کی بدعات   کو اس انداز سےمنعقد کیا جاتا ہے کہ  وہ  شادی کی تقریبات محسوس ہوتی ہیں ۔جید اہل  علم نے   بدعات  اور اس  کے  نقصانات  سے  روشناس کروانے کے لیے   اردو  وعربی زبان میں متعدد چھوٹی  بڑی کتب   لکھیں  ہیں جن کے  مطالعہ سے اہل اسلام  اپنے  دامن کو   بدعات سے  خرافات سے بچا سکتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ آخری دعوت ‘‘ میں   جنا ب اشتیاق احمد  صاحب نے   برصغیر وپاک وہند میں رائج بدعات  میں سے  چالیسواں کی بدعت کو ایک کہانی کی  صورت میں  آسان فہم  انداز میں کتاب وسنت کی روشنی میں  پیش کیا ہے۔جسے ایک عام  آدمی پڑھ کر یہ   سمجھ سکتاہے کہ  ان  بدعات کا    اسلام میں کوئی ثبوت نہیں بلکہ  یہ  اپنی طرف سے  ایجاد کردہ خرافات ہیں کہ مسلمان  جس    میں گھیرے ہوئے  ہیں۔ اللہ تعالیٰ  مصنف اور ناشرین کی اس  کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کےلیے نفع بنائے ۔(آمین)  (م۔ا)

  • 4 #3611

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1829

    عظیم قربانی

    (عظیم قربانی) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "عظیم قربانی" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں انبیاء کرام کی سیرت کو بیان کیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے قصص الانبیاء کے حوالے سے شروع کئے گئے  سلسلے کی ساتویں کڑی ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے سیدنا اسمعیل   کی قربانی  کو ایک قصے کی شکل میں بیان کیا ہے، جس میں دلچسپی کا عنصر بھی ہے اور دل پہ  چھا جانے والا گہرا اثر بھی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 5 #3617

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1811

    ہولناک آگ

    (ہولناک آگ) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "ھولناک طوفان" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں سیدنا ابراہیم  کی سیرت وسوانح کو  جمع  کردیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے قصص الانبیاء کے حوالے سے شروع کئے گئے  سلسلے کی چھٹی کڑی ہے۔اس کتاب میں سیدنا ابراہیم  کی حنیفیت اور شرک کی جڑیں کاٹنے کے حوالے سے ان کی محنتوں کو بیان کیا گیاہے ، جس میں دلچسپی کا عنصر بھی ہے اور دل پہ  چھا جانے والا گہرا اثر بھی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 6 #3618

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1570

    ہولناک طوفان

    (ہولناک طوفان) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "ھولناک طوفان" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں معاصی خصوصا شرک کی حرمت  کو بڑے خوبصورت پیرائے میں جمع  کردیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے قصص الانبیاء کے حوالے سے شروع کئے گئے  سلسلے کی تیسری کڑی ہے۔یہ کتاب شرک کی تاریخ اور شرک کی وجہ سے تباہ ہونے والی قوم نوح  کے تذکروں پر مشتمل ہے ، جس میں دلچسپی کا عنصر بھی ہے اور دل پہ  چھا جانے والا گہرا اثر بھی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 7 #3621

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1578

    جان سے قیمتی

    (جان سے قیمتی) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "جان سے قیمتی" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے اسی کمی کو پورا کرتے ہوئےایک منفرد اور کہانی کے انداز میں بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ ، جادو گر ، راہب اور ایمان دار لڑکے کا واقعہ بیان کیا ہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے شروع کئے گئے  سلسلےبچوں کے لئے سچی کہانیاں  کی ایک کڑی ہے۔اس کتاب میں ایمان کی قدر وقیمت اور اہمیت کو ایک واقعہ کی روشنی میں کچھ اس انداز سے  بیان کیا گیاہے ، جس میں دلچسپی کا عنصر بھی ہے اور دل پہ  چھا جانے والا گہرا اثر بھی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 8 #3627

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1630

    میں سو رہا تھا

    (میں سو رہا تھا) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "میں سو رہا تھا" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں نماز کی اہمیت  کو بیان کیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے شروع کئے گئے اجالوں کے  سلسلے کی پانچویں کڑی ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے نماز کی اہمیت وفضیلت کو بیان کیا ہے، جس میں دلچسپی کا عنصر بھی ہے اور دل پہ  چھا جانے والا گہرا اثر بھی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 9 #3629

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1792

    موت کی ہوا

    (موت کی ہوا) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "ھولناک طوفان" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں سیدنا ھود  کی قوم پر آنے والے ہوا کے عذاب کو بیان کیا ہے کہ جب قوم عاد نے سیدنا ھود  کو جھٹلایا اور اللہ تعالی کی نشانیوں کی تکذیب کرنا شروع کردی تو اللہ تعالی نے تیز ہوا کے ذریعے انہیں تباہ وبرباد کر دیا۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے قصص الانبیاء کے حوالے سے شروع کئے گئے  سلسلے کی چوتھی  کڑی ہے ، جس میں دلچسپی کا عنصر بھی ہے اور دل پہ  چھا جانے والا گہرا اثر بھی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 10 #3634

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 2105

    پرانی کتاب

    (پرانی کتاب) ناشر : دار السلام، لاہور

    سیدنا یعقوب   کی اولاد بنی اسرائیل کو مصر میں رہتے ہوئے کافی مدت گزر چکی تھی، چوں کہ باہر سے آئے ہوئے تھے، اس لیے مصری انہیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔اس زمانے میں مصر کا ہر بادشاہ فرعون کہلاتا تھا، حضرت یوسف  سولہویں فرعون کے زمانے میں مصر تشریف لائے۔سیدنا  موسیٰ  کے زمانے کا انیسواں فرعون تھا۔ اس کا نام منفتاح بن ریمسس دوم تھا۔ سیدنا موسیٰ  خدا کےبرگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک تھے. آپ کے بھائی حضرت ہارون  بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔تمام پیغمبر کی نسبت قرآن میں حضرت موسیٰ   کا واقعہ زیادہ آیا ہے۔ تیس سے زیادہ سورتوں میں موسیٰ   و فرعون اور بنی اسرائیل کے واقعہ کی طرف سومرتبہ سے زیادہ اشارہ ہوا ہے۔فرعون نے ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر یہ بتائی گئی کہ بنی اسرائیل کا ایک لڑکا تیری حکومت کے زوال کا باعث ہوگا اس پر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اس قتل کردیا جائے۔اسی زمانے میں حضرت موسی  عمران کے گھرمیں پیدا ہوائے۔ ماں باپ کو سخت پریشانی تھی اور وہ سمجھتے تھے اگر کسی کو پتا چل گیا تو اس بچے کی خیر نہیں۔ کچھ مدت تک تو ماں باپ نے اس خبر کو چھپایا، لیکن مارے پریشان کے ان کا حال برا ہورہا تھا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس معصوم بچے کو صندوق میں ڈال کر دریائے نیل میں بہادو۔حضرت موسیٰ  کی والدہ نے ایسا ہی کیا اور اپنی بڑی لڑکی کو بھیجا کہ وہ صندوق کے ساتھ ساتھ کنارے پر جائے اور دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اس کی حفاظت کرتا ہے۔جب یہ صندوق تیرتا ہوا شاہی محل کے قریب پہنچا تو فرعون کے گھرانے کی عورتوں میں سے ایک نے اس کو دیکھ کر باہر نکلوالیا اور جب اس میں ایک خوب صورت بچے کو دیکھا تو خوش ہوئیں اور اس بچے کو محل میں لے گئیں۔ حضرت موسیٰ  کی بہن بھی فرعون کی خادماؤں میں شامل ہوگئیں۔فرعون کے کوئی اولاد نہ تھی۔ جب اس کی بیوی آسیہ نے ایک حسین و جمیل بچے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئیں۔ اتنے میں فرعون بھی آگیا۔ اور اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ فرعون کی بیوی نے منت سے کہا کہ اس معصوم کو قتل نہ کرو، کوئی بڑی بات نہیں اگر یہی بچہ میری اور تیری آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بن جائے اور ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں اور اگر حقیقت میں یہی وہ بچہ ہے جو تیرے خواب کی تعبیر بننے والا ہے تو ہم اس کی ایسی تربیت کریں گے کہ ہمارے لیے نقصان رسان بننے کی بجائے مفید ہی ثابت ہو۔ اس طرح فرعون حضرت موسی   کے قتل کرنے سے باز رہا۔حضرت موسیٰ  فرعون کے گھر میں پل کر جوان ہوئے۔ آپ بڑے خوب صورت اور طاقتور تھے۔ایک دن آپ شہر سے باہر جارہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک مصری ایک اسرائیلی کو بیگار میں لے کر تنگ کررہا ہے۔ جب حضرت موسیٰ   اس کے قریب سے گزرے تو اسرائیلی نے حضرت موسیٰ   سے فریاد کی، آپ نے مصری کو سختی اور جبر سے روکنے کی کوشش کی، لیکن مصری نہ مانا۔ اس پر حضرت موسیٰ   نے غصے میں آکر مصری کو ایک ایسا طمانچہ مارا کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔  فرعون نے ان کی گرفتاری کے احکام جاری کردئیے۔ اس وقت ایک آدمی فرعون کے دربار میں موجود تھا، جس کو حضرت موسیٰ    سے انس تھا۔ اس نے فوراً حضرت موسیٰ   کو جا کر سارے واقعہ کی اطلاع دی اور مشورہ دیا کہ آپ فوراً یہاں سے نکل جائیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ   بے سرو سامان نکل کھڑے ہوئے اور منزلیں طے کرتے ہوئے مدین کے شہر جاپہنچے۔ وہاں  دو لڑکیوں کی بکریوں کوپانی پلانے کے عوض ان کی مہمان نوازی کی گئی اور ان میں سے ایک لڑکی  کےساتھ  ان  کی شادی  بھی کردی گئی   وہاں کافی عرصہ بکریاں چراتے رہے ۔طویٰ کی مقدس وادی میں آپ کو نبوت سےسرفرازکیاگیا  اور کچھ معجزے اور نشانیاں بھی  عطا کیں اوراللہ تعالیٰ نے  حکم دیا کہ ہماری ان نشانیوں کو لے کر فرعون کے پاس جاؤ اور اس کو او اس کی قوم کو سیدھا راستہ دکھاؤ۔ اس نے بہت سرکشی اور نافرمانی اختیار کررکھی ہے اور وہ بنی اسرائیل پر انتہائی ظلم کررہا ہے، ان کو اس غلامی اور ذلت سے نجات دلاؤ۔حضرت موسیٰ   اپنے بھائی کو ساتھ لے کر فرعون کے دربار گئے اور فرعون سے کہا کہ خدا نے مجھے اپنا پیغمبر اور رسول بنا کر تیرے پاس بھیجا ہے۔ ہم تم سے دو باتیں کہتے ہیں ایک تو خدا واحد پر ایمان لے آؤ۔ دوسرے بنی اسرائیل پر ظلم و ستم سے باز آؤ اور ان کو غلامی سے نجات دو۔فرعون سے کافی باتیں ہوئیں۔ حضرت موسیٰ   نے پیار و محبت سے فرعون کو سمجھانے کی بہت کوشش کی اور جب اس سے کوئی جواب نہ بن آیا تو درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ کوئی پاگل معلوم ہوتا ہے اور کج بحثی کرنے لگا اور اپنے وزیر بامان سے کہنے لگا کہ ایک اونچی عمارت بناؤ جس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں اور میں تو اس کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ حضرت موسیٰ   نے کہا کہ میں اپنی صداقت میں تیرے پاس ظاہر نشانیاں لایا ہوں۔ فرعون نے کہا اگر تیرے پاس کوئی نشانی ہے تو ہمیں بھی دکھا۔ حضرت موسیٰ   نے اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینک دیا اور وہ ایک خوفناک اژدھا بن گیا۔ پھر اپنا ہاتھ گریبان کے اندر لے گئے۔ جب نکالا تو وہ ایک روشن ستارے کی طرح چمک رہا تھا۔یہ دیکھ کر فرعون کے درباری چلا اٹھے کہ یہ تو کوئی بہت بڑا جادو گر ہے۔ چنانچہ یہ فیصلہ ہوا کہ اب تو موسیٰ اور ہارون کو جانے دیا جائے اور کچھ دن بعد اپنی سلطنت کے تمام بڑے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کرکے حضرت موسیٰ   سے مقابلہ کرایا جائے۔مقابلے سے پہلے حضرت موسیٰ  نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا، اللہ پر جھوٹی تہمت نہ لگاؤ، ایسا نہ ہو کہ اللہ  کا عذاب تم کو دنیا سے نیست و نابود کردے۔ جادوگروں نے آگے بڑھ کر کہا کہ ان باتوں کو جانے دو۔ اب ذرا دو دو ہاتھ ہوجائیں۔ اب یہ بتاؤکہ پہل تم کرو گے، یا ہم کریں آپ نے فرمایا کہ پہل تمہاری طرف سے ہونی چاہیے۔اب ان جادوگروں نے اپنی رسیاں بان اور لاٹھیاں زمین پر ڈال دیں جو سانپ بن کر زمین پر دوڑنے لگے۔ یہ دیکھ کر حضرت  موسیٰ  کچھ گھبراگئے ۔ مگر اسی وقت خدا کا حکم ہوا، موسیٰ خوف نہ کھاؤ، ہمارا وعدہ ہے تم غالب رہو گے، اپنی لاٹھی کو زمین پر ڈال دو۔حضرت موسیٰ نے فوراً اپنا عصا زمین پر پھینک دیا اور وہ ایک خوفناک اژدھا بن گیا۔ جس نے تمام جادو کے زور سے بنے ہوئے نمائشی سانپوں کو نگل لیا۔ جادوگر یہ دیکھ کر سخت حیران ہوئے اور پکار اٹھے کہ موسیٰ   کا یہ عمل جادو نہیں بلکہ خدا کا معجزہ ہے اور فوراً سجدہ میں گر پڑے اور اعلان کیا کہ ہم موسیٰ   اور ہارون کے خدا پر ایمان لے آئے ہیں۔جادوگروں نے کہا کہ اب سچائی ہمارے سامنے آگئی ہے تو جو کچھ کرنا چاہتا ہے کر گزر، ہم ایک الہ پر ایمان لاچکے ہیں۔ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔یہ دیکھ کر اسرائیلی نوجوانوں کی ایک جماعت بھی حضرت موسیٰ   پر ایمان لے آئی۔ لیکن وہ بھی فرعون کے قہر و غضب سے ڈرتے تھے اس لیے کھل کر اعلان نہ کرسکے۔حضرت موسیٰ   نے کہا کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے ہو اور اس کے فرمانبردار بننا چاہتے ہو تو فرعون سے ہرگز نہ ڈرو اور اللہ پر ہی اپنا بھروسہ رکھو۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔جب حضرت موسیٰ  کو فرعون اور اس کے درباریوں کے منصوبوں کا علم ہوا تو آپ نے بنی اسرائیل کے لوگوں نے کہا۔ موسیٰ، ہم تو پہلے ہی مصیبتوں میں پھنسے ہوئے تھے، تیرے آنے سے کچھ امید بندھی تھی، مگر تیرے آنے کے بعد تو اور بھی مصیبت آگئی ہے۔ حضرت موسیٰ   نے اس کو تسلی دی اور کہا کہ گھبراؤ نہیں۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے تم ضرور کامیاب رہو گے اور تمہارا دشمن ہلاک ہوگا۔اللہ نے حضرت موسیٰ   کو حکم دیا کہ اپنی قوم بنی اسرائیلی کو مصر سے نکال کر باپ دادا کی سرزمین پر لے جاؤ، چنانچہ آپ رات کے وقت نبی اسرائیل کو لے کر نکل گئے۔ ادہر فرعون کو بھی اطلاع مل گئی، اس نے ایک زبردست فوج کے ساتھ ان کا تعاقب کیا۔ وہ پانی کے کنارے پر پہنچے تھے کہ مصری فوجیں آگئیں۔ جنہیں دیکھ کر بنی اسرائیل بہت گھبرائے۔ مگر حضرت موسیٰ   نے ان کو تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ   کو حکم دیا کہ اپنی لاٹھی پانی پر مارو، چنانچہ جب حضرت موسیٰ   نے بحیرہ قلزم کے پانی پر اپنی لاٹھی ماری تو اس میں سے راستہ بن گیا اور حضرت موسیٰ   بڑے آرام سے بحیرہ قلزم سے پار ہوگئے۔ یہ دیکھ کر فرعون نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ تم بھی اس راستے سے بحیرہ قلزم کو پار کرجاؤ۔ لیکن جب فرعون اور اس کی ساری فوج درمیان میں آگئی تو اللہ کے حکم سے پانی پھر اپنی اصلی حالت پر آگیا اور فرعون اپنی فوج سمیت غرق ہوگیا۔ جب فرعون غرق ہونے لگا تو اس نے پکارا کہ میں موسیٰ کے رب کے اوپر ایمان لاتا ہوں، لیکن یہ بعد از وقت تھا ۔ فرعون کی پکار پر اللہ نے فرمایا کہ "آج کے دن ہم تیرے جسم کو ان لوگوں کے لیے جو تیرے پیچھے آنے والے ہیں نجات دیں گے کہ وہ عبرت کا نشان بنے"۔ چنانچہ ہزارو سالوں کے بعد اس پرانی  لاش دستیاب ہوئی ہے اور اب مصر کے عجائب خانہ میں موجود ہے۔زیر تبصرہ کتاب’’پرانی لاش‘‘ میں  محترم جنا ب اشتیاق احمد صاحب نے    کہانی او رمکالمے کے  انداز میں اس فرعون کا تذکرہ کیا ہے۔ایک اچھی کہانی کی طرح اس  کہانی میں بھی یہ خوبی نمایاں ہے یہ عبرت ونصیحت کےتمام پہلو اپنے اندرکھتی ہے۔ (م۔ا)

< 1 2 >

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1785
  • اس ہفتے کے قارئین 5662
  • اس ماہ کے قارئین 57695
  • کل قارئین49496092

موضوعاتی فہرست