کل کتب 111

دکھائیں
کتب
  • 41 #3951

    مصنف : عبد الرشید عراقی

    مشاہدات : 3064

    برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث کی تفسیری خدمات

    (اتوار 17 جنوری 2016ء) ناشر : صادق خلیل اسلامک لائبریری فیصل آباد

    برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ ، تفسیر قرآن کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا ۔علمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔پنجاب میں تدریسی خدمت کے سلسلہ میں مولانا حافظ عبدالمنان صاحب محدث و زیر آبادی (م1334ھ) کی خدمات بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔مولانا حافط عبدالمنان صاحب حضرت شیخ الکل کے ارشاد تلامذہ میں سے تھے اور فن حدیث میں اپنے تمام معاصر پر فائز تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں 80 مرتبہ صحاح ستہ پڑھائی۔ آپ کے تلامذہ میں ملک کے ممتاز علمائے کرام کا نام آتاہے اورجن کی اپنی خدمات بھی اپنے اپنے وقت میں ممتاز حیثیت کی حامل ہیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:’’علمائے اہلحدیث کی تدریسی و تصنیفی خدمات قدر کے قابل ہے۔ پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں (م1307ھ) کے قلم او رمولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی (م1320ھ) کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا۔ بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہلحدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان او راعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کررہے تھے۔ شیخ حسین عرب یمنی (م327ھ) ان سب کے سرخیل تھے اوردہلی میں مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی کے ہاں سند درس بچھی تھی اور جوق در جوق طالبین حدیث مشرق و مغرب سے ان کی درس گاہ کا رخ کررہے تھے۔ ان کی درس گاہ سے جو نامور اُٹھے ان میں ایک مولانا محمد ابراہیم صاحب آروی (م1320ھ) تھے۔ جنہوں نے سب سے پہلے عربی تعلیم اور عربی مدارس میں اصلاح کا خیال کیا اور مدرسہ احمدیہ کی بنیادڈالی ۔اس درس گاہ کے دوسرے نامور مولانا شمس الحق صاحب ڈیانوی عظیم ابادی (م1329ھ) صاحب عون المعبود فی شرح ابی داؤد ہیں جنہوں نے کتب حدیث کی جمع اور اشاعت کو اپنی دولت اور زندگی کامقصد قرار دیا اوراس میں وہ کامیاب ہوئے۔تصنیفی لحاظ سے بھی علمائے اہلحدیث کاشمار برصغیر پاک و ہند میں اعلیٰ اقدار کا حامل ہے۔ علمائے اہلحدیث نے عربی ، فارسی اور اردو میں ہر فن یعنی تفسیر، حدیث، فقہ،اصول فقہ، ادب تاریخ او رسوانح پر بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔ الغرض برصغیر پاک وہندمیں علمائےاہل حدیث نےاشاعت اسلام ، کتاب وسنت کی ترقی وترویج، ادیان باطلہ اور باطل افکار ونظریات کی تردید اور مسلک حق کی تائید اور شرک وبدعات ومحدثات کےاستیصال اور قرآن مجید کی تفسیر اور علوم االقرآن پر جو گراں قدر نمایاں خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ اہل حدیث کاایک زریں باب ہے  زیر تبصرہ کتابچہ ’’برصغیر پاک وہند میں علمائے اہل حدیث کی تفسیری خدمات‘‘جماعت اہل حدیث کے ممتاز مؤرخ ومقالہ نگار محترم جناب عبدالرشید عراقی﷾ کی کاوش ہے ۔یہ کتابچہ دراصل مولانا عبدالرشید عراقی کےان مضامین کا مجموعہ ہے جوانہوں نے 1980ء میں’’علمائے اہل حدیث کی تفسیری خدمات ‘‘ کےعنوان سے ہفت روزہ الاعتصام میں تحریر کیے بعد ازاں بعض اہل علم کے اصرار پر ان میں مزید اضافہ جات کرکے اسے کتابی صورت میں شائع کیاگیا۔عراقی صاحب کا یہ رسالہ تین ابواب پر مشتمل ہے ۔اس میں انہوں نے 308 کتابوں کاذکر کیا ہےجن کا تعلق تفسیر قرآن اور علوم القرآن سے ہے اور اس کے علاوہ 28 مفسرین کرام (اہل حدیث) کے مختصر حالات زندگی اوران کی تفسیری خدمات کاذکر کیا ہے۔نیز ان کتابوں کابھی ذکر کیا ہے جومخالفین اسلام نے قرآن مجید پر اعتراضات کیے اور علمائے اہل حدیث نے ان کے جوابات دیے اور کچھ ایسی کتابوں کابھی ذ کر کیا ہے جوعلمائے اسلام نے فروعی اختلافات کی وجہ سے بطور تنقید ایک دوسرے کے خلاف لکھیں۔ اللہ تعالی ٰ عراقی کو صحت وعافیت سے نوازےاوران کی تمام مساعی حسنہ کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 42 #2002

    مصنف : محمد اسحاق بھٹی

    مشاہدات : 6005

    برصغیر میں اہل حدیث کی آمد

    (پیر 15 مارچ 2010ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    برصغیر میں کتاب وسنت کو اپنے لائق اتباع قراردینے والے سرفروشوں کا گروہ تمام تر مسلکی گروہوں میں سب سے زیادہ مظلوم رہا ہے ہر کسی نے انہی پر مشق سخن  فرمانے کی کوشش کی ہے بڑے سے بڑے اعتدال پسند ذہنوں کا ذوق بھی اہل حدیث کےمعاملے میں بدذوقی کا شکار ہوا ۔اہل حدیث کے بارے میں جو کچھ کہا گیا او ر لکھا گيا اگر کوئی متجسسسانہ نقطہ نظر سے اسے یکجا کرنے کی کوشش کرے توکئی مجلدات تیار ہوجائیں گے ۔اہل حدیث کے  خلاف سب سے زیادہ اس بات کو اچھالا گیا کہ یہ گروہ فقط ڈیڈھ سو برس کی پیداوار ہے درود کا منکر او رنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گستاح ہے۔(نعوذباللہ)یہ کتاب اہل حدیث کے متعلق ان بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتی ہے جن کا عام مسلمان شکار ہیں  اور جہاں تک علماء کا تعلق ہے ان کا معاملہ ذرا مختلف ہے وہ جب بھی اپنے ذاتی وگروہی مفادات کی سطح سے بلند ہوکر اہل حدیث کے بارے میں سوچیں گے تویہ ماننے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ تو خالص اسلام کی دعوت ہے جس کام مرکزی نقطہ شافع  روزمحشر صلی اللہ علیہ وسلم کی بلاشرکت غیرے اطاعت و فرمانبرداری ہے ۔کتاب میں اہل حدیث کی تعریف ،عقیدہ،برصغیر میں اہل حدیث کی آمد کے کارواں اور اہل حدیث کے اصول وضوابط  کے ساتھ ساتھ او ربہت سارے اہم مضامین کو بالتفصیل بیان کیا گیاہے ۔
     

     

  • 43 #6126

    مصنف : محمد ابراہیم میر سیالکوٹی

    مشاہدات : 3502

    تاریخ اہل حدیث

    (جمعہ 13 فروری 2015ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    برصغیر پاک وہند میں اہل حدیث کے متعلق مختلف غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ۔ مخالفین ان کے عقائد مسخ کر کے عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ جب کہ تاریخ کے حوالے سےبھی ان کے متعلق گمراہ کن باتیں کی جاتی ہیں ۔عقائد میں جہاں ان کو (معاذ اللہ ) گستاخ رسول، درود کا منکر اور نہ جانے کن کن خرافات کا حامل ٹھرایا جاتا ہے۔وہاں تاریخی اعتبار سے ان کو ڈیڑھ سوبرس کی پیداوار کہا جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’تاریخ اہل حدیث ‘‘ امام العصر مولانامحمد ابراہیم میر سیالکوٹی﷫ کی عظیم تصنیف ہے جس میں نہوں نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اہل حدیث نہ تو گستاخ رسول اور درود کےمنکر ہیں اور نہ ہی یہ کل کی پیداوار ہیں۔ اور اہل حدیث مروجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں ،نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ،بلکہ اہل حدیث ایک جماعت او رایک تحریک کا نام ہے زندگی کےہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا او ردوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا یا یو ں کہہ لیجیئے کہ اہل حدیث کانصب العین کتاب وسنت کی دعوت او ر اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور دعوت اہل حدیث سوڈیڑھ سوبرس کی بات نہیں بلکہ چودہ سو برس پرانی فکر ہے جب ہدایت کی شمع حجازِمقدس میں روشن ہوئی۔ اس کے طویل عرصے بعد لوگوں نےضرورت محسوس کی کہ ہمارے لیے شاید قول ِنبی کافی نہیں اس لیے انہوں نے قول امام کو بھی اپنے لیے ضروری سمجھا۔اسی وقت امت میں دو مستقل مکاتب فکر وجود میں آگئے۔ ایک کواہل حدیث کالقب دیا گیا اور دوسرے کو اہل الرائے کے نام سے جانا گیا۔ اس کتاب میں قارئین اس گروہی تفریق کے متعلق تفصیلات ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ   مصنف کتاب مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی کی مرقد پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے اور اشاعت ِاسلام کے لیے ان کی محنتوں   کو قبول فرمائے (آمین) م۔ا)

  • 44 #1551

    مصنف : ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین

    مشاہدات : 21725

    تاریخ اہل حدیث جلد1(بہاؤالدین )

    dsa (پیر 06 اگست 2012ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    ’اہل حدیث‘ ایک فکر اور تحریک کا نام ہے جو سنت کو مدار عمل ٹھہرانے میں انتہائی حریص اور رد بدعات میں نہایت بے باک ہے۔ اس کا مطمح نظر فقط عمل بالقرآن والحدیث ہے۔ معاشرے میں پھیلے رسوم و رواج کو یہ جماعت سنت رسول کی نگاہ سے دیکھتی ہے اگر ان میں سے کوئی چیز سنت کی میزان پر پوری اترتی ہے تو اسے فوراً قبول کر لیا جاتا ہے اور اگر کسی چیز کا کوئی بھی گوشہ سنت رسول سے متصادم ہے تو اس سے اعراض کر لیا جاتا ہے۔ اس تحریک کے خلاف جہاں بریلی شہر سے صدائیں بلند ہوئیں وہیں ابنائے دیوبند بھی اس کام میں پیچھے نہیں رہے اور اس تحریک پر طرح طرح کے الزامات لگا کر اس کا راستہ روکنے کی سعی لاحاصل کرتے رہے۔ برصغیر میں جماعت اہل حدیث مختلف مصائب اور آزمائشوں سے دوچار رہی لیکن اس ابتلا کے دور میں بھی اس فکر سے وابستہ لوگوں کی توانائیاں کم نہیں ہوئیں اور وہ پامردی کے ساتھ تمام مصائب کا مقابلہ کرتے رہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ آزمائشوں کے تسلسل میں جماعت کی ثابت قدمی اور پامردی کی داستان رقم کی جائے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین نے دیار غیر میں ہونے کے باوجود زیر نظر کتاب کی صورت میں تاریخ اہل حدیث بیان کر کے  اس قرض اور فرض کو ادا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے کام پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس قدر وسیع اور ہمہ گیر کام شاید اس سے پہلے انجام نہیں پایا۔ انہوں نے اکابر اہل حدیث کی زبانی مسلک اہل حدیث کے خدو خال واضح کیے ہیں اور اس کے مابہ الامتیاز  مسائل کو اکابر کی تحریروں سے نقل کیا ہے جو اہل حدیث جماعت کے تاریخی ورثے کی حفاظت کی بہترین صورت ہے۔ مصنف نے تاریخ میں اہل حدیث مسلک کے تسلسل کو بیان کیا ہے اور برصغیر میں جن لوگوں نے عمل بالحدیث کی راہیں دشوار گزار بنانے کی کوشش کی ہے انہیں بے نقاب کیا ہے۔ اس کے علاوہ کتاب میں اور بھی بہت کچھ ہے جو یقیناً قارئیں کے لیے افادے کا باعث ہوگا۔ یہ تاریخی دستاویز اور داستان عزیمت، جماعت اہل حدیث کے اصول و مقاصد اور خصائص و امتیازات کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔ (ع۔م)
     

  • 45 #4953

    مصنف : احمد الدہلوی

    مشاہدات : 1288

    تاریخ اہل حدیث ( احمد دہلوی )

    (اتوار 11 دسمبر 2016ء) ناشر : اسلامی اکادمی،لاہور

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث  ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تاریخ اہل حدیث "  محترم مولانا احمد الدہلوی﷫ کی عربی تصنیف"تعیین الفرقۃ الناجیۃ  وانھا طائفۃ اھل الحدیث" کا اردو ترجمہ ہے ۔اردو ترجمہ محترم ڈاکٹر محمد منیر زبیر الراعی السلفی اور حماد ظہیر تفہیمی صاحبان نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں مسلک اہل حدیث کی تاریخ بیان کی  ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 46 #4191

    مصنف : ابو البشیر عبد اللہ المعروف اہلحدیث

    مشاہدات : 1491

    تاریخ اہلحدیث گوجرانوالہ

    (جمعرات 10 مارچ 2016ء) ناشر : اومنی پرنٹرز لاہور

    برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ ، تفسیر قرآن کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا ۔علمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حضرت شیخ الکل کے تلامذہ توحید وسنت کےپیغام کولے کر اطراف  عالم میں  پھیل گئے –پنجاب اوربنگال خاص طور پر شیخ  الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی﷫ کے  فیوض سے مستفید ہوا۔ میاں  صاحب کے شاگرد دہلی سے نکلے اور پنجاب سے گزرتے ہوئے پشاور کی خشک پہاڑیوں تک پھیل گئے۔ گوجرانوالہ ، وزیر، لاہور ، امرتسر،گجرات تمام شہر اس علمی فیض باری سے روشن ہوئے۔مولانا علاؤ الدین مرحوم کے زہد وتواضع نےگوجرانوالہ میں توحید کی شمع جلائی ۔ مولاناغلام قلعوی﷫ قلعہ میاں سنگھ،پیر میر حید ر صاحب اس علاقہ میں توحید وسنت کی اشاعت کے موجب بنے ۔پنجاب میں تدریسی خدمت کے سلسلہ میں مولانا حافظ عبدالمنان صاحب محدث و زیر آبادی (م1334ھ) کی خدمات بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔مولانا حافط عبدالمنان صاحب حضرت شیخ الکل کے ارشاد تلامذہ میں سے تھے اور فن حدیث میں اپنے تمام معاصرین پر فائز تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں 80 مرتبہ صحاح ستہ پڑھائی۔ آپ کے تلامذہ میں ملک کے ممتاز علمائے کرام کا نام آتاہے اورجن کی اپنی خدمات بھی اپنے اپنے وقت میں ممتاز حیثیت کی حامل ہیں۔ کتاب ہذا ’’تاریخ اہل حدیث گوجرانوالہ ‘‘ کے مرتب ابو البشیر عبد اللہ المعروف  اہل حدیث  اوران کے رفقاء نے  گوجرانوالہ میں توحید وسنت کی اشاعت اوراس کےضعف وقوت اور زوال وعروج کے مناظر کئی سالوں تک دیکھے ہیں ۔مرتب موصوف نے اس کتاب میں اپنی  زندگی کے حال واحوال  ، تجربات اورمناظر کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ تاکہ عصر حاضر کے نوجوان ان کے تجربات سے استفادہ کریں اور مصائب کو برداشت کرنے کی اپنے اندر قوت پیداکریں۔(م۔ا)

  • 47 #1201

    مصنف : ڈاکٹر محمد بن سعد الشویعر

    مشاہدات : 23414

    تاریخ وہابیت حقائق کے آئینے میں

    (اتوار 13 نومبر 2011ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    سلفی تحریک کو ابتداء سے لے کر موجودہ دور تک مختلف قسم کے الزامات و اتہامات اور دشنام طرازیوں کا سامنا ہے ۔ علماء سوء کی تمام تر توانائیاں اس نکتے پر کھپ رہی ہیں کہ اس تحریک کا راستہ کیسے روکا جائے ۔اس لیے کہ اس تحریک کی کامیابی اصل میں ان سیم و زر کے پجاریوں کی ناکامی ہے جنہوں نے دین کو بطور پیشہ کے اپنایا ہوا ہے ۔چنانچہ ان جضرات نے اللہ کے خوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے    تحریک اور بانیان تحریک کے لیے ہر طرح کی گالی کو  جائز قرار دے لیا بلکہ لوگوں کو اس سے متنفر کر نے کے لیے  تحریک کے نام کو ہی گالی  بنادیا اور اس مقدس تحریک کے ڈانڈے  دوسری صدی ہجری کی  ،رستمی وہابیت ،سے جاملائے پھر زور و شور سے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ  شیخ محمد کی یہ تحریک در اصل خارجیوں کی اباضی تحریک وہابیت کی صدائے بازگشت ہے ،تاکہ علماء سلف کے فتاوی اور عوام الناس  کی نفرت کا رخ اباضی تحریک سے سلفی تحریک کی جانب موڑ دیا جائے۔اس تاریخی غلطی کی اصلاح اور الزامات و اتہامات کے مسکت جواب کے لیے  ڈاکٹر محمدبن  سعد  الشویعر کی یہ تالیف  نہایت ہی عمدہ کاوش ہے ۔موصوف مفتی اعظم سعودی عرب کے مشیر  اور مستند عالم دین ہیں ۔سلفی تحریک    سے آگاہی اوراس پر اعتراضات کے مسکت  اور شافی جوابات کے لیے شاید اس سے بہتر  کتاب دستیاب نہیں ہے۔  (ناصف)
     

  • 48 #1116

    مصنف : قاضی محمد اسلم سیف

    مشاہدات : 22493

    تحریک اہل حدیث تاریخ کے آئینے میں

    (پیر 03 اکتوبر 2011ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    مسلک اہل حدیث پر عموماً یہ اعتراض وارد کیا جاتا ہے کہ یہ ایک نو ایجاد مذہب ہے اور اس کے ڈانڈے اسلام دشمن قوتوں سے ملتے ہیں حالانکہ حقیقت میں ’اہل حدیث‘ اس طرز فکر کا نام ہے جس کا سرچشمہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی مقدس شخصیات ہیں۔ مسلک ’اہل حدیث‘ کے بارے میں وارد کیے جانے والے تمام اعتراضات و شبہات کے ازالے کے لیے قاضی محمد اسلم سیف صاحب فیروز پوری تاریخی حقائق سے لیس ہو کر سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے براہین قاطعہ کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ اہل حدیث کسی خاص فرقہ یا گروہ کا نام نہیں ہے اور نہ ہی اصحاب الحدیث کی کوئی فنی اصطلاح ہے بلکہ یہ وہ نظریاتی اور اصلاحی تحریک ہے جس کا نصب العین کتاب و سنت کے ساتھ تمسک ہے۔ مولانا نے بہت سے حقائق کو مسلسل پیرایہ میں نظم کرتے ہوئے ہر دور میں اہل حدیث کے زاویہ نگاہ کو واضح صورت میں پیش کر دیا ہے۔ پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ ہر دور کے اہل حدیث زعماء کے تجدیدی اور اصلاحی کارناموں کو صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔ کتاب کی خوبی یہی ہے کہ اہل الحدیث کےبارے میں تمام جزئیات و کلیات کے ذکر میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونے دیا گیا۔(ع-م)

  • 49 #959

    مصنف : ممتاز احمد عبد اللطیف

    مشاہدات : 2345

    تحریک اہل حدیث کا تاریخی پس منظر

    (پیر 15 اگست 2011ء) ناشر : دار النشر والتالیف،نئی دہلی

    بر صغیر پاک وہند میں تحریک اہل حدیث کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں اور مغالطے عام کر دیئے گئے ہیں۔یہ کام زیادہ تر ان لوگوں کی طرف سے ہوا ہے جن پر اس تحریک کی زد بڑی ہے یعنی ارباب تقلید ۔کیونکہ اہل حدیث تحقیق کی دعوت دیتے ہیں ۔زیر نظر کتاب میں تحریک اہل حدیث کا تاریخی پس منظر بیان کیا گیا ہے ۔انہوں نے اسے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے علاوہ ازیں مختلف فقہی مکاتب فکر سے اہل حدیث کا امتیاز بھی بیان کیا ہے۔اس ضمن میں یہ نکتہ بہ طور خاص قابل ذکر ہے کہ اہل حدیث کو ظاہریت سے الگ کیا ہے ورنہ عموماً امام ابن حزم رحمہ اللہ کے رد تقلید کو لے کر انہیں خالص اہل حدیث ثابت کیا جاتا ہے حالانکہ ظاہریت اور فکر اہل حدیث میں نمایاں فرق ہے ۔علاوہ ازیں برصغیر کی تحریک جہاد ودعوت اور نجد کی اصلاحی تحریک کے باہمی ربط پر بھی روشنی ڈالی ہے۔نیز سیاست کے حوالے سے اہل حدیث کا نقطہ نظر بھی واضح کیا ہے ۔گویا یہ مختصر کتاب اہل حدیث کا جامع تعارف ہے،جس کے مطالعہ سے اہل حدیث کی تحریک سے متعلق بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو گا اور حقیقت حال تک رسائی ہو گی۔(ط۔ا)
     

  • 50 #4622

    مصنف : محمد عبدہ الفلاح الفیروزپوری

    مشاہدات : 1884

    تحریک اہلحدیث کے چند اوراق حصہ اول

    dsa (جمعہ 17 جون 2016ء) ناشر : ادارۃ البحوث الاسلامیہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تحریک اھلحدیث کے چند اوراق " محترم مولانا مفتی محمد عبدہ الفلاح صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نےتحریک  اہل حدیث  کو ابتداء سے لیکر موجودہ دور تک نہایت عمدہ تسلسل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 11 12 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1389
  • اس ہفتے کے قارئین 15028
  • اس ماہ کے قارئین 53422
  • کل قارئین49439646

موضوعاتی فہرست