مقصود الحسن فیضی

7 کل کتب
دکھائیں

  • 1 لڑکیوں کی بغاوت؟ اسباب وعلاج (پیر 04 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:14458

    حدیث شریف میں ہر شخص کو ذمہ دار مسئول قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بال بچوں کی تربیت دینی  کا ذمہ دار ہے اور قیامت کے روز اس سے باز پرس ہو گی ۔اس طرح قرآن کریم میں بھی فرمایا گیا ہے کہ اپنے آپ کو اور گھر والوں کو جہنم سے بچاؤ۔فلہذا والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو حلال کمائی کھلائین،انہیں زیر تعلیم سے آراستہ کریں۔بنیادی اسلامی تعلیمات،حلال و حرام اور جائز و ناجائز وغیرہ سے انہیں متعارف کروائیں اور ان  کی نشوؤنما اور تربیت میں اسلامی آداب کو ملحوظ رکھیں۔مگر موجودہ صورتحال میں اکثر لوگ اپنی اس ذمہ داری سے  سخت غافل ہیں،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان نسل یہود ونصاریٰ اور ہنود و کفار کی تہذیب میں رنگ چکی ہے۔اس کا نتیجہ ہے کہ نوجوان بچیاں والدین سے بغاوت کر کے ان کی عزت کو بٹہ لگا کر ان کی رسوائی کا بھی سبب بنتی ہیں اور خود بھی برباد ہو جاتی ہیں ۔اس کے اسباب ووجوہ کیا ہیں اور اس کا علاج کیا ہے زیر نظر کتاب میں اسی کا جواب دیا گیا ہے،جو ہر مسلمان کے لیے قابل مطالعہ ہے۔(ط۔ا)
     

  • آج انسان اپنی حدوں سے نکل کر اصول اورقدروں کوکھوچکا ہے۔آج آزادی کےنام پر اخلاقی ضابطوں اورشرافت کےاصولوں کو تنگئ حیات اور بندش کہتا ہے ۔سماج میں حیا اور غیرت کا فقدان عام ہےایک دوسرے کالحاظ اوراحترام مٹتا جارہا ہے ،ایسا لگتا ہے کہ پورا انسانی سماج حیوان بنتا جارہا ہے ۔مسلمان جو اسلام کی طرف سے سارے انسانوں کے لیے ماڈل اوراسوہ ہیں جنہیں سب کو چاہے جس مذہب ونظریہ کے ماننے والے ہوں عقیدہ وعمل اور ہر طرح کے عملی بگاڑ سے نکال کر صالح فکرمعیاری اخلاق اور پاکیزہ زندگی پرلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہےآج ان کا حال بھی ابتر ہے غیروں کارنگ ڈھنگ چال ڈھال اختیار کررہے   ہیں ،مغرب کی آزادی اور خواہشات ِ نفس کےپیچھے تیزی بھاگ رہے ہیں ۔ لیکن انتہائی قابل افسوس بات یہ ہے کہ ملت کی بیٹیاں اپنے اولیاء امور اور سرپرستوں کی سرپرستی اور ہدایت میں رہنا نہیں چاہتیں۔ نکاح وطلاق میں ازدواجی زندگی میں دیگر حقوق کے ضوابط نظر انداز کررہی ہیں جن کے نتائج روح فرسا اور ہلادینے والے ہیں ۔ آج ملت اور خاندان کے بڑے ،باپ، ماں، بزرگ نئی نسل کی بے راہ روی پر افسردہ وغم زادہ ہیں حتیٰ کہ ان پر بددعاؤں کےلیے ہاتھ اٹھارہے ہیں ۔ایسے میں نئی نسل اورآزادی پسندوں کو خبردار ہوجانا چاہیے جو اپنے والدین اور بزرگوں کی اطاعت وفرماں برداری کی پرواہ نہیں کرتے اور بددعائیں لے رہے ہیں ۔اسلام میں نہ تودیوثیت کی گنجائش ہے کہ ذمے دار گھر اور اہل وعیال میں برائیوں کو دیکھے پھر نظر انداز کردے اور آزاد رہے اور نہ ہی اولاد اور اہل خانہ کواپنے سرپرستوں اور بزرگوں کے حکم وہدایت سےباہر رہنے کی اجازت ہے۔...

  • 3 امت محمدیہ کے فضائل (بدھ 15 جون 2016ء)

    مشاہدات:2695

    اللہ تعالی نے امت محمدیہ کو بے شمار فضائل ومناقب سے سرفراز فرمایا ہے اور اس پر اپنے لاتعداد انعامات فرمائے۔اللہ تعالی نے اسے امت وسط پیدا کیا ہے۔یہ امت پہلی امتوں کےلئے  بطور شاہد پیش ہوگی۔سابقہ امتوں پر شرعی احکامات میں بہت سختیاں تھیں لیکن اللہ نے اس امت کے احکامات بہت آسان بنائے ہیں، مثلا: اللہ تعالی نے ساری زمین کو نماز کی جگہ اور مٹی کو طہارت -تیمم- کا ذریعہ بنا دیا ہے۔تیمم اور موزوں پر مسح کرنے کی اجازت دی گئی، سابقہ امتوں کی بنسبت اس امت کی عبادات بھی افضل ہیں ، یہ گنتی کی پانچ نمازیں پڑھتے ہیں، لیکن اجر میں پوری پچاس ہیں، نماز میں یہ صف بندی کریں تو وہ اللہ کے ہاں فرشتوں کی صف بندی کی طرح ہے ، کیونکہ وہ بھی پہلے اگلی صفوں کو پورا کرتے ہیں اور ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں فرمانِ نبوی ہے:’’ ہمیں اللہ نے تین چیزوں کی وجہ سے لوگوں پر برتری دی ہے وہ یہ کہ اللہ تعالی نے ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں جیسا بنایا اور ساری کی ساری زمین کو جائے نماز قرار دے دیا، اور پانی کی عدم موجودگی میں مٹی کو ذریعہ طہارت بنادیا۔ زیر تبصرہ کتاب" امت محمدیہ کے فضائل " انڈیا کے  معروف عالم دین  محترم مولانا مقصود الحسن فیضی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے امت محمدیہ کے بے شمار فضائل میں سے اٹھائیس معروف فضائل کو قلمبند کر دیاہے تاکہ یہ امت اپنے مقام ومرتبے کو پہچانے اور  غیروں کے ہاتھوں میں کھیلنے سے محفوظ رہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں  قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔...

  • 4 مذاق کے آداب (پیر 14 اگست 2017ء)

    مشاہدات:1040

    اللہ رب العزت نے انسان کی طبیعت کچھ ایسی بنائی ہے کہ اسے مختلف عوارض لاحق ہوتے ہیں‘ کبھی وہ ہنستا ہے اور کبھی روتا ہے‘ کبھی الجھن کا شکار ہوتا ہے اور کبھی ہشاش وبشاش دکھائی دیتا ہے‘ کبھی تنہائی پسند کرتا ہے تو کبھی مجلس تلاش کرتا ہے‘ انہیں مختلف عوارض میں ایک عارضہ یہ بھی ہے کہ وہ بسا اوقات سنجیدگی وحقیقت گوئی سے ہٹ کر ہنسنے ہنسانے اور لہو ولعب کی کچھ باتیں کرنا چاہتا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  اسی  موضوع(مذاق) کو زیر بحث بنایا گیا ہے ۔اس کتاب میں مذاق کے آداب کو بیان کیا گیا ہے کہ شرعی حدود کونسی ہیں جن میں رہ کر ہم کسی سے مذاق کر سکتے ہیں۔اور پھر ایسا مذاق جو ناجائز اور حرام کی صورت اختیار کر جاتا ہے اس سے اجتناب کرنا بھی لازمی ہے تو ان کو بھی بیان کیا گیا ہے۔مذاق کی تعریف‘ اہمیت اور جائز وناجائز صورتیں  تمام موضوعات کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ حوالہ جات میں صرف اصل مصدر کو بیان کیا جاتا ہے حوالے میں زیادہ تفصیل نہیں دی گئی۔ یہ کتاب’’ مذاق کے آداب ‘‘ ام عبد اللہ بنت جلیل احمد کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 5 حقیقت وسیلہ ( مقصود الحسن فیضی ) (اتوار 10 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:1162

    ہر باشعور کا یقین ہے کہ آگ سے ہاتھ جل جاتا ہے‘ لہٰذا کوئی سمجھ دار جان بوجھ کر آگ کو ہاتھ نہیں لگاتا۔اسی طرح ہر انسان کا یقین ہے کہ مال ومتاع ضرورت پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ ہر صاحب استطاعت انسان مال کمانے میں اپنی جان عزیز کا بڑا حصہ خرچ کر ڈالتا ہے۔ معلوم ہوا کہ یقین اور عقیدے کا انسان کے کردار پر گہرا اور لازمی اثر ہے۔جس کا عقیدہ ہے کہ ایمان اور اعمال صالح کے بغیر نجات ممکن نہیں تو وہ اپنا وقت اور سرمایہ اسی مقصد میں خرچ کرے گا اور جس کا عقیدہ بگڑ گیا کہ فلاں کے وسیلے سے کام چل جائے گا تو وہ بھلا کیوں مشقت کرے گا۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  اسی موضوع کو بیان کیا گیا ہے کہ وسیلہ کی کیا حقیقت ہے ؟ کتاب کو جامع ومدلل انداز میں تحریر کیا گیا ہے اور مضمون کی جملہ تفصلات کو دلائل میں سمو دیا ہے۔ وسیلہ کے مفہوم اور اس کی جائز وناجائز صورتوں کا بیان ہے اور وسیلے کی ناجائز صورتوں میں پیش کیے جانے والے دلائل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ حوالہ جات بھی فٹ

  • 6 رؤیت ہلال مشاہدہ یا نظام فلکیات پر اعتماد (ہفتہ 26 اگست 2017ء)

    مشاہدات:1261

    اسلامی کلینڈر میں سن ہجری کو بنیاد بنا کر قمری تقویم بنائی گئی جو کہ عین فطرتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مہینوں کی تعداد کو بھی چاند کے ساتھ منسلک کیا ہے نا کہ سورج کے ساتھ ۔اس لیے شرعی احکامات پر جب طائرانہ نظر دوڑائی جاتی ہے تو تمام شرعی معاملات جن کا تعلق تاریخ بندی سے ہوتا ہے ان کی ادائیگی قمری کلینڈر سے ہی ممکن ہے عیسوی سے ناممکن ہے۔جیسے رمضان کے روزے ہوں یا عید الفطرو عیدالاضحیٰ،ادائیگی زکوۃ کا مسئلہ ہو یا ایام حج کا گویا کہ بہت ساری فرضی اور نفلی عبادات قمری کلینڈر کے بغیر ناممکن ہیں۔لیکن بنیادی مشکل جو آج کے دور میں نظر آتی ہے وہ اختلاف مطالع کی وجہ سے لوگوں کا متذبذب اور مشکوک ذہن ہے کہ یہ کیا سلسلہ ہے کہ ایک ہی اسلامی تہوار میں اسلامی دنیا میں یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ زیر تبصرہ کتاب’’ رؤیت ہلال مشاہدہ یا نظام فلکیات بر اعتماد؟‘‘ مولانا ابو کلیم مقصود الحسن فیضی کی ہے ۔ اس کتابچہ میں اس حساسیت کو شریعت کی روشنی میں پیش کیا ہے کہ اختلاف مطالع کی باقاعدہ شرعی حیثیت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اور صحابہ کے دور میں بھی کئی مطالع کا ثبوت پایا جاتا ہے اور اس کے مطابق لوگ احکامات الہٰیہ کی ادائیگی کے پابند ہوں گے۔اسی طریقے سے رویت ہلال کمیٹی کی ضرورت ،ان کے کیے ہوئے فیصلے کو تسلیم کرنا اور ان کی تحقیق کےمطابق کیے گئے اعلان کوقبول کرتے ہوئے اپنے اپنے مطلع کا اعتبار کرتے ہوئے شرعی احکامات کی بجا آوری کی جائے اسی میں ہی امت مسلمہ کی خیر ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا ابو کلیم مقصود الحسن فیضی کی سعی کو قبول فرمائے۔ آمی...

  • 7 حقیقت وسیلہ (اتوار 15 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:1368

    ہر انسان خواہش مند ہے کہ وہ صراطِ مستقیم ‘ ہدایت یافتہ اور صحیح عقیدے کا حامل  ہو۔یقین اور عقیدے کا انسان کے کردار پر گہرا اور لازمی اثر ہے۔جس شخص کا عقیدہ یہ ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ کے بغیر آخرت میں نجات نہیں مل سکتی وہ پوری محنت کے ساتھ ایمان کو حاصل کرے گا اور اعمال صالحہ کے لیے وقت اور سرمائے کو خرچ کرے گا۔اور یہی نجات کا محفوظ راستہ ہے۔البتہ اگر کسی کا عقیدہ بگڑ گیا اور اُس نے سمجھ لیا کہ فلاں صاحب کا وسیلہ کام دے دے گا یا فلاں ہستی کی شفاعت کام آجائے گی تو بھلا وہ کیوں کر مشقت اٹھا کر اعمال کی محنت کرے گا اور اپنی ذات وخواہشات کو پابندیوں میں جکڑے گا۔اس وقت ہمارا معاشرہ اسی غلط عقیدے کی وجہ سے بے عملی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بس رہے ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب مصنف﷾ نے وسیلے کے عنوان پر ایک جامع ومدلل کتاب تالیف فرمائی ہے۔ اس عنوان کو جملہ تفصیلات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور روشن دلائل کو آسان زبان میں سمو دیا ہے۔ہر عنوان میں دیگر اہم شخصیات کی اہم تالیفات سے اقتباس بھی لیے گئے ہیں۔ حوالہ جات کا خاص اہتمام کیا گیا ہے‘ حوالے میں اصل مصدر کو ذکر کر کے جلد اور صفحہ نمبر بھی درج کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں وسیلہ کی لغوی اور شرعی  تعریف کر کے وسیلہ کی اقسام کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ شرعی(جو جائز ہے) اور غیر شرعی(جو ناجائز ہے) وسیلہ کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اور آخر میں وسیلہ لینے والوں کے شبہات کو بیان کر کے ان کا ازالہ کیا گیا ہے۔یہ کتاب’’حقیقت وسیلہ‘‘ مولانا مقصود الحسن﷾ کی علمی اور تحقیقی کاوش کا نتیجہ ہے۔دعا...


4 کل کتب
دکھائیں

  • 1 مسلمان عورت کا پردہ اور لباس (جمعرات 19 فروری 2009ء)

    مشاہدات:18655

    عورت کےلیے پردہ اسلامی شریعت کا ایک واضح حکم ہے اور اس کامقصد بھی بالکل واضح ہے اسلام نے انسانی فطر ت کےعین مطابق یہ فیصلہ کیاہے کہ عورت او رمرد کے تعلقات پاکیزگی وصفائی اور ذمہ داری کی بنیادوں پراستوار ہوں اور اس میں کہیں کوئی خلل نہ آنےپائے اسی بناء پر ان تمام اسباب ومحرکات پر مکمل قدغن لگائی ہے جوغلط کا بیش خیمہ ہیں انہی میں سے ایک چہرے کاپردہ بھی ہے کہ اسی سے فتنے جنم لیتے ہیں زیرنظر کتاب شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے افادات پرمشتمل ہے جس میں یہ بتایاگیا ہے کہ نماز میں عورت کالباس کیسا ہونا چاہیے ضمناً اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نماز اور غیرنماز میں عورت کے پردے میں کیا فرق ہے انتہائی علمی اور لائق مطالعہ کتاب ہے

     

  • 2 مسائل ستر و حجاب (منگل 27 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2631

    عورت کے لیے  پردہ اسلامی شریعت کا ایک  واضح حکم ہے اور اس کامقصد بھی بالکل واضح ہے ۔ اسلام نےانسانی فطرت کے عین مطابق یہ  فیصلہ کیا ہے کہ  عورت او رمرد کے تعلقات پاکیزگی،صفائی اور ذمہ داری کی بنیادوں پر استوار ہوں اس میں کہیں کوئی خلل نہ آنےپائے ۔اور عورت کے لیے  پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر  دینی روایت ہے ۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ مردکی تمام تر شہوانی  کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے  سلسلے میں  معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم  کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس  کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم  کی رو سے عورت پر پردہ  فرض ِعین ہے  جس کا تذکرہ  قرآن   کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے  اور  کتبِ احادیث میں اس کی  صراحت موجو د ہے  ۔کئی  اہل علم نے  عربی  واردو زبان  میں  پردہ کے  موضوع پر متعدد کتب  تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مسائل وستر وحجاب‘‘ شیخ  الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کی بعض تحریروں سے مقتبس ہے ۔جس میں   نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں احکام ستر وحجاب  کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے  ۔بالخصوص چہرے کےپردے کوبڑے  مدلل...

  • 3 مومنات کا پردہ اور لباس (جمعرات 03 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2263

    اسلام دینِ فطر ت اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس ضابطہ حیات میں ہر دو مرد وزن کی حفاظت وتکریم کے لیے ایسے قواعد مقرر کئے گئے ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں نہ کوئی دقت پیش آتی ہے نہ فطرت سلیم انہیں قبول کرنے میں گرانی محسوس کرتی ہے۔ اسلام باوقار زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے۔ جس   کے تحفظ کے لیے تعزیری قوانین نافذ کئے گئے ہیں تاکہ عزت نفس مجروح کرنے والوں کا محاسبہ ہوتا رہے ۔عورت کے لیے پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے ۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مردکی شہوانی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن   کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجو د ہے ۔کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں پردہ کے موضوع پرمتعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’مومنات کاپردہ اورلباس‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب کا ترجمہ ہے۔اس کتاب میں انہوں نے عورت کا نمازمیں لباس کیسا ہونا چاہیے اور عورت کے گھر وگھر سے باہر پردہ کےاحکام کومختصر مگرجامع انداز میں بیان کیا ہے۔ اگرچہ اس کتاب کو کئی اداروں نے شائع کیا ہے۔لیکن کتاب...

  • 4 مختصر قیام رمضان (جمعرات 11 جولائی 2019ء)

    مشاہدات:418

    نمازِ تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔صحیح احادیث  کے مطابق  رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد بشمول وتر گیارہ ہے  ۔مسنون تعداد کا  مطلب  وہ تعداد  ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ زیر کتابچہ’’ مختصر قیام رمضان ‘‘علامہ ناصر الدین البانی   کی ’’ صلاۃالتراویح‘‘ کے اختصار کا اردو ترجمہ  ہے یہ  اختصار بھی علامہ البانی ﷫ نے خود  ہی کیا تھا اختصار میں  علامہ مرحو نے اعتکاف وغیرہ سےمتعلق بعض مفید باتوں کا اضافہ بھی کیا ہے ۔علامہ موصوف نے اس کتاب میں نماز تراویح کی آٹھ رکعات کو ثابت کرنے کے علاوہ  یہ بھی ثابت کیا ہے جو سیدنا عمرفاروق ﷜ کے مشہور ہے کہ انہوں نے بیس رکعت تراویح کی بنیاد رکھی وہ بالکل غلط ہے نہ توسیدنا عمرفاروق ﷜ نے بیس رکعت کا حکم دیا  اورنہ آپﷺ نےخود بیس ر...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1750
  • اس ہفتے کے قارئین: 10503
  • اس ماہ کے قارئین: 35031
  • کل قارئین : 47146819

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں