دکھائیں کتب
  • 51 بازار ضرور جاؤں گی (ہفتہ 13 فروری 2010ء)

    مشاہدات:17636

    یہ چھوٹا سا کتابچہ محترم سلیم رؤف صاحب کے دیگر اصلاحی کتابچوں کی طرح روز مرّہ زندگی میں سرزد ہونے والی عملی کوتاہیوں، دین سے دوری، مغربیت اور مادہ پرستانہ ذہن کی اصلاح کیلئے نہایت سادہ، شستہ اور رواں واقعاتی اسلوب میں تحریر کی گئی ایک عمدہ کاوش ہے۔ چند صفحات پر مشتمل زیر تبصرہ کتابچہ کا موضوع خواتین کی بلا ضرورت شاپنگ ہے۔ دردمندانہ انداز میں لکھی گئی ایک خوبصورت اصلاحی تحریر ہے۔

  • 52 برصغیر اور عرب مورخین (اتوار 16 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:856

    ہندوستانی موضوعات  پرلکھنے والے عہد وسطی کے عرب مصنفین ہندوؤں کو علم ودانش سے آراستہ قوم قرارد یتے ہیں۔ ان مصنفین نےہندو زندگی  سے متعلق موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے۔عربوں  نےقدیم ہندوستان کے بارے میں کیا اور کتنا لکھا یہ بتانا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ  ان  کی بہت سے اور بالخصوص معرکۃ الآراء کتابیں تنگ ذہن  علماء کےتعصب ،بے اعتنائی ، باہمی مسلکی او رمذہبی نزاع اور دوسرے آسمانی حوادث کی  نذر ہوگئی ہیں۔ مسلمانوں  نےاپنے  ابتدائی دور میں  سندھ کو ایک نئی تہذیب او ر کلچر سے آشنا کیاتھا  ۔ اس کی  تفصیل مختلف مؤرخوں کے بیانات سے ملتی ہے۔ جناب خورشید احمد فاروق کی زیر کتاب ’’ برصغیر او رعرب مؤرخین‘‘  مختلف مؤرخوں کےایسے ہی بیانات کا مجموعہ ہے۔ نیزیہ کتا ب محمود غزنوی سے پہلے کے ہندوستان (نویں،دسویں صدی عیسوی) کے مذہب ، تمدن ، علوم ، تاریخ اور تجارت وغیرہ سے متعلق عرب مؤلفوں کے بیانات پر مشتمل ہے۔تاکہ  اس  سے  وہ محققین مستفیض ہوسکیں جو یا تو عربی نہیں جانتے یا پھر  جن کےلیے مختلف عربی  ماخذات  تک رسائی حاصل کرنا نہایت مشکل ہے ۔(م۔ا) 

  • 53 بسنت کیا ہے؟ (جمعہ 26 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1270

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات دین ہے۔ دین اسلام میں انسانی زندگی کا ایسا کوئی مقام نہیں جس میں دین اسلام کی راہنمائی موجود نہ ہو۔ اسلام سے قبل عرب قبیلے مختلف اقسام کے تہوار اور میلے منعقد کرتے تھے۔ اسلام جہاں اپنے ماننے والوں کو مختلف احکامات کا پابند کرتا ہے وہاں دین اسلام نے مسلمانوں کے لیے عیدین کو بھی متعارف کروایا ہے جس میں مسلمان اللہ رب العزت کے آگے سر بسجود ہوتے ہوئے، شریعت کے قوانین کی خلاف ورزی کیے بغیر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ تاریخ اسلام میں نہ تو عید میلاد النبیؐ کا تصور ملتا ہے اور نہ ہی بسنت منانے کا، یہ ایک ایسی بدعات ہیں جن کی دین اسلام میں کوئی اصل نہیں۔ بسنت ایک خالصتاً ہندو انہ رسم ہے اور اس کے پیچھے ایک گستاخ اور بدبخت لڑکے کی یاد گیری کا عنصر واضح طور پر کار فرما ہے۔ زیر نظر کتاب"بسنت کیا ہے؟" مفتی ابو لبابہ شاہ منصور ایک تحقیقی رسالہ ہے جس میں مستند تاریخی شہادتوں اورہندو مصنفین کی تحریرات کے عکس کے ساتھ یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ بسنت ایک واقعتاً ہی ہندوانہ رسم ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل اسلام کو اس جان لیوا رسم سے محفوظ فرمائے اور مصنف کو اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 54 بنیاد پرستی اور تہذیبی کشمکش (منگل 10 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1691

    انسانی فکر میں اختلاف اور طرز فکر میں تنوع کا ہونا ایک فطری بات ہے بلکہ کسی بھی معاشرے کی نشوونما اور ارتقاءکی بہت بڑی ضرورت ہے۔ جب کوئی قوم اس دنیا کے لئے مثبت رول ادا کرنے کے قابل ہوتی ہے تو یہی فکری تنوع اس معاشرے کا ایک اثاثہ ہوتا ہے۔لیکن جب یہی قوم اس عالم کے لئے ایک بوجھ بن جاتی ہے تو پھر یہی فکری تنوع ایسا اختلاف اختیار کرلیتا ہے کہ ان کا اپنا اثاثہ ان پر بوجھ بن جاتا ہے۔مغربی تہذیب جسے مسیحی بنیاد پرستی کا نام دیا جانا ،زیادہ صحیح ہوگا،قرون وسطی کی صلیبی جنگوں بلکہ اس سے بھی قبل اسلام اور عالم اسلام کے خلاف محاذ آراء رہی ہے۔جس نے تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف روپ دھارے ہیں۔البتہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مغربی تہذیب ہو یا مسیحی بنیاد پرستی ،اسلام اور اسلامی اقدار ان کا بنیادی ہدف رہے ہیں۔بنیاد پرستی عصر حاضر کا ایک سلگتا ہوا موضوع ہے،جس کی سرحدوں کا تعین کرنا ایک مشکل امر ہے۔ایک طبقہ کے لئے ایک رویہ اگر بنیاد پرستی ہوتا ہے تو دوسرے طبقہ کے لئے وہی رویہ جائز اور عین درست ہوتا ہے۔جبکہ ایک طبقہ ایسا بھی پایا جاتا ہے جوبنیاد پرستی کو کسی روئیے کے طور پر تسلیم ہی نہیں کرتا ہے۔زیر تبصرہ کتاب " بنیاد پرستی اور تہذیبی کشمکش " دنیا میں پائے جانے والے انہی رویوں اور بنیاد پرستی کے موضوع پر لکھی گئی ہے ،جو محترم مرزا محمد الیاس صاحب کی کاوش ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں بنیاد پرستی کا معنی ومفہوم،ہم بنیاد پرست کیوں؟اسلام یا اسلامی بنیاد پرستی،بنیاد پرستی،سیکولرازم اور سیاست،اسلام اور مغربی تہذیب،اسلام ایک سماجی عامل،مغرب کے خدشات،اسلام اہل مغ...

  • 55 بچاؤ اپنے آپ کو اور گھر والوں کو جہنم کی آگ سے (جمعرات 20 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2879

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے اچھائی اور برائی ،خیر وشر،نفع   ونقصان میں امتیاز کرنے اور اس میں صحیح فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے ۔اچھے کام کرنے اور راہِ ہدایت کو اختیار کرنے کی صورت میں اس کے بدلے میں جنت کی نوید سنائی ہے ۔ شیطان اور گمراہی کا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں اس کے لیے   جہنم کی وعید سنائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے راہ ہدایت اختیار کرنے کےلیے اپنے انبیاء کرام کو   مبعوث فرمایا تاکہ انسانوں کو شیطان کے راستے سے ہٹا کر رحمٰن کے راستے پر چلائیں۔تاکہ لوگ اپنے آپ کو جہنم سے بچا کر جنت کا حق دار بنالیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ(سورۃ التحریم :6)’’اے ایمان والوں اپنے آپ کوجہنم کی آگ سے بچاؤ جس کاایدھن لوگ اورپھتر ہیں ‘‘اس لیے   گھر کے ذمہ دار کی یہ ذمہ داری ہےکہ وہ اپنے گھر والوں کو ایسے اعمال کرنے کا کہےکہ جن کے کرنے سے جہنم کی آگ سے بچا جاسکے۔ زیرنظر کتاب ’’ بچاؤ اپنے آپ کو اور گھر والوں کوجہنم کی آگ سے ‘‘ میں محترمہ ام عب منیب صاحبہ نے یہ واضح کیاہے کہ اہل میں کون لوگ شامل ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ نے اہل کو بچانے کا حکم کیوں دیا؟انبیاء کرام نے اپنے اہل وعیال کو جہنم سے بچانے کا فریضہ کس طر ح ادا کیا اور ہمیں یہ فریضہ کس طرح ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو   اہل ایمان کےلیے جہنم سے آزادی...

  • 56 بھوک اور جھوٹ (پیر 24 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2508

    سلیم رؤف صاحب﷾ ایک معروف مبلغ اور داعی ہیں۔آپ نے تبلیغ دین کے لئےایک منفرد طریقہ اختیار کرتے ہوئے ہر موضوع کو  کہانی کی شکل میں پیش کیا ہے اور بے شمار موضوعات پر لکھا ہے۔آپ نے کتابچوں کے نام بڑے پرکشش او ر جاذب نظر ہوتے ہیں،عنوان کو دیکھ کر انہیں پڑھنے کو دل چاہتا ہے۔مثلا’’ ننھا مبلغ‘‘ ،’’ واہ رے مسلمان‘‘ ،’’ نایاب ہیرا‘‘ ،’’ شیطان سے انٹرویو‘‘ ،’’ بازار ضرور جاوں گی‘‘ اور ’’ اور میں مر گیا‘‘  وغیرہ وغیرہ۔آپ کے یہ  چھوٹے چھوٹے کتابچے  عامۃ الناس میں انتہائی مقبول اور معروف ہیں۔ یہ چھوٹا سا کتابچہ’’ بھوک اور جھوٹ ‘‘  بھی  محترم سلیم رؤف صاحب﷾ کے دیگر اصلاحی کتابچوں کی طرح روز مرّہ زندگی میں سرزد ہونے والی عملی کوتاہیوں، دین سے دوری، مغربیت اور مادہ پرستانہ ذہن کی اصلاح کیلئے نہایت سادہ، شستہ اور رواں واقعاتی اسلوب میں تحریر کی گئی ایک عمدہ کاوش ہے۔ چند صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ ہماری معاشرتی کوتاہیوں کی بھر پور ترجمانی کرتا ہے۔اور ہمیں اپنی اور اپنی اولاد کی اصلاح اور اسلام کے مطابق ان کی تربیت کرنے کی ترغیب دیتا ہے ،تاکہ ہماری دنیا بھی سنور جائے اور ہماری آخرت بھی بن جائے۔اس کتابچے میں انہوں نے بھوک کے ساتھ جھوٹ بولنے جیسی قبیح عادت کو ترک کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بڑے ہی دل نشین اور منفرد انداز میں گفتگو کی ہے،اور اس جھوٹ کی مذمت کی ہے۔اللہ تعالی مولف کی ا...

  • 57 بہو اور داماد پر سسرال کے حقوق (ہفتہ 11 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:4658

    اسلام کے معاشرتی نظام میں خاندان کواساسی حیثیت حاصل ہے ۔خاندان کااستحکام ہی تمدن کے کےاستحکام کی علامت ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اسلام کے نصابِ حیات قرآن وحدیث میں خاندان کی تشکیل وتعمیر کے لیے واضح احکام وہدایات ملتی ہیں۔ قرآنِ پاک میں سورۃ النساء اسی موضوع کی نمائندگی کرتی ہے ۔ نکاح وہ تقریب ِ باوقار ہے جس سےخاندان کےاساسی ارکان مرد وعورت کےسسرال کارشتہ ظہور میں آتاہے۔اسلام انسانی رشتوں میں باہمی محبت،احترام،وفا،خلوص،ہمدردی، ایثار ،عدل،احسان، اور باہمی تعاون کادرس دیتا ہے میکے ہوں یا سسرال دونوں اپنی جگہ محترم ہیں دونوں اانسان کی بنیادی ضرورت نکاح کےاظہار کا نام ہیں ۔دونوں ہر گھر کی تنظیمی عمارت کابنیادی ستون ہیں۔مرد وعورت پر سسرال کے حقوق کی ادائیگی اسی طرح یکساں فرض ہے جس طرح ان دونوں کی اپنی ذات کے حقوق ایک دوسرے پر یکساں فرض ہیں اگر دونوں میں سے کوئی ایک چاہتا ہے کہ اس کاشریکِ زندگی اس کے اقربا سے اچھا سلوک کرے تو اپنے زوج کے اقرباء سےاچھا سلوک کرنا اس کا اپنا بھی فرض ہے۔ زیر نظر کتابچہ’’بہو اور دماد پر سسرال کے حقوق‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریر ہے۔اس میں انہوں نے قرآن وحدیث سےسسرال کے حقوق وفرائض کے بارے میں جو تفصیلات یا اشارات ملتے ہیں ان کو یک جا کرنے کی کوشش ہے۔ تاکہ وہ مربو شکل میں سامننے آجائیں ۔قرآن وحدیث وہ پیمانہ ہےجس پر ہم اپنی زندگی کی عمارت استوار کرنے کے پاپند ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی کاوش کو قبول فرمائے اور عوام الناس کے لیے فائدہ مند بنائے۔آمین (م۔ا)

  • 58 تاریخ علوم میں تہذیب اسلامی کا مقام (پیر 19 اگست 2013ء)

    مشاہدات:6261

    ازمنہ وسطی میں یورپ جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا ۔ توہمات و خرافات اس کے دینی عقائد کی حیثیت رکھتے تھے ۔ پھر یکایک تاریخ کے افق پرنشاۃ  ثانیہ  کے دور کا آغاز ہوا ۔جس میں یورپ بیدار ہو گیا ۔ اس  نے مذہبی توہمات کو دفن کر کے سائنس کو اپنا رہبر بنا لیا ۔ تاہم اس کےساتھ ساتھ مذہب کےخلا کو پرکرنے کے لیے الحاد کی طرف مائل ہوگیا ۔ یورپ میں عام طور پر یہ متصور کرایا جاتا ہے کہ اہل یورپ کی یہ بیداری کا سفر یونان  سے شروع ہوا ۔ اور یونان سے  یورپ  اس شاہراہ پر گامزن ہوا ۔ اس دوران مسلمانوں کو تاریخ  کے صفحات سے حذف کر دیا جاتا ہے ۔ زیرنظر کتاب اس اعتراض کو یا اس طرح دیگر اعتراضات کو رفع کرنے کے لیے خطبات کا ایک مجموعہ ہے جو محترم نو مسلم موصوف نے  ریاض  یونیورسٹی  میں  دیے تھے ۔ جن میں اسلام کی ابتدا سے  لے کر چار سو تیس ہجری  تک کے عربی زبان میں مختلف علوم و فنون کا ایک فاضلانہ جائزہ لیا گیا ہے ۔ چناچہ اس سلسلے میں اس کتاب کا مقصد قرآن ، حدیث ، تاریخ ، فقہ ، عقائد ، تصوف ، شاعری  ، لغت  ،  نحو ، بلاغت  ، طب ، بیطرہ ، علم الحیوان ،کیمیا ، نباتیات ، زراعت ، ریاضیات ، فلکیات ، احکامالنجوم ، آثارعلویہ ، فلسفہ ، منطق ، نفسیات ، اخلاق ، سیاسیات ، علم الاجتماع ، جغرافیہ ، طبعیات ، ارضیات اور موسیقی جیسے متنوع میدانوں میں مسلمانوں اور عربوں کے کام کا تعارف کروانا ہے ۔ اور ان علوم پر پائے جانے والے دنیا بھر میں عربی مخطوطات  کی  نشاندہی  کرنا ہے ۔ (ع۔ح)
     

  • 59 تاریخ فقہ اسلامی (محمد الخضری ) (بدھ 10 جون 2015ء)

    مشاہدات:5394

    فقہ اسلامی کی اجمالی تاریخ اگرچہ عربی تاریخوں مثلا مقدمہ ابن خلدون اور کشف الظنون وغیرہ میں مذکور ہے،لیکن اس زمانے میں جو جدید فقہی ضروریات پیدا ہو گئی ہیں،ان کے لئے یہ اجمالی حالات واشارات بالکل ناکافی ہیں۔موجودہ حالات میں بہت سے معاملات کی نئی نئی صورتیں پیدا ہو گئی ہیں، اور ان معاملات کی بناء پر ایک جدید فقہ کو مرتب کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔اور یہ سوال پیدا ہو رہا تھا کہ آیا فقہ اسلامی ایک جامد چیز ہے ؟یا ہر زمانے کی ضروریات وحالات کے مطابق اس میں تغیر وتبدل ہوتا رہا ہے۔؟اس سوال کو حل کرنے کی سب سے پہلی ضرورت یہ تھی کہ فقہ اسلامی کے مختلف ادوار کی مفصل تاریخ مرتب کی جائے،اور ہر دور تغیرات،انقلابات،خصوصیات اور امتیازات نہایت تفصیل سے دکھائے جائیں اور ان کے علل واسباب کی تشریح کی جائے ۔ زیر تبصرہ کتاب "تاریخ فقہ اسلامی" عالم اسلام کے معروف عالم دین اور مجتہد علامہ محمد الخضری کی عربی تصنیف "تاریخ التشریع الاسلامی" کا اردو ترجمہ ہے۔جس پر مترجم کا نام موجود نہیں ہے۔مولف موصوف نے فقہ اسلامی کی تاریخ  کو چھ ادوار پر تقسیم کیا ہے ،جن میں سے پہلا فقہ بعھد نبی  کریمﷺ،دوسرا فقہ بعھد کبار صحابہ کرام یا خلفائے راشدین،تیسرا  فقہ بعھد صغار صحابہ کرام وتابعین ،چوتھا فقہ کا وہ زمانہ جس میں اس نے باقاعدہ ایک مستقل علم کی حیثیت اختیار کر لی،پانچواں فقہ کا وہ دور جس میں ائمہ کے مسائل کی تحقیق کے لئے جدل کی گرم بازاری ہوئی اور چھٹا دور بزمانہ تقلید سے شروع ہو کر آج تک کے زمانے پر مشتمل ہے۔فقہ اسلامی کی تاریخ پر یہ ایک منفرد...

  • 60 تربیت کے دس رہنما اصول (جمعرات 04 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:1472

    جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا  واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا  جائے  ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے  اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت  اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں  کوشک نہیں  کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت  کی جائے  تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی  ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے  اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے  تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔ اولاد کی  تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت  ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تربیت کے دس رہنما اصول ‘‘  سٹیون روڈ لف کی انگریزی کتا ب کا اردو ترجمہ ہے ۔اردو ترجمے کے فرائض جناب عمران علی صاحب نےانجام دیئے ہیں ۔ مصنف  نے اس  کتاب میں بچوں کی تربیت کے بہترین 10 رہنما اصول آسان فہم  انداز  میں پیش  کیے  ہیں ۔ والدین ...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1800
  • اس ہفتے کے قارئین: 5977
  • اس ماہ کے قارئین: 25270
  • کل قارئین : 47717372

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں