دکھائیں کتب
  • 81 داڑھی اور خضاب حقیقت کیا افسانہ کیا ؟ (ہفتہ 01 دسمبر 2018ء)

    مشاہدات:1145

    شریعت ِاسلامیہ میں سفید بالوں کو خضاب لگانے  کو جائز قرار  دیا  گیاہے۔بشرطیکہ وہ کالے کے علاوہ کوئی رنگ ہو۔سیدنا ابو ہریرہ  ﷜فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: '' بڑھاپے کی سفیدی کو بدل دو، یہود جیسے نہ بنو۔''کالے خضاب کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ شوافع عام حالات میں اسے حرام قرار دیتے ہیں۔ مالکیہ، حنابلہ اور احناف اسے حرام تو نہیں البتہ مکروہ کہتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ کے شاگرد قاضی ابو یوسفؒ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں: ''بعض علما نے سیاہ خضاب کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے۔'' (ابن حجر، فتح الباری، دار المعرفہ، بیروت، ١٠/ ٣٥٤) ایک قول حضرت عمر بن الخطابؒ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ کالا خضاب استعمال کرنے کا حکم دیتے تھے۔ (عبد الرحمن مبارک پوری، تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی، طبع دیو بند، ٥/ ٣٥٦)۔ متعدد صحابۂ کرام ﷢ سے بھی اس کا استعمال ثابت ہے، مثلاً حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت مغیرہ بن شعبہؓ، حضرت عمرو بن العاصؓ، حضرت جریر بن عبد اللہؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ، حضرت عقبہ بن عامرؓ، حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ۔ تابعین اور بعد کے مشاہیر میں ابن سیرینؒ، ابو بردہؒ، محمد بن اسحاقؒ صاحب المغازی، ابن ابی عاصمؒ اور ابن الجوزی بھی کالا خضاب استعمال کیا کرتے تھے۔ (تحفۃ الاحوذی، ٥/٣٥٥، علامہ مبارک پوری نے اور بھی بہت سے تابعین و مشاہیر کے نام تحریر کیے ہیں۔ ٥/ ٣٥٧۔ ٣٥٨ داڑھی و خضاب  اصلاح معاشرہ 

  • 82 دلوں کی اصلاح (جمعہ 09 جولائی 2010ء)

    مشاہدات:22274

    اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضل و شرف کا معیار ظاہری افعال و اعمال نہیں بلکہ ایمان کے حقائق ہیں۔ عمال کی فضیلت و برتری صاحب عمل کے دل کے اندر قائم دلیل و برہان کے تابع ہوتی ہے یہاں تک کہ دو عمل کرنے والے بظاہر ایک رتبہ دکھائی دیتے ہیں لیکن فضیلت و برتری اور وزن میں ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ قلب کی اصلاح و تزکیہ اور اسے آفات سے پاک رکھنے اور فضائل و خوبیوں سے آراستہ کرنے کی ضرورت پر زور دینے والی چیزوں میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نےاپنے بندوں سے اپنی نگاہ کا مرکز ان کے دلوں کو قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں ماضی قریب کے جید عرب عالم دین شیخ محمد صالح المنجد نے ’سلسلہ اعمال القلوب‘ کے نام سے کتاب لکھی جس کا اردو ترجمہ ’دل کی اصلاح‘ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ اردو ترجمہ نہایت سلیس اور رواں ہے۔ کتاب کومتعدد عناوین میں تقسیم کرنے کے بعد دلوں کی صفائی پر نگارشات پیش کی گئی ہیں۔ ان عناوین میں اخلاص و للّٰہیت، توکل، محبت، خوف و خشیت، امید کی حقیقت، تقویٰ کی حقیقت، تسلیم و رضا، شکر گزاری، صبر و تحمل، ورع اور مشتبہات سے بچاؤ، غور و فکر اور نفس کا محاسبہ شامل ہیں۔ 750 سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ہر عنوان کے تحت الگ سے مقدمہ قائم کیا گیا ہے اور ہر بحث کا مکمل تعارف کروانے کے بعد اصل موضوع سے بحث کی گئی ہے۔ انسان کی تمام تر کامیابی کا دارو مدار اسی پر ہے کہ دنیا میں وہ اپنی اصلاح کر لے اور اپنے آپ کو آخرت کےلیےتیار کر لے۔ اس ضمن میں یہ کتاب نہایت مددگار ثابت ہو گی۔

     

    (ع۔م)

  • 83 دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا نظام حکومت (جمعہ 16 نومبر 2018ء)

    مشاہدات:1502

    جس طرح اسلام عقائد وایمانیات اورعبادات  یعنی  اللہ تعالیٰ  اوراس کے بندوں کے درمیان تعلقات  کا نظام پیش کرتاہے اسی طرح دنیاوی معاملات یعنی بندوں کے باہمی تعلقات کا نظام بھی عطا کرتا ہے ۔اسلامی  تہذیب وتمدن اور ثفاقت ومدنیت کے  خاص اصول واحکام اور مبادی واقدار ہیں۔  جودوسروں سے ممتاز ومنفرد ہیں۔ اس کی مدنیت کے جو ظواہر اور ٹھوس معاملات امور وجود میں آئے وہ ان ہی بنیادی اقدار واصول کے عطاکردہ ہیں۔اور وہ بھی دوسری تہذیبوں ،تمدن اور ثقافتوں کے ظواہر سے جداگانہ اور ممتاز ہیں ۔اسلامی تہذیب وتمدن بالخصوص نبوی عہد کے تمدن کےدو اہم پہلو ہیں  ۔ایک آفاقی وعالمی پہلو ہے اوردوسرا مقامی اور علاقائی پہلوہے۔ عہد نبوی کا تمدن اپنی بنیاد ونہاد میں عربی اسلامی تمدن ہے ۔جس میں عربی مقامی روایات بھی موجود ہیں ۔ ان خالص مقامی روایات وظواہر میں سے بھی بعض میں اسلامی آفاقیت موجود ہے اور وہ تمام اقدار واصول کی طرح تمام مسلمانوں اور مسلم علاقوں کےلیے  لازمی اگر نہیں بنتی تو پسندیدہ ومسنون ضرور قرار پاتی ہے۔ زير نظر كتاب’’  دورِ نبوی  کا نظا م حکومت ‘‘(عہد نبوی کا اسلامی تمدن )علامہ  عبد الحئی کتانی  ﷫ کی مشہور ومعروف  عربی کتاب  ’’ التراتیب الاداریۃ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔مولانا معظم الحق نے اس کتاب کو اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ اس  کتاب  میں  علامہ کتانی  نے عہد نبویﷺ کے نظام حکومت  عسکری وحربی اُمور وزارت و خلافت ، صنعت  وحرفت...

  • 84 دکھوں کا علاج (پیر 28 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2580

    دعاء کا مؤمن کاہتھیار ہے جس طرح ایک مجاہد اپنے ہتھیار کواستعمال کرکے دشمن سےاپنادفاع کرتا ہے اسی طرح مؤمن کوجب کسی پریشانی مصیبت اور آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تووہ فوراً اللہ کےحضو ر دعا گو ہوتا ہے دعا ہماری پریشانیوں کے ازالے کےلیے مؤثر ترین ہتھیارہے انسان اس دنیا کی زندگی میں جہاں ان گنت ولاتعداد نعمتوں سےفائدہ اٹھاتا ہے وہاں اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے بیمار وسقیم ہو جاتاہے اس دنیاکی زندگی میں ہر آدمی کے مشاہدے میں ہےکہ بعض انسان فالج ،کینسر،یرقان،بخاروغیرہ اوراسی طرح کئی اقسام کی بیماریوں میں مبتلاہیں ان تمام بیماریوں سےنجات وشفا دینےوالا اللہ تعالی ہے ان بیماریوں کے لیے جہاں دواؤں سے کام لیا جاتا ہے   دعائیں بھی بڑی مؤثر ہیں۔ حدیث نبوی کےمطابق دعا کرنے سے بری تقدیر ٹل جاتی ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کرنے کی تلقین کے ساتھ ساتھ اس کے مبارک اور قبولیت کےاوقات بھی شمار فرمائے ہیں۔مثلاً رات کےپچھلے پہر میں ، اذان اور اقامت کے دوران ، میں ، نماز میں سجدے میں ،نمازوں کے بعد ، جمعہ کے دن کی خاص گھڑی میں ، یوم عرفہ میں ، لیلۃ القدر میں ، بارش برستے وقت میں وغیرہ۔ نیز آپ ﷺ نے چند ایسے حالات بھی ذکر کیے جن میں دعا کبھی بھی رد ّ نہیں کی جاتی ۔ مثلاً مظلوم ، مسافر ، باپ کی بیٹے کے حق میں ، حج وعمرہ کرنے والے کی ، غازی فی سبیل اللہ کی بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لیے ، عادل حکمران کی وغیرہ ۔بہت سارے اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں۔زیر نظر...

  • 85 دین کا اہم رکن امر بالمعروف نہی عن المنکر (منگل 14 اگست 2018ء)

    مشاہدات:879

    ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے  ۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا  حکم دینا اور  نہی عن المنکر کا مطلب ہے  برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے  کہ اللہ تعالیٰ  نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں ۔ برائی اور برے  لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ  تعالیٰ  یہ بھی  چاہتے ہیں کہ  دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ  ہوں او ر نیکی کا   غلبہ رہے۔ برے  لوگ کم ہوں  اور برائی مغلوب رہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے  اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی  سے بچنے کا حکم ہی  نہیں دیا  بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور  برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ﷩ کو مبعوث فرمایا اورانبیاء کرام کاسلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے  حکمرانوں ،علماء وفضلاء  کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کوعموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے ۔قرآن  وحدیث  میں اس  فریضہ  کواس قد ر اہمیت دی  گئی ہے کہ  تمام مومن مردوں اورتمام مومن عورتوں پر اپنے  اپنے  دائرہ کار اور اپنی اپنی استطاعت کےمطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکرپر عمل کرنا واجب ہے ۔اوراللہ تعالیٰ  نےقرآن کریم کی ایک ایت کریمہ  میں حکمرانوں کوبھی نیکی کا حکم دینے  اور برائی سے روکنے کامکلف ٹھہرایا ہے۔   نیز ان  حکمرانوں سےمدد کا و...

  • 86 دیور اور بہنوئی (اتوار 19 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2537

    دیور اور بہنوئی یہ دونوں رشتے بھی بڑے عجیب ہیں۔ایک رشتہ بہن کا خاوند ہے تو دوسرا خاوند کا بھائی ہے۔خاوند اور بہن دونوں ہی انتہائی قریبی رشتے ہیں۔اس لئے دیور اور بہنوئی کی اہمیت بھی مسلم ہے۔موجودہ معاشرے میں ان سے تعلقات کی نوعیت جو بھی ہو دونوں میں ایک قدرِ مشترک ضرور ہے کہ سالی کا بہنوئی سے اور دیور کا بھابھی سے ہنسی ،مذاق اور بے تکلفی اور بعض اوقات تو یہ مذاق بے ہودگی اور بے حیائی تک جا پہنچتا ہے۔اسلامی معاشرت میں باہمی ادب واحترام اور شائستگی کو اولیت حاصل ہے،اس لئے بیہودہ گفتگو یا غیر شائستہ مذاق کی کسی رشتے کے ساتھ کوئی گنجائش نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " دیور اور بہنوئی"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےدیور اور بہنوئی کے ساتھ تعلقات کی حدود وقیود اور ان سے شرعی پردے کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔کیونکہ وہ قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود اس عورت کے لئے نامحر م ہی رہتے ہیں ،جن سے پردہ کرنا از حد ضروری اور فرض ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعا...

  • 87 راہ حق کے تقاضے تلخیص اقتضاء الصراط المستقیم (اتوار 07 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2742

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔فکر وعقیدہ کی گمراہیوں میں سے شرک اور بدعت دو بڑی گمراہیاں ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتب میں ان دونوں گمراہیوں پر مفصل کلام موجود ہے۔آپ کی کتابوں میں سے  ’’اقتضاء الصراط المستقیم فی مخالفۃ اصحاب لجحیم‘‘ایک ممتاز مقام رکھتی ہے ۔اس کتاب کا موضوع بدعات ہیں ۔ شیخ الاسلام نے اپنی اس کتاب میں اپنے زمانے میں پائی جانے والی متعدد بدعات کی نشاندہی کی ہے اور ان کا رد کیا ہے۔اور غیر مسلموں سےمشابہت او ران کےخاص دن، رسوم اور رواج اپنانے یا ان میں شرکت کرنے پر بحث فرمائی ہے۔اصل کتاب عربی زبان میں  بڑی ضخیم کتاب ہے عام لوگوں کے لیے اس سے  استفادہ کرنا مشکل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’&rs...

  • 88 رشتے اور حدود (منگل 30 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2000

    اسلام ایک پاکیزہ  دین اور مذہب ہے ،جو اپنے ماننے والوں کو عفت وعصمت سے بھرپور زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ایک مسلمان خاتون کے لئے عفیف وپاکدامن ہونے کا مطلب یہ کہ وہ ان تمام شرعی واخلاقی حدود کو تھامے رکھے جو اسے مواقع تہمت و فتنہ سے دور رکھیں۔اور اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ ان امور میں سے سب سے اہم اور سرفہرست چہرے کو ڈھانپنا اور اس کا پردہ کرنا ہے۔کیونکہ چہرے کا حسن وجمال سب سے بڑھ کر فتنہ کی برانگیختی کا سبب بنتا ہے۔امہات المومنین اور صحابیات جو عفت وعصمت اور حیاء وپاکدامنی کی سب سے اونچی چوٹی پر فائز تھیں،اور پردے کی حساسیت سے بخوبی آگاہ تھیں۔ان کا طرز عمل یہ تھا کہ وہ پاوں پر بھی کپڑا لٹکا لیا کرتی تھیں،حالانکہ پاوں باعث فتنہ نہیں ہیں۔اور پردہ کرنے میں اس بات کا علم ہونا ضروری ہے کہ سے پردہ کیا جائے اور کس سے نہ کیا جائے۔۔ زیر تبصرہ کتاب  " رشتے اور حدود"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے  انسان کے رشتوں اور ان کے ساتھ  پردہ جیسے تعلقات  وغیرہ کو مکمل تفصیل سے بیان کر دیا ہےکہ کون کونسے رشتے محرم ہیں اور کون کونسے غیر محرم ہیں۔محترم  محمد مسعود عبدہ ﷫  تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے &rsqu...

  • 89 ریاء کاری اور اس کے مظاہر (جمعہ 17 مئی 2019ء)

    مشاہدات:994

    یہ بات واضح ہے کہ اعمال کی صحت کا دارومدار نیتوں پر ہے۔اور ساری اسلایم عبادات جیسے نماز ،روزہ، حج، زکاۃ، اور دیگر سارے کار خیر کی بنیاد اخلاص اوراتباع سنت ہےان دونوں میں سے کسی ایک کا نہ پایا جانا عمل وعبادت کی صحت پر اتنا اثر ڈالتا ہےکہ وہ عمل نہ یہ کہ صحت کے درجہ کو نہیں پہنچتا بلکہ الٹا عامل کے لیے بوجھ اور سبب گناہ بن جاتا ہے  ۔ کیونکہ  اخلاص کافقدان عمل کو نہایت ہی خطرناک راہ یعنی ریاء کاری اور دکھاوے کی راہ پر ڈال دیتا ہے  جسے  نصوصِ کتاب وسنت میں شرک سے تعبیر کیاگیا ہے ۔کسی شخص کو اخلاص اور للہیت کا مل جانا اس کے کے لئے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور نبی کریم  ﷺنے اپنی احادیث نبویہ میں اعمال میں جا بجا اخلاص  کو ختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔خلوص نیت کے ساتھ کیا جانے والا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی بارگاہ الٰہی میں بڑی قدروقیمت رکھتا ہے۔جبکہ عدم اخلاص ،شہرت اور ریاکاری پر مبنی بڑے سے بڑا عمل بھی اللہ کے ہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے۔ریاکاری انسان کے اعمال کو دنیا میں تباہ کر دیتی ہے۔نبی کریم کے فرمان کے مطابق قیامت والے دن سب سے پہلے جن تین لوگوں کو جہنم میں پھینکا جائے گا وہ ریا کار عالم دین ،ریا کار سخی اور ریا کار شہید ہیں،جو اپنے اعمال کی فضیلت اور بلندی کے باوجود ریاکاری کی وجہ سے سب سے پہلے جہنم میں جائیں۔زیر تبصرہ  کتاب’’ریا کاری اوراس کے مظاہر‘‘سعودی عرب  کےمعروف  ادارے مکتب تعاونی وجالیات سے منس...

  • 90 زبان کی حفاظت (جمعہ 23 اگست 2019ء)

    مشاہدات:677

    زبان اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ یہ وہ عضو ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے احساسات وجذبات کی ترجمانی کرتا ہے انسان اسی کی وجہ سے باعزت مانا جاتاہے اور اسی کی وجہ سے ذلت ورسوائی کا مستحق بھی ہوتا ہے۔ اس نعمت کی اہمیت کو وہ شخص سمجھ سکتا ہے جس کے منہ میں زبان ہے لیکن وہ اپنامافی ضمیر ادا نہیں کرسکتاہے۔اللہ کا فرمان ہے : أَلَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ(سورۃالبلد) ’’ کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں بنایا۔‘‘سب سے زیادہ غلطیاں انسان زبان سے ہی کرتا ہے۔لہٰذا عقلمند لوگ اپنی زبان کو سوچ سمجھ کر اور اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ زبان کو غلط اور بری باتوں سے بچا کر اچھے طریقے سے استعمال کرنا زبان کی حفاظت کہلاتا ہے۔ ہمارے دین اسلام میں زبان کی حفاظت کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’زبان کی حفاظت ‘‘ نیویارک میں مقیم مولانا عبد اللہ دانش کی صاحبزادی   اور شیخ القراء قاری محمد ادریس العاصم کی بہو محترم مریم دانش  صاحبہ   کی کاوش ہے  ۔ اس مختصر کتابچہ  میں انہوں نے  قرآن واحاديث كی روشنی میں  زبان کی حفاظت کے طریقے کو  دلچسپ اور عام فہم انداز میں اختصار کے ساتھ یکجا کردیا  ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے قارئین کے لیے اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ (آمین)  (م۔ا)

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 901
    • اس ہفتے کے قارئین: 11807
    • اس ماہ کے قارئین: 36335
    • کل قارئین : 47157747

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں