سیف اللہ خالد

10 کل کتب
دکھائیں

  • 1 سقوط کابل وبغدادپس پردہ حقائق (منگل 28 ستمبر 2010ء)

    مشاہدات:22270

    حدیث نبوی ہے کہ عنقریب تم پرہرطرف سے قومیں ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھاناکھانے والے دسترخواں پرٹوٹ پڑتے ہیں۔اس وقت مسلمانوں کی تعدادکم نہیں ہوگی لیکن ان کاعالم یہ ہوگاکہ سمندرکی جھاگ کی طرح ہوں گے ۔مسلمانوں کارعب دشمنوں کے دل سے نکل جائے گا۔اوران کےدلوںمیں وہن یعنی زندگی سے محبت اورموت سے نفرت پیداہوجائے گی ۔سقوط کابل وبغدادرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی پیش گوئی کی منہ بولتی تصویرہے ۔ڈیڑھ ارب مسلم آبادی کی موجودگی میں دومسلم ریاستوں کوکفرکی اتحادی افواج نے جس طرح تہس نہس کیاہے ،یہ محض مسلمانوں کی ایمانی کمزوری کانتیجہ ہے ۔زیرنظرکتاب افغان اورعراق جنگ کے دوران شائع ہونے والے ان مضامین کامجموعہ ہے جن میں کفرکی یلغارکے نتیجہ میں امت مسلمہ کے عروج وزوال کی داستان کتاب وسنت کاتاریخ اورحالات حاضرہ سے دلائل کے ساتھ بیان کی گئی ہے اورساتھ یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کی مددکب کرتاہے اورکب مسلمان اللہ کی مددسے محروم ہوتے ہیں۔


     

  • 2 تفسیر دعوۃ القرآن جلد اول ۔ پارٹ1 (پیر 03 فروری 2014ء)

    مشاہدات:20480

    انسانیت کی رشد و ہدایت کے لیے خدا تعالیٰ کی جانب سے قرآن مجید کا نزول ہوا۔ یہ صحیفہ خداوندی اپنے اندر تمام لوگوں کی اجتماعی و انفرادی مشکلات کا کامل حل سموئے ہوئے ہے۔ اس میں سعادت دارین کے انمول اصول بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن کریم کی متعدد زبانوں میں سیکڑوں تفاسیر سامنے آچکی ہیں۔ جن میں تفاسیر بالماثور بھی شامل ہیں اور تفاسیر بالرائے بھی۔ قرآن کریم کی زیر نظر تفسیر ’تفسیر دعوۃ القرآن‘ تفسیر بالماثور پر مشتمل ہے اور  تفاسیر کی دنیا میں ایک خوش کن اضافہ ہے۔ مفسر نے روز و شب کی محنت اور نہایت عرق ریزی کے ساتھ ایک ایسی تفسیر پیش کی ہے جس سے عوم و خواص یکساں طور پر مستفید ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے تفسیر قرآن بالقرآن کو سامنے رکھا ہے، کیونکہ قرآن کریم کی بہت سی آیات ایسی ہیں جو ایک جگہ اجمالاً بیان ہوئی ہیں جبکہ دوسری جگہ ان کی تفصیل موجود ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ احادیث قرآنی آیات کے خلاف ہیں۔ مولانا نے قرآن کی تفسیر و تبیین میں احادیث لاکر ثابت کیا ہے کہ کوئی بھی صحیح حدیث ایسی نہیں ہے جو قرآنی مفہوم کے مخالف ہو۔ مولانا موصوف نے تفسیر کرتے ہوئے ضعیف اور موضوع احادیث رقم کرنے سے گریز کیا ہے۔ اور صرف صحیح اور حسن احادیث سے استدلال کیا ہے۔ علاوہ ازیں تفسیر میں حسب موقع صحابہ کرام کے اقوال بھی نقل کیے گئے ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم کی تفہیم میں صحابہ کرام کے صحیح اور مستند اقوال ایک روشن باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حضور نبی کریمﷺ کا اشاد گرامی بھی ہے کہ : چار آدمیوں سے قرآن سیکھو: عبداللہ بن مسعود، سالم مولیٰ حذیفہ، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب سے۔ قرآن کی تفسیر میں...

  • 3 تفسیر دعوۃ القرآن جلد پنجم - پارٹ1 (پیر 03 فروری 2014ء)

    مشاہدات:19054

    انسانیت کی رشد و ہدایت کے لیے خدا تعالیٰ کی جانب سے قرآن مجید کا نزول ہوا۔ یہ صحیفہ خداوندی اپنے اندر تمام لوگوں کی اجتماعی و انفرادی مشکلات کا کامل حل سموئے ہوئے ہے۔ اس میں سعادت دارین کے انمول اصول بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن کریم کی متعدد زبانوں میں سیکڑوں تفاسیر سامنے آچکی ہیں۔ جن میں تفاسیر بالماثور بھی شامل ہیں اور تفاسیر بالرائے بھی۔ قرآن کریم کی زیر نظر تفسیر ’تفسیر دعوۃ القرآن‘ تفسیر بالماثور پر مشتمل ہے اور  تفاسیر کی دنیا میں ایک خوش کن اضافہ ہے۔ مفسر نے روز و شب کی محنت اور نہایت عرق ریزی کے ساتھ ایک ایسی تفسیر پیش کی ہے جس سے عوم و خواص یکساں طور پر مستفید ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے تفسیر قرآن بالقرآن کو سامنے رکھا ہے، کیونکہ قرآن کریم کی بہت سی آیات ایسی ہیں جو ایک جگہ اجمالاً بیان ہوئی ہیں جبکہ دوسری جگہ ان کی تفصیل موجود ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ احادیث قرآنی آیات کے خلاف ہیں۔ مولانا نے قرآن کی تفسیر و تبیین میں احادیث لاکر ثابت کیا ہے کہ کوئی بھی صحیح حدیث ایسی نہیں ہے جو قرآنی مفہوم کے مخالف ہو۔ مولانا موصوف نے تفسیر کرتے ہوئے ضعیف اور موضوع احادیث رقم کرنے سے گریز کیا ہے۔ اور صرف صحیح اور حسن احادیث سے استدلال کیا ہے۔ علاوہ ازیں تفسیر میں حسب موقع صحابہ کرام کے اقوال بھی نقل کیے گئے ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم کی تفہیم میں صحابہ کرام کے صحیح اور مستند اقوال ایک روشن باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حضور نبی کریمﷺ کا اشاد گرامی بھی ہے کہ : چار آدمیوں سے قرآن سیکھو: عبداللہ بن مسعود، سالم مولیٰ حذیفہ، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب سے۔ قرآن کی تفسیر میں...

  • 4 تفسیر دعوۃ القرآن جلد پنجم - پارٹ2 (پیر 03 فروری 2014ء)

    مشاہدات:18937

    انسانیت کی رشد و ہدایت کے لیے خدا تعالیٰ کی جانب سے قرآن مجید کا نزول ہوا۔ یہ صحیفہ خداوندی اپنے اندر تمام لوگوں کی اجتماعی و انفرادی مشکلات کا کامل حل سموئے ہوئے ہے۔ اس میں سعادت دارین کے انمول اصول بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن کریم کی متعدد زبانوں میں سیکڑوں تفاسیر سامنے آچکی ہیں۔ جن میں تفاسیر بالماثور بھی شامل ہیں اور تفاسیر بالرائے بھی۔ قرآن کریم کی زیر نظر تفسیر ’تفسیر دعوۃ القرآن‘ تفسیر بالماثور پر مشتمل ہے اور  تفاسیر کی دنیا میں ایک خوش کن اضافہ ہے۔ مفسر نے روز و شب کی محنت اور نہایت عرق ریزی کے ساتھ ایک ایسی تفسیر پیش کی ہے جس سے عوم و خواص یکساں طور پر مستفید ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے تفسیر قرآن بالقرآن کو سامنے رکھا ہے، کیونکہ قرآن کریم کی بہت سی آیات ایسی ہیں جو ایک جگہ اجمالاً بیان ہوئی ہیں جبکہ دوسری جگہ ان کی تفصیل موجود ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ احادیث قرآنی آیات کے خلاف ہیں۔ مولانا نے قرآن کی تفسیر و تبیین میں احادیث لاکر ثابت کیا ہے کہ کوئی بھی صحیح حدیث ایسی نہیں ہے جو قرآنی مفہوم کے مخالف ہو۔ مولانا موصوف نے تفسیر کرتے ہوئے ضعیف اور موضوع احادیث رقم کرنے سے گریز کیا ہے۔ اور صرف صحیح اور حسن احادیث سے استدلال کیا ہے۔ علاوہ ازیں تفسیر میں حسب موقع صحابہ کرام کے اقوال بھی نقل کیے گئے ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم کی تفہیم میں صحابہ کرام کے صحیح اور مستند اقوال ایک روشن باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حضور نبی کریمﷺ کا اشاد گرامی بھی ہے کہ : چار آدمیوں سے قرآن سیکھو: عبداللہ بن مسعود، سالم مولیٰ حذیفہ، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب سے۔ قرآن کی تفسیر میں...

  • 5 سیرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ (پیر 14 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:4183

    انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔جماعت ِ صحابہ میں سےخاص طور پر وہ ہستیاں جنہوں نے آپ ﷺ کے بعد اس امت کی زمامِ اقتدار ، امارت ، قیادت اور سیادت کی ذمہ داری سنبھالی ، امور دنیا اور نظامِ حکومت چلانے کے لیے ان کےاجتہادات اور فیصلوں کو شریعت ِ اسلامی میں ایک قانونی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ان بابرکت شخصیات میں سے خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق سب سے اعلیٰ مرتبے اور بلند منصب پر فائز تھے اور ایثار قربانی اور صبر واستقامت کا مثالی نمونہ تھے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ...

  • 6 سیرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ (منگل 15 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2505

    خلافت وامارت کا نظام دنیا میں مسلمانوں کی ملی وحدت اور مرکزیت کی علامت ہے ۔ عہدِ نبوت میں رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارک کودنیائے اسلام میں مرکزی حثیت حاصل ہے تھی اور اس مبارک عہد میں امت کی قیادت وسیادت کامنصب آپ ہی کے پاس تھا۔ آپ ﷺ کے بعد لوگوں کی راہنمائی اور اسلامی مرکزیت کوبراقراررکھنے کے لیے خلفائے راشدین آپ ﷺ کے جانشین بنے۔ خلفائے راشدین کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کاایک تابناک اورروشن باب ہے ا ن کےعہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف عالم تک پہنچ گئیں ۔انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی سلطنتوں کوشکست دے کر پرچم ِ اسلام کو مفتوحہ علاقوں میں بلند کیا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط ، مستحکم اور عظیم الشان اسلامی کی بنیاد رکھی ۔عہد نبوت کےبعد خلفائے راشدین کا دورِ خلافت عدل وانصاف پر مبنی ایک مثالی دورِ حکومت ہے جو قیامت تک قائم ہونے والی اسلامی حکومتوں کےلیے رول ماڈل ہے۔خلفائے راشدین کے مبارک دور کا آغاز سیدنا ابو بکر صدیق کے دورِ خلافت سے ہوتا ہے ، ان کے بعد سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان کا دور آتا ہے ۔ سیدنا عثمان کے بعد سیدنا علی المرتضیٰ چوتھے خلیفہ راشدبنے ۔ان کے زمامِ خلافت سنبھالتے ہی فتنۂ تکفیر اور فتنۂ خوارج جیسے بڑے برے فتنوں نے سر اٹھا یا اور مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں اور اختلافات میں بڑی شدت آگئی او رنوبت صحابہ کرام کے درمیان جنگ تک پہنچ گئی اور واقعۂجمل اور جنگِ صفین جیسے خون ریز واقعات رونما ہوئے ۔سیدناعلی آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب...

  • 7 سیرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ (بدھ 16 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:3547

    سیدنا فاروق اعظم  کی مبارک زندگی اسلامی تاریخ   کاوہ روشن باب ہے جس  نےہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ  دیا ہے ۔ آپ  نے حکومت کے انتظام   وانصرام  بے مثال عدل  وانصاف ،عمال حکومت کی سخت نگرانی ،رعایا کے حقوق کی پاسداری ،اخلاص نیت وعمل ،جہاد فی سبیل اللہ  ،زہد وعبادت ،تقویٰ او رخوف وخشیت الٰہی  او ردعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائےنمایاں انجام دیے  کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے  سے  قاصر ہے۔ انسانی  رویوں کی گہری پہچان ،رعایا کے ہر فرد کے احوال سے بر وقت آگاہی او رحق  وانصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہ کر نےکے اوصاف میں کوئی حکمران فاروق اعظم    کا  ثانی نہیں۔ آپ اپنے بے  پناہ رعب وجلال اور دبدبہ کے باوصف نہایت درجہ  سادگی فروتنی  اورتواضع کا پیکر تھے ۔ آپ کا قول ہے کہ ہماری عزت اسلام کے باعث ہے  دنیا کی چکا چوند کے باعث نہیں۔ سید ناعمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے  جس  نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی ،اسے فاروق اعظمؓ کے قائم کردہ ان زریں اصول کو مشعل راہ  بنانا پڑا جنہوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی۔ سید نا عمر  فاروق    کے اسلام لانے اور  بعد کے  حالات احوال اور ان کی   عدل انصاف  پر مبنی حکمرانی  سے اگاہی کے لیے  مختلف اہل  علم  اور مؤرخین نے    کتب تصنیف کی ہیں۔اردو زبان میں شبلی نعمانی ، ڈاکٹر صلابی ، محمد حسین ہیکل ،م...

  • 8 سیرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ (جمعرات 17 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:4271

    خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلہ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے ۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔ ۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علیحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدناعثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہرنبی کا ساتھی و رفیق ہوتاہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کردیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى الله عنها حبشہ ہجرت فرماگئے، جب حضرت رقیہ رضى الله عنها کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى الله عنها کوآپ کی زوجیت میں دے دی...

  • 9 صحیح سیرت انبیاء علیہم السلام (پیر 10 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1717

    ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ کائنات کی افضل اور بزرگ ترین ہستیاں انبیاء ﷩ ہیں ۔جن کا مقام انسانوں میں سے بلند ہے ۔انبیاء ﷩ اللہ تعالیٰ کے وہ برگزیدہ بندے ہیں جنہیں روئے زمین میں لوگوں کی راہنمائی کے لیےمنتخب کیاگیا انہوں نےاپنی اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کے لیے دن رات محنت کی ۔انہوں نے بھی تبلیغ دین اوراشاعتِ توحید کےلیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ اشاعت ِ حق کے لیے شب رروز انتھک محنت و کوشش کی اور عظیم قربانیاں پیش کر کے پرچمِ اسلام بلند کیا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جابجا ان پاکیزہ نفوس کا واقعاتی انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔قرآن مجید میں ہر نبی کا تذکرہ مختلف مقامات پر حالات وواقعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیاگیا ہے ۔ جس کا مقصد محمد ﷺ کو سابقہ انبیاء واقوام کے حالات سے باخبر کرنا، آپ کو تسلی دینا اور لوگوں کو عبرت ونصیحت پکڑنے کی دعوت دینا ہے بہت سی احادیث میں بھی انبیاء ﷺ کےقصص وواقعات بیان کیے گئے ہیں۔انبیاء کے واقعات وقصص پر مشتمل مستقل کتب بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ صحیح سیرت انبیاء ‘‘ مفسر قرآن تفسیر دعوۃ القرآن کےمصنف جناب مولاناسیف اللہ خالد کی انبیاء ﷩ کی سیرت کےمتعلق قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں مرتب قابل قدر اور معتبر روایات کامجموعہ ہے ۔یہ کتاب سیرت انبیاء کے متعلق ایک منتخب موضوع ہی نہیں بلکہ عقیدہ کےاہم مباحث اور اسلام کےبینادی اعتقادات کا شاندار گلدستہ بھی ہے اور پند ونصائح کا ایسا مجموعۂ نافعہ ہے کہ جو ملتِ اسلامیہ کرہنماؤں اور مقتدر طبقوں کوبالخصوص اور عامۃ الناس کے لیےبالعموم منبع رشد وہدا...

  • 10 زاد المجاہد (اتوار 11 فروری 2018ء)

    مشاہدات:1171

    جہاد فی سبیل اللہ ، اللہ کو محبوب ترین اعمال میں سے ایک ہے اور اللہ تعالی نے بیش بہا انعامات جہاد فی سبیل میں شریک ایمان والوں کے لئے رکھے ہیں۔ اور تو اور مومن مجاہدین کا اللہ کی راہ میں نکلنے کا عمل اللہ کو اتنا پسندیدہ ہے کہ اس کے مقابلے میں نیک سے نیک، صالح سے صالح مومن جو گھر بیٹھا ہے ، کسی صورت بھی اس مجاہد کے برابر نہیں ہو سکتا ، جو کہ اپنے جان و مال سمیت اللہ کے دین کی سربلدی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو گرانے کے لئے ، کسی شہہ کی پرواہ کئے بغیر نکل کھڑا ہوا ہوتا ہے۔ذیل میں ہم جہاد فی سبیل بارے کچھ اسلامی تعلیمات اور اس راہ میں اپنی جانیں لٹانے والوں کے فضائل پیش کریں گے۔ جہاد كا لغوى معنی طاقت اور وسعت كے مطابق قول و فعل كو صرف اور خرچ كرنا،اور شرعى معنى اللہ تعالى كا كلمہ اور دين بلند كرنے كے ليے مسلمانوں كا كفار كے خلاف قتال اور لڑائى كے ليے جدوجہد كرناہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ زاد المجاھد ‘‘ ابو نعمان سیف اللہ خالد کی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے جہاد کے موضوع پر قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ پر مشتمل ایک جامع اور مؤقّر مجموعہ ترتیب دیا ہے۔زیر نظر کتاب آیات و احادیث کا شاندار انتخاب اور حسن ترتیب کا بہترین نمونہ ہے، جس میں فاضل مؤلف نے مضامین کے نعاوین کی تقسیم اور ابواب بندی میں محدثین کرام اور فقہائے عظام کے طرزِ استدلال اور طریقۂ استباط کو اختیار کیا ہے۔منفرد اوصاف کی حامل یہ کتاب جہاد کے موضوع پر ایک حسین مرقّع اور علمی دستاویز ہے، جس میں جہاد کی فرضیت و فضیلت، آداب و ترتیب، انفاق فی سبیل اللہ، تصور شہادت، شہداء کے...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1055
  • اس ہفتے کے قارئین: 13496
  • اس ماہ کے قارئین: 41190
  • کل قارئین : 46008685

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں