#3600

مصنف : سیف اللہ خالد

مشاہدات : 4389

سیرت علی المرتضی ؓ

  • صفحات: 426
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 10650 (PKR)
(منگل 15 ستمبر 2015ء) ناشر : دار الاندلس،لاہور

خلافت وامارت کا نظام دنیا میں مسلمانوں کی ملی وحدت اور مرکزیت کی علامت ہے ۔ عہدِ نبوت میں رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارک کودنیائے اسلام میں مرکزی حثیت حاصل ہے تھی اور اس مبارک عہد میں امت کی قیادت وسیادت کامنصب آپ ہی کے پاس تھا۔ آپ ﷺ کے بعد لوگوں کی راہنمائی اور اسلامی مرکزیت کوبراقراررکھنے کے لیے خلفائے راشدین آپ ﷺ کے جانشین بنے۔ خلفائے راشدین کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کاایک تابناک اورروشن باب ہے ا ن کےعہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف عالم تک پہنچ گئیں ۔انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی سلطنتوں کوشکست دے کر پرچم ِ اسلام کو مفتوحہ علاقوں میں بلند کیا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط ، مستحکم اور عظیم الشان اسلامی کی بنیاد رکھی ۔عہد نبوت کےبعد خلفائے راشدین کا دورِ خلافت عدل وانصاف پر مبنی ایک مثالی دورِ حکومت ہے جو قیامت تک قائم ہونے والی اسلامی حکومتوں کےلیے رول ماڈل ہے۔خلفائے راشدین کے مبارک دور کا آغاز سیدنا ابو بکر صدیق کے دورِ خلافت سے ہوتا ہے ، ان کے بعد سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان کا دور آتا ہے ۔ سیدنا عثمان کے بعد سیدنا علی المرتضیٰ چوتھے خلیفہ راشدبنے ۔ان کے زمامِ خلافت سنبھالتے ہی فتنۂ تکفیر اور فتنۂ خوارج جیسے بڑے برے فتنوں نے سر اٹھا یا اور مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں اور اختلافات میں بڑی شدت آگئی او رنوبت صحابہ کرام کے درمیان جنگ تک پہنچ گئی اور واقعۂجمل اور جنگِ صفین جیسے خون ریز واقعات رونما ہوئے ۔سیدناعلی آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سیدناعلی نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی ہجرت کی رات نبی کریم ﷺ آپ کو ہی اپنے بستر پر لٹا کر مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ ماسوائے تبوک کے تمام غزوات حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔لڑائی میں بے نظیر شجاعت اور کمال جو انمردی کا ثبوت دیا۔آحضرت ﷺ کی چہیتی بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہرا کی شادی آپ ہی کے ساتھ ہوئی تھی۔حضور ﷺ کی طرف سے خطوط اور عہد نامے بھی بالعموم آپ ہی لکھا کرتے تھے۔پہلے تین خلفاء کے زمانے میں آپ کو مشیر خاص کا درجہ حاصل رہا اور ہر اہم کام آپ کی رائے سے انجام پاتا تھا۔سیدنا علی بڑے بہادر انسان تھے۔ سخت سے سخت معر کوں میں بھی آپ ثابت قدم رہے ۔بڑے بڑے جنگو آپ کے سامنے آنے کی جر ات نہ کرتے تھے۔آپ کی تلوار کی کاٹ ضرب المثل ہوچکی ہے۔شجاعت کے علاوہ علم وفضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ایک فقیہ کی حیثیت سے آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔خلیفۂ ثالث سید عثمان بن عفان کی شہادت کے بعد ذی الحجہ535میں آپ نے مسند خلافت کو سنبھالا۔آپ کا عہد خلافت سارے کاسارا خانہ جنگیوں میں گزرا۔اس لیے آپ کو نظام ِحکومت کی اصلاح کے لیے بہت کم وقت ملا۔تاہم آپ سے جہاں تک ممکن ہوا اسے بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ فوجی چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔صیغہ مال میں بہت سی اصلاحات کیں ۔جس سے بیت المال کی آمدنی بڑھ گئی۔عمال کے اخلاق کی نگرانی خود کرتے اور احتساب فرماتے۔خراج کی آمدنی کا نہایت سختی سے حساب لیتے۔ذمیوں کے حقوق کا خاص خیال رکھتے۔ عدل وانصاف کارنگ فاروق اعظم کے عہد سے کسی طرح کم نہ تھا۔محکمہ پولیس جس کی بنیاد سیدنا عمر نے رکھی تھی۔اس کی تکمیل بھی سیدناعلی کے زمانے میں ہوئی۔ نماز فجر کے وقت ایک خارجی نے سیدنا علی پر زہر آلود خنجر سے حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے ۔اور حملہ کے تیسرے روز رحلت فرماگئے۔انتقال سے پہلے تاکید کی کہ میرے قصاص میں صرف قاتل ہی کو قتل کیا جائے کسی اور مسلمان کا خون نہ بھایا جائے۔خلفائے راشدین کی سیرت امت کےلیے ایک عظیم خزانہ ہے اس میں بڑے لوگو ں کےتجربات،مشاہدات ہیں خبریں ہیں امت کے عروج اور غلبے کی تاریخ ہے ۔ اس کےمطالعہ سے ہمیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ کن کن مواقع پر اہل حق کوعروج وترقی ملی ۔خلفاء راشدین کی سیرت شخصیت ،خلافت وحکومت کےتذکرہ پر مشتمل متعد د کتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت علی ‘‘ تفسیر دعوۃ القرآن کے مصنف مولانا سیف اللہ خالد ﷾ کی تصنیف ہے جوکہ سیدنا علی کےحالات زندگی طرز حکومت اور کارناموں پر مشتمل ہے فاضل مصنف نے قرآن وحدیث اورمستند روایات کی روشنی میں ’’عہد خلافت علی ‘‘ میں رونما ہونے والے واقعات اور تاریخی حقائق کوپیش کیا اوران حقائق کا ذکر کرتے ہوئے اس دور کی حقیقی اورسچی تصویر پیش کی ہے۔جھوٹی اورمن گھڑت روایات ، قصوں اور کہانیوں کےنتیجے میں قارئین کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے اشکالات اور شکوک وشبہات کودور کیا ہے اور خیر القرون کی جماعت ِ صحابہ کے بارے میں کتاب وسنت پر مبنی صحیح موقف اور منہج سلف کی وضاحت کی ہے۔ اس کتاب میں مذکور احادیث ، روایات اور آثار واقوال کی تحقیق وتخریج ابوالحسن سید تنویر الحق شاہ ﷾ نے کی او ران کی اصل مآخذ کے ساتھ مراجعت اور تہذیب وتسہیل کا لائق تحسین کام ابو عمر محمد اشتیاق اصغر نے کیا ہے ۔یہ کتاب سیروتواریخ میں ایک منفرد اور شاندار اضافہ ہے ۔ جسے دارالاندلس نےحسنِ طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ مصنف موصوف اس سے پہلے سیرت ابو بکر صدیق ، سیرت عمرفاروق اور سیرت عثمان غنی قارئین کی نذر کر چکے ہیں ۔ ان کی قابل قدر تصنیفات اہل علم اور عام قارئین میں دادِ تحسین حاصل کرچکی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے ۔ اور اس کتاب کوقارئین کےلیے خلیفۂ رابع سیدنا علی المرتضیٰ کی سیرت وکردار کو اپنانے کا ذریعہ بنائے ( آمین) (م۔ا)

عناوین

 

صفحہ نمبر

مقدمہ

 

 

فہرست

 

 

عرض ناشر

 

17

عرض مولف

 

21

باب۔1

 

ٍ

سیدنا علیؓ کانا م ونسب

 

27

کنیت

 

28

ابو حسن بھی ا ٓ  پکی کنیت بھی

 

29

والد

 

30

والدہ

 

36

سیدنا علیؓ کی شخصی و جاہت اور جسمانی اوصاف

 

37

سیدنا علی ؓ کا قبول اسلام

 

38

سیدنا علی ؓ کی بت شکنی

 

40

ابوذر ؓ کا قبول اسلام اور سیدنا علی ؓ

 

42

سیدنا علی ؓ کی نبی ﷺ پر جاں نثاری

 

45

سیدنا علیؓ سے متعلق نازل ہونے والی آیات

 

51

تقدیر علیؓ ا ٓیات قرآنی کی تفسیر کرتے ہوئے

 

52

دلائل نبوت سے متعلق علیؓ سے مروی احادیث

 

65

حدیث رسول ﷺ کے بیان میں انتہائی احتیاط

 

66

رسول اللہﷺ پر جھوٹ  باندھنے والے کا وبال

 

66

رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کے اسباب سےاجتناب

 

67

سیدنا علی ؓ اور اتبا ع سنت

 

69

مسکرانے میں بھی اتباع

 

69

طریقہ وضو میں اتباع

 

70

مخلوق کی اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ہے

 

71

نبی ﷺ کا علی ؓ کو علم میں خاص نہ کرنا

 

73

سیدنا علی ؓ کا سیدہ فاطمہ ؓ سے نکاح

 

75

سیدہ فاطمہ ؓ کا زہد قناعت اور صبر

 

75

سیدہ فاطمہ ؓ کا زہد قناعت اور صبرر

 

75

ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں

 

79

رسول اللہﷺ کی سیدہ فاطمہ ؓ سے محبت

 

80

دنیا و آخرت کی سرداری

 

83

سیدنا علی ؓ کے بیٹے حسن  وحسین ؓ

 

86

سید نا حسن ؓ کی فضیلت احادیث کی روشنی میں

 

86

سید نا حسین ؓ کے فضائل

 

89

سید نا حسن اور حسین ؓ کے مشترکہ فضائل

 

90

سیدنا علی ؓ کا غزوات میں کردار

 

94

غزوہ بدر میں کردار

 

94

غزوہ احد میں کردار

 

96

واقعہ افک اور سیدنا علی ؓکا کردار

 

97

غزوہ خندق میں کردار

 

98

صلح  حدیبیہ میں کردار

 

99

غزوہ خیبر میں کردار

 

101

فتح مکہ سے پہلے قریش کےمفاد کی جاسوسی  کو ناکام بنانے میں کردار

 

104

فتح مکہ کے موقع پر جعدہ کو قتل کرنے کی کوشش کرنا

 

107

غزوہ حنین میں

 

108

غزوہ تبوک میں کردار

 

109

سیدنا علی ؓ عمرۃ القضا میں

 

110

پہلا حج اور سیدنا علی ؓ کا کردار

 

111

سیدناعلی ؓ ارو وفد نجران کو دعوت مبا ہلہ

 

113

سیدنا علیﷺ یمن میں بطور داعی وقاضی

 

114

حجتہ الوداع اور گوشت کی تقسیم کی ذمہ داری

 

118

نبی ﷺ سے خلافت سے متعلق سوال نہ کرنا

 

124

باب۔2

 

 

سیدنا علیؓ عہد صدیقی میں

 

129

رسول اللہﷺ کی وفات اور خلیفہ کا انتخاب

 

129

سیدنا ابوبکر ؓ کی خلافت پر سیدنا علی ؓ کی بیعت

 

129

علی ؓ کی زبان سے ابو بکر ؓ کی فضیلت

 

135

میراث نبوی ، ابو بکر اور فاطمہ ؓ کا معاملہ

 

139

سیدنا علی ؓ عہد فاروقی میں

 

143

سیدنا علی اور سید نا عمرؓ کے تعلقات

 

144

عہد  فاروقی میں سیدنا علیؓ کے عدالتی فیصلے

 

144

آل علی ؓ سے سیدنا عمرؓ کے تعلقات

 

145

سید ام کلثو م بنت علی ؓ سے سیدنا عمرؓ کا نکاح

 

146

سیدناعلی اور عباس  ؓ عمرؓ کی عدالت میں

 

147

خلافت کے لیے منتخب کمیٹی میں علی ؓ کا نام

 

151

سیدنا علی ؓ عہد عثمانی میں

 

153

سید نا علی  ؓ کا سیدنا عثمان ؓ کی بیعت کرنا

 

153

عہد عثمانی میں حدود کی تنفید سیدنا علی ؓ کے سپرد

 

155

سید نا علی ؓ کے ہاں سیدنا عثمان ؓ کا مقام

 

157

سیدنا عثمان ؓ کی طرف سے بلو ا ئیوں  کے ساتھ مذکرات

 

158

سید نا علی ؓ سیدنا عثمانی ؓ کے دفاع میں پتھر کھاتے ہوئے

 

159

آل علی ؓ سیدنا عثمان ؓ کا دفا ع کرتے ہوئے

 

161

باب۔3

 

 

سیدناعلیؓ کام منصب خلافت کے لیے انتخاب

 

167

سید نا علیؓ ہی خلافت کے سب سے زیادہ مستحق اور موزوں تھے

 

168

سیدنا علیؓ کے فضائل و منا قب

 

176

سیدنا علی ؓ کی علمی و دینی بصیرت

 

185

تمام قرآنی آیات کےنزول کا علم رکھنے والے

 

186

مسائل کے استفسار میں حیا ما نع نہیں

 

188

علم اور عمل ساتھ ساتھ

 

189

لو گو ں اور عمل ساتھ ساتھ

 

189

لو گوں کی سوا ل پو چھنے کی دعوت دینے والے

 

190

لو گوں کی سہولت کے لیے حج تمتع کا احرام باندھتے ہوئے

 

190

صحابہ کرام ؓ میں سب سے بڑے عالم

 

192

فتویٰ میں حجت کی حیثیت رکھنے والے

 

192

افتاد قضا میں شیخین سے اختلاف کرنا پسند سمجھنے والے

 

192

وتر ادا کرنےکا طریقہ

 

193

سیدنا علی ؓ سے منقول چند مسنون دعائیں

 

194

سواری کی دعا

 

194

نماز کی مسنون دعائیں

 

195

دفن کے بعد ہر قبر پر دعا

 

198

امر با لمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام

 

199

سیدنا علی ؓ اور بت شکنی

 

199

رسو ل اللہ  ﷺ کے ساتھ مل کر بیت اللہ کے بتوں کو توڑتے ہوئے

 

199

جاہلیت کے نشانات مٹانے کے حریص

 

201

زنادقہ اور مرتدین کو نذر ا ٓتش کرنا

 

201

مر تد بت پرستوں کو آگ میں جلانے والے

 

203

مر تد ین کی طر ف لشکر روانہ کرتے ہوئے

 

204

حدود اللہ کے قیام کا حکم  دیتے ہوئے

 

205

رعایا سے عدل و انصاف

 

205

مریض کی عیادت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے

 

207

بازاروں میں دعوت و اصلاح کا کام کرنے والے

 

208

عوام کو اخلاق حسنہ کی ترغیب دیتے ہوئے

 

208

قصہ گوئی کی بد عت کا ظہور اور سیدنا علیؓ کی محاذ آرائی

 

209

زنا کاری کی شناعت بیان کرتے ہوئے

 

210

گم شدہ جانور وں کے بارے میں اہتمام

 

211

عاملین کی تر بیت واصلاح کا فریضہ

 

212

ایک زانی راہب کا قصہ

 

212

سید نا علیؓ کی فقاہت

 

215

ہدایت اور سیدھا پن طلب کرنے کاحکم

 

215

پانی کی عد م مو جودگی میں تییم کی تعلیم

 

215

خاص مواقع پر غسل کی تعلیم

 

216

سدل کی حالت میں نماز پڑھنا

 

216

جوتو ں پر مسح اور انھیں اتار کر نماز

 

217

مسجد کے پڑوسی کی نماز گھر میں جائزنہیں

 

217

ریشمی لباس متعلق سیدنا علی ؓ کا موقف

 

217

مطلقہ کو نفع  دینا اور بے و قوف کی طلاق کا حکم

 

218

ولد الزنا کے احکام

 

219

حاملہ عورت کی عدت جس کا شوہر وفات پا گیا ہو

 

219

شادی شدہ زانی کو کوڑے اور رجم کی سزادینا

 

220

باربار چوری کرنے والے کاحکم

 

223

ہاتھ کاٹنا اور کٹے ہوئے ہاتھ کو داغنا

 

223

بیل اور گدھے کی لڑائی اور سید ناعلیؓ کا فیصلہ

 

224

اگر گواہی دینے میں غلطی ہوجائے

 

ٍ225

حاملہ جانور کی قربانی کاحکم

 

225

کوئی گم شدہ چیز ملے تو اس کا حکم

 

226

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1355
  • اس ہفتے کے قارئین 3912
  • اس ماہ کے قارئین 66830
  • کل قارئین57041683

موضوعاتی فہرست