#3466

مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

مشاہدات : 5152

سیدنا علی ؓ( الصلابی )

  • صفحات: 732
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 18300 (PKR)
(جمعہ 07 اگست 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

سیدناعلی آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سیدناعلی نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی ہجرت کی رات نبی کریم ﷺ آپ کو ہی اپنے بستر پر لٹا کر مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ ماسوائے تبوک کے تمام غزوات حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔لڑائی میں بے نظیر شجاعت اور کمال جو انمردی کا ثبوت دیا۔آحضرت ﷺ کی چہیتی بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہرا کی شادی آپ ہی کے ساتھ ہوئی تھی۔حضور ﷺ کی طرف سے خطوط اور عہد نامے بھی بالعموم آپ ہی لکھا کرتے تھے۔پہلے تین خلفاء کے زمانے میں آپ کو مشیر خاص کا درجہ حاصل رہا اور ہر اہم کام آپ کی رائے سے انجام پاتا تھا۔سیدنا علی بڑے بہادر انسان تھے۔ سخت سے سخت معر کوں میں بھی آپ ثابت قدم رہے ۔بڑے بڑے جنگو آپ کے سامنے آنے کی جر ات نہ کرتے تھے۔آپ کی تلوار کی کاٹ ضرب المثل ہوچکی ہے۔شجاعت کے علاوہ علم وفضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ایک فقیہ کی حیثیت سے آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔خلیفۂ ثالث سید عثمان بن عفان کی شہادت کے بعد ذی الحجہ535میں آپ نے مسند خلافت کو سنبھالا۔آپ کا عہد خلافت سارے کاسارا خانہ جنگیوں میں گزرا۔اس لیے آپ کو نظام ِحکومت کی اصلاح کے لیے بہت کم وقت ملا۔تاہم آپ سے جہاں تک ممکن ہوا اسے بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ فوجی چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔صیغہ مال میں بہت سی اصلاحات کیں ۔جس سے بیت المال کی آمدنی بڑھ گئی۔عمال کے اخلاق کی نگرانی خود کرتے اور احتساب فرماتے۔خراج کی آمدنی کا نہایت سختی سے حساب لیتے۔ذمیوں کے حقوق کا خاص خیال رکھتے۔ عدل وانصاف کارنگ فاروق اعظم کے عہد سے کسی طرح کم نہ تھا۔محکمہ پولیس جس کی بنیاد سیدنا عمر نے رکھی تھی۔اس کی تکمیل بھی سیدناعلی کے زمانے میں ہوئی۔ نماز فجر کے وقت ایک خارجی نے سیدنا علی پر زہر آلود خنجر سے حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے ۔اور حملہ کے تیسرے روز رحلت فرماگئے۔انتقال سے پہلے تاکید کی کہ میرے قصاص میں صرف قاتل ہی کو قتل کیا جائے کسی اور مسلمان کا خون نہ بھایا جائے۔خلفائے راشدین کی سیرت امت کےلیے ایک عظیم خزانہ ہے اس میں بڑے لوگو ں کےتجربات،مشاہدات ہیں خبریں ہیں امت کے عروج اور غلبے کی تاریخ ہے ۔ اس کےمطالعہ سے ہمیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ کن کن مواقع پر اہل حق کوعروج وترقی ملی ۔خلفاء راشدین کی سیرت شخصیت ،خلافت وحکومت کےتذکرہ پر مشتمل متعد د کتب موجود ہیں ۔لیکن عصر حاضر میں خلفائے راشدین پر سب سے عمدہ اوراعلیٰ درجے کی کتب قطر میں مقیم ڈاکٹر علی محمد محمد صلابی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کی ہیں۔انہوں نےجس عمدہ انداز میں خلفائے راشدین پر کتب تالیف کی ہیں اس کا کوئی جواب نہیں۔ کسی بھی مؤلف کے کام کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ جو بات بھی تحریر کرے باحوالہ صحیح اور درست تحریر کرے ۔ اس کے کام میں ادھر ادھر کی باتیں اور رطب ویابس جمع نہ کیا گیا ہو۔ اس کا اسلوب اورانداز بیان بہت واضح ہو ۔ زبان ایسی آسان استعمال کی گئی ہوکی عام آدمی بھی اسے پڑھ اور سمجھ سکے اورفلسفیانہ انداز سے ہٹ کر اس انداز میں لکھاگیاہو کہ اس کی بات پڑھنے والے کے دل ودماغ کی گہرائی تک اتر جائے۔ ڈاکٹر صلابی صاحب کی تالیفات میں یہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ڈاکٹر صلابی موصوف نے متعد د کتب کے علاوہ سیرت النبیﷺ اور خلفائے راشدین کی سیرت پر بڑی عمدہ کتب تحریر کی ہیں۔جنہیں بڑی مقبولیت حاصل ہے اصل کتب عربی زبان میں ہیں لیکن ان کی مقبولیت کےباعث دیگر زبانوں میں اس کے ترجمے بھی ہوچکے ہیں۔  زیر تبصرہ کتاب ’’سیدنا علی ‘‘ دکتور صلابی ہی کی اہم تصنیف ہے ۔اس کتاب میں سید نا علی کی مکمل سوانح اور آپ کی سیرت انتہائی احسن انداز میں بیان کی گئی ہے ۔ یہ کتاب داماد رسول ، فاتح خیبر،خلیفہ راشد سیدنا علی بن ابی طالب کی تابناک سیرت کا مستند تذکرہ ہے ۔اس اہم کتاب کا سلیس اردو ترجمہ پروفیسر عبد الغفور مدنی ﷾ نے کیا ہے اور اسلامی کتب کے عالمی ادار ے ’’دار السلام ‘‘ نے بڑ ی عمدہ حسنِ طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم ، اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور قارئین کےلیے اسے مفید بنائے (آمین)(م۔ا)

عناوین

 

صفحہ نمبر

عرض ناشر

 

32

مقدمہ

 

37

سیدنا علی بن ابی طالب ؓ کا نام و نسب اور خاندان

 

49

قبول اسلام سے ہجرت تک

 

62

بعض آیات کریمہ کی تفسیر

 

96

سیدنا علی ؓ کی رسول اللہ ﷺ سے وابستگی اور فہم حدیث

 

101

دلائل نبوت پر حضرت علی ؓ کی احادیث

 

104

سیرت نبوی پر چلنے کی ترغیب

 

107

رسالت مآب ﷺ کی معرفت

 

109

ذوق اتباع سنت کی چند جھلکیاں

 

112

مدنی زندگی کا آغاز

 

120

غزوہ بدر

 

124

سیدہ فاطمہ ؓ کی شادی اور اہل بیت کی تفصیل

 

127

حضرت حسین ؓ کے مناقب و فضائل کے بارے میں احادیث

 

140

غزوہ احد سے فتح مکہ تک سیدنا علی ؓ کا کردار

 

146

غزوہ تبوک سے رسول اللہ ﷺ کی وفات تک

 

167

سیدنا علی بن ابی طالب ؓ کا سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے دور میں کردار

 

193

حضرت علی ؓ عہد فاروقی میں

 

219

سیدنا عمر ؓ کے انتظامی اور مالی اداروں کے بارے میں علی ؓ کے مشورے

 

221

سیدنا علی سیدنا عثمان ؓ کے عہد خلافت میں

 

240

خلفائے راشدین کے متعلق حضرت علی ؓ کے ارشادات

 

258

حضرت طلحہ اور زبیر ؓ نے بھی حضرت علی ؓ کی بیعت کی

 

271

گزشتہ مندرجات کے اسباق و فوائد

 

284

سیدنا علی ؓ کے فضائل و مناقب

 

297

اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی تشریح

 

313

باعث شکر نعمتوں کا تعارف

 

315

حضرت علی ؓ کے قرآنی اخلاق

 

327

حضرت علی ؓ کی شان فیاضی

 

331

حیا خوف الہٰی کی نشانی ہے

 

333

حضرت علی ؓ کی عبودیت ، صبر اور اخلاص

 

334

حضرت علی ؓ مستجاب الدعوات تھے

 

339

سیدنا علی ؓ کے دور میں امور مملکت

 

344

سیدنا علی ؓ کے حکیمانہ اقوال

 

375

رجال کبار کے بارے میں سیدنا علی ؓ کے خیالات

 

381

فکر و عمل کی خطرناک بیماریوں سے بچنے کا حکم

 

385

حضرت علی ؓ کے عہد خلافت میں پولیس کی ذمہ داریاں

 

390

سیدنا علی ؓ کی  مالیاتی پالیسی

 

393

سیدنا علی ؓ کے عہد میں عدلیہ کا کردار

 

398

فہرست نا مکمل

 

 

آپ کے براؤزر میں پی ڈی ایف کا کوئی پلگن مجود نہیں. اس کے بجاے آپ یہاں کلک کر کے پی ڈی ایف ڈونلوڈ کر سکتے ہیں.

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1528
  • اس ہفتے کے قارئین 17781
  • اس ماہ کے قارئین 63267
  • کل قارئین51109823

موضوعاتی فہرست