قومی کتب خانہ لاہور

5 کل کتب
دکھائیں

  • 1 سیرت حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (جمعرات 13 جون 2013ء)

    مشاہدات:6993

    حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تاریخ اسلام کی نہایت اہم اور قدآور شخصیت ہیں۔اگرچہ سرور کائنات کی رحلت کےوقت ان کی عمر نودس برس سے زیادہ نہ تھی ،تاہم اپنےشرف خاندانی فضل وکمال ،زہدوتقوی ،حق گوئی ،شجاعت اور  دوسری متعدد خصوصیات کی بناپران کاشمار اکابرصحابہ میں ہوتاہے۔اسلام کی تاریخ مرتب کرتےوقت کسی مؤرخ کیلےیہ ممکن نہیں کہ وہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو نظر انداز کرسکے۔تاریخ اسلام یا صحابہ  میں   سے عبداللہ کےنام کی چار شخصیات ملتی ہیں ،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اورعبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ۔  اگرچہ ان سب کے اپنے اپنے کارہائے نمایاں ہیں لیکن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی اپنی شخصیت ہے۔یہ کتاب اسلام کےاسی فرزندجلیل کےحالات پر مشتمل ہے۔جناب طالب ہاشمی صاحب نےاسے مرتب کرتےوقت حتی المقدور کوشش کی ہےکہ اس رجل عظیم کی زندگی کا اہم واقعہ  چھوٹنے نہ پائے۔اللہ انہیں جزائےخیر سے نوازے۔آمین۔(ع۔ح)
     

  • 2 ابو یوسف یعقوب المنصور باللہ (پیر 09 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:2520

    شمالی افریقہ میں المرابطین اور الموحدون کا دور حکومت پانچویں صدی ہجری کے وسط سے ساتویں صدی ہجری کے وسط تک تقریبا دو صدیوں پر محیط ہے۔یہ زمانہ اس خطہ ارض کی تاریخ  کا ایک شاندار اور ولولہ انگیز باب ہے۔مجاہد کبیر یوسف بن تاشفین کے بعد دولت مرابطین تو جلد ہی زوال پذیر ہو گئی لیکن اس کی جانشین  دولت موحدین تقریبا ڈیڈھ صدی تک طبل وعلم کی مالک بنی رہی۔اگر ایک طرف افریقہ میں اس کے اقتدار کا پھریرا مراکش،تیونس،الجزائر اور لیبیا وغیرہ پر اڑ رہا تھا تو دوسری طرف یورپ میں اس کا پرچم اقبال اسپین اور پرتگال پر لہرا رہا تھا۔تیسرے موحد فرمانروا ابو یوسف یعقوب المنصور باللہ کا عہد حکومت سلطنت موحدین کے منتہائے عروج کا زمانہ تھا۔اس کی شان وشوکت،معارف پروری اور جہادی معرکوں کی کامیابیوں نے اس کے مداحین کی آنکھوں کو خیرہ دیا تھا۔زیر تبصرہ کتاب " ابو یوسف یعقوب المنصور باللہ "اسی فرمانروا ابو یوسف یعقوب المنصور باللہ کے حالات زندگی پر مشتمل ہے ،جسے نامور مورخ جناب طالب ہاشمی نے نہایت تحقیق وتفحص کے ساتھ دلآویز پیرایہ میں قلمبند کیا ہے۔اور اس میں تاریخ اسلام کے ایک اہم اور شاندار باب کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔اس کتاب کا مطالعہ یقینا بیش بہا معلومات کا باعث ہے۔(راسخ)

     

  • 3 مسلمان تاریخ نویس (ہفتہ 23 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1306

    لغت میں وقت سے آگاہ کرنے کو "تاریخ" کہتے ہیں یعنی کسی چیز کے وقوع پذیر ہونے کاوقت بتانے کولغتہً "تاریخ" کا نام دیا جاتا ہے۔ اصطلاح میں تاریخ اس وقت کےبتانے کا نام ہےجس سے راویوں کے احوال وابستہ ہیں،ان کی ولادت و وفات،صحت وفراست،حصول علم کے لیے تگ ودو،ان کاحفظ وضبط،ان کا قابل اعتبار یا قابل جرح و نقدہونا،غرض اسی قسم کی وہ ساری باتیں جن کاتعلق راویوں کے احوال کی چھان بین سے ہوتا ہے۔ پھر اس کے مفہوم میں وسعت کر کے واقعات و حوادثات،مصائب وآفات کا ظہور، خلفاء و وزراء کے حالات اور امور سلطنت کا بیان وغیرہ کو تاریخ میں شامل کیا جانے لگا۔جہاں تک اسلام میں تاریخ نگاری کے سلسلہ آغاز کا تعلق ہے اسکی ابتدائی نوعیت یہ تھی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محمد عر بی ﷺ کے غزوات و سرایا کی تفاصیل کواپنے سینوں میں محفوظ رکھتے تھے۔ ان کےبعد تابعین اور اسی طرح یہ سلسلہ رواں دواں رہااور ہردور میں مؤرخین کی ایک جماعت نے اس فن کو اجاگر رکھا۔دوسری صدی ہجری میں محمد بن اسحاق نے "السیرۃ والمبتداوالمغازی" تالیف فرمائی۔ جس سے مؤرخین نے بھرپور فائدہ حاصل کیا۔اسی طرح علم التاریخ کا ایک روشن باب شروع ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب "مسلمان تاریخ نویس "محترم شیخ سعید اختر کی تالیف ہے۔ جس میں مسلمانوں کےعظیم مؤرخین مثلا'ابن اسحاق، ابن ہشام،ابن قتیبہ، ابن حزم،خطیب البغدادی وغیرہ کے حالات وواقعات، حصول علم کے لیے اسفاراورشیوخ وغیرہ کا تذکرہ کیاہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے وہ ان کی محنت و کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 4 اسمٰعیل شہید (جمعہ 25 مئی 2018ء)

    مشاہدات:1197

    ہندوستان کی فضا میں رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے اپنی قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے خود تراشیدہ بتوں کو پاش پاش کر کے توحید خالص کی اساس قائم کی یہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے شاہ اسماعیل محدث دہلوی تھے شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد دعوت واصلاح میں امت کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی امارت میں تحریک محاہدین میں شامل ہوکر سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے بالاکوٹ کے مقام پر شہادت کا درجہ حاصل کیا اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے حریت کی ایک عظیم مثال قائم کی جن کے بارے شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی نہ گزارتے‘‘ زیر تبصرہ کتاب ’’شاہ اسماعیل شہید‘‘ آل پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن ، لاہور کے سیکرٹری جناب عبد اللہ بٹ کی مرتب شدہ ہے دراصل یہ کتاب ان 12مقالات کا مجموعہ ہے جو’’ یوم شاہ اسماعیل شہید‘‘ کے موقع پر مشاہیر قلمکاروں نے پیش کیے گئے۔یہ مجموعہ مقالات دسمبر 1946ء میں ہوا۔ ان مقالات میں شاہ اسماعیل شہید کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بے نقاب کیا گیا ہے ۔ان مقالات میں وہ مقالات ہیں جو پہلے انگریز ی زبان میں شائع ہوئے...

  • 5 معظم علی (ہفتہ 11 اگست 2018ء)

    مشاہدات:825

    ٹیپوسلطان برصغیرِ کا وہ اولین مجاہد آزادی اور شہید آزادی ہے جس نے آزادی کی پہلی شمع جلائی اور حریت ِفکر، آزادی وطن اور دینِ اسلام کی فوقیت و فضیلت کے لیے اپنی جان نچھاور کردی تھی، ٹیپوسلطان نے حق و باطل کے درمیان واضح فرق و امتیاز قائم کیا اور پرچم آزادی کو ہمیشہ کے لیے بلند کیا تھا۔ ٹیپوسلطان 1750 میں بنگلور کے قریب ایک قصبے میں پیدا ہوا ۔ٹیپوسلطان کا نام جنوبی ہندوستان کے ایک مشہور بزرگ حضرت ٹیپو مستان کے نام پر رکھا گیا تھا، ٹیپوسلطان کے آباؤ اجداد کا تعلق مکہ معظمہ کے ایک معزز قبیلے قریش سے تھا جو کہ ٹیپوسلطان کی پیدائش سے اندازاً ایک صدی قبل ہجرت کرکے ہندوستان میں براستہ پنجاب، دہلی آکر آباد ہوگیا تھا۔ٹیپوسلطان کے والد نواب حیدر علی بے پناہ خداداد صلاحیتوں کے حامل شخص تھے جو ذاتی لیاقت کے بے مثال جواں مردی اور ماہرانہ حکمت عملی کے سبب ایک ادنیٰ افسر ’’نائیک‘‘ سے ترقی کرتے ہوئے ڈنڈیگل کے گورنر بنے اور بعد ازاں میسور کی سلطنت کے سلطان بن کر متعدد جنگی معرکوں کے بعد خود مختار بنے اور یوں 1762 میں باقاعدہ ’’سلطنت خداداد میسور‘‘ (موجودہ کرناٹک) قائم کی۔ 20 سال تک بے مثال حکمرانی کے بعد نواب حیدر علی 1782 میں انتقال کرگئے اور یوں حیدر علی کے ہونہار جواں سال اور باہمت فرزند ٹیپوسلطان نے 1783 میں ریاست کا نظم و نسق سنبھالا۔دنیا کے نقشے میں ہندوستان ایک چھوٹا سا ملک ہے اور ہندوستان میں ریاست میسور ایک نقطے کے مساوی ہے اور اس نقطے برابر ریاست میں سولہ سال کی حکمرانی یا بادشاہت اس وسیع وعریض لامتناہی کائنات میں کوئی ح...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1655
  • اس ہفتے کے قارئین: 10189
  • اس ماہ کے قارئین: 29482
  • کل قارئین : 47762127

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں