دکھائیں کتب
  • 11 عظیم مسلمان شخصیات (اتوار 18 اگست 2019ء)

    مشاہدات:641

    صحابہ  نام  ہے  ان نفوسِ  قدسیہ  کا جنہوں  نے   محبوب  ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا  اور اس زمانۂ نبوی کی تجلیات ِایمانی کو  اپنے   ایمان  وعمل میں پوری طرح سمونے کی  کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی  سے مراد رسول  اکرم ﷺکا وہ  ساتھی ہے جو آپ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت  میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی  کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص  ہے  لہذاب  یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے  استعمال نہیں کرسکتا۔  اسی طرح  سیدات صحابیات  وہ عظیم  خواتین ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کودیکھا اور ان پر ایمان لائیں اور ایمان کی حالت میں  دنیا سے رخصت ہوئیں۔انبیاء  کرام﷩ کے  بعد  صحابہ کرام ﷢ کی   مقدس  جماعت تمام  مخلوق سے  افضل  اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی  حاصل  ہے  کہ اللہ  نے   انہیں دنیا میں  ہی  مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے  بہت سی  قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام   وصحابیات سے محبت اور  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث مبارکہ  میں جوان کی افضلیت  بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا  ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام ﷢ کے ایمان  ووفا کا انداز اللہ...

  • امیر المومنین سیدنا عمر بن عبد العزیز ﷫ کوپانچواں خلیفہ راشد تسلیم کیا گیا ہے ۔ حضرت عمربن عبد العزیز ﷫ عمرثانی  کی حیثیت سےابھرکر سامنے آئے ۔جیسے سیدنا عمرفاروق اعظم ﷜ نےاپنے 10 سالہ  عہد خلافت میں ہزاروں مربع میل پر فتح حاصل کی۔حضرت عمر بن عبد العزیز نےگو اڑھائی سال خلافت کوسنبھالا مگر انہوں نے  بھی متعدد علاقوں کو فتح کر کے اسلامی حدود میں شامل کیا۔ انہوں نے جہاد کے علاوہ دعوت الی اللہ پر بھی خاصہ زور دیا اور کفر کےدلوں کو اسلام کی برکات سےآراستہ  کر کے ان کو دین اسلام میں داخل کیا ۔حضرت عمر بن عبدالعزیز عہد ولید بن عبد الملک  میں مدینہ  کے گورنر رہے تھے جب آپ بحیثیت گورنر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو 30 خچروں پر آپ کا ذاتی سامان لدا ہوا تھا  لیکن  جب مسند خلافت پر  متمکن ہوئے  توسارا سامان فروخت کر کے  اس کی رقم بیت المال میں جمع کرادی خلافت کابار سر پر آتے ہی   ان کی زندگی  بدل گئی۔حدیث وسیراور تاریخ   ورجال کی کتب میں ان کے عدل  انصاف ،خشیت وللہیت،زہد وتقوٰی ،فہم وفراست اور قضا  وسیاست کے  بے شمار واقعات محفوظ ہیں اور آپ کی سیرت پر عربی اردو زبان میں متعدد کتب  موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’عمر بن عبد العزیز  منہج خلافت راشدہ کا یک روشن باب ‘‘ وطن عزیز کے معروف  سوانح نگار  مولانا عبد الرشید عراقی (مصنف ک...

  • بانی مملکت سعودی شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعو د 1886ء میں پید اہوئے ۔والدین نے ان کی تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام کیا قرآن پاک اور ابتدائی دینی تعلیم الشیخ قاضی عبد اللہ ا لخرجی او راصول فقہ اور توحید کی تعلیم الشیخ عبد اللہ بن عبدالطیف سے حاصل کی ۔ جب گیارہ برس کے ہوئے تو شرعی علوم پر بھی مکمل دسترس حاصل کرچکے تھے ۔ریاض پر الرشید کے غلبہ کی وجہ سے شاہ عبدالعزیز اپنے والد گرامی کے ہمرا کویت چلے گئے۔شاہ عبد العزیز وہاں اپنے خاندان پر گزرنے والی مشکلات کے بارے میں سوچا کرتے تھےکہ ان کے والد کس طرح کویت میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں پریشان رہتے۔اس کی تعمیر وترقی کا خواب دیکھتے رہتے تھے ۔شاہ عبدالعزیز کے والد نے ان کی سیاسی تربیت اسے انداز سے کی کہ وہ لوگوں سے کامیابی کے ساتھ مکالمہ کرسکیں۔شاہ عبد العزیز نے اپنے والد گرامی کےسائے میں کویت میں صبرو سکون کے بڑی منطم زندگی گزاری۔انہوں نے 1902 میں اپنے چالیس جانثار کو ساتھ لے کر ریاض پر حملہ کر کے ریاض کو الرشید کے قبضہ سے آزاد کروایا ۔ جس سے مملکت سعودی عرب کا آغاز ہوا اور پر تھوڑے عرصہ میں پورے سعودی عرب پر شاہ عبد العزیز نےعدل وانصاف پر مبنی حکومت قائم کی ۔شاہ عبدالعزیز نے تیس سال تک مسلسل جدوجہدکی اور اپنی مملکت کی سرحدوں کو وہاں تک پہنچایا جوان کے آباؤ اجداد کے وقت میں تھیں۔ان کی کوششوں سے سعودی عرب صحیح اسلامی مملکت کے طور پر نمایا ں ہوا۔جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کو تیل کےذریعے دولت کی فراوانی سے مالامال کیا۔ غلبۂ اسلام کے لیے شاہ عبدالعزیز کی...

  • 14 وسط ایشیاء کے مغل حکمران (پیر 29 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2473

    مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی۔جس کی بنیادظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔مغلیہ سلطنت کا سرکاری مذہب اسلام تھا۔ تاہم اکبراعظم کے دور میں کچھ عرصے تک اکبر کا ایجاد کردہ مذہب (دین الٰہی) رائج کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن اس کا عوام پر کوئی اثر نہ پڑا اور وہ بہت جلد ہی ختم ہوگیا۔ باقی تمام شہنشاہوں کے دور میں اسلام ہی سرکاری مذہب تھا اور مغل شہنشاہان اسلام کے بہت پابند ہوا کرتے تھے۔ان میں اورنگزیب عالمگیر زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ باقی شہنشاہ بھی اسلام کی پیروی کے لحاظ سے جانے جاتے ہے۔انہوں نے نہ صرف اسلامی قوانین رائج کیے اور اسلامی حکومت کو برصغیر کے کونے کونے میں پھیلانے کی بھرپور کوشش کی۔مغلوں میں جانشینی کا کوئی قانون نہیں تھا ایک بادشاہ کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں اور رشتہ داروں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی جو شہزادہ اپنے حریفوں کو شکست دے دیتا وہ تخت مغلیہ کا وارث بن جاتا۔ زیر تبصرہ کتاب"وسط ایشیا کے مغل حکمران"محترم قاضی محمد اقبال چغتائی بائقرہ صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مغلیہ سلطنت کی اسی تاریخ اور عروج وزوال کو بیان کیا ہے۔(راسخ)

  • 15 ٹیپو سلطان (شیرِ میسور) (جمعرات 26 فروری 2015ء)

    مشاہدات:3200

    ٹیپوسلطان برصغیرِ کا وہ اولین مجاہد آزادی اور شہید آزادی ہے جس نے آزادی کی پہلی شمع جلائی اور حریت ِفکر، آزادی وطن اور دینِ اسلام کی فوقیت و فضیلت کے لیے اپنی جان نچھاور کردی تھی، ٹیپوسلطان نے حق و باطل کے درمیان واضح فرق و امتیاز قائم کیا اور پرچم آزادی کو ہمیشہ کے لیے بلند کیا تھا۔ ٹیپوسلطان 1750 میں بنگلور کے قریب ایک قصبے میں پیدا ہوا ۔ٹیپوسلطان کا نام جنوبی ہندوستان کے ایک مشہور بزرگ حضرت ٹیپو مستان کے نام پر رکھا گیا تھا، ٹیپوسلطان کے آباؤ اجداد کا تعلق مکہ معظمہ کے ایک معزز قبیلے قریش سے تھا جو کہ ٹیپوسلطان کی پیدائش سے اندازاً ایک صدی قبل ہجرت کرکے ہندوستان میں براستہ پنجاب، دہلی آکر آباد ہوگیا تھا۔ٹیپوسلطان کے والد نواب حیدر علی بے پناہ خداداد صلاحیتوں کے حامل شخص تھے جو ذاتی لیاقت کے بے مثال جواں مردی اور ماہرانہ حکمت عملی کے سبب ایک ادنیٰ افسر ’’نائیک‘‘ سے ترقی کرتے ہوئے ڈنڈیگل کے گورنر بنے اور بعد ازاں میسور کی سلطنت کے سلطان بن کر متعدد جنگی معرکوں کے بعد خود مختار بنے اور یوں 1762 میں باقاعدہ ’’سلطنت خداداد میسور‘‘ (موجودہ کرناٹک) قائم کی۔ 20 سال تک بے مثال حکمرانی کے بعد نواب حیدر علی 1782 میں انتقال کرگئے اور یوں حیدر علی کے ہونہار جواں سال اور باہمت فرزند ٹیپوسلطان نے 1783 میں ریاست کا نظم و نسق سنبھالا۔دنیا کے نقشے میں ہندوستان ایک چھوٹا سا ملک ہے اور ہندوستان میں ریاست میسور ایک نقطے کے مساوی ہے اور اس نقطے برابر ریاست میں سولہ سال کی حکمرانی یا بادشاہت اس وسیع وعریض لامتناہی کائنات...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1426
  • اس ہفتے کے قارئین: 3507
  • اس ماہ کے قارئین: 28035
  • کل قارئین : 47063659

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں