اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #3778

    مصنف : محمد موسیٰ الروحانی البازی

    مشاہدات : 4372

    مقدمہ شرح البیضاوی المسماۃ اثمار التکمیل لمافی انوار التاویل حصہ اول و دوم

    (جمعرات 26 نومبر 2015ء) ناشر : مکتبہ مدنیہ لاہور

    مفسرِ قرآن عبداللہ بن عمر بیضا میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والد اتابک ابوبکر بن سعید زنگی کے زمانے میں فارس کے قاضی القضاۃ تھے۔ آپ نے قرآن، حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی اور شیراز کے قاضی مقرر ہوئے۔ پھر تبریز میں مقیم ہوگئے اور وہیں انتقال کیا۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کی تفسیر ، انوار التنزیل و اسرار التاویل ہے اسے عموماً تفسیر بیضاوی کہتے ہیں۔ اہل سنت کے نزدیک یہ بڑے پائے کی تفسیر ہے۔ اور درس نظامی میں شامل ہے۔ امام فخرالدین رازیؒ کی تفسیر کے بعد مشکل تفسیروں میں تفسیر بیضاوی کا شمار ہوتا ہے، امام بیضاوی نے اس میں نحو، صرف، کلام اور قراء ت وغیرہ کے مباحث کو بھی بیان کیا ہے یہ تفسیر مدارس دینیہ میں شامل نصاب ہے اس لیے اس کی اردو شرح کی ضرورت ایک مسلم بدیہی حقیقت ہوگئی۔ اس کا جتنا حصہ داخلِ نصاب ہے؛ اس کی مختلف اوقات میں مختلف انداز کی شرحیں شائع ہوئی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مقدمہ شرح البیضاوی المسماۃ اثمار التکمیل لمافی انوار التاویل‘‘مولانا محمد موسیٰ الر روحانی البازی کی تصنیف ہے جو کہ ان کی تفسیربیضاوی کی مفصل شرح ’’ازہار التسہیل فی شرح انوار التنزیل‘‘کامقدمہ ہے مولانا اس کو پچاس جلدوں میں مکمل کرنا چاہتے تھے لیکن شاید وہ اس کام کو مکمل نہ کرپائے ۔ان کا یہ مقدمہ اثمار التکمیل مباحث متفرقہ مفید وتحقیقات بدیعہ وتاریخیہ نحویہ ادبیہ کلامیہ حدیثیہ، تفسیریہ پر مشتمل ہے۔ مصنف نے کئی کتب کی ورق گردانی کے بعد اس میں کئی فنون کے اہم مباحث جمع کردیے ہیں ۔اور اس میں تفسیر بیضاوی میں مذکور شعراء کی تاریخ کے علاوہ تراجم محدثین تراجم قراء ورواۃ قراء،تاریخ بلاد احوال حیوانات، احوال ملوک ، مسائل ادبیہ ، فرق اسلامیہ اور ان کے عقائد کی توضیح جیسےموضوعات بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے طالبان ِ علوم نبوت کےلیے فائدہ مند بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 2 #3854

    مصنف : حفظ الرحمٰن سیوہاروی

    مشاہدات : 1733

    فلسفہ ختم نبوت (حفظ الرحمن سیو ہاروی )

    (ہفتہ 26 دسمبر 2015ء) ناشر : مکتبہ مدنیہ لاہور

    تمام مسلمانوں کا یہ متفق  علیہ عقیدہ ہے کہ   نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کے سب سے آخری نبی رسول ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا ذکر قرآن حکیم کی متعدد آیات میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔( مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ) محمدﷺ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے)  ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو خاتم النبین کہہ کر یہ اعلان فرما دیا  ہےکہ آپﷺہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو نہ منصب نبوت پر فائز کیا جائے گا اور نہ ہی منصب رسالت پر۔ خود نبی کریمﷺنے اپنی متعدد اور متواتر احادیث میں خاتم النبیین کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی زبانِ حق ترجمان سے اپنی ختمِ نبوت کا واضح الفاظ میں اعلان فرمایا۔(اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَلَا نَبِيَ) اب نبوت اور رسالت کا انقطاع عمل میں آ چکا ہے لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔اس حدیث پاک سے ثابت ہوگیا کہ آپ ﷺکے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ملعون اور ابلیس کے ناپاک عزائم کا ترجمان ہو گا۔ آپ ﷺ نے نبوت کے ان جھوٹے دعویداروں کی نہ صرف نشاندہی کر دی بلکہ ان کی تعداد بھی بیان فرما دی تھی۔سیدنا ثوبان  سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:(أنّه سَيَکُوْنُ فِيْ أُمَّتِيْ ثَلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ، کُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنّه نَبِیٌّ وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ. )میری امت میں تیس (30) اشخاص کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب کو گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اب اگر کوئی شخص نبی کریمﷺ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے (خواہ کسی معنی میں ہو) وہ کافر، کاذب، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ نیز جو شخص اس کے کفر و ارتداد میں شک کرے یا اسے مومن، مجتہد یا مجدد وغیرہ مانے وہ بھی کافر و مرتد اور جہنمی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" فلسفہ ختم نبوت"جماعت اہل حدیث کے مایہ ناز عالم دین محترم مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی صاحب ﷫کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں عقیدہ ختم نبوت کو بڑے خوبسورت انداز میں پیش کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

  • 3 #6312

    مصنف : سید ابو الحسن علی ندوی

    مشاہدات : 2312

    قصص الانبیاء

    (ہفتہ 14 اپریل 2018ء) ناشر : مکتبہ مدنیہ لاہور

    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اوراثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔ ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ کائنات کی افضل اور بزرگ ترین ہستیاں انبیاء ﷩ ہیں ۔جن کا مقام انسانوں میں سے بلند ہے ۔اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں اپنے دین کی تبلیغ کے لیے منتخب فرمایا لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کےلیے انہیں مختلف علاقوں اورقوموں کی طرف مبعوث فرمایا۔اور انہوں نے بھی تبلیغ دین اوراشاعتِ توحید کےلیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ اشاعت ِ حق کے لیے شب رروز انتھک محنت و کوشش کی اور عظیم قربانیاں پیش   کر کے پرچمِ اسلام بلند کیا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جابجا ان پاکیزہ نفوس کا واقعاتی انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔ جس کا مقصد محمد ﷺ کو سابقہ انبیاء واقوام کے حالات سے باخبر کرنا، آپ کو تسلی دینا اور لوگوں کو عبرت ونصیحت پکڑنے کی دعوت دینا ہے بہت سی احادیث میں بھی انبیاء ﷺ کےقصص وواقعات بیان کیے گئے ہیں۔انبیاء کے واقعات وقصص پر مشتمل مستقل کتب بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’قصص الانبیاء‘‘ از  حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی ﷫ انبیاء کے ایمان افروز حالات وواقعات پر مشتمل کتاب ہے ۔امام موصوف کی مایہ ناظ کتابوں میں سےایک ہے اور اپنے موضوع پر لکھی جانے والی اہم ترین کتابوں میں سے ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے جسے اردو قالب میں ڈھالنے کی سعادت ڈاکٹر  کرنل فیوض الرحمٰن نے کی ہے ۔موصوف نے اس کتاب کا نہایت ہی سلیس اور رواں ترجمہ پیش کیا ہے۔ اسلوب عام فہم ہے، آیات واحادیث کی مکمل تخریج وتحقیق اوراکثر مقامات سے ضعیف اورموضوع روایات کو خارج کیاہے ۔مترجم موصوف نے اس کتاب کی اصل ترتیب کوبھی درست کیا ہے ،ایک ہی واقعہ میں روایات کے تکرار کو ختم کیا ہے، قارئین کی سہولت کے لیے بہت سے مقامات پر نئے عنوانات بھی قائم کیے ہیں جو کہ امام ابن کثیر نے قائم نہیں کیے تھے ۔ او رکتاب کے آخر میں انبیاء﷩ کے واقعات سےجو نتائج وفوائد فوائد سامنے آتے ہیں ان کابھی اضافہ کردیا ہے۔مذکورہ خوبیاں کے باعث یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب بن گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ عوام کواس کتاب سے مستفید فرمائے ۔(آمین) (رفیق الرحمن)

  • 4 #8079

    مصنف : قاری محمد طاہر الرحیمی

    مشاہدات : 388

    جمال القرآن مع شرح کمال الفرقان

    (جمعرات 16 جنوری 2020ء) ناشر : مکتبہ مدنیہ لاہور

    تلاوت ِقرآن کا  بھر پور اجروثواب اس  امر پرموقوف ہے  کہ تلاوت پورے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ کی جائے قرآن کریم  کی تلاوت  کا صحیح  طریقہ جاننا اورسیکھنا علم تجوید کہلاتا ہے  ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ  وہ علم تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی  حاصل کرے ۔ کیونکہ  قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی  وہ عظیم الشان کتاب ہے کہ ہر مسلمان پراس کتاب کو صحیح پڑھنا لازمی اور ضروری ہے جس  کاحکم  ورتل القرآن ترتیلا سے واضح ہوتا ہے۔ اس قرآنی حکم کی تکمیل اور تجویدکوطالب تجوید کےلیے  آسان اورعام فہم بناکر پیش کرناایک استاد کے منصب کا  اہم فریضہ ہے ۔ایک اچھا استاد جہاں اداء الحروف کی طرف توجہ دیتا ہے ۔ وہیں وہ اپنے  طالب علم کو  کتاب کےذریعے بھی مسائل تجوید ازبر کراتا ہے۔علم تجوید قرآنی علوم کے بنیادی علوم میں سے ایک  ہے  ۔ اس علم کی تدوین کا آغاز دوسری صدی کے  نصف سے ہوا۔ائمۂ حدیث وفقہ کی طرح تجوید وقراءات کے ائمہ کی بھی  ایک طویل لسٹ ہے  اور تجوید وقراءات کے موضوع    پرماہرین تجوید وقراءات  کی بے شمار کتب موجود ہیں ۔   جن سے استفادہ کرنا اردو دان طبقہ کے لئے اب  نہایت سہل اور آسان ہو گیا ہے ۔ عرب قراء کی طرح برصغیر پاک وہند کے علماء  کرام اور  قراءعظام  نے  بھی  علم تجوید قراءات  کی اشاعت وترویج کےلیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔پاکستان میں دیوبندی قراء کرام کےعلاوہ  سلفی قراء عظام  جناب قاری یحییٰ رسولنگری، قاری محمداریس العاصم ،قای محمد ابراہیم میرمحمدی  حفظہم اللہ اور ان کےشاگردوں کی  تجوید قراءات کی نشرواشاعت میں  خدمات  قابل تحسین ہیں  ۔مذکورہ قراء کی تجوید وقراءات کی کتب کے  علاوہ  جامعہ لاہور الاسلامیہ کے کلیۃ القرآن ومجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور  کے زیر نگرانی شائع ہونے  والے  علمی مجلہ  رشد کےعلم ِتجویدو  قراءات  کے موضوع پر تین ضخیم  جلدوں  پر مشتمل قراءات نمبرز  اپنے  موضوع  میں انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں ۔جس میں  مشہور قراء کرام کے   تحریر شدہ مضامین ، علمی  مقالات  اور حجیت  قراءات پر    پاک وہند کے  کئی  جیدمفتیان کرام کے فتاوی ٰ جات بھی شامل ہیں اور اس میں  قراءات کو عجمی فتنہ قرار دینے والوں کی  بھی خوب خبر لیتے ہوئے  ان کے  اعتراضات کے  مسکت جوابات دیئے گئے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ جمال القرآن مع  شرح کمال الفرقان   ‘‘محترم مولانا اشرف علی تھانوی  صاحبکی تصنیف ہے ۔جمال القرآن  کی شرح کمال  الفرقان  استاذ القراء  مولانا  قاری محمد طاہر رحیمی کی تحریر کردہ ہے ۔جمال القرآ ن علم تجوید کی ابتدائی کتاب ہےشائقین علم تجوید کے لئے یہ ایک مفید اور شاندار کتاب ہے۔شارح جمال القرآن جناب قاری طاہر رحیمی صااحب نے اس شرح میں  ہر ہر  مضمون ،قاعدہ  اور تنبیہ پر حاشیہ کا نشان دے کر بقدر ضرورت اس کی پوری تفصیل  بیان کردی ہے اور بعض لمعات کےآخر میں ان کے مناسب بعض مضامین ضروریہ  بعنوان تکملہ درج کردئیے  ہیں ۔نیز ہر لمعہ کےآخر میں مختصر لفظوں میں اس کا جامع خلاصہ بھی تحریر کردیا ہے ۔ (م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1571
  • اس ہفتے کے قارئین 15210
  • اس ماہ کے قارئین 53604
  • کل قارئین49443607

موضوعاتی فہرست