مدرسہ تجوید القرآن رحمانیہ جسٹرڈ لاہور

5 کل کتب
دکھائیں

  • 1 چشمہ رحمت (ہفتہ 07 فروری 2015ء)

    مشاہدات:1676

    لفظ ’’قرآن  ‘‘ قرآن مجیدمیں ستر مرتبہ آیا ہے جس کامفہوم باربار پڑھی جانےوالی کتاب ہے۔ یہ وہ عظیم ترین  بے مثال ،لازوال  اور لاریب کتاب ہے جسے خالق ومالکِ ارض سماء نے کائنات میں بسنےوالوں کی رشد وہدایت اور  رہنمائی کےلیے  سرور عالم ، رسول معظم  جناب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر تقریبا 23 سال کے عرصہ میں نازل فرمایا جو آج ہمارے سامنے 30پاروں کی شکل موجود ہے۔ہادی برحق امام کائنات حضرت محمد ًﷺکی  مشہور حدیث ہے کہ :۔ ’’جس نےکتاب اللہ کاایک حرف پڑھا اسے ایک  نیکی ملے  گی او ر ایک نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر ہے۔‘‘اس فرمان نبوی کی روشنی میں پورے قرآن کی تلاوت کرنے پر  لاکھوں نیکیاں ملتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نےاپنی زبانِ نبوت سے   قرآن کی بعض آیات  اور سورتوں کو تلاوت کرنےکی    مخصوص فضیلت بیان  کی ہے ۔جسے محدثین کرام نے  کتب ِحدیث میں فضائلِ قرآن کے ابواب میں بیان کیا ہے او ر کئی اہل علم  نے عمومی  فضائلِ قرآن اور مخصوص سورتوں کی فضیلت پر  مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’چشمۂ رحمت ‘‘بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔یہ کتاب محترم  جناب  حافظ  محمد فاروق ﷾ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے حدیث کی روشنی میں  قرآن  مجید کی سولہ(16)سورتوں کی فضیلت کو بیان کرنےکےبعد آخر  میں  صبح وشام کی دعائیں  بھی شامل کردی ہیں۔اللہ تعالیٰ  مصنف کی اس کاوش کو قبو...

  • 2 دل کی زندگی (ہفتہ 28 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1806

    ویسے تو انسانی جسم کا ہر عضو نہویت قیمتی  اور اہم ہے،لیکن دل کا مقام سب اعضاء انسانی میں بہت بلند ہے۔شعراء وادباء نے دل کے نہایت لطیف نقشے کھینچے ہیں۔دل ہمارے جسم کا سب سے اہم ترین  عضو ہے۔دل  نظام حیات کو بحال رکھنے کا اہم ترین جز اور جسم میں خون کی گردش کو رواں رکھنے کا ذریعہ ہے۔ اگر انسان کے سینے میں دل نہ ہو تو جسم میں جان نہ ہو اور انسانی زندگی قائم نہ رہ سکے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: خبردار! جسم میں ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست رہے تو پورا جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے بن پورا جسم بگڑ جاتا ہے ۔خبردار وہ "دل" ہے۔جس طرح ہم ظاہری اعتبار سے دل کی ممکنہ بیماریوں سے بچنے کے لئے  چارہ جوئی کرتے ہیں اور پرہیز وعلاج کا اہتمام کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ ہم اپنے قلب کی پاکیزگی، صفائی اور پرہیزگاری کا اہتمام کریں کیونکہ یہ جسم عارضی ہے اور اس کو لگنے والے مرض عارضی  ہے۔ اگر ان کا علاج رہ بھی گیا تو موت تمام دنیاوی تکلیفوں سے چھٹکارا دلا دینے والی ہے۔ جبکہ مرنے کے بعد آنے والا جہان عارضی نہیں اور نہ ہی اس کے انعامات یا تکالیف عارضی ہیں ۔ لہذا عارضی زندگی کی تکلیفوں سے بچنے کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ کی زندگی کی تکلیفوں سے بچنے کے لیے سوچنا بھی ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "دل کی زندگی" محترم مولانا عبد اللہ دانش صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے دل کی طہارت،پاکیزگی اور صفائی پر زور دیا ہے،تاکہ ہر مسلمان کی آخرت بہتر ہو سکے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور فرمائے اور...

  • 3 شادی اسلام کی نظر میں (ہفتہ 12 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:2173

    شادی ایک سماجی  تقریب ہے جو دنیا کے  ہر مذہب ہر خطے  اور ہر قوم میں جاری وساری ہے کیونکہ اس کا تعلق زندگی کی بقا اور تسلسل کے اس مخصوص عمل سے  ہے جسے چھوڑ دینے  سے  نسلِ انسانی  ہی منقطع ہوکررہ  جائے گی۔اسکی اہمیت کےپیش نظر  ہر قوم اور ہر مذہب نے اس کے لیے  اپنے اپنے معاشرتی اور مذہبی پس منظر  میں  طریقے وضع کر رکھے ہیں ۔یہ طریقے بہت سی رسومات کا مجموعہ  ہیں۔ان رسومات کے بعض پہلویا تو انتہائی شرم ناک ہیں یا  اہل  معاشرہ اور شادی کرانے والے شخص اوراس کے متعلقین کے لیے  مالی اور جسمانی  تکلف اور تکلیف کاباعث  ہیں۔دینِ اسلام میں بھی شادی  کوایک  اہم معاشرتی تقریب کی حیثیت  حاصل ہے  ۔تقریب نکاح کاطریقہ اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہمارے  موجودہ معاشرے میں  اسے ایک مشکل  ترین تقریب بنادیاگیا ہے ۔بات طے کرنے  سےلے کر قدم قدم پر ایسی رسومات ادا کی جاتی  ہیں جن    میں مال خرچ بھی ہوتا ہے  اور متعلقین کوبھی  بار بار مال  اور وقت خرچ کر کے ان رسومات میں شریک کیا جاتا ہے ۔ ان رسومات پر ایک  طائرانہ  نظر رڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے  اکثر  کاتعلق ہندو مذہب کی شادی کی رسومات سے ہے ۔اور  کچھ لوازمات مغربی معاشرے کے بھی  شامل  کر لیے  گیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ  ’’شادی اسلام کی نظر میں‘‘ مولانا عبد اللہ دانش صاحب کی تحریر ہے۔انہوں ن...

  • 4 فاتح سندھ (عظیم ہیرو محمد بن قاسم) (بدھ 14 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:2175

    محمد بن قاسم کا پورا نام عماد الدین محمد بن قاسم تھا جو کہ بنو امیہ کے ایک مشہور سپہ سالار حجاج بن یوسف کے بھتیجا تھا۔ محمد بن قاسم نے 17 سال کی عمر میں سندھ فتح کرکے ہندوستان میں اسلام کو متعارف کرایا۔ ان کو اس عظیم فتح کے باعث ہندوستان و پاکستان کے مسلمانوں میں ایک ہیرو کا اعزاز حاصل ہے اور اسی لئے سندھ کو "باب الاسلام" کہا جاتا ہے کیونکہ ہندوستان پر اسلام کا دروازہ یہیں سے کھلا۔محمد بن قاسم 694ء میں طائف میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد خاندان کے ممتاز افراد میں شمار کئے جاتے تھے۔ جب حجاج بن یوسف کو عراق کا گورنر مقرر کیا گیا تو اس نے ثقفی خاندان کے ممتاز لوگوں کو مختلف عہدوں پر مقرر کیا۔ ان میں محمد کے والد قاسم بھی تھے جو بصرہ کی گورنری پر فائز تھے۔ اسطرح محمد بن قاسم کی ابتدائی تربیت بصرہ میں ہوئی۔ بچپن ہی سے محمد مستقبل کا ذہین اور قابل شخص نظر آتا تھا۔ غربت کی وجہ سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش پوری نہ کرسکے اس لئے ابتدائی تعلیم کے بعد فوج میں بھرتی ہوگئے۔ فنون سپہ گری کی تربیت انہوں نے دمشق میں حاصل کی اور انتہائی کم عمری میں اپنی قابلیت اور غیر معمولی صلاحیت کی بدولت فوج میں اعلی عہدہ حاصل کرکے امتیازی حیثیت حاصل کی۔ محمد بن قاسم کو 15 سال کی عمر میں 708ءکو ایران میں کردوں کی بغاوت کے خاتمے کے لئے سپہ سالاری کے فرائض سونپے گئے۔ اس وقت بنو امیہ کے حکمران ولید بن عبدالملک کا دور تھا اور حجاج بن یوسف عراق کا گورنر تھا۔ اس مہم میں محمد بن قاسم نے کامیابی حاصل کی اور ایک معمولی چھاؤنی شیراز کو ایک خاص شہر بنادیا۔اس دوران محمد بن قاسم کو ف...

  • 5 تجہیز و تکفین کا شرعی طریقہ (اتوار 02 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:1311

    کسی مسلمان کی موت پر اس کی نماز جنازہ پڑھنا اور اس کی تجہیز وتکفین کرنا  اس کا ایک شرعی حق ہے اور کسی میت کے لئے  آخری اظہار ہمدردی اور سفارش ہے۔لیکن فی زمانہ اس کو ایک رسم سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور ہر مسلمان خیال کرتا ہے کہ اس کے لئے جو بھی طریق کار اختیار کر لیا جائے مناسب ہے۔حالانکہ محبت رسول ﷺ کا تقاضا ہے کہ مسلمان کا ہر کام سنت نبوی ﷺ کے مطابق ہو اور اس سے ماوراء نہ ہو۔ کسی بھی عزیز یا رفیق کا انتقال پسماندگان کے لیے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ اس موقع پر مختلف مذاہب اور مختلف علاقوں میں الگ الگ رسمیں رائج ہیں، ان رسموں کی نگہبانی میں لوگ طرح طرح کی اذیتوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اسلام میں میت کی تجہیز وتکفین کا بہت سادہ طریقہ بتایا گیا ہے جس میں میت کا پورا احترام ہے اور پسماندگان کے لیے تسلی کا سامان بھی۔ برادران وطن سے متأثر ہوکر کچھ لوگوں نے چند رسمیں اس موقع پر بھی گھڑلی ہیں۔ مثلاً سوئم، تیرہویں چہلم اور برسی وغیرہ۔ زیر تبصرہ کتاب" تجہیز وتکفین کا شرعی طریقہ "محترم  مولانا ابراہیم  خلیل صاحب، خطیب مرکزی مسجد اہلحدیث ، حجرہ شاہ مقیم کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے رسوم وبدعات سے پاک تجہیز وتکفین کا شرعی طریقہ بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 955
  • اس ہفتے کے قارئین: 7513
  • اس ماہ کے قارئین: 32041
  • کل قارئین : 47111319

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں