اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #27

    مصنف : ناصر الدین البانی

    مشاہدات : 19903

    حلال اور حرام وسیلہ

    (ہفتہ 27 دسمبر 2008ء) ناشر : مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ،پاکستان

    مختلف مذاہب میں اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں اسی طرح دین اسلام میں اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لیے نیک اعمال اور صدقہ جاریہ جیسے امور کو مقرر کیا گیا ہے-عقیدے کی خرابی کی وجہ سے کچھ لوگوں میں غلط ذرائع کو اختیار کر کے دین میں داخل کر کے ان کے ذریعے تقرب حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ سیدھا سا اصول ہے کہ ایک اچھے کام کے لیے غیر شرعی کام کا سہارا لینا حماقت کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا-مصنف نے اپنی کتاب میں اسی چیز کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کون سے ذرائع ہیں کہ جن کے ساتھ اللہ تعالی کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے اور وہ کون سے ناجائز امور ہیں جن کو اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا-اسی طرح وسیلہ کی لغوی تعریف،شرعی اور غیر شرعی وسیلہ کی پہچان کا طریقہ،کون سا وسیلہ اللہ کے ہاں قابل قبول ہے،شرعی وسیلہ کی اقسام کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور اسی طرح مخلوق کو وسیلہ بنانے کے بارے میں لوگوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ بھی کیا گیا ہے-اور اس چیز کو ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کے لیے کسی مخلوق کو وسیلہ کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا
     

  • 2 #28

    مصنف : محمد بن جمیل زینو

    مشاہدات : 18448

    اسلامی عقیدہ کتاب وسنت کی روشنی میں

    (بدھ 24 دسمبر 2008ء) ناشر : مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ،پاکستان

    عقیدے کے موضوع پر بے شمار تصنیفات موجود ہیں اور لکھی جا رہی ہیں جن میں کچھ متقدمین یونانی فلسفے سے متاثر ہیں یا پھر متکلمانہ اور مناظرانہ اسلوب بیان کی حامل ہیں اور بعد ولوں میں کچھ جدید رجحانات کی وجہ سے متاثر ہو کر بعض لوگوں نے سائنس کی نت نئی موشگافیوں کو لے کر عقائد کو ثابت کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے اکثر مصنفین افراط وتفریط کا شکار ہو گئے کیونکہ سائنس غیبی امور سے متعلق گفتگو نہیں کر سکتی جبکہ عقیدے میں اکثر امور کا تعلق غیب سے ہی ہے اس لیے عقیدے کو سمجھنے کے لیےسب سے بہترین چیز قرآن اور حدیث ہی ہے جس میں نہ تو نت نئی موشگافیوں کو عمل دخل ہے اور نہ ہی افراط وتفریط اور نہ اٹکل پچو سے کام لیا گیا ہے بلکہ جس اللہ کی ذات کے بارے میں عقیدہ اور فرشتوں کے بارے میں عقیدہ ہونا چاہیے وہ خود اللہ رب العزت نے بیان کر دیا ہے جو کہ بالکل برحق اور سچ ہے-مصنف نے اپنی کتاب میں اسلام اور ایمان کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کے بعد اللہ تعالی کے بندوں پر کیا حقوق ہیں اور بندوں کے اللہ تعالی پر کیا حقوق ہیں اس چیز کو واضح کیا ہے اور اسی طرح توحید کی اقسام،شرک کی اقسام،کلمہ طیبہ کی شرائط،عقیدہ توحید کی اہمیت،قبولیت عمل کی شرائط،اسلام کے حکموں کے مطابق دوستی اور دشمنی کے اصول،اللہ کے دوست اور شیطان کے دوست کون لوگ ہیں،اور اسی طرح توحید کے فوائد کے ساتھ ساتھ شرک کے نقصانات کو بھی بیان کیا ہے-اور سب سے بڑھ کر خوبی یہ ہے ان تمام بحثوں کو الگ الگ موضوع کے تحت سوال وجواب کی صورت میں بیان کیا ہے جس سے کسی بھی بات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔
     

  • 3 #29

    مصنف : ابن قیم الجوزیہ

    مشاہدات : 20429

    شرک اکبر کفراکبر اور بدعت کے بارے میں جاہل اور مقلد پر قیام حجت کےقواعد

    (منگل 09 دسمبر 2008ء) ناشر : مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ،پاکستان

    یہ کتابچہ دراصل علامہ ابن قیم کی دو کتابوں "کتاب الطبقات" اور"قصیدہ نونیہ" کی تلخیص ہے۔ اس میں جاہل مقلدین اور کفر اکبر، شرک اکبر اور دیگر بدعی عقائد میں مبتلا گروہوں پر حجت کے قواعد اور اصول بیان کئے گئے ہیں۔ ایک حساس موضوع پر عمدہ تحریر ہے۔

     

  • 4 #140

    مصنف : ڈاکٹر ابو عدنان سہیل

    مشاہدات : 19477

    یہودیت اور شیعیت

    (جمعہ 27 فروری 2009ء) ناشر : مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ،پاکستان

    اس کتاب میں فاضل مؤلف نے یہودیت اور شیعیت کا باہمی موازنہ کرتے ہوئے ثانی الذکر کو یہودیت کا چربہ اور اس کی ایک نقاب بتایا ہے۔ اور بطور ثبوت قرآن کریم کی آیات سے استدلال پیش کیا ہے۔ روایت شکنی کی یہ کوشش کچھ حلقوں کیلئے بار گراں ہے تو کچھ کیلئے یہ نعمت سے کم نہیں۔ رافضیت کے رد میں ایک منفرد طرز استدلال پر مشتمل لاجواب تحریر۔ -مصنف نے اس کتاب میں یہودیت اور شعییت میں مشترک سازشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہےکہ اسلام کو حقیقی نقصان جیسے غیر مسلموں نے پہنچایا ہے اس سے کہیں زیادہ شیعہ نے پہنچایا ہے-یہودی اپنے آپ کو اللہ کی پسندیدہ قوم تصور کرتے ہیں اسی طرح شیعہ بھی اپنے آپ کو ناصبی کہتے ہیں-جس طرح یہودی نسلی برتری کے قائل ہیں اسی طرح شیعہ بھی-مصنف نے  یہ واضح کیا ہے کہ شیعہ اسلام کا بدترین دشمن کیسے ہے،یہودیت اور شیعیت کی مشترک چیزیں مثلا دین میں غلو اور مبالغہ آرائی،اپنے دینی راہنماؤں کو اللہ کے اختیارات سے متصف کرنا،التباس  وکتمان حق،مسلمانوں سے شدید عدوات ودشمنی جیسے موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ یہودیت اور شیعیت میں ان چیزوں میں اشتراک ہے-اس لیے یہودیت اور شیعیت ایک چیز ہی ہیں-

  • 5 #340

    مصنف : ڈاکٹر ابو عدنان سہیل

    مشاہدات : 17220

    یہودیت اور شیعیت کے مشترکہ عقائد

    (جمعہ 23 اپریل 2010ء) ناشر : مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ،پاکستان

    یہودیت او رشیعیت کےمشترکہ عقائد:یہ کتاب مصنف حفظہ اللہ کی عمدہ ونادر شاہکار میں سے ایک ہےجس کے اندر یہودیت اور شیعیت کی اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں کی نقاب کشائی کی گئی ہے  اوریہ ثابت کیا گیا ہے کہ اسلام کے خلاف سب سےپہلا فکری یلغار عبداللہ بن سبایہودی یمنی کی طرف سے کیا گیا جس نےبظاہر اسلامی لبادہ پہن کر اسلام کے خلاف ایسا رکیک حملہ کیا جس کا زخم آج تک مندمل نہیں ہوسکا۔نیز یہ ثابت کیا گیا کہ یہودیت اور شیعیت کےافکاروعقائدکافی حد تک مماثل ومشابہ ہیں گویا کہ شیعیت یہودیت کی شاخ وپیداوار یہ ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔

  • 6 #515

    مصنف : ڈاکٹر طاہر عبد الحلیم

    مشاہدات : 11861

    صوفیت کی ابتداء وارتقاء

    (منگل 19 اپریل 2011ء) ناشر : مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ،پاکستان

    زیر تبصرہ کتاب ڈاکٹر طارق عبدالحلیم اور ڈاکٹر محمد العبدہ کی عربی کتاب ’’الصوفیۃ وتطورھا‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں صوفیت ،صوفیائے کرام ،ان کی عبادات وفضائل اور صوفیت کی آڑ میں توحید و رسالت اور کتاب وسنت کی پامالی کا سرسری جائزہ ہے ۔تصوف اور اہل تصوف کی چیرہ دستیوں،کتاب وسنت کے دلائل کی تضحیک و روگردانی کو عیاں کرنے کے لیے ایک عظیم کتابی مجموعہ  کی ضرورت ہے ۔علمائے اہل حق نے ہر دور میں باطل نظریات کے حامل فرقوں کی سرکوبی کے لیے تعلیم و تعلم او رتحریرو تقریر کے ذریعے کما حقہ اپنا جاندار کردار ادا کیا ہے ۔لیکن  منہ زور فتنے بھی اپنی پوری تابانی  سے قائم و دائم چلے آرہے ہیں ۔اسلام کے ابتدائی ادوار میں اس کی شان وشوکت اور رعب داب کی وجہ سے یہودونصاری کے لیے اہل اسلام سے انتقام لینا اور انہیں زیر کرنا تو محال تھا۔سو ایک منظم منصوبہ بندی کے  تحت مسلمانوں کے نظریات وعقائد کو کمزور کرنے اور انہیں  اسلام کی روح (کتاب وسنت) سے دور کرنے کے لیے عبداللہ بن سبا(یہودی) نے دینی لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں میں کفریہ وشرکیہ عقائد راسخ کرنے کا تہیا کیا اور بڑی مہارت اور چابکدستی سے اس نے لوگوں میں غلط نظریات کی ترویج شروع کردی ۔حتی کہ خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب کے دور میں کچھ ایسے افراد تیار کیے جو یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ علی رضی اللہ عنہ معاذ اللہ حقیقی خدا ہیں اور انسانیت کے روپ میں زمین پر جلوہ افروز ہیں ۔پھر اس سلسلہ نے تصوف کا لبادہ اوڑھا اور سادہ لوح مسلمانوں میں یہ بات مشہور کی کہ دین کی تقسیم دو طریقوں پر ہے۔(1)شریعت (2)طریقت ۔شریعت کتاب وسنت کا علم ہے اور طریقت باطنی علم ہے جوسینہ بہ سینہ حسن بصری سے علی رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ   علیہ وسلم تک پہنچتا ہے ۔جب کہ کتاب وسنت کے دلائل اس تقسیم کا رد کرتے ہیں اور صحیح مسلم میں مروی  روایت میں علی رضی اللہ عنہ اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ ان کے پاس شریعت کے سوا کوئی باطنی علم نہیں جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں  خاص تعلیم دی ہو ۔لیکن تصوف کی بنیاد ہی جھوٹ ،دھوکہ ،ملمع سازی اور ذاتی خواہشات کی ترویج ہے۔لہذا کتاب وسنت  کے دلائل ان کے نظریات میں آڑھ اور رکاوٹ نہیں بن سکتے۔پھر تصوف  میں نظریہ وحدۃ الوجود وحدۃ الشھود اور حلول ایسے  کفریہ اور شرکیہ عقائد ہیں جو اصل توحید کے سراسر منافی ہیں اور ابن عربی کے اصول کے اصل چیز محبت ہے ۔اسلام ،شرک ،کفر ،یہودیت وعیسائیت میں کوئی  فرق  نہیں ہے ان کی اسلام  دشمنی اور بد عقیدگی کی صریح علامت ہے ۔
    لقد صارقلبی قابلاً کل صورۃ۔فمرعی لغزلان ودیر لرھبان
    وبیت الاوثان وکعبۃ طائف  ۔والواح الطوراۃ ومصحف قرآن
    ادین بدین الحب انی توجھت ۔رکائبہ فالحب دین وایمانی
    ’’میرا دل ہر صورت قبول کر لیتا ہے ،ہرن کی چراگاہ  ہو ،راہب کی کٹیا ہو ،بت کدہ ہو یا طواف کرنے والے کا کعبہ ،تورات کی تختیاں ہوں یا قرآنی مصحف (یہ سب برابر ہیں )میں دین محبت کا پیروکار ہوں اس کی کے سوار جہاں چلے جائیں محبت ہی میرا دین و ایمان ہے۔‘‘
    ایسے واہیات تصورات کو دین کا رنگ دینا اس کی ترویج میں دشت دشت پھرنا اور دنیا ہی میں خود کو جنت الفردوس کا وارث خیال کرنا کتاب وسنت سے دوری اور شیطانی غلبے کا شاخسانہ ہے ۔تصوف کیا ہے صوفیاء کے گھناؤنے کردار،انکے غلط نظریات اور بدعات کو جاننے کےلیے زیر نظر کتاب کا ضرور مطالعہ کیجئے جس سے  تصوف و اہل تصوف کی دین سے بیزاری اور بد کرداری آیاں ہو جائے گی۔نیز اس کتاب میں اہل تصوف کا عامیوں کو پھانسنے کا عظیم گر بناوٹی کرامات کا بیان بھی ہے ۔جس کی آڑ میں عام لوگوں کو ورغلایا جاتا ہے اور دین سے دور کیا جاتاہے ۔ایسی کرامات جس سے توحید پر زد آئے  اور یہ ثابت کیا جائے کہ زمین و آسمان اور عرش و فرش پیرولی کی دسترس میں ہے یہ کیونکر کرامت ہو سکتی ہے ۔کرامت کی حقیقت حال جاننے کے لیے صوفیاء کے امام ابو یزید بسطامی کا قول ضرور ملاحظہ کریں ۔پھر کسی کی  ولائت تسلیم کریں ۔فرماتے ہیں :
    ’’لو نظرتم الی رجل اعطی من الکرامات حتی یرتفع  فی الھواء فلا تغتروا بہ حتی تنظروا کیف ہو عندالامر والنہی وحفظ حدودالشریعۃ۔[میزان الاعتدال:جلد 2صفحہ 346]
    ’’اگر  تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جسے بے شمار (بناوٹی )کرامات حاصل ہیں ۔حتی کہ وہ ہوا میں بلند ہوتاہے تو اس سے دھوکا نہ کھاؤ جب تک اسے آزما نہ لو کہ وہ اوامر ونواہی  اور حدود شرعیہ کا کتنا پابند ہے۔

  • 7 #675

    مصنف : محمد عبد الہادی المصری

    مشاہدات : 54297

    اہل سنت فکر وتحریک فتاوی امام ابن تیمیہ کی روشنی میں

    (منگل 06 دسمبر 2011ء) ناشر : مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ،پاکستان

    اللہ کے آخری رسولﷺ نے آسمانی ہدایات کے مطابق اس امت کی شکل میں ایک تحریک کھڑی کی تھی جس کا سب کچھ قیامت تک باقی رہنا یقینی امر ہے او اس تحریک کو زندہ و قائم رکھنے والے لوگوں کا بھی ہر دور میں ایک مستقل اور مسلسل انداز سے باقی رہنا آسمانی خبر کی رو سے قطعی اور حتمی ہے۔ اب وہ کون لوگ ہیں جو اس پیشگوئی کا مصداق بن کر اس عظیم ترین شخصیت کی دعوت برحق کا فکری تسلسل رہے۔ ان کی وہ آئیڈیالوجی کیا ہے جو ان کے امتیاز کی اصل بنیاد رہی؟ اس تحریک کی تاسی کن لوگوں کے ہاتھوں ہوئی اور کن کے ہاتھوں اس کی ترجمانی و تجدید کا کام ہوتا رہا ہے؟ اس کے پیروکاروں کی درجہ بندی اور تقسیم مراتب کیونکر ہوتی رہی؟ اس سے انحرافات کو کس طرح ضبط میں لایا جاتا رہا اور ا س کے مخالفوں کے بارے میں کیا پالیسی اختیا کی جاتی رہی؟ پھر موجودہ دور میں اس کے دائرہ کی حدود کیا ہیں؟ اس کی ترجیحات کا محور کیا ہے؟ اس سے انحرافات کی شکل کیا ہے اور اس کو درپیش اصل چیلنج کون سے ہیں۔ فکر و عمل میں اس کے کردا کو زندہ کرنے کے لیے آغاز کہاں سے ہوا اور زاد راہ کی صورت کیا ہو؟ یہی سوالات اس کتاب کا موضوع ہیں۔(ع۔م)
     

  • 8 #1029

    مصنف : محمد عبد الہادی المصری

    مشاہدات : 16583

    اہل سنت فکر وتحریک ( ڈبل )

    (جمعہ 07 فروری 2014ء) ناشر : مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ،پاکستان

    دین اسلا م کا اصل ماخذ  کتاب و سنت ہے، جس کے اہتمام کی خاص تاکید ہے  اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سمیت تمام امتیوں کوہر دورمیں کتاب وسنت سے شدید وابستگی کی تلقین کی گئی ہے-نبی کریمﷺنے ان الہامی تعلیمات پر عمل  اور ان پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونے کودین  کی بقا سے  تعبیر کیاہے، اور ان سے بے التفاتی اور کجی کو گمراہی قراردیا، آپ ﷺ نے فرمایا۔میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہاہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے  کبھی گمراہ نہ ہو گے، (وہ دو چیزیں ) اللہ کی کتاب اور میری سنت ہے- لہذا دین کی بقا اور استحکام کتاب وسنت سے تعلق استوار کرنے ہی میں ہے،اسلام کے ابتدائی ادوار میں اسلام کے غلبہ اور استحکام کا باعث بھی یہی چیز تھی اور مرور زمانہ کے ساتھ اسلام کا استحکام انہی دو چیزوں سے نتھی ہے،سو جس بھی دور میں اہل اسلام خود کو کتاب وسنت کی تعلیمات کے سانچے میں ڈھال لیں گے، عظمت ورفعت ان کا مقدر ٹھہرے گی –نیز مذہب کے نام پر وجود میں آنے والی تنظیمیں اور تحریکیں بھی وہی مستحکم اور دیرپا ہوتی ہیں جن کی بنیاد الہامی تعلیمات پر ہو اور منہج میں سلف کے فہم کی جھلک ہو-لیکن ہوتا یہ ہے کہ اسلامی تحریکیں اٹھان میں تواپنا منشور کتاب وسنت سے کشید کرتی ہیں پھر آہستہ آہستہ مصلحتوں کی آڑ میں دین اسلام کی اصل تعلیمات سے بہت دور نکل جاتی ہیں۔زیر تبصرہ کتاب  اسلامی تحریکوں کے لیے بہترین راہنماہے ، جس میں تحریکوں کی بقاو استحکام کے محرکات اور زوال و فنا کے اسباب کا بیان ہے، یہ ایک بڑی معلوماتی کتاب ہے ،جس کا مطالعہ نہایت اہم اور بہت مفید ہے۔(ف۔ر)
     

  • 9 #1770

    مصنف : حامد محمود

    مشاہدات : 5995

    کیا ووٹ مقدس امانت ہے؟

    (بدھ 31 جولائی 2013ء) ناشر : مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ،پاکستان

    مغربی تہذیب اور افکار و نظریات کی مشرق میں آمد کے بعد مسلمانوں کے اندر بالخصوص  بنیادی طور پر تین طرح کے طبقات آئے ہیں ۔ پہلا وہ جو مغربی فکر و تہذیب کی مکمل تردید کرتا ہے اور دوسرا وہ جو مکمل تائید کرتا ہے اور تیسرا اور  آخری گروہ ان لوگوں کا ہے جو پیوند کاری  کرتا ہے ۔ مغرب کے ان گوناگو افکار و نظریات اور تہذیب و تمدن کی دنیا میں ایک جمہوریت بھی ہے چناچہ اس کے بارے میں فطری طور پر مذکورہ بالا تین طرح کی ہی آراء سامنے آئی ہیں ۔ بعض لوگ جمہوریت کی بالکلیہ تردید ، بعض تائید اور بعض بین بین رائے اپناتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس سلسلے میں زیر نظر کتاب اول الذکر گروہ کی نمائندگی کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔ فاضل مصنف نے زیر بحث کتاب میں جہاں جمہوری نظام کے مفاسد کا ذکر کیا ہے وہاں ساتھ ساتھ بالخصوص ان لوگوں کی آراء اور دلائل کو چھانٹے کی کوشش کی ہے جو مسلمانوں میں سے جمہوریت کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اگر غیرجانبدارنہ طور پر دیکھا جائے تو کتاب اپنے اندر کئی ایک حقائق کو بھی سموئے ہوئے ۔ اللہ ہماری صحیح رہنمائی فرمائے ۔ آمین۔(ع۔ح)
     

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1627
  • اس ہفتے کے قارئین 13324
  • اس ماہ کے قارئین 51718
  • کل قارئین49417927

موضوعاتی فہرست