دکھائیں کتب
  • 21 ایک غیرمقلد کی توبہ توبہ توبہ (جمعرات 25 نومبر 2010ء)

    مشاہدات:19526

    دین اسلام میں کسی بھی مسئلہ پر  کتاب وسنت کی راہنمائی معلوم نہ ہونے پر اہل علم کی طرف رجوع کا اصول بیان کیا گیا ہے اور تقلید کے بجائے تحقیق کا رجحان پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن کچھ عرصہ قبل ایک کتاب ’ایک غیر مقلد کی توبہ‘ کے نام سے  منظر عام پر آئی جس میں تقلیدی روش ترک کرنے والوں پر بہت سے بے جا اعتراضات کا سلسلہ دراز کیا گیا۔ ان اعتراضات کی حیثیت کیا ہے زیر نظر رسالہ میں ان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے ۔ فاضل مؤلف نے مقلدین پر کی جانے والی تمام دشنام طرازیوں کا علمی انداز میں جواب دیتے ہوئے کتاب وسنت کی واضح ہدایت اور صحابہ و سلف کے روشن طریقے کی جانب راہنمائی کی ہے۔
     

  • 22 برصغیر میں علم فقہ (جمعرات 04 اگست 2011ء)

    مشاہدات:15171

    زیر نظر کتاب معروف مؤرخ وسوانح نگار جناب محمد اسحق بھٹی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں برصغیر پاک وہند میں علم فقہ کی نشرواشاعت اور اس سے متعلقہ اہم کتب کا تعارف کرایا گیاہے۔ابتدا میں علم فقہ کے معنی ومفہوم پر روشنی ڈالی گئی ہے،پھر ماخذ فقہ،اجتہاد اور استنباط مسائل میں اختلاف پر بحث کی ہے۔اصحاب فتوی صحابہ وتابعین اور مختلف علاقوں میں مراکز فقہ کی بھی نشاندہی کی ہے اس کے بعد ائمہ اربعہ کے مناہج فقہ کا تذکرہ ہے بعدازاں بر صغیر میں فقہ کی آمد کا تاریخی پس منظر بیان کیا ہے اور پھر گیارہ فقہی کتابوں کا تعارف کرایا ہے ۔ان میں الفتاوی الغیاثیہ،فتاوی امینیہ ،فتاوی بابری اور فتاوی عالمگیری اہم ہیں۔یہاں اس امر کی نشاندہی ضروری ہے کہ اس سے ان کتابوں کا تعارف ہی مقصود ہے۔ان کے مندرجات کی توثیق یا مباحث کی تائید پیش نظر نہیں،اس لیے کہ اصل حجت کتاب وسنت ہیں ۔تمام مسائل انہی کی روشنی میں قبول کرنے چاہییں،جبکہ ان کتابوں کے مندرجات زیادہ تر مخصوص مکاتب فقہ کی تقلید پر مبنی ہیں۔اس نکتے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا۔(ط۔ا)
     

  • 23 برصغیر ہند میں علوم فقہ اسلامی کا ارتقاء (جمعہ 14 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:2008

    اسلامی علوم میں فقہ اسلامی کوخصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ فقہ کاتعلق ایک طرف کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ ﷺ سے جو جو تمام احکام شرعیہ کاماخذ ہیں۔ جس نے زندہ مسائل کے استدلال، استنباط اور اجتہاد میں قرآن وسنت کواپنایا اور شرعی احکام کی تشریح وتعبیر میں ان دونوں کو ہی ہر حال میں ترجیح دی۔ یہ تعلیمات اللہ تعالیٰ کا ایسا عطیہ ہیں جو اپنے لطف وکرم سے کسی بھی بندے کو خیر کثیر کے طور پر عطا کردیتا ہے۔ اور فقہ اسلامی اس علم کا نام ہے جو کتاب وسنت سے سچی وابستگی کے بعد تقرب الٰہی کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ۔ یہ علم دھول وغبار کواڑا کر ماحول کوصاف وشفاف بناتا ہے اور بعض ایسے مبہم خیالات کا صفایا کرتا ہے جہاں بظاہر کچھ ہوتا ہے اور اندرون خانہ کچھ ۔ فقہ اسلامی مختلف شبہ ہائے زندگی کے مباحث پر مشتمل ہے اس کے فہم کے بعض نابغۂ روزگار متخصصین ایسےبھی ہیں جن کے علم وفضل اوراجتہادات سےایک دنیا مستفید ہوئی اور ہورہی ہے ۔ہندوستان میں جب اسلامی علوم کی کرنیں طلوع ہونے لگیں تو شروع میں علم حدیث پرزیادہ توجہ دی گئی خاص کر سندھ اور گجرات کے علاقہ میں لیکن اس کے بعد اہل فقہ اہل علم کی توجہ کا مرکز بن گیا اور فتاوی تاتارخانیہ، فتاوی ہندیہ ، قضا کے موضوع پر صنوان القضاءاوراصول فقہ میں مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت، نورالانوار جیسی اہم تالیفات منظر عام آئیں جس میں بعض کو فقہ اسلامی کا انسائیکلوپیڈیا کہا جاسکتا ہے ۔بر صغیر کے علماء میں فقہ سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں کی کثرت کاجناب محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی کتاب ’فقہاء ہند‘ کی کئی جلدوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ زیر...

  • 24 تاریخ التقلید (جمعہ 05 جون 2015ء)

    مشاہدات:2155

    اہل اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلام ایک کامل دین ہے ۔ ہر مسلمان شہادتین کے اقرار کے ساتھ حصراً دو چیزوں کا مکلف بن جاتا ہے یعنی کتاب و سنت۔ قیامت تک کے لئے دنیا کی کوئی طاقت ان دو چیزوں میں تفریق پیدا نہیں کرسکتی ۔ یہ کامیابی کی سب سے قوی اساس اور نجات کا مرکزی سبب ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے قلوب و اذہان میں اس کی اہمیت اور محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی ، چنانچہ انہوں نے اسی پر عمل کرکے رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا لقب حاصل کیا۔ اسی لئے کتاب و سنت کا وہی مفہوم معتبر ہے جو اجماع و سلف صالحین سے ثابت ہے ، خیر القرون کے مسلمانوں نے بھی اسی کو اپنا کر  عالمِ کفر پر غلبہ پایا اور باطل ان کے سامنے سر نگوں تھا۔اس کے برعکس ایک حساس اور گھمبیر مسئلہ تقلید شخصی کا ہے ، جس کا آغاز قرونِ ثلاثہ کے بعد ہوا۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جس سے ہر دور میں مسلمان تشتت و افتراق کا شکار ہوئے ہیں۔ اس نے اسلام کے مصفیٰ آئینہ کو دھندلا دیا۔ تقلید راہِ حق میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور مقلد کو تارکِ سنت بناتی ہے ۔ تقلید وحی کی ضد ، توحید کے منافی اور چوتھی صدی کی بدعت ہے۔اللہ تمام مسلمانوں کو اس سے محفوظ فرمائے۔ زیر تبصرہ کتاب "تاریخ التقلید" محترم حکیم محمد اشرف سندھو صاحب﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ پر بناء رکھتے ہوئے  تقلید کی تاریخ کو مرتب فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(را...

  • 25 تاریخ فقہ اسلامی (محمد الخضری ) (بدھ 10 جون 2015ء)

    مشاہدات:4272

    فقہ اسلامی کی اجمالی تاریخ اگرچہ عربی تاریخوں مثلا مقدمہ ابن خلدون اور کشف الظنون وغیرہ میں مذکور ہے،لیکن اس زمانے میں جو جدید فقہی ضروریات پیدا ہو گئی ہیں،ان کے لئے یہ اجمالی حالات واشارات بالکل ناکافی ہیں۔موجودہ حالات میں بہت سے معاملات کی نئی نئی صورتیں پیدا ہو گئی ہیں، اور ان معاملات کی بناء پر ایک جدید فقہ کو مرتب کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔اور یہ سوال پیدا ہو رہا تھا کہ آیا فقہ اسلامی ایک جامد چیز ہے ؟یا ہر زمانے کی ضروریات وحالات کے مطابق اس میں تغیر وتبدل ہوتا رہا ہے۔؟اس سوال کو حل کرنے کی سب سے پہلی ضرورت یہ تھی کہ فقہ اسلامی کے مختلف ادوار کی مفصل تاریخ مرتب کی جائے،اور ہر دور تغیرات،انقلابات،خصوصیات اور امتیازات نہایت تفصیل سے دکھائے جائیں اور ان کے علل واسباب کی تشریح کی جائے ۔ زیر تبصرہ کتاب "تاریخ فقہ اسلامی" عالم اسلام کے معروف عالم دین اور مجتہد علامہ محمد الخضری کی عربی تصنیف "تاریخ التشریع الاسلامی" کا اردو ترجمہ ہے۔جس پر مترجم کا نام موجود نہیں ہے۔مولف موصوف نے فقہ اسلامی کی تاریخ  کو چھ ادوار پر تقسیم کیا ہے ،جن میں سے پہلا فقہ بعھد نبی  کریمﷺ،دوسرا فقہ بعھد کبار صحابہ کرام یا خلفائے راشدین،تیسرا  فقہ بعھد صغار صحابہ کرام وتابعین ،چوتھا فقہ کا وہ زمانہ جس میں اس نے باقاعدہ ایک مستقل علم کی حیثیت اختیار کر لی،پانچواں فقہ کا وہ دور جس میں ائمہ کے مسائل کی تحقیق کے لئے جدل کی گرم بازاری ہوئی اور چھٹا دور بزمانہ تقلید سے شروع ہو کر آج تک کے زمانے پر مشتمل ہے۔فقہ اسلامی کی تاریخ پر یہ ایک منفرد...

  • 26 تحقیق مناط کی تطبیق میں کوتاہی کے نتائج (جمعرات 13 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:805

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔منجملہ اصول فقہ میں سے ایک مناط(علت) کی تحقیق اور تطبیق بھی ہے۔اگر مناط کی تطبیق میں کوتاہی واقع ہو جائے تو نتائج کہیں کے کہیں کا پہنچتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " حقیقۃ الفقہ" محترم ڈاکٹر ہانی احمد عبد الشکور کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم شعبہ حسنین ندوی صاحب نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  وہ مولف اور مترجم  کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین  (راسخ)

  • 27 ترقی کا اسلامی تصور مقاصد شریعت کی روشنی میں (اتوار 17 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:981

    سلام کا راستہ اعتدال اور میانہ روی کا راستہ ہے۔ وہ انسان کا مادی و عقلی ارتقاء بھی چاہتا ہے۔ اخلاقی بلندی بھی چاہتا ہے اور روحانی پاکیزگی بھی۔ موجودہ زمانے کے نظریات نے انسان کو سمجھنے میں ایک بنیادی غلطی کی ہے۔ وہ انسان کو صرف ایک مادی اور عقلی وجود سمجھتا ہے۔ بندر کے بچے سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ بندر کا صرف مادی وجود ہوگا۔ ڈارون کا بندر صرف مادی وجود ہی تو رکھ سکتا ہے۔ اس کم خیالی، کم نگاہی اور مشاہدے کی کمی کو کیا کہیے گا۔کیا آپ سکونِ قلب نہیں چاہتے؟ کیا آپ اپنے آس پاس امن کی پاسداری اور قانون کی بالا دستی نہیں چاہتے؟ کیا آپ اپنے ماں باپ سے محبت نہیں کرتے؟ کیا اپنی بہنوں کا احترام نہیں کرتے؟ کیا اپنے چھوٹوں کی بھلائی نہیں چاہتے؟ کیا آپ کا دل انسانوں کی مجبوریوں، اور مریضوں کی کراہوں پر نہیں تڑپتا؟ کیا اچھے اور نیک خیالات آنے پر آپ خوش نہیں ہوتے؟جی ہاں آپ ایک اخلاقی وجود ہیں، اور آپ کی روح نیکیوں سے خوش اور بالیدہ ہوتی ہے۔ اسلام نے جتنا زور انسان کے مادی اور عقلی وجود پر دیا ہے اتنا ہی زور یا اس سے زیادہ اخلاقی و روحانی وجود پر دیا ہے۔ اسی لئے اسلام ایک ہمہ جہت، ہمہ پہلو Development کا تصور رکھتا ہے۔ زیر تبصر ہ کتاب "ترقی کا اسلامی تصور، مقاصد شریعت کی روشنی میں" محترم محمد عمر چھاپرہ اسلامی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، جدہ، سعودی عرب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مقاصد شریعت کی روشنی میں ترقی کے اسلامی تصور کا جائزہ لیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول و منطور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں...

  • 28 تفہیم اصول الشاشی (اتوار 15 فروری 2015ء)

    مشاہدات:3656

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی؟ قرآن اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ قرآن مجید، سنت اور حدیث میں سے کس ماخذ کو دین کا بنیادی اور کس ماخذ کو ثانوی ماخذ قرار دیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث کو کیسے سمجھا جائے گا اور ان سے سنت کو کیسے اخذ کیا جائے گا؟ اگر قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی حدیث میں بظاہر کوئی اختلاف نظر آئے یا دو احادیث میں ایک دوسرے سے بظاہر اختلاف نظر آئے تو اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے اپنے اپنے اصول وضع کئے ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ اصول شاشى احناف كى اصول فقہ پر لکھی گئی مشہور كتابوں ميں سے ایک ہے اور اس كے مؤلف ابو على الشاشى...

  • 29 تقليد کے خوفناک نتائج (اتوار 01 فروری 2009ء)

    مشاہدات:20151

    کتاب کے نام سے اس کی اہمیت عیاں ہے۔ اس لاجواب اور بے نظیر کتاب میں مختلف مکاتب فکر (دیوبندی، بریلوی اور عثمانی توحیدی) کے معترضین کے دلائل کا مکمل و مدلل جائزہ لیا گیا ہے۔ نیز ان مضامین کے لکھنے کے بعد جو جو اعتراضات ان فرقوں کی جانب سے موصول ہوئے ان سب کا جواب بھی اسی کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔ جس سے اس کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ مردوں کے سننے یا نہ سننے کا مسئلہ مشہور و معروف ہے، اسی طرح عذاب قبر جس کا انکار کیپٹن عثمانی صاحب (توحیدی گروپ کے بانی) نے کیا، ان کے دلائل کا مکمل جائزہ لیا گیا ہے۔ نیز ان کے شاگرد کی طرف سے اس مضمون کے جواب کا جواب الجواب بھی لکھا گیا ہے۔ بریلوی علماء کی معنوی تحریفات کو بھی سماع موتٰی بھی خوب واضح کیا گیا ہے اورکتاب و سنت کے شافی دلائل سے اس مسئلہ کے ایک ایک پہلو کو اعتراضات کی گرد و غبار سے پاک کر کے نکھار دیا گیا ہے۔ انتظامیہ یہ کتاب اپنے قارئین و ناظرین کو تجویز کرتی ہے اور اس کی ہارڈ کاپی خرید کر دوسروں تک پہنچانے کی دعوت دیتی ہے

  • 30 تقلید اور علمائے دیو بند (ہفتہ 10 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1599

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرےفروغ حاصل ہوا  ہے۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے  اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب " تقلید اور علماء دیو بند "رئیس جامعہ لاہور الاسلامیہ ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الحدیث مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مولانا رشید احمد گنگوہی ﷫، مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ﷫، مولانا محمود الحسن﷫، مولانا مرتضی حسن ﷫وغیرہ علماء  دیو بند کی تحریرات(جو انہوں نے اثبات تقلید میں مختلف پیرایہ میں لکھی ہیں)کے محققانہ ومنصفانہ جوابات دئیے ہیں۔ مولف موصوف ﷫ اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو تقلید شخصی کے بدترین  نتائج سے آگاہ  کرنے کے  ساتھ ساتھ  انہیں کتاب وسنت کی طرف  رجوع کرنے  کی  ترغیب دلائی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 302
  • اس ہفتے کے قارئین: 4817
  • اس ماہ کے قارئین: 11101
  • کل مشاہدات: 44696854

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں