ادارہ مطبوعات طلبہ لاہور ، کراچی

ادارہ مطبوعات طلبہ لاہور ، کراچی
لاہور ، کراچی
4 کل کتب
دکھائیں

  • 1 خطبات مدراس (جمعرات 21 اکتوبر 2010ء)

    مشاہدات:18823

    مولاناسیدسلیمان ندوی رحمہ اللہ ایک عظیم سیرت نگار،جلیل القدرعالم اورمنفردادیب تھے۔ان کے قلم گوہربارسے کتنی شہرہ آفاق کتابیں منصہ مشہودپرآئیں ۔خطبات مدراس بھی سیدصاحب کی ایک بے مثال کتاب ہے ،جس میں موصوف نے سیرت نبوی ہی کوموضوع بنایاہے اوربڑے ہی ادبی وعلمی انداز سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے مختلف پہلوؤں کواجاگرکیاہے۔اس کتاب میں چھ (6)خطبات ہیں ،جن میں متعدداورمتنوع جہات پربحث کی گئی ہے ۔ضرورت اس امرکی ہے کہ سیرت پاک کابغورمطالعہ کیاجائے اوراپنی زندگیوں کواس کے مطابق ڈھالاجائے ۔یہ کتاب اس میں یقیناً معاون ہوگی۔ان شاء اللہ


     

  • اسلامی نقطہ نظر سے تعلیم محض حصول معلومات کا نام نہیں ،بلکہ عملی تربیت بھی اس کا جزو لاینفک ہے۔اسلام ایسا نظام تعلیم وتربیت قائم کرنا چاہتا ہے جو نہ صرف طالب علم کو دین اور دنیا  دونوں کے بارے میں صحیح علم دے بلکہ اس صحیح علم کے مطابق اس کے شخصیت کی تعمیر بھی کرے۔یہ بات اس وقت بھی نمایاں ہو سامنے آتی ہے جب ہم اسلامی نظام تعلیم کے  اہداف ومقاصد پر غور کرتے ہیں۔اسلامی نظام تعلیم کا بنیادی ہدف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا مسلمان تیار کرنا چاہتا ہے،جو اپنے مقصد حیات سے آگاہ ہو،زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارے اور آخرت میں حصول رضائے الہی اس کا پہلا اور آخری مقصد ہو۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں ایک فعال ،متحرک اور با عزم زندگی گزارے ۔ایسی شخصیت کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم کے مفہوم میں حصول علم ہی نہیں ،بلکہ کردار سازی پر مبنی تربیت اور تخلیقی تحقیق بھی شامل ہو۔لیکن افسوس کہ  استعمار کی سازش سے ہمارے تعلیمی  اداروں میں دین ودنیا کو الگ الگ کر دیا گیا ہے۔دنیوی تعلیم حاصل کرنے والے دین کی بنیادی تعلیمات سے بھی عاری ہوتے ہیں ،جبکہ دین کے طالب علم  دنیوی تعلیم کے ماہر نہیں ہو پاتے ہیں۔ جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ  دونوں طرح کے اداروں میں ایک مسلمان اور کارآمد بندہ تیار نہیں ہوپاتا ہے۔اسی احساس کو لئے ہوئے  ڈاکٹر محمد امین  صاحب ﷾نے یہ کتاب " ہمارا تعلیمی بحران اور اس کا حل (چند نظریاتی مباحث)" تیار کی ہے ۔جس میں انہوں نے  دین ودنیا دونوں تعلیمات کو اکٹھے پڑھانے پر زور دیا ہے تاکہ یہ مشترکہ تعلیم حاصل کرن...

  • 3 پاکستان میں تعلیم آغا خان کے حوالے (منگل 01 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1594

    تعلیم صرف تدریسِ عام کا ہی نام نہیں ہے ۔تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس کےذریعہ ایک فرد اور ایک قوم خود آگہی حاصل کرتی ہے اور یہ عمل اس قوم کو تشکیل دینے والے افراد کے احساس وشعور کونکھارنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔یہ نئی نسل کی وہ تعلیم وتربیت ہے جو اسے زندگی گزارنے کے طریقوں کاشعور دیتی ہے اور اس میں زندگی کے مقاصد وفرائض کا احساس پیداکرتی ہے ۔ تعلیم سے ہی ایک قوم اپنے ثقافتی وذہنی اور فکری ورثے کوآئندہ نسلوں تک پہنچاتی اور ان میں زندگی کے ان مقاصد سے لگاؤ پیدا کرتی ہے جنہیں اس نے اختیار کیا ہے۔ تعلیم ایک ذہنی وجسمانی اور اخلاقی تربیت ہے اور اس کامقصد اونچے درجے کےایسے تہذیب یافتہ مرد اور عورتیں پیدا کرنا ہے جواچھے انسانوں کی حیثیت سے اور کسی ریاست میں بطور ذمہ دارشہری اپنے فرائض انجام دینے کے اہل ہوں۔ لیکن وطن عزیز میں تعلیمی نظام کو غیروں کے ہاتھ دے کر تعلیم سے اسلامی روح کو نکال دیاگیا ہے ۔تہذیب واخلاق سےعاری طاقت کے نشے میں چور حکمرانوں نے تعلیم کے نام پر بربادی کاکھیل کھیلا۔حکومت پاکستان نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں سیکڑوں ملین ڈالر پاکستان میں سیکولر نظام تعلیم رائج کرنے کےلیے آغاخاں بورڈ کو دئیے۔جن کےعقائدہندوانہ اور مشرکانہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پاکستان میں تعلیم آغاخان کے حوالے ‘‘میں اسی بات کو اجاگر کیا گیا ہےکہ حکمرانوں کے تعلیمی نظام کو ہندو انہ اور مشرکانہ عقائد کے حامل لوگوں کے حوالے کرنے اور نصاب تعلیم میں اسلامیات کو نکالنے کا کیا پس منظر اور مقاصد تھے اور اس کے ہماری پاکستانی قوم پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔(م۔ا) تعلیم و تربیت 

  • 4 جدیدیت (منگل 30 اپریل 2019ء)

    مشاہدات:780

    محمد حسن عسکری( 1919ء-1978ء) پاکستان کے نامور اردو زبان و ادب کے نامور نقاد، مترجم، افسانہ نگار اور انگریزی ادب کے استاد تھے۔ انہوں نے اپنے تنقیدی مضامین اور افسانوں میں جدید مغربی رجحانات کو اردو دان طبقے میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔برعظیم پاک و ہند میں مشرق و مغرب کی کشمکش میں علمی طور پر شریک افراد میں محمد حسن عسکریؒ کا نام اہم ترین ہے۔ عسکری صاحب نے ترقی پسند ادب سے روایت پسند فکر تک جو سفر طے کیا اس کی بے شمار منزلیں ہیں اور ہر منزل ایک نئے سفر اور ایک نئے فکر کا عنوان بن جاتی ہے۔ اردو زبان و ادب کی تاریخ کو انگریزی فکری اثرات سے آزاد کرانے کا سہرا عسکری صاحب کے سر ہے جنھوں نے فرانسیسی ادبی روایت اور روایت کے مکتبہ فکر کے زیرِ اثر اردو زبان و ادب کا رشتہ دینی روایات سے جوڑ دیا۔ وہ ادب سے دین کے کوچے میں آئے اور کئی کتابیں بھی لکھیں ۔ جن میں  زیر نظر کتاب ’’ جدیدیت‘‘ ہے  جو مغربی تہذیب کی گمراہیوں کاخاکہ ہے یہ کتاب اپنے اسلوب کے اعتبار سے نہایت سادہ اور مثالی کتاب ہے لیکن اس کا دوسرا حصہ نہایت مشکل ترین حصہ ہے جسے سمجھنے کے لیے یونانی و ہندی فلسفے اور مغربی فکر و فلسفے کے ساتھ ساتھ علوم اسلامی پر بھی گہری نظر ضروری ہے۔ عسکری صاحب نے فرانسیسی مفکررینے گینوں کی کتابوں کی مدد سے مغربی تہذیب کی دو سو گمراہیاں دوسرے حصے میں سمو دیں جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ان کو دور کیے بغیر انگریزی تعلیم پانے والوں کو دین کی باتیں نہیں سمجھائی جاسکتیں۔(م۔ا)


  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1469
    • اس ہفتے کے قارئین: 13061
    • اس ماہ کے قارئین: 41310
    • کل قارئین : 46545602

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں