ہمارے بہت سارے نام نہاد دانشور ایک عرصے سے اس بات کا اعلان کرتے چلے آرہے ہیں کہ بسنت ایک خالص موسمی اور علاقائی تہوار ہے جس کا مذہب کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں ہے- اس دعوے کی حقیقت کیا ہے آئیے ملاحظہ کرتے ہیں مولانا اختر صدیق صاحب کی اس کتاب میں-مولانا نے کتاب کے شروع میں بسنت کا مکمل تعارف کرواتے ہوئے بسنت کی ابتدا اور تاریخ پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے جس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ خالص ہندوانہ مذہبی تہوار ہے جو کہ گستاخ رسول ''حقیقت رائے'' کی یاد میں منایا جاتا ہے-بسنت نے پاکستانیوں کی زندگی میں کیا گل کھلائے ہیں اوراس کی وجہ سے انہیں کس قدر جانی ومالی نقصان برداشت کرنا پڑا اس کی تفصیل بھی آپ کو اس کتاب میں پڑھنے کوملے گی-کتاب کے آخر میں بسنت کے حق میں دلائل کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے بسنت کے خلاف عوام الناس کے بیانات کو قلمبند کیا گیا ہے-
محمد عطاء اللہ صدیقی اس وقت ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ وہ گزشتہ سال پھیلنے والی ڈینگی کی وبا کا شکار ہوئے اور پلک جھپنے میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ البتہ اپنی تحریروں کی صورت میں آج بھی وہ زندہ ہیں۔ موصوف اگرچہ صوبائی وزیر کے فرائض سرانجام دے رہے تھے لیکن اسلامی شعائر کے ساتھ وابستگی کا یہ عالم تھا کہ پوری زندگی قلمی جہاد کرتے ہوئے گزاری۔ ادارہ محدث کے ساتھ ان کا نہایت گہرا تعلق تھا۔ اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود ’محدث‘ میں وقتا فوقتاً لکھتے رہتے۔ محترم صدیقی صاحب کی تحریریں اردو ادب کا شاہکار نظر آتی ہیں۔ صدیقی صاحب چونکہ ثقافت کے وزیر تھے اس حوالے سے ان کی اسلامی تہذیب و ثقافت پر خاصی گہری نظر تھی۔ بسنت کو بھی چونکہ پاکستان میں کچھ لوگ تہذیب و ثقافت کا حصہ گردانتے ہیں اس لیے انھوں بسنتی خرافات کے خلاف جامع کام کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ زیر نظر کتاب اسی منصوبے کا تکملہ ہے۔ جس میں ناقابل تردید ادلہ کی روشنی میں بسنت کی حقیقت واشگاف کی گئی ہے۔ کتاب میں محترم صدیقی صاحب نے اپنے اور دیگر مضمون نگاروں کی بسنت سے متعلقہ لکھی جانے والی تحریرات کو جمع کیا ہے۔ کتاب کو چار حصو...
بسنت ایک ایسے طرزِ معاشرت کو پروان چڑھانے کاباعث بن رہا ہے جس میں کردار کی پاکیزگی کی بجائے لہوو لعب سے شغف، اوباشی اور بے حیائی کا عنصر بے حد نمایاں ہےہمارے ہاں دانشوروں کا ایک مخصوص طبقہ بسنت کو 'ثقافتی تہوار' کا نام دیتا ہےبسنت کے موقع پر جس طر ح کی 'ثقافت' کا بھرپور مظاہرہ کیا جاتا ہے، کوئی بھی سلیم الطبع انسان اسے 'بہترین اذہان کی تخلیق' نہیں کہہ سکتا۔تاریخی طور پر بسنت ایک ہندووٴانہ تہوار ہی تھامگر جو رنگ رلیاں، ہلڑ بازی، ، لچرپن، بے ہودگی، ہوسناکی، نمودونمائش اور مادّہ پرستانہ صارفیت بسنت کے نام نہاد تہوار میں شامل کردی گئی ہے اس کا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ۔بسنت نائٹ کو بازار ی عورتیں جسم فروشی سے چاندی بناتی ہیں اور بہت سے لوگ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بڑے تاجروں کو اپنے مکانات کی چھتیں کرائے پر دے کر ایک ہی رات میں لاکھوں کی کمائی کرتے ہیں۔ ہوٹلوں کی چھتیں ہی نہیں، کمرے بھی بسنتی ذوق کے مطابق آراستہ کئے جاتے ہیں۔ شہروں میں جنسی بے راہ روی کتنی ہے، اور بازاری عورتوں کے لاوٴ لشکر کس قدر زیادہ ہیں، اس کا اندازہ اگر کوئی کرنا چاہے...
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات دین ہے۔ دین اسلام میں انسانی زندگی کا ایسا کوئی مقام نہیں جس میں دین اسلام کی راہنمائی موجود نہ ہو۔ اسلام سے قبل عرب قبیلے مختلف اقسام کے تہوار اور میلے منعقد کرتے تھے۔ اسلام جہاں اپنے ماننے والوں کو مختلف احکامات کا پابند کرتا ہے وہاں دین اسلام نے مسلمانوں کے لیے عیدین کو بھی متعارف کروایا ہے جس میں مسلمان اللہ رب العزت کے آگے سر بسجود ہوتے ہوئے، شریعت کے قوانین کی خلاف ورزی کیے بغیر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ تاریخ اسلام میں نہ تو عید میلاد النبیؐ کا تصور ملتا ہے اور نہ ہی بسنت منانے کا، یہ ایک ایسی بدعات ہیں جن کی دین اسلام میں کوئی اصل نہیں۔ بسنت ایک خالصتاً ہندو انہ رسم ہے اور اس کے پیچھے ایک گستاخ اور بدبخت لڑکے کی یاد گیری کا عنصر واضح طور پر کار فرما ہے۔ زیر نظر کتاب"بسنت کیا ہے؟" مفتی ابو لبابہ شاہ منصور ایک تحقیقی رسالہ ہے جس میں مستند تاریخی شہادتوں اورہندو مصنفین کی تحریرات کے عکس کے ساتھ یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ بسنت ایک واقعتاً ہی ہندوانہ رسم ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل اسلام کو اس جان لیوا رسم سے محفوظ فرمائے او...
اولیاء وصالحین ان کے آثار ونشانات اور ان سے متعلق اوقات ومقامات سے برکت حاصل کرنا ، مسائل عقیدہ کاایک اہم مسئلہ ہے ،اس میں غلو ومبالغہ آرائی اور اس بارے میں راہِ حق سے انحراف کے نتیجہ میں زما نہ قدیم سے لے کر آج تک لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ شرک وبدعات کی لپیٹ میں آگیا ہے اور یہ سلسلہ قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے ۔قرآن و حدیث کی تعلیمات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض چیزوں اور مقامات کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی خیر و برکت سے نوازا ہے اور اِن کو دیگر مخلوق پر ترجیح دی ہے۔ ان بابرکت ذوات اور اشیاء سے برکت و رحمت اور سعادت چاہنا اور ان کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرنا تبرک کے مفہوم میں شامل ہے۔ شریعت میں تبرک کی وہی قسم معتبر اور قابلِ قبول ہے جو قرآن و سنت اور آثارِ صحابہ سے ثابت ہو۔ہر مسلمان کو برکت اور تبرک کی معرفت اور اس کے اسباب وموانع کی پہچان حاصل کرنی چاہئے، تاکہ وہ اپنی زندگی میں ایسی عظیم خیر کو حاصل کر سکےاور ایسے تمام اقوال وافعال سے اجتناب کر سکے جو مسلمان کے وقت، عمر، تجارت اور مال وعیال میں برکت کےحصول میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ہ...
مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرم ﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے اللہ اور رسولﷺکی اطاعت عقائد ،عبادات ،معاملات ، اخلاق کردار ہر الغرض ہر میدان میں قرآن واحادیث کو پڑھنے پڑھانے سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل پیرا ہونےکی صورت میں ہوسکتی ہے مسلمانوں کوعملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اور سلسلے میں صحابہ کرام کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبی ﷺنے بھی اختلافات کی صورت میں سنتِ نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھام نے کی تلقین کی ہے جب مسلمان سنت ِنبویہ اور خلفائے راشدین کے طرز ِعمل کوچھوڑ دیں گے تو وہ دین میں نئے نئے کام ایجاد کرکے بدعات می...
چند صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ ان مشہور بدعات کی نشاندہی کرتا ہے جن میں اکثر و بیشتر مسلمان شعوری یا لاشعوری طور پر گرفتار ہیں۔ جنازہ، قبر اور تعزیت سے متعلقہ اکثر بدعات کو بہت سے کتاب و سنت کے شیدائی بھی بدعات نہیں سمجھتے اور ان میں بالواسطہ یا بلا واسطہ شریک ہو جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ان تمام احباب کیلئے انشاء اللہ سنت و بدعت کے درمیان تفریق کا شعور پیدا کرے گا۔
جہیز بنیادی طور پر ایک معاشرتی رسم ہے جو ہندوؤں کے ہاں پیدا ہوئی اور ان سے مسلمانوں میں آئی۔ خود ان کے ہاں اس کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔اسلام نے نہ تو جہیز کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا کیونکہ عرب میں اس کا رواج نہ تھا۔ جب ہندوستان میں مسلمانوں کا سابقہ اس رسم سے پڑا تو اس کے معاشرتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے علماء نے اس کے جواز یا عدم جواز کی بات کی۔ہمارے ہاں جہیز کا جو تصور موجود ہے، وہ واقعتاً ایک معاشرتی لعنت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں اور ان کے اہل خانہ پر ظلم ہوتا ہے۔اگر کوئی باپ، شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو کچھ دینا چاہے، تو یہ اس کی مرضی ہے اور یہ امر جائز ہے۔ تاہم لڑکے والوں کو مطالبے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔سیدہ فاطمہ ؓ کو جو جہیز دیا گیا، وہ اس وجہ سے تھا کہ سیدنا علی نبی کریم ﷺ کے زیر پرورش تھے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ آپ نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو کچھ سامان دیا تھا کیونکہ یہ دونوں ہی آپ کے زیر کفالت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے دیگر دامادوں سیدنا ابو العاص اور عثمان ؓ کے ساتھ شادیاں کرتے وقت اپنی بیٹیوں کو جہیز...
واقعہ کربلا نبی کریم ﷺ کی وفات اور دین محمدی کی تکمیل کے تقریباً 50 سال بعد پیش آیا۔ یہ ایک تاریخی سانحہ ہے لیکن اس واقعہ کی وجہ سے شیطان کو بدعتوں اور ضلالتوں کے پھیلانے کا موقع مل گیا۔چنانچہ کچھ لوگ ماہ محرم کا چاند نظر آتے ہی اور بالخصوص دس محرم میں نام نہاد محبت کی بنیاد پر سیاہ کپڑے زیب تن کرتے ہیں ۔سیاہ جھنڈے بلند کرتے ہیں ۔نوحہ و ماتم کرتے ہیں ۔ تعزیے اور تابوت بناتے ہیں۔ منہ پیٹتے اور روتے چلاتے ہیں۔ بھوکے پیاسے رہتے ہیں۔ ننگے پاؤں پھرتے ہیں۔ گرمی ہو یا سردی، جوتا نہیں پہنتے۔ نوحہ اور مرثیے پڑھتے ہیں۔ عورتیں بدن سے زیورات اتاردیتی ہیں۔ ماتمی جلوس نکالے جاتے ہیں ۔ زنجیروں اور چھریوں سے خود کو زخمی کیا جاتاہے۔ سیدنا حسین اور دیگر شہداءکی نیاز کا شربت بنایا جاتاہے۔ پانی کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں۔ماتم سمیت مذکورہ تمام کام شرعا حرام اور ممنوع ہیں۔اہل بیت سمیت تمام صحابہ کرام کا ان بدعات کی حرمت پر اتفاق تھا۔ زیر تبصرہ کتاب "حرمت ماتم اور تعلیمات اہل بیت" محترم حافظ مہر محمد میانوالوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اہل...
ہر قمری مہینہ کی گیارہویں رات کو شیخ عبد القادر جیلانی کے نام پر جو کھانا تیار کیا جاتا ہے وہ " گیارہویں شریف " کے نام سے مشہور ہے ۔ خاص کر ربیع الآخر کی گیارہویں شب کو اسے زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔گیارہویں ہندوستانی بدعت ہے، جو شیعہ کی تقلید میں اپنائی گئی ہے، کیونکہ وہ بھی اپنے ائمہ کے لیے نیاز برائے ایصال ثواب دیتے ہیں۔ خوب یاد رہے کہ سلف صالحین اور ائمہ اہل سنت سے یہ طریقہ ایصال ثواب ہرگز ہرگز ثابت نہیں۔ اگر اس کی کوئی شرعی حیثیت ہوتی اور یہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا باعث ہوتا تو وہ اس کا اہتمام کرتے۔ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان : ’’من عمل عملا لیس علیہ امرنا فہو رد ‘‘ کے مطابق یہ گیارھویں منانے کا عمل رسول اللہ ﷺکے بعد شروع ہوا ہےلہذایہ بدعت ہے اور گمراہی والا کام ہے اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حقیقت رسم گیارہویں‘‘پروفیسر نور محمد چودہری کی کاوش ہے جس میں انہوں نے قرآن احادیث کےدلائل کی روشنی میں ثابت کیا ہے رسم گیارہویں کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ محض ایک بدعت ہے جسے نام نہاد مل...
اسلام اللہ تعالی کا دیا ہوا دین ہے۔یہ نہ تو عوام کی من مانیوں کا مرکب ہے اور نہ ہی کسی کی خواہشات کے تابع ہے۔نہ اسے بزرگوں کی اندھی تقلید سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی معاشرے کی خود ساختہ رسوم وبدعات سے کوئی سروکار ہے۔بلکہ یہ تو سیدھی کھری اور دو ٹوک بات کرتا ہےکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔یہی وہ خالص اور بنیادی تعلیم ہے جو ہر قسم کی آمیزش سے پاک ہے۔اس میں نہ مرغوبات نفس کا دخل ہے نہ کج رو عقل کا۔مگر انتہائی دکھ کی بات ہے کہ آج اس کا خالص رنگ نظر نہیں آتا، بلکہ سنت کو پامال کیا جا رہا ہے اور رسوم وبدعات دن بدن بڑھتی جارہی ہیں۔انہی بے شمار بدعات میں سے ایک معروف ترین بدعت کھانے پر ختم پڑھنے کی بدعت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" ختم مروجہ بر طعام کی تردید سدید "محقق شہیر محترم مولانا عبد القادر عارف حصاروی صاحب کی تصنیف ہے، جس پر محترم مولانا محمد شریف حصاروی صاحب نے تحقیق فرمائی ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے ختم مروجہ کو بدعت ثابت کیا ہے اوردلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ اس کا قرآن وسنت میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ اللہ تعالی سے دعا...
اسلام اللہ تعالی کا دیا ہوا دین ہے۔یہ نہ تو عوام کی من مانیوں کا مرکب ہے اور نہ ہی کسی کی خواہشات کے تابع ہے۔نہ اسے بزرگوں کی اندھی تقلید سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی معاشرے کی خود ساختہ رسوم وبدعات سے کوئی سروکار ہے۔بلکہ یہ تو سیدھی کھری اور دو ٹوک بات کرتا ہےکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔یہی وہ خالص اور بنیادی تعلیم ہے جو ہر قسم کی آمیزش سے پاک ہے۔اس میں نہ مرغوبات نفس کا دخل ہے نہ کج رو عقل کا۔مگر انتہائی دکھ کی بات ہے کہ آج اس کا خالص رنگ نظر نہیں آتا، بلکہ سنت کو پامال کیا جا رہا ہے اور رسوم وبدعات دن بدن بڑھتی جارہی ہیں۔انہی بے شمار بدعات میں سے ایک معروف ترین بدعت کھانے پر ختم پڑھنے کی بدعت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" ختم مروجہ بر طعام کی تردید سدید "محقق شہیر محترم مولانا عبد القادر عارف حصاروی صاحب کی تصنیف ہے، جس پر محترم مولانا محمد شریف حصاروی صاحب نے تحقیق فرمائی ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے ختم مروجہ کو بدعت ثابت کیا ہے اوردلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ اس کا قرآن وسنت میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ اللہ تعالی سے دعا...
اسلامی مہینہ کی بائیس رجب کو منائی جانے والی کونڈے بھرنے کی رسم اب پاک و ہند میں خوب شہرت پا چکی ہے۔ اسے جناب جعفر صادق ؓسے منسوب کیا جاتا ہے۔ حالانکہ نہ تو یہ ان کا یوم پیدائش ہے نہ یوم وفات۔ یہ رسم دراصل شیعہ حضرات نے کاتب وحی جناب معاویہ ؓکے یوم وفات کی خوشی منانے کیلئے ایجاد کی جسے نام نہاد اہلسنت کہلانے والے مسلمانوں نے بھی لاشعوری طور پراپنا لیا۔اس رسم کے ساتھ لکڑہارے کی داستان بھی وابستہ ہے۔ اس کتابچہ میں اس رسم کی تردید اور اس سے متعلقہ دیومالائی داستان کے خاص خاص حصوں کا علمی ، تحقیقی اور عقلی لحاظ سے جائزہ لیا گیا ہے۔
اللہ تعالی نے جن وانس کو صر ف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56) ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا وہ صرف میری عبادت کریں‘‘ او ر عبادت کےلیے اللہ تعالیٰ نے زندگی کا کو ئی خاص زمانہ یا سال کا کوئی مہینہ یا ہفتے کا کو ئی خاص دن یا کوئی خاص رات متعین نہیں کی کہ بس اسی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے اور باقی زمانہ عبادت سے غفلت میں گزار دیا جائے بلکہ انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔ سنِ بلوغ سے لے کر زندگی کے آخری دم تک اسے ہر لمحہ عبادت میں گزارنا چاہیے ۔ لیکن اس وقت مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے اور بعض مسلمانوں نے سال کے مختلف مہینوں میں صرف مخصوص دنوں کو ہی عبادت کےلیے خاص کررکھا ہ...
دین اسلام کے حقیقی وارثین وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نزول قرآن کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کیا اور نبی کریم ﷺ کے روئے زیبا کو دیکھ کر اپنے ایمان ویقین کو تازہ کیا، انہیں نفوس قدسیہ کی محنتوں، کاوشوں اور عظیم الشان قربانیوں اور بے مثال جان نثاریوں کانتیجہ ہے کہ آج دین اسلام کامل اور مکمل شکل میں موجود ومحفوظ ہے۔ یہ وہ عظیم ہستیاں تھیں جنہوں نے اسوہ رسول ﷺ کو ہمہ دم مقدم رکھا۔ المختصر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حیات طیبہ کے روشن دریچوں سے یہ بات عیاں ہے کہ جس طرح اتباع میں ان کا جذبہ کامل تھا اسی طرح ابتداع اور نو ایجاد شدہ بدعتوں سے وہ بالکل دور اور متنفر رہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہ طرز عمل رہا کہ جب بھی اہل ھوا اور اصحاب بدعت نے اپنی بدعات وخرافات سے دین میں مداخلت کرنے کی سازشیں کیں اور فتنوں کو جنم دیا تو فوراَ ہی زبان وبیان اور سیف وسنان سے ان کے خلاف معرکہ آراء ہوگئے ۔ دین میں بدعت کا ایجاد کرلیا جانا بہت ہی خطرناک اور گھناؤنا کھیل ہے۔علمائے سلف واضح طور بدعتوں کی سیہ کاریوں، تباہ کاریوں اور بربادیوں کے سلسلے میں ملت کو...
نبی کریم دین کامل لے کر آئے اور آپ نے اسے کامل و اکمل ترین حالت میں امت تک پہنچا دیا ۔آپ نے اس میں نہ تو کوئی کمی کی اور نہ ہی زیادتی کی ،بلکہ اللہ نے جو پیغام دیا تھا اسے امانت داری کے ساتھ اللہ کے بندوں تک پہنچا دیا۔اب اگر کوئی شخص دین میں ایسی نئی چیز لاتا ہے جو آپ سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہوگی ،اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔امت مسلمہ آج بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی ہے۔اور اس امر کی بڑی شدید ضرورت ہے کہ بدعات کی جگہ مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ہمارے معاشرے میں پھیلی بے شمار بدعات کا اسلام ،شریعت ،نبی کریم ،صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین ومحدثین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ نبی کریم کی وفات کے بعد گھڑی گئی ہیں۔ زیر نظر کتاب "رد عقائد بدعیہ"محترم مولانا نذیر احمد رحمانی اعظمی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں معاشرے میں پھیلی بدعات کا مستند اور مدلل...
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے پور ی انسانیت کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے انسانی زندگی میں پیش آنے والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات کے لیے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سرانجام دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں گھیرے ہوئے ہیں بالخصوص برصغیر پاک وہند میں شادی بیاہ کے موقع پر بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور ان رسومات میں بہت زیادہ فضول خرچی اور اسراف سے کا م لیا جاتا ہے جوکہ صریحا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔شادی بیاہ کے موقعہ پر&nb...
اسلام ایک امن وعافیت اور خیر وسلامتی کاکامل دین ہے۔ اور رسول اللہﷺ کی بعثت کا مقصد ہی تزکیہ نفوس اور اصلاح عقائد تھا۔آپﷺ کی آمد سے لوگوں کو ایک مقصد حیات ملاآپ ﷺ نے معاشرے سے اخلاقی بحران کا خاتمہ کیا۔ اسی وجہ سے جب تک بنی آدم محمد عربیﷺ کی تعلیمات پر عمل کاربند رہے وہ صراط مستقیم پر گامزن تھےاور جب نام نہاد علماء نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر جھوٹے قصے کہانیوں کا سہارا لینا شروع کر دیا تو دین میں بدعات و خرافات کا دور دورہ ہوا۔ جہاں مختلف گروہ اسلام کی مخالفت پر برسر میدان ہیں وہاں ایک گروہ اہل تشیع بھی ہےجس کے گمراہ کن عقائد و نظریات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔اہل تشیع نے امام حسین ؓکی شہادت، عقیدت اہل بیت وغیرہ کی آڑ میں اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ماہ محرم میں اہل تشیع ماتم، نوحہ خوانی،مجالس کا انعقاد،تعزیہ داری کرنے وغیرہ کو عبادات کا درجہ دیتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "رسومات محرم و تعزیہ داری" محمود احمد عباسی مرحوم کی تصنیف ہے۔ موصوف نے قرآن وسنت ،آثار صحابہ، تابعین اور علماء کے فتوجات سے اہل تشیع کا مجالس،تعزیہ داری اور دی...
دین نبی کریمﷺ پر مکمل ہو چکا ہے اب اس میں کسی بھی قسم کی کمی یا اضافے کی گنجائش نہیں ہے۔ لین افسوس کی بات یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمان ہندؤوں کے ساتھ طویل عرصہ گزارنے کی وجہ سے ان کی بہت سی غیر شرعی رسومات کو اختیار کر چکے ہیں۔ اس پر نام نہاد ملاں اپنے پیٹ پلیٹ کی خاطر ان بدعات کو سند جواز عطا کرتے نظر آتے ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ کسی شخص کے دنیا سے رخصت ہو جانے پر بھی رسومات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ انھی رسومات میں سے تیجہ، ساتواں، دسواں اور چہلم وغیرہ بھی ہیں۔ اس کتابچہ میں انھی رسومات کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔(ع۔م)
سالگرہ کااصل نام برتھ ڈئے ہے ۔جس کامطلب ہے پیدائش کا دن ۔ یہ ایک رسم ہے جو تقریب کے شکل میں ادا کی جاتی ہے ،سالگرہ کام کا مطلب ہے زندگی کے گزشتہ سالوں میں ایک اور گرہ لگ گئی یعنی موصوف ایک سال زندگی کا مزید گزار چکے ہیں۔ برتھ ڈے کو عربی میں یوم المیلاد،ہندی میں جنم دن اور اردو میں سالگرہ کہتے ہیں ۔كتاب و سنت كے شرعى دلائل سے معلوم ہوتا ہے كہ سالگرہ منانا بدعت ہے، خواہ وہ نبی کریمﷺ کی ہو یا کسی عام آدمی کی ہو،جو چیز نبی کریمﷺ کے لئے منانا جائز نہیں ہے وہ کسی دوسرے کے لئے کیسے جائز ہو سکتی ہے۔ یہ دين ميں نيا كام ايجاد كر ليا گيا ہے شريعت اسلاميہ ميں اس كى كوئى دليل نہيں، اور نہ ہى اس طرح كى دعوت قبول كرنى جائز ہے، كيونكہ اس ميں شريک ہونا اور دعوت قبول كرنا بدعت كى تائيد اور اسے ابھارنے كا باعث ہوگا۔زیر نظر کتابچہ’’سالگرہ‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی اصلاح معاشرہ کے سلسلہ میں ایک اہم کاوش ہے جس میں انہو ں نے سا...
اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں انسان کے لیے بے شمار اور بیش بہا نعمتیں پیداکی گئی ہیں۔ پس انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ ان سے نہ صرف بھرپور فائدہ اٹھائے بلکہ اس پر اللہ رب العزت کا شکریہ بھی ادا کرے۔ اب اگر یہ مسئلہ پیدا ہو کہ سب سے عظیم ترین اور اعلیٰ ترین نعمت کونسی ہےتو اس کا قطعی اور دو ٹوک جواب یہ ہے کہ صراط مستقیم ہی ایک ایسی منفرد نعمت ہےجس کا درجہ دیگر سب اشیاء سے بلند تر ہے۔ ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے اور آخرت میں بھی جنت اس کا مقدر بنے۔ دنیا وآخرت میں کامیابی کا حصول صرف تعلیمات اسلام میں ہے یہ واحد دین ہے جو انسان کی ہر ضرورت کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کی کامیابی کا راز اتباع رسول اللہ ﷺ میں مضمر کیا ہے۔ موجودہ دور میں سنت کے مقابلے میں بدعت اس قدر اشاعت ہو رہی ہے کہ عام آدمی دین حنیف کے متعلق متزلزل اور شکوک و شبہات کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے سنت کو پہچاننا انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے جبکہ خوشی ہو یا غمی اسلام نے ہر موڑ پر بنی آدم کی راہنمائی فرمائی ہے۔ زیر تبصرہ کتا...
قرآن کریم تمام شرعی دلائل کا مآخذ ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے۔قرآن مجید کے ساتھ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے قرآن مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثیت ہے ۔سنت وہ ہدایت ہےجس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ،علم واعتقاد اور قول وعمل کےساتھ گامزن تھے اور یہی وہ سنت ہے جس کی اتباع واجب ہےاور اس پر چلنے والے قابل تعریف اوراس کی مخالف کرنےوالے قابل مذمت ہیں ۔کیونکہ اتباعِ سنت جزو ایمان ہے ۔حدیث سے انکا ر واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی اور فہم قرآن سے دوری ہے ۔سنت رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی تفہیم کا دعو یٰ نادانی ہے ۔ اطاعتِ رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے ...
ہمارا معاشرہ اسلامی ہونے کے باوجود غیر اسلامی رسوم ورواج میں بری طرح جکڑچکا ہے،اور ہندو تہذیب کے ساتھ ایک طویل عرصہ تک رہنے کے سبب متعدد ہندوانہ رسوم ورواجات کو اپنا چکا ہے۔کہیں شادی بیاہ پر رسمیں تو کہیں بچے کی ولادت پر رسمیں،کہیں موسمیاتی رسمیں تو کہیں کفن ودفن کی رسمیں۔الغرض ہر طرف رسمیں ہی رسمیں نظر آتی ہیں۔اسلامی تہذیب وثقافت کا کہیں نام ونشان نہیں ملتا ہے۔ الا ما شاء اللہ۔انہیں رسوم ورواج میں سے شادی کے موقعوں پر ادا کی جانے والی رسوم ہیں،جس کا اسلامی تہذیب کے ساتھ کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ان رسوم ورواج میں اسلامی تعلیمات کا خوب دل کھول استخفاف کیا جاتا اور غیر شرعی افعال سر انجام دیئے جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " شادی کی جاہلانہ رسمیں"مولانا علامہ ابو الخیر اسدی صاحب کی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے شادی بیاہ کے مواقع پر کی جانے والی رسوم ورواجات پر روشنی ڈ الی ہے کہ یہ کیسے اسلامی معاشرے کا حصہ بنیں اور مسلمانوں کو ان سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(ر...
اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام اور رسولوں کو مبعوث فرمایا جو شرک و بدعت میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو صراط مستقیم سے ہمکنار کرتے، اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بندوں تک پہنچاتے۔ اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ختم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپﷺ ایک داعئ انقلاب، معلم، محسن و مربی بن کر آئے۔ جس طرح آپﷺ کے فضائل و مناقب سب سے اعلیٰ اور اولیٰ ہیں اسی طرح آپ ﷺ کی امت کو بھی اللہ رب العزت نے اپنی کلام پاک میں"امت وسط" کے لقب سے نوازہ ہے۔ اسلام نے اپنی دعوت و تبلیغ اور امت کے قیام و بقاء کے لیے اساس اولین ایک اصول کو قرار دیا ہے جو"امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دعوت الی الخیر، برائی سے روکنا اس امت کا خاصہ اور دینی فریضہ ہے۔ اسلام تو نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں مکمل ہو گیا تھااورانسان کی راہنمائی کے لیے اس میں تشنگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں جس میں انسان کے لیے راہنمائی نہ ہو۔ شب و روز کی زندگی کے معمولات و عبادات سب موجود ہیں مگر مسلمانوں نے نعوذ با للہ عبادت کے نام پر ایسے کام شروع کر دیئے جیسے وہ اسلام...
اسلامی شریعت کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے اندرکسی بھی نقص واضافہ کی گنجائش قطعی طور پرنہیں ہے ،اللہ تعالی نے اپنے فرمان: ’’ آج کے دن میں نے تمہارےلئے تمہارےدین کومکمل کردیا ہےاورتمہارےاوپراپنی نعمت کاا تمام کردیاہے،اوراسلام کوبطوردین پسندکرلیا ہے‘‘ (المائدۃ :3) میں اس کی مکمل وضاحت فرمادی ہے ، اوراس کے عقائدواعمال کے اندرکسی بھی کمی وزیادتی کو سرےسے نکال دیاہے ، لیکن بدعت پرستوں اورشکم پرورعلماءنے مذکورہ آیت کریمہ کی دھجیاں اڑاتےہوئے دین میں بدعات وخرافات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیا اوراسلامی عقائدوعبادات کواپنی بدعتی چیرہ دستیوں سے داغدار کرکےامت مسلمہ کے عام افرادکوگناہوں کے شکنجہ میں جکڑکرصحیح عقائدوافکار اوراعمال وافعال سے کوسوں دورکردیا ،جس کا نمونہ آپ ان بدعتی محافل ومجالس اور رسوم واعمال کے موقع سے ملاحظہ کرسکتےہیں ، جس میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے والے ان کے قیام اوردفاع میں جان کی بازی تک لگانے کو تیار ملیں گے، لیکن یہی جان فروش نمازپنجگانہ اورعقائدواعمال کی تصحیح کے لئےمنعقداجت...