دکھائیں کتب
  • 51 تحفۃ الاحادیث شرح نخبۃ الاحادیث (منگل 15 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2048

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی  سے  ہوا  او ر صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے  استفتادہ  عامۃ الناس  کےلیے  انتہائی دشوار  ہے ۔عامۃ الناس  کی ضرورت کے پیش  نظر کئی اہل علم  نے  مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں  جن میں ایک  100 احادیث پر مشتمل  ایک  مجموعہ  عارف با اللہ  مولانا سید محمد داؤد غزنوی  ﷫ نے  نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘ کے  نام سے مرتب کیا جس میں  عبادات معاملات ،اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل  رااہنمائی موجود ہے۔ موصوف کے کمال حسنِ انتخاب کی وجہ سے یہ کتاب اکثر دینی مدارس کے نصاب  میں شامل  ہے۔زیر نظر کتاب ’’ تحفۃ الاحادیث ‘‘مولانا داؤد غزنوی  کی کتاب نخبۃ الاحادیث کی شرح  ،سلیس وعام فہم ترجمہ  ہے ۔اس  میں  مترجم کی  طرف سے  لغوی  تشریح اور فوائد کااضافہ یقیناً ابتدائی طلبہ کے لیے  بہت مفید  ہے۔مترجم نے  تمام احادیث کی تخریج بھی کردی  ہے تاکہ اصل مراجع کی&...

  • 52 تحفۃ الادب شرح اردو نفحۃ العرب (جمعرات 16 مئی 2019ء)

    مشاہدات:1207

    مولانا محمد اعزاز علی امروہوی دار العلوم دیوبند کے مایہ ناز فاضل ، مفسر محدث فقیہ اور ادیب تھے اور تمام ہی علوم میں انھیں یکساں کمال حاصل تھا ، ان کے  قلم سے پھیلا فیضان آج تک جاری و فیض رساں ہے ، نہایت متواضع شخصیت کے حامل ، خلوص و للہیت کے پیکر اور علم پر خود کو فدا کرنے کی اپنی مثال آپ تھے ۔فقہ و ادب ان کا خاص فن تھا ، جب ابتداً دار العلوم  دیوبند آئے تو علم الصیغہ اور نور الایضاح سپرد ہوئیں ، مگر دروس نے ایسی مقبولیت پائی کہ دار العلوم کے حلقہ میں شیخ الادب و الفقہ کے لقب سے مشہور ہو گئے ، ہر فن کی کتابوں پر ان کو عبور حاصل تھا ، تعلیم کے ساتھ طلبہ کی تربیت اور نگرانی ان کا خاص ذوق تھا ۔ جس طرح عربی نظم و نثر پر قدرت و کمال تھا ، اسی طرح اردو نظم و نثر پر بھی کمال حاصل تھا ، عربی ادب میں انہوں نے نفحةالیمن کے معیار کے مطابق نفحة العرب کے نام سے ایک کتاب مرتب کی تھی ، جس میں تاریخی حکایات ، وقصص اور اخلاقی مضامین درج کیے گئے ہیں ، یہ کتاب عربی مدارس میں کافی مقبول ہوئی ، اور كئی  مدارس میں آج تک داخلِ نصاب ہے اسی لیے اہل علم  نے نفحۃ  العرب کی متعدد شروح لکھی ہیں ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحفۃ الادب شرح اردو نفحۃ العرب ‘‘    مدارس  دینیہ کے نصاب میں  شاملِ نصاب  عربی ادب کی مشہور ومعروف کتاب نفحةالعربکی    اردوشرح ہے ۔یہ شرح مولانا محمد حنیف گنگوہی (...

  • 53 تحفۃ الادب شرح اردو نفحۃ العرب (جمعرات 16 مئی 2019ء)

    مشاہدات:1207

    مولانا محمد اعزاز علی امروہوی دار العلوم دیوبند کے مایہ ناز فاضل ، مفسر محدث فقیہ اور ادیب تھے اور تمام ہی علوم میں انھیں یکساں کمال حاصل تھا ، ان کے  قلم سے پھیلا فیضان آج تک جاری و فیض رساں ہے ، نہایت متواضع شخصیت کے حامل ، خلوص و للہیت کے پیکر اور علم پر خود کو فدا کرنے کی اپنی مثال آپ تھے ۔فقہ و ادب ان کا خاص فن تھا ، جب ابتداً دار العلوم  دیوبند آئے تو علم الصیغہ اور نور الایضاح سپرد ہوئیں ، مگر دروس نے ایسی مقبولیت پائی کہ دار العلوم کے حلقہ میں شیخ الادب و الفقہ کے لقب سے مشہور ہو گئے ، ہر فن کی کتابوں پر ان کو عبور حاصل تھا ، تعلیم کے ساتھ طلبہ کی تربیت اور نگرانی ان کا خاص ذوق تھا ۔ جس طرح عربی نظم و نثر پر قدرت و کمال تھا ، اسی طرح اردو نظم و نثر پر بھی کمال حاصل تھا ، عربی ادب میں انہوں نے نفحةالیمن کے معیار کے مطابق نفحة العرب کے نام سے ایک کتاب مرتب کی تھی ، جس میں تاریخی حکایات ، وقصص اور اخلاقی مضامین درج کیے گئے ہیں ، یہ کتاب عربی مدارس میں کافی مقبول ہوئی ، اور كئی  مدارس میں آج تک داخلِ نصاب ہے اسی لیے اہل علم  نے نفحۃ  العرب کی متعدد شروح لکھی ہیں ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحفۃ الادب شرح اردو نفحۃ العرب ‘‘    مدارس  دینیہ کے نصاب میں  شاملِ نصاب  عربی ادب کی مشہور ومعروف کتاب نفحةالعربکی    اردوشرح ہے ۔یہ شرح مولانا محمد حنیف گنگوہی (...

  • 54 تحقیقی طریقہ کار (منگل 07 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:4449

    تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی اصلیت وحقیقت معلوم کرنے کے لئے چھان بین اور تفتیش کرنا۔اصطلاحا تحقیق کا مطلب ہے  کہ کسی منتخب موضوع کے متعلق چھان بین کر کے کھرے کھوٹے اور اصلی ونقلی مواد میں امتیاز کرنا،پھر تحقیقی قواعد وضوابط کے مطابق اسے استعمال میں لانا اور اس سے نتائج اخذ کرنا ۔ایسا تحقیقی کام سندی تحقیق میں کیا جاتا ہے ،جو ہر مقالہ کی آخری منزل ہوتی ہے۔ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔۔لیکن افسوس کہ آج تک اردو میں تحقیق کی رسمیات متفقہ طور پر نہ طے ہو سکیں۔ نہ ان کے بارے میں سوچا گیا اور نہ ہی کوئی مناسب پیش رفت ہوسکی۔ چنانچہ ایک ہی جامعہ میں، بلکہ اس جامعہ کے ایک ہی شعبے میں لکھے جانے والے مقالات باہم ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک مقالے میں حواشی کسی طرح لکھے جاتے ہیں اور کتابیات کسی طرح مرتب کی جاتی ہے۔ دوسرے مقالے میں ان کے لکھنے اور مرتب کرنے کے اصول مختلف ہوسکتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب " تحقیقی طریقہ کار "اسی جانب ایک سنگ میل ہےجو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پروفیسر محترم ایس ایم شاہد صاحب کی  وہ قابل قدر تصنیف ہے جس میں انہوں نے فن تحقیق کو موضوع بحث بنایا ہے۔یہ کتاب نہ صرف ان کی زندگی کے علمی وتحقیقی تجربوں اور وسیع وگہرے مطال...

  • 55 تدریب المعلمین یعنی رہنمائے مدرسین (ہفتہ 28 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:6068

    اس  پر فتن دور میں مبارک باد کے لائق ہیں وہ والدین  جو  اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرتے  ہیں ۔اور سعادت مند ہیں وہ بچے جو علم دین سےآراستہ ہو رہے  ہیں،  اور  لائق تحسین ہیں وہ قابل فخر اساتذہ کرام  جو خدمت  قرآن  میں مصروف ہیں۔کسی بھی دینی ادارے  کی  خیر  وخوبی انتظام و انصرام کا انحصار اس بات پہ ہوتا ہے  کہ وہاں حصول علم کےلیے  آنے والے  طلباء اور تعلیم دینے  والے  اساتذہ کرام کا باہمی تعلق آپس میں محبت یگانگت اور پڑہائی کے مسلمہ اصول  وقواعد کے مطابق ہو۔یہ اصول وقواعد کیا ہوں طالب  علم حصول علم کے لیے  کن امور کو پیش نظر رکھیں  ۔اساتذہ کن اصول وقواعد کو اختیار کریں۔ پڑہانے کا طریقہ کار کیا ہو؟ مدرسے میں رہن سہن کا طریقہ کیا ہو؟زیر تبصرہ کتاب میں انہی مذکورہ امورکو مد نظررکھتے  ہوئے   استاد القراء  مصنف کتب کثیرہ  قاری محمد ادریس العاصم ﷾ نے   اپنے تدریسی تجربہ و مشاہدات  اور اپنے   قابل صد احترام  اساتذہ عظام کے  ارشادات اور ان کی  کتب  سےاخذ شدہ   تعلیم وتعلم کے رہنما اصول وقواعد کو جمع  کردیا ہے۔اورکتاب میں   صرف ان امور کو  زیر بحث لائے  ہیں جو  ایک  طالب علم اور  استادکے لیے  نہایت ضروری  ہیں۔ نیز طلباء اور اساتذہ کے لیے  قابل مطالعہ کتب کے نام  بھی ذکر کر دیے   ہیں  تاکہ طلباء اوراساتذہ میں  مطال...

  • 56 تربیت اولاد (منگل 05 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1916

    اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’تربیت اولاد‘‘سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو ﷾ کاتربیت اولاد کے موضوع پر ایک عربی رسالے کا ترجمہ ہے۔ اس کتابچہ میں   شیخ موصوف نے   تقریباً ان تمام باتوں کا احاطہ کر نےکی کوشش کی ہے جن سے معلوم ہوسکے کہ مسلمان بچوں کی تربیت کےلیے کون سے امور ضروری ہیں اوران کی مکمل تہذیب کے لیے کن باتوں سے پرہیز لازم ہے۔ یہ کتاب اپنےبچوں کے مستقبل کوسنوارنے او راسل...

  • اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔تربیت اولاد پر عربی اردو زبان میں جید اہل علم کی متعددکتب موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’تربیت اولاد کا نبوی انداز اور اس کے زرّیں اصول ‘‘ محترم محمد نور بن عبد الحفیظ سوید کی اولاد کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے ایک جامع عربی کتاب ’’ منهج التربية النبوية للطفل ‘‘ کا سلیس اور بامحاورہ اردو ترجمہ ہے ۔ فاضل مصنف نے بیسیوں کتب سے استفادہ کرکے اس کتاب کو اس خوبصورت انداز سے مرتب کیا ہے ک...

  • 58 تربیت اولاد کے اسلامی اصول (اتوار 21 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2013

    اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔اپنی اولاد کی تربیت کے معاملہ میں سردمہری کامظاہرہ کرنے والوں کو کل قیامت کے روز جوکربناک صورت حال پیش آسکتی ہے۔ اس سے اہل ایمان کومحفوظ رکھنےکےلیے اللہ تعالیٰ نے پہلے سےآگاہ کردیا ہے۔ تاکہ وہ اپنی فکر کےساتھ ساتھ اپنے اہل عیال اوراپنی آل اولاد کوعذاب الٰہی میں گرفتار ہونے اور دوزخ کا ایندھن بننے سے بچانے کی بھی فکرکریں۔ زیر تبصرہ کتاب’’تربیت اطفال کے اسلامی اصول ‘‘سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد...

  • 59 تربیت ذات (ہفتہ 26 فروری 2011ء)

    مشاہدات:10885

    ہمارے ہاں عموماً یہ رویہ پروان چڑھ چکا ہے کہ دوسروں پر تو بہت انگلیاں اٹھتی ہیں لیکن خود اپنی غلطیوں کو درخور اعتناء ہی نہیں جانا جاتا۔ جبکہ ایک بندہ مسلم کو دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنی اصلاح کی فکر دامن گیر رہنی چاہئے۔ زیر نظر کتاب میں اسی مضمون کو عبداللہ بن عبدالعزیز نے قدرے جامع انداز میں بیان کیا ہے۔ مولانا نے تربیت ذات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے تربیت سے لاپروائی کے اسباب تفصیل کے ساتھ بیان کئے ہیں۔ علاوہ  ازیں تربیت ذات کےمتعدد طریقوں کی وضاحت کے ساتھ ساتھ تربیت ذات کے آثار و نتائج کو عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ کتاب یقیناً اہالی اسلام کو اپنی ایمانی حالت بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔ کتاب کا مناسب اردو ترجمہ شمس الحق بن اشفاق اللہ نے کیا ہے۔

     

  • 60 تعلیم الفرائض (ہفتہ 12 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2009

    فوت ہونے والا شخص اپنےپیچھے جو اپنا مال ، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے اسے ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں ۔ کسی مرنے والے مرد یا عورت کی اشیاء اور وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا ملتا ہے شرعی اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے ہیں ۔ علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے ۔قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے ۔چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی کے نہایت اہم پہلو سے ہے ۔ اس لیے نبی اکرمﷺ نےبھی صحابہ کواس علم کےطرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا ۔صحابہ کرام میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس،سیدنا عبد اللہ بن مسعود،سیدنا زیدبن ثابت﷢ کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کےبعد زمانےکی ضروریات نےدیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی حیثیت دی اس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غوروفکر کر کے تفصیلی وجزئی قواعد مستخرج کیے۔اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تعلیم الفرائض‘‘محدث العصر مجتہد وفقیہ حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کے لائق ترین شاگرد اور روپڑی ﷫ کے فتاوی ٰ جات کو تین مجلدات میں فتاویٰ اہل حدیث کے نام سے مرتب کرنے والے ابوالسلام مولانا محمد صدیق سرگودہوی﷫ کی مرتب شدہ ہے ۔ یہ کتاب در اصل محدث روپڑی کے ارشاد پر ’’وارثت اسلامیہ‘‘&...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1159
  • اس ہفتے کے قارئین: 5316
  • اس ماہ کے قارئین: 29844
  • کل قارئین : 47089057

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں