دکھائیں کتب
  • 21 اردو املا (بدھ 29 جون 2016ء)

    مشاہدات:4920

    ہماری قومی زبان اردو اگرچہ ابھی تک ہمارے لسانی و گروہی تعصبات اور ارباب بست و کشاد کی کوتاہ نظری کے باعث صحیح معنوں میں سرکاری زبان کے درجے پر فائز نہیں ہو سکی لیکن یہ بات محققانہ طور پر ثابت ہے کہ اس وقت دنیا کی دوسری بڑی بولی جانے والی زبان ہے۔ ہر بڑی زبان کی طرح اس زبان میں بے شمار کتب حوالہ تیار ہو چکی ہیں اور اس کے علمی، تخلیقی اور تنقیدی و تحقیقی سرمائے کا بڑا حصہ بڑے اعتماد کے ساتھ عالمی ادب کے دوش بدوش رکھا جا سکتا ہے۔ ایسی زبان اس امر کی متقاضی ہے کہ اسے صحیح طور پر لکھا بولا جا سکے۔ کیونکہ کسی بھی زبان کی بنیادی اکائی اس کے اصول وقواعد ہیں۔ زبان پہلے وضع ہوتی ہے اور قواعد بعد میں لیکن زبان سے پوری واقفیت حاصل کرنے کےلیے قواعد زبان سے آگاہی ضروری ہے۔ اہل زبان نے قواعد کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کیا اس لیے انہوں نے قواعد مرتب نہیں کیے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اردو بولنے یا لکھنے والے پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد اپنی قومی زبان کی صحت کی طرف سے سخت غفلت برت رہی ہے۔ سکولوں اورکالجوں کےلیے گرائمر کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں ہیں جو کاروباری مقاصد کو سامنے رکھ کر تیار کی گئیں۔جن میں گرائمر برائے نام اور انشاپردازی کےلیے اِدھر اُدھر سے مواد اکٹھا کر کے ضخیم بنادیاگیا ہے۔ جن میں کسی ترتیب کاخیال نہیں رکھا گیا۔ صرف اور نحو کوباہم گڈمڈ کردیاگیا ہے۔ روزہ مرہ ،محاورہ، ضرب المثل اور مقولہ میں تمیز کےبغیر انہیں شامل کتاب کردیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں صرف امتحانی ضروریات کا خیال رکھاگیا ہے لیکن ان سے لسانی تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ اسی لیے اخبارات ورسائل...

  • 22 اردو خلاصہ شرح مائتہ عامل (سوالاً جواباً) (جمعہ 30 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:12868

    علوم ِنقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں کلام الٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں کرسکتے یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔جوبھی شخص اپنی تقریر وتریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتاہے ۔عربی مقولہ ہے: النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک ہے ۔سلف وخلف کے تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے کہ مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول شرط لازم ہے قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علومِ اسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں۔ قرن ِ اول سے ل کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب ان کی شروح لکھی کی جاچکی ہیں ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اردو خلاصہ شرح مائۃ عامل سوالاً جواباً‘‘ علم نحو کےامام علامہ عبد القاہر جرجانی کی علم نحو پر مائہ ناز کتاب ’’ مائۃ عامل ‘‘کی سوالاً جواباً اردو شرح ہے جس میں نحو کے ایک سو عوامل کوبیان کیا گیا ہے یہ کتاب اکثر مدارس کے نصاب میں شامل ہے   لہذامائۃ عامل کوسمجھنے کے لیے یہ شرح طلباء کے لیے انتہائی مفید ہے۔ سوالاً جواباً اس شرح کا اہم کام مولانا عبد ال...

  • 23 اردو شرح مراح الارواح (ہفتہ 12 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:8754

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "اردو شرح مراح الارواح"شیخ احمد بن علی بن مسعود ﷫کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ وشرح ہے۔اردو ترجمہ اور شرح کرنے کی سعادت محترم مولانا ابو حمزہ محمد شریف صاحب نے حاصل کی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں لغت عرب کے ایک اہم ترین باب علم الصرف پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اورمترجم وشارح کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 24 اردو عربی کے لسانی رشتے (جمعہ 20 اپریل 2012ء)

    مشاہدات:16800

    جس طرح انسان ابتدا ہی سے اپنے گرد پھیلی ہوئی کائنات پر غور و فکر کر رہا ہے، اسی طرح اس کے اندر پھیلی ہوئی کائنات بھی اس کی توجہ کا مرکز ہے۔ جس کے عجائبات گوناگوں اور اسرار لامتناہی ہیں۔ زبان بھی انھی اسرار میں سے ایک ہے۔ جو انسانی شخصیت میں مظہر کی حیثیت رکھتی ہے۔ پیش نظر کتاب میں جامعہ کراچی میں شعبہ عربی کے پروفیسر ڈاکٹر احسان الحق صاحب نے اردو اور عربی زبان کے تعلق کی نسبت سے نہایت قیمتی ابحاث پیش کی ہیں۔ مصنف نے ایک باب میں اردو زبان کے ماخذ پر تبصرہ کرتے ہوئے دیگر ابواب میں عربی زبان کا تعارف، اردو عربی کے روابط اور اردو عربی حروف و حرکات کے اشتراک پر علمی پیرائے میں گفتگو کی ہے۔ کتاب کے آخری ابواب اردو عربی صوتیات، قواعد اور ذخیرہ الفاظ پر مشتمل ہیں۔ یقیناً یہ کتاب اہل ذوق کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ (عین۔ م)
     

  • 25 اردو قواعد (پیر 13 فروری 2017ء)

    مشاہدات:6377

    اُردو برصغیر کی زبانِ رابطۂ عامہ ہے۔ اس کا اُبھار 11 ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شروع ہو چکا تھا۔ اُردو، ہند- یورپی لسانی خاندان کے ہند- ایرانی شاخ کی ایک ہند- آریائی زبان ہے. اِس کا اِرتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنتِ دہلی کے عہد میں ہوا اور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقّی ہوئی۔ اُردو (بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے) دُنیا کی تمام زبانوں میں بیسویں نمبر پر ہے. یہ پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی 23 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے. اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے. اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے. جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے. کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں. تاہم، دوسرے اِن کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی، اُردو سے نکلی۔ ہر زبان کے لئے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں، جن سے اس زبان کو صحیح طور سے سیکھا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زبان کی درستی اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اردو زبان کے بھی کچھ اصول ہیں، جنہیں قواعد یا گرامر کہا جاتا ہے۔ ان کے جاننے سے اردو زبان کو ٹھیک طریقے سے بولا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو قواعد"محترم ڈاکٹر شوکت سبز واری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اردو زبان کے قواعد اور ان...

  • 26 اردو قواعد و انشا پردازی حصہ دوم (ہفتہ 28 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:6293

    اُردو برصغیر کی زبانِ رابطۂ عامہ ہے۔ اس کا اُبھار 11 ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شروع ہو چکا تھا۔ اُردو ، ہند-یورپی لسانی خاندان کے ہند-ایرانی شاخ کی ایک ہند-آریائی زبان ہے. اِس کا اِرتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنتِ دہلی کے عہد میں ہوا اور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقّی ہوئی۔ اُردو (بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے) دُنیا کی تمام زبانوں میں بیسویں نمبر پر ہے. یہ پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی 23 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے. اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے. اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے. جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے. کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں. تاہم، دوسرے اِن کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی ، اُردو سے نکلی۔ ہر زبان کے لئے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں، جن سے اس زبان کو صحیح طور سے سیکھا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زبان کی درستی اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اردو زبان کے بھی کچھ اصول ہیں، جنہیں قواعد یا گرامر کہا جاتا ہے۔ ان کے جاننے سے اردو زبان کو ٹھیک طریقے سے بولا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اردو قواعد وانشاء پردازی "محترمہ ماہ لقا رفیق صاحبہ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے اردو زبان کے ق...

  • 27 اردو مختصر نویسی (بدھ 06 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:3345

    پاکستان میں رہنے والے اکثر لوگوں کی زبان اردو ہے، جو اردو میں ہی گفتگو کرتے ہیں اور اردو میں ہی اپنی تحریریں لکھتے ہیں۔آئینی طور پر حکومت پاکستان پر لازم تھا کہ وہ 1988ء تک اردو کو بطور دفتری زبان کے رائج کرے۔لیکن افسر شاہی نے بیوروکریٹس نے کبھی اس طرف دھیان نہیں دیا اور ارود کے نفاذ میں روڑے اٹکاتے آئے۔دفاتر میں اردو کے نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تربیت یافتہ عملے کی کمی بیان کی جاتی ہے۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے مقتدرہ قومی زبان اور صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے اردو مختصر نویسی اور ٹائپ کاری کے متعدد تربیتی مراکز قائم کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو مختصر نویسی"محترم نور احمد شاد صاحب کی تصنیف ہے، جوان مراکز میں تربیت پانے والے طلباء کی سہولت کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔امید ہے کہ اردو مختصر نویسی سیکھنے کے شائق دوسرے طلباء بھی اس کتاب کو کارآمد اور مفید پائیں گے۔اللہ کرے کہ ہماری حکومت اردو زبان کو دفاتر میں رائج کرنے کے لئے مخلص ہو جائے اور افسر شاہی کے ہتھکنڈوں اور جالوں کا شکار نہ ہو۔ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی حکومت کو اس طرف توجہ دلائی ہے۔اللہ ہمیں غیروں کی زبان کی بجائے اپنے ملک میں اپنی قومی زبان نافذ کرنے کی ہمت دے۔آمین(راسخ)

  • 28 اردو میں اسلامی ادب کی تحریک (بدھ 25 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1943

    اسلامی ادب کی تحریک اردو ادب کی اہم ادبی تحریک ہے ۔ اسلامی ادب کا نظریہ ہر عہد ، ہر ملک اور ہر زبان کے ادب میں ایک توانا فکر رہا ہے۔اسلامی ادب کی تحریک کی فکری اساس میں توحید ، رسالت اور آخرت میں جواب دہی کے تصورات بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔ اس نظریہ کی ہمہ گیری یہ ہے کہ حیات کائنات اور انسان کے بارے میں کوئی ایسا سوال نہیں ہے جس کا واضح اور تسلی بخش جواب اس کے پاس نہ ہو۔ادب اسلامی کی اصطلاح کو ماضی میں اعتراضات اور غلط فہمیوں کی متعدد یلغاروں کا سامنا کرنا پڑا ہے،یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تحریک ادب اسلامی کے ابتدائی ایّام میں اس کی صف میں کہنہ مشق مقام و مرتبہ رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں نے شامل ہونے کی زحمت گوارہ نہ کی ۔ تحریک ادب اسلامی نے اردو ادب کو بلاشبہ ایک سمت و رفتار عطا کی ہے عصر حاضر میں ترقی پسندی اور جدیدیت کے درمیان ایک تیسرا واضح اور نمایاں رجحان تعمیری ادب یا اسلامی ادب کا سامنے آیا ہے اس حلقہ سے وابستہ فنکاروں نے ہر صنف ادب میں کچھ نمایاں کوششیں ضرور کی ہیں ۔پروفیسر فروغ احمد اسلامی ادیبوں میں ممتاز مقام کے حامل ہیں ، ڈھاکہ میں رہتے ہوئے وہ اردو ادب میں اسلامی رجحانات کے فروغ میں ہمیشہ کوشاں رہے ہیں۔ 1968ء میں ان کی ایک کتاب ’’ اسلامی ادب کا جائزہ‘‘ لاہور سے شائع ہوئی تھی جس میں اسلامی ادب کی نظریاتی اساس،اس کا تاریخی پس منظر اور اردو ادب پر اسلامی تحریکات کے اثرات پر مضامین شامل ہیں۔ اسی طرح پروفیسر اسرار حمد سہاوری نے ’’ادب اور اسلامی قدریں ‘‘ کے عنوان سے باہمی تعلق، ادب اور مقصدیت ،ادب...

  • 29 اردو میں ذخیرہ الفاظ بڑھانے کے طریقے (ہفتہ 28 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:3363

    ہم اپنی نسل نو کے لیے بہت سی توقعات رکھتے ہیں مگر ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے ان کو وسائل مہیا نہیں کرتے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہم کسی مصور کو رنگ دیے بغیرہ یہ کہیں کہ ہمیں ایک خوبصورت سی تصویر بنا دو۔ بھلا رنگوں کے بغیر تصویر کس طرح بن  سکتی ہے؟ بالکل اسی طرح الفاظ کے بغیر تحریر یا تقریر کیسے بن سکتی ہے؟۔ الفاظ کا ذخیرہ ہو تو تحریر یا تقریر بنتی ہے اور ان الفاظ کے استعمال میں کمال حاصل ہو تو الفاظ سے تصویر بھی بنائی جا سکتی ہے۔ہم اپنے طلباء سے بہت سی امیدیں رکھتے ہیں لیکن ہم انہیں وسائل نہ دیں تو وہ ہماری امیدیں پر پورا نہیں اتر سکیں گے مثلا ہم طلباء میں تحریر وتقریر کی قابلیت اور دسترس چاہتے ہیں تو انہیں وسائل دینا بھی ان کا حق ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر ہے جس میں مصنف نے طلباء کے لیے الفاظ کا ذخیرہ مہیا کیا ہے کیونکہ الفاظ کے بغیر تحریروتقریر ناممکن سی بات ہے اور طلباء بولتے بولتے خاموش ہو جاتے ہیں تو وجہ پوچھی جائے تو جواب ملتا ہے کہ الفاظ ڈھونڈ رہے تو اس کتاب کے مطالعے سے اس بات کی کمی محسوس نہیں ہوگی کہ الفاظ ڈھونڈنے پڑیں گے۔ طلباء کے پاس الفاظ ہوں گے تو وہ ان کا استعمال بھی کریں گے بالکل اسی  طرح جیسے روپیہ پیسہ ہو تو اسے استعمال کرنے کے راستے اور ذرائع ملتے رہتے ہیں۔ اسی طرح الفاظ ہوں گے تو ان کے استعمال کے راستے اور ذرائع بھی ملتے جائیں گےاور بچوں میں اس کی قابلیت پیدا کرنے کے لیے اساتذہ کے لیے بھی مفید مشورے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اردو میں ذخی...

  • خاکہ نگاری یا شخصیت نگار ی کسی انسان کے بارے ایک ایسی تحریر ہوتی ہے جس میں ایک شخصیت کے گفتار و کردار کا اس انداز سے مطالعہ کیا جاتا ہے کہ وہ شخص ایک زندہ آدمی کی طرح تخیل کے سہارے متحرک ہو کر چلتی پھرتی روتی ہنستی اور اچھے برے کام کرتا نظرآئے۔ جتنے جاندار اور بھر پور انداز سے شخصیت ابھر ے گی اتنا ہی خاکہ کامیاب نظرآئے گا۔خاکہ نگاری ایک بہت مشکل صنف ادب ہے۔اردو ادب میں خاکہ نگاری عہد جدید کی پیداوار ہے اور یہ بھی دیگر اصناف ادب کی طرح انگریزی ادب کے ذریعے ہی سے اردو ادب میں رائج ہوئی اور بہت جلد افسانے اور ناول کی طرح اردو ادب کا تخلیقی حصہ بن گئی۔اردوخاکہ نگاری کی تاریخ کچھ زیادہ پرانی نہیں لیکن ہئیت اور مواد دونوں سطح پر دیگر اصناف کے اثرات قبول کرنے کے باوجود باقاعدہ خاکہ نگاری کا اردو ادب میں آغاز بیسویں صدی میں ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو میں شخصیت نگاری تحقیقی ونتقیدی جائزہ دورِ سرسید سے 1985 ءتک‘‘ محترمہ بشریٰ ثمینہ صاحب کا وہ تحقیقی مقالہ ہے جو انہوں نے ڈاکٹر روبینہ ترین (چیئرمین شعبہ ارود بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ،ملتان) کی نگرانی میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ،ملتان کے شعبہ اردو میں پیش کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔اس مقالہ کوانہوں نے چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ باب اول شخصیت نگاری کافن، باب دوم اردو میں شخصیت نگاری کی روایت ، باب ثالث شخصیت نگاری آزاد سے عہد جدید تک، باب چہارم شخصیت نگاری میں اسلوب اور تکنیک کانتوع اور چھٹا باب اردو میں شخصیت نگاری کےرجحانات کے تحقیقی وتنقیدی جائزہ پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 865
  • اس ہفتے کے قارئین: 2957
  • اس ماہ کے قارئین: 32215
  • کل قارئین : 48494046

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں