دکھائیں کتب
  • 71 بیان المختارات حصہ اول (جمعہ 09 جون 2017ء)

    مشاہدات:5553

    ہر زبان میں ادب میں وہی حیثیت ہوتی ہے جو انسانی جسم میں دل کی ہے۔کیونکہ کسی بھی زبان کی برائی یا اچھائی اس کے ادب سے پہچانی جاتی ہے۔عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " بیان المختارات " محترم سید ابو الحسن علی ندوی کی عربی  ادب پر لکھی گئی عربی  تصنیف "مختارات من ادب العربی"کا ارود ترجمہ ہے،اردو ترجمہ محترم حافظ بلال اشرف صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان  کتاب کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 72 تاریخ ادب عربی (ہفتہ 08 جون 2019ء)

    مشاہدات:1473

    اللہ تعالی کاکلام اور  نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ عربی زبان میں  ہیں اسی وجہ  سے اسلام اور مسلمانوں سے  عربی کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہے  عربی اسلام کی سرکاری زبان ہے ۔شریعت اسلامی  کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں  لہذا قرآن وسنت اور  شریعتِ اسلامیہ پر عبور حاصل  کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے۔  اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور  سکھانا   امت مسلمہ  کا اولین فریضہ ہے ۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت  عربی زبان   سے  ناواقف ہے   جس کی  وجہ سے    وہ    فرمان الٰہی اور  فرمان نبوی ﷺ کو سمجھنے سے  قاصر ہے ۔ حتٰی کہ  تعلیم  حاصل کرنے  والے لوگوں کی  اکثریت سکول ،کالجز ،یونیورسٹیوں  کے  نصاب میں شامل   اسلامیات کے   اسباق کو  بھی  بذات خود  پڑھنے پڑھانے سے    قا صر ہے  ۔جس  کے لیے  مختلف اہل علم اورعربی زبان کے  ماہر اساتذہ   نے   نصابی کتب کی   تفہیم  وتشریح کے لیے   کتب  وگائیڈ تالیف کی ہیں۔ زیرنظر کتاب ’’تاریخ ادب عربی‘‘ احمد حسن زیارت  کی عربی تاریخ وادب پر مشتمل   تصنیف  ’’ تاریخ الادب العربی‘‘  کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب تاریخ ادب عربی پرجامع ومستند کتاب جس میں عربی زبان کے تمام قدیم وجدی...

  • 73 تاریخ صحافت (بدھ 08 اگست 2018ء)

    مشاہدات:1053

    صحافت کسی بھی معاملے بارے تحقیق اور پھر اسے صوتی، بصری یا تحریری شکل میں بڑے  پیمانے پر قارئین، ناظرین یا سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے۔صحافت پیشہ کرنے والے کو صحافی کہتے ہیں۔ گو تکنیکی لحاظ سے شعبہ صحافت کے معنیٰ کے کئی اجزاء ہیں لیکن سب سے اہم نکتہ جو صحافت سے منسلک ہے وہ عوام کو باخبر رکھنے کا ہے۔اردو اخبار نویسی کی تاریح انتہائی پرانی بھی نہیں ۔ دراصل اس کی شروعات چھاپہ خانے کے رواج کے بعد سے ہوئی سب سے پہلا اردو کا اخبار ”اخبار دہلی “تھا جسے مولوی باقر نے دہلی سے جاری کیا تھا ۔ بہت سے معلومات افزا مضامین علمی ، ادبی ،تاریخی اورتعلیمی موضوعات پر اس میں شائع ہوتے تھے ۔ 1857کی جنگ آزادی میں اس اخبار کا بڑااہم کردار رہا ہے ۔چونکہ اس کی پالیسی آزاد خیالی تھی ، اس لئے اس زمانہ میں سامراجی حکومت کے خلاف خوب لکھا گیا ۔ ہندوستانی قوم پرستی یعنی حبِ وطنی کی حمایت کی ۔ یہی وجہ ہے کہ غدر فرو ہونے پر مولوی باقرکو پھانسی کے پھندے پر جھولنا پڑا اور اس طرح حب الوطنی کے محاذ کی قربان گاہ پر اردو صحافت کے پہلے قوم پرور اورمحب وطن کی قربانی ہوئی ۔اردوکے دوسرے اخبار کے طورپر ”سید الاخبار“کا نا م سامنے آتا ہے ۔ اس کی ابتدا ءدہلی میں ہی سرسید کے بھائی محمد کے ہاتھوں ہو ئی تھی ۔ یہی وہ اخبار ہے جس کے ذریعہ سرسید کے خیالات سے عوام متعارف ہوئے ۔ اس کے بعد سے اردو اخبار کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوتاہے ، جوانمرد ، محب وطن ، بےباک و نڈر بہت سے قلم کے شہ سوار صحافتی افق پر نمودار ہوتے ہیں ، آسمان ِ صحافت کے اولین ستاروں میں مولانا ظفر علی خان ، مولانا ابو لکلام آزاد...

  • 74 تبصیر شرح ابن عقیل (منگل 19 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:4559

    علوم ِنقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں کلام الٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں کرسکتے یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔جوبھی شخص اپنی تقریر وتریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک ہے ۔سلف وخلف کے تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے کہ مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول شرط لازم ہے قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علومِ اسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرن ِ اول سے ل کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب اور ان کی شروح لکھی کی جاچکی ہیں ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ عربی گرائمر (نحو وصرف)کی سب سے مربوط اور مستند کتاب امام ابن مالک اندلسی کی "الفیہ ابن مالک"ہے۔اہل عرب میں یہ کتاب بڑی مشہور اور معروف ہےاہل علم کے ہاں اسے مقبولیت حاصل ہے۔اس کی تصنیف کے بعد علماء نحو نے اس کی متعدد شروحات لکھیں۔ان شروحات میں سے سب سے مقبول ترین شرح "شرح ابن عقیل "ہے۔جس میں انہوں نے انتہائی آسان انداز میں الفیہ کو حل کر دیا ہے۔الفیہ کی شروح میں شرح ابن عقیل نحو کی نصابی کتابوں م...

  • 75 تحفہ نحو (جمعہ 30 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:2115

    علومِ نقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ علومِ عربیہ میں علم نحو کو جو رفعت ومنزلت حاصل ہے اس کا اندازہ اس امر سے بہ خوبی ہو جاتاہے کہ جو بھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتا ہے کلام ِالٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک کا ہے ۔ قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علوم ِاسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرنِ اول سے لے کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب اور ان کی شروح لکھی کی جاچکی ہیں ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تحفۂ نحو‘‘آٹھویں صدی ہجری کے ایک معروف نحوی ابو عبداللہ محمد بن محمد داؤد الصنہاجی معروف ابن آجروم کے اصول نحو پر مشتمل رسالہ مقدمہ آجرومیہ کی مفصل اور عمدہ ترین شرح ہے یہ عربی شرح محمد محی الدین عبد الحمید کی تصنیف ہے اہل عرب میں یہ کتاب بڑی مشہور اور معروف ہےاور لوگوں کے ہاں اسے مقبولیت حاصل ہے۔پاک وہند کے اکثر مدارس دینیہ میں شامل نصاب ہے۔کتاب ہذا اسی عربی شرح کا اردو...

  • 76 تحفۃ الادب شرح اردو نفحۃ العرب (جمعرات 16 مئی 2019ء)

    مشاہدات:1627

    مولانا محمد اعزاز علی امروہوی دار العلوم دیوبند کے مایہ ناز فاضل ، مفسر محدث فقیہ اور ادیب تھے اور تمام ہی علوم میں انھیں یکساں کمال حاصل تھا ، ان کے  قلم سے پھیلا فیضان آج تک جاری و فیض رساں ہے ، نہایت متواضع شخصیت کے حامل ، خلوص و للہیت کے پیکر اور علم پر خود کو فدا کرنے کی اپنی مثال آپ تھے ۔فقہ و ادب ان کا خاص فن تھا ، جب ابتداً دار العلوم  دیوبند آئے تو علم الصیغہ اور نور الایضاح سپرد ہوئیں ، مگر دروس نے ایسی مقبولیت پائی کہ دار العلوم کے حلقہ میں شیخ الادب و الفقہ کے لقب سے مشہور ہو گئے ، ہر فن کی کتابوں پر ان کو عبور حاصل تھا ، تعلیم کے ساتھ طلبہ کی تربیت اور نگرانی ان کا خاص ذوق تھا ۔ جس طرح عربی نظم و نثر پر قدرت و کمال تھا ، اسی طرح اردو نظم و نثر پر بھی کمال حاصل تھا ، عربی ادب میں انہوں نے نفحةالیمن کے معیار کے مطابق نفحة العرب کے نام سے ایک کتاب مرتب کی تھی ، جس میں تاریخی حکایات ، وقصص اور اخلاقی مضامین درج کیے گئے ہیں ، یہ کتاب عربی مدارس میں کافی مقبول ہوئی ، اور كئی  مدارس میں آج تک داخلِ نصاب ہے اسی لیے اہل علم  نے نفحۃ  العرب کی متعدد شروح لکھی ہیں ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحفۃ الادب شرح اردو نفحۃ العرب ‘‘    مدارس  دینیہ کے نصاب میں  شاملِ نصاب  عربی ادب کی مشہور ومعروف کتاب نفحةالعربکی    اردوشرح ہے ۔یہ شرح مولانا محمد حنیف گنگوہی (...

  • 77 تحفۃ النحریر بشرح نحو میر (ہفتہ 28 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:17484

    میر سید شریف جرجانی نے علم النحو پر ایک کتاب ’نحو میر‘ کے نام سے لکھی۔ جسے دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ میں بہت زیادہ اہمیت حاصل رہی۔ بعض مدارس میں بھی اس کو شامل نصاب کیا گیا۔ اپنی جامعیت اور اختصار کی بدولت طالبان علم اس سے بہت زیادہ مستفید ہوتے رہے۔ لیکن کتاب چونکہ فارسی میں تھی اس لیے اردو دان طبقہ کے لیے بہت سی جگہوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اسی مشکل کا حل مولانا حفیظ الرحمٰن لکھوی نے زیر نظر کتاب کی صورت میں نکالا ہے۔ جس میں اردو زبان میں اس کی ایک مفصل شرح کر دی گئی ہے۔ جو جامع، مبسوط اور عام فہم ہونے کے علاوہ موضوع سے متعلقہ مواد کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔  (ع۔م)
     

  • 78 تحفۃ النحریر بشرح نحو میر (ہفتہ 28 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:17484

    میر سید شریف جرجانی نے علم النحو پر ایک کتاب ’نحو میر‘ کے نام سے لکھی۔ جسے دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ میں بہت زیادہ اہمیت حاصل رہی۔ بعض مدارس میں بھی اس کو شامل نصاب کیا گیا۔ اپنی جامعیت اور اختصار کی بدولت طالبان علم اس سے بہت زیادہ مستفید ہوتے رہے۔ لیکن کتاب چونکہ فارسی میں تھی اس لیے اردو دان طبقہ کے لیے بہت سی جگہوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اسی مشکل کا حل مولانا حفیظ الرحمٰن لکھوی نے زیر نظر کتاب کی صورت میں نکالا ہے۔ جس میں اردو زبان میں اس کی ایک مفصل شرح کر دی گئی ہے۔ جو جامع، مبسوط اور عام فہم ہونے کے علاوہ موضوع سے متعلقہ مواد کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔  (ع۔م)
     

  • 79 ترجمات معانی القرآن الانجلیزیۃ (ہفتہ 29 جون 2019ء)

    مشاہدات:448

    لأهل العلم في شبة القار الهندية إسهامات جليلة في خدمة القرآن والسنة وعلومهما، ومن هذه الجهود المباركة ، كتاب: ترجمات معاني القرآن الإنجليزية، دراسة نقدية وتحليلية من سنة 1930 إلى 2001م. وأصل الكتاب رسالة علمية تقدم بها الباحث لنيل درجة الدكتوراه من جامعة جواهر لال نهرو بنيو دلهي الهند . وقد اختار الباحث تسعة من المترجمين الذين قاموا بترجمة معاني القرآن إلى اللغة الانجليزية وهم : بيثكال وعبدالله يوسف وآربيري وشير علي وعبدالماجد الدريابادي وم. شاكر  وظفر الله خان وإرونغ وتقي الدين الهلالي ومحمد محسن خان. وقد قسم الباحث هذه الرسالة إلى خمسة أبواب: الباب الأول  والثاني في بعض المباحث التمهيدية الباب الثالث : تاريخ بدء ترجمة معاني القرآن لعدد من اللغات ، مع استقصاء ترجمات معاني القرآن للغة الإنجليزية خصوصاً مرتبة حسب تاريخها، وهذا هو المدخل الحقيقي للبحث .الباب الرابع: دراسة نقدية وتحليلية لترجمات القرآن الإنجليزية المختارة ، وقد قسمه الباحث إلى عشرة فصول هي: الفصل الأول في مفردات القرآن والثاني في عبارات القرآن الخاصة والثالث في أساليب القرآن المختارة والرابع في قضايا متعلقة بالنحو والصرف والخامس في ذكر بعض المعارف والمصطلحات الواردة في القرآن... ألخ. الباب الخامس: خاتمة وملخص للحديث السابق ، وفيه إشارة إلى أفضل الطرق للترجمة الصحيحة للقرآن وكيفيتها. والباحث قدم أفكاراً مفيدة جداً في تناول هذه القضية ، ویجدر التنبيه إلى أن الباحث من "مدرسة الإصلاح" التي أنشأها الشيخ عبدالحميد الفراهي وهو صاحب "تدبر القرآن" وللعلماء على منه...

  • 80 تسہیل الصرف (پیر 18 جون 2012ء)

    مشاہدات:7360

    اس وقت حافظ محمد خان صاحب کی قواعد الصرف پر مشتمل کتاب آپ کے سامنے ہے۔ حافظ صاحب نے اس سے قبل علم النحو پر ’تسہیل النحو‘ کے نام سے کتاب لکھی جس کو طالبان علم نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور کئی مدارس میں یہ کتاب شامل نصاب ہوئی۔ ’تسہیل النحو‘ کے بعد اب ہم ’تسہیل الصرف‘ کتاب و سنت ڈاٹ کام کے قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں۔ ’تسہیل الصرف‘ کا اسلوب بھی قریب قریب وہی ہے جو ’تسہیل النحو‘ میں اختیار کیا گیا ہے۔ مبتدی طلبا کے ذہنی معیار کے پیش نظر کتاب کی زبان نہایت واضح رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، امثلہ سلیس اور عام فہم ہیں۔ گردانوں کے سلسلہ میں نمونہ کےطور پر مختلف ابواب کی ایک گردان بالتفصیل لکھ دی گئی ہے اور طلبا کو مشق کرانے کے لیے چند مزید مصادر ذکر کیے گئے ہیں۔ (ع۔م)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1606
  • اس ہفتے کے قارئین: 11636
  • اس ماہ کے قارئین: 11636
  • کل قارئین : 48272117

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں