دکھائیں کتب
  • 41 البشیر الکامل شرح مائۃ عامل (جمعہ 25 اپریل 2014ء)

    مشاہدات:4776

    علوم نقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے, مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کلام الٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں کرسکتے۔ یہی وہ عظیم فن ہے جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔جوبھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی زبان کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک ہے ۔سلف وخلف کے تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے کہ مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول شرط لازم ہے ۔ قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے'' علم نحو''کلیدی حیثیت رکھتاہے۔ اس کے بغیر علوم اسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرن اول سے لے کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب اور شروح لکھی کی جاچکی ہیں،اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر نظر کتاب البشیر الکامل بحل شرح مائۃ عامل علم نحو کےامام علامہ عبد القاہر جرجانی کی علم نحو پر مائہ ناز کتاب العوامل کی اردو شرح ہے جس میں نحو کے ایک سو عوامل کوبیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اکثر مدارس کے نصاب میں شامل ہے ۔ لہذامائۃ عامل کوسمجھنے کے لیے یہ شرح طلباء کے لیے انتہائی مفید ہے۔(م۔ا)

     

     

  • 42 البشیر شرح نحو میر (جمعہ 29 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:6473

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " البشیر شرح نحو میر" محترم علامہ غلام جیلانی میرٹھی صاحب کی تصنیف ہے جو عربی زبان پر لکھی گئی معروف ترین کتاب "نحو میر "کی اردو شرح ہے۔عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے یہ ایک مقبول ترین کتاب ہے ،جو متعدد دینی مدارس اور سکولوں وکالجوں کے نصاب میں داخل ہے۔ اللہ تعالی  سے دعا ہے کہ وہ مولف اور شارح کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 43 البشیر شرح نحو میر (جمعہ 29 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:6473

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " البشیر شرح نحو میر" محترم علامہ غلام جیلانی میرٹھی صاحب کی تصنیف ہے جو عربی زبان پر لکھی گئی معروف ترین کتاب "نحو میر "کی اردو شرح ہے۔عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے یہ ایک مقبول ترین کتاب ہے ،جو متعدد دینی مدارس اور سکولوں وکالجوں کے نصاب میں داخل ہے۔ اللہ تعالی  سے دعا ہے کہ وہ مولف اور شارح کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 44 الترجمۃ العربیۃ (الجزء الاول والثانی) (جمعہ 14 اگست 2015ء)

    مشاہدات:3799

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "الترجمۃ العربیۃ" محترم مولانا مسعود عالم ندوی﷫ اور محترم مولانا محمد عاصم الحداد﷫ کی مشترکہ کوشش ہے۔ جسے ڈاکٹر محمد اقبال نکیانہ صاحب کے زیر اشراف عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق منفرد انداز میں طبع کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے تین حصے ہیں جن میں سے دو حصے اس جلد میں شامل ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے عربی گرائمر کے اصول وضوابط مشقی انداز میں بیان کئے ہیں تاکہ اردو دان طبقہ اس کتاب کی مدد سے عربی پڑھنے، بولنے،لکھنے اور ترجمہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہو سکیں۔اللہ تعالی سے دعا کہ وہ اس کتاب کے مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 45 الثمرات النقیۃ للدورۃ النحویۃ (اردو) (ہفتہ 05 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2318

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "الثمرات النقیۃ للدورۃ النحویۃ"محترم ابو محمد ادریس الاثری صاحب کی تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر ایک شاندار انتہائی مفید کتاب ہے۔مولف موصوف نے یہ کتاب رمضان المبارک میں دینی مدارس کے طلباء کے لئے منعقد کئے جانے والے دورہ نحو وصرف کے دوران مرتب کی اور نحو وصرف کے بنیادی اصول وقواعد قلمبند کئے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 46 الثمرات النقیۃ للدورۃ النحویۃ (اردو) (ہفتہ 05 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2318

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "الثمرات النقیۃ للدورۃ النحویۃ"محترم ابو محمد ادریس الاثری صاحب کی تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر ایک شاندار انتہائی مفید کتاب ہے۔مولف موصوف نے یہ کتاب رمضان المبارک میں دینی مدارس کے طلباء کے لئے منعقد کئے جانے والے دورہ نحو وصرف کے دوران مرتب کی اور نحو وصرف کے بنیادی اصول وقواعد قلمبند کئے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 47 الشرف الواضح شرح اردو النحو الواضح جلد 01 (پیر 16 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:1883

    علومِ نقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ علومِ عربیہ میں علم نحو کو جو رفعت ومنزلت حاصل ہے اس کا اندازہ اس امر سے بہ خوبی ہو جاتاہے کہ جو بھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتا ہے کلام ِالٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک کا ہے ۔ قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علوم ِاسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرنِ اول سے لے کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب اور ان کی شروح لکھی کی جاچکی ہیں ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  بھی عربی زبان کی گرامر پر مشتمل ہے۔ اس میں نحو کے مضامین کو اسی ترتیب پر قدرے تفصیل کے ساتھ اسباق کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ ہر سبق کا آسان اور دل نشین خلاصہ مثالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے‘ اس کتاب میں آسانی سے مشکل کی طرف بتدریج بڑھنے کے طریقے کو اپنایا گیا ہے۔ہر سبق کا آغاز مختلف چارٹ اور مجموعات سے  کیا گیا ہے اور پھر ان کی روشنی میں سبق کی تشریح کی گئی ہے۔ ہر سبق کے آخر میں اہم ب...

  • 48 الصرف العزیز (بدھ 25 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:2322

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " الصرف العزیز "محترم مولانا  مفتی محمد حسن صاحب  کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے علم الصرف کے تمام ضروری مسائل کو جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 49 الفاظ مترادفہ کے درمیان فرق (جمعرات 02 فروری 2012ء)

    مشاہدات:20513

    علوم اسلامیہ اور عربیہ میں علمِ لغت ایک ایسا جامع علم ہے جس سے جملہ علوم کا سلسلہ جڑتا ہے۔ علمِ لغت کو ام العلوم سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ علم نحو، صرف، اشتقاق، معانی، بدیع اور علم بیان وغیرہ کا استخراج اسی علم سے ہوا ہے۔ عربی لغت میں الفاظ کے درمیان باہم مناسبت اور ترادف بھی ہوا کرتا ہے جس کی نشاندہی اکثر لغت کی کتب میں چیدہ چیدہ مقامات پر اہل فن نے کی ہے۔ بعد میں اس پہلو کو مزید روشن بنانے کے لئے مستقل عرق ریزی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ ارباب علم و فن نے اس پہلو کو خوف روشن کر کے دکھایا۔ زیر نظر کتاب بھی اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ ’’البروق فی انواع الفروق‘‘ یعنی الفاظ مترادفہ کے درمیان فرق، مولانا نور حسین قاسمی کی تصنیف لطیف ہے۔ اس کتاب میں الف سے لیکر یاء تک، دلچسپ الفاظ مترادفات مثلاً اللہ، الہ، رب، خدا جیسے کلمات کا والد، ولد، ابن جیسے کلمات کا، جنگ، جہاد، غزوہ جیسے کلمات کا اور اسی طرح دین، شریعت، ملت، مذہب جیسے کلمات کا آپس میں فرق آسان کتاب میں جا بجا مقامات پر فروق پر مبنی عربی کتب سے براہِ راست اقتباسات باحوالہ نقل کئے گئے ہیں اور آخر میں مصادر و مراجع پر مبنی کتب کی فہرست دے دی گئی ہے جو مستفیدین کو تفصیلی معلومات کی طریق رہنمائی کرتی ہیں۔ مختصر یہ کہ اردو زبان میں الفاظ مترادفہ کے مابین فروق کے حوالے سے، یہ کتاب قابلِ التفات اور قابلِ ستائش ہے۔ (آ۔ہ۔)
     

    ادب 
  • 50 القاموس الاصطلاحی(عربی۔اردو) (ہفتہ 01 اکتوبر 2011ء)

    مشاہدات:25267

    ہمارے ہاں بہت سی عربی اردو ڈکشنریاں مروج ہیں لیکن فی زمانہ مسئلہ یہ ہے کہ ان ڈکشنریوں میں جدید الفاظ و اصطلاحات کی وضاحت نہیں ملتی۔ اسی مشکل کے پیش نظر مولانا وحید الزماں کیرانوی نے زیر نظر ’القاموس الاصطلاحی‘ کے نام سے عربی۔ اردو ڈکشنری تیار کی جس میں کم و بیش بیس ہزار الفاظ و اصطلاحات کا اردو میں ایسا تطبیقی اور اصطلاحی ترجمہ کیا گیا ہے کہ بوقت مطالعہ جدید عبارات کو حل کرنے میں آسانی ہو۔ ترجمہ میں بعض اوقات ظاہر لفظ کی رعایت نہ کرتے ہوئے ایسا ترجمہ کیا گیا ہے جو موقع اور محل کے لحاظ سے صحیح طور پر منطبق ہو جائے نیز بہت سے الفاظ کے ایسے متعدد ترجمے کیے گئے ہیں کہ ان میں سے کسی نہ کسی ترجمہ کا انطباق ہو جائے گا۔ کتاب کی ترتیب ابتدائی حروف کے لحاظ سے ہے تاکہ ہر معیار کے طلبہ اس سے استفادہ کر سکیں۔ دفاتر، عدالتوں اور کارخانوں وغیرہ میں مستعمل الفاظ کا معنی جاننے میں یہ کتاب بہت حد تک معاون ثابت ہو گی۔(ع۔م)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 904
  • اس ہفتے کے قارئین: 2996
  • اس ماہ کے قارئین: 32254
  • کل قارئین : 48494160

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں