جب میں مر جاؤں ( ایک وصیت سب کے نام )(5091#)

ام دانش
البلاغ لاہور کراچی
25
500 (PKR)
1.1 MB

موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔یہ دنیاوی زندگی ایک سفر ہے جوعالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچتے ہیں جن پر اللہ کریم کے خاص رحمت ہو ۔موت انسان کےاپنے اصل گھر کی طرف روانگی کی پہلی منزل ہے ۔ دنیا میں رہتے ایک اچھا مسلمان چاہتا کہ اس کاہر قول،عمل اور طرز زندگی اللہ کےحکم کےمطابق ہو اوررسول اللہ ﷺ کی سنت کےموافق ہو ۔ اسے کےچلے جانے کے بعد اس کےلواحقین کی یہ ذمہ داری ہونی چاہیے کہ اس کی آخری رسومات بھی اسی طرح شرعی طریقے سے پوری کرنے کاحق ادا کریں۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’جب میں مرجاؤں ‘‘ محترمہ ام دانش صاحبہ کا تحریری کردہ ہے جس میں انہوں نے وصیت کے انداز میں وفات سے لے کر دفن کرنے تک کے تمام کاموں کےبارے میں ہمارے پیارے نبی ﷺ کے احکامات کو اختصار کےساتھ آسان انداز میں پیش کیا ہے ۔کہ مرنے والے کےلیے اس کے عزیز واقارب ،لواحقین کیا تحفہ بھیج سکتے ہیں اورکن غیر شرعی اوربدعی امور سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مصنفہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے لوگوں کےلیے نفع بخش بنائے اور تما م اہل اسلام کوخاتمہ بالایمان نصیب فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

عناوین

 

صفحہ نمبر

پیش لفظ

 

3

جب میں مر جاؤں

 

5

غسل

 

10

غسل دینے کا طریقہ

 

11

کفن

 

11

جنازہ

 

13

نماز جنازہ کا طریقہ

 

15

تدفین

 

15

قل ، جمعراتیں اور چالیسواں

 

17

تین دن سے زیادہ سوگ نہیں

 

19

ایصال ثواب کے لیے اعمال

 

20

مسنون دعائیں و اختتام

 

21

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1884
  • اس ہفتے کے قارئین: 16612
  • اس ماہ کے قارئین: 35905
  • کل قارئین : 47824468

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں