دکھائیں کتب
  • 11 تاریخ ابن خلدون( قبل ازاسلام ،تاریخ الانبیاء) (جمعہ 07 جنوری 2011ء)

    مشاہدات:12198

    تاریخ ایک انتہائی دلچسپ علم ہے خاص طور پر اسلامی تاریخ، جس میں صداقت کو خصوصاً ملحوظ رکھا گیا ہے دنیا کی تاریخ جھوٹے سچے واقعات سے پُر ہے، جس سےاس کی افادیت کا پہلو دھندلاگیا ہے ۔ تاریخ اسلامی پر مشتمل علامہ عبدالرحمن ابن خلدون کی زیر مطالعہ کتاب کی ورق گردانی سے آپ جان سکیں گے کہ اسلامی تاریخ میں تاریخی واقعات کو حقیقی رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور اس میں کسی قسم کے رطب و یابس کا کوئی دخل نہیں ہے۔ آپ کےسامنے اس وقت ’تاریخ ابن خلدون‘ کا پہلا اور دوسرا حصہ ہے۔ پہلے حصے میں علامہ موصوف نے حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد چھٹی صدی عیسوی تک کے حالات و انساب تفصیل کےساتھ درج کیے ہیں۔ ان میں انبیائے بنی اسرائیل و عرب اور بابل و نینوا و موصل و فراغہ کے صحیح اور سچے واقعات شامل ہیں۔ دوسرے حصے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک تقریباً چھ سو سال کے مکمل حالات، عقائد و افکار میں تغیرات، مراسم اور توہمات کی پیداوار اور ان کے نتائج کی پوری تفصیل و استناد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

     

  • 12 تاریخ ابن کثیر ترجمہ البدایہ والنہایہ ۔ جلد1 (بدھ 26 جنوری 2011ء)

    مشاہدات:28252

    اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم علیہ السلام کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

    تاریخ اسلام 

  • 13 تاریخ اسلام ( معین الدین ندوی ) جلد اول (اتوار 23 اگست 2015ء)

    مشاہدات:5119

    قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت وہی ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی میں اس کی یادداشت کی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک فرد واحد کی سوچ، شخصیت، کردار اور نظریات پر سب سے بڑا اثر اس کی یادداشت کا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم کے مجموعی طرزعمل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز اس کی تاریخ ہوتی ہے ۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک اپنی اصلاح نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے اسلاف  کی تاریخ اور ان کی خدمات کو محفوظ نہ رکھے۔اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان اپنی اس تاریخ سے کٹ چکا ہے۔اپنی بد اعمالیوں اور شریعت سے دوری کے سبب مسلمان آج پوری دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔اور ہر میدان میں انہیں شکست وہزیمت کا سامنا ہے ۔آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے  باوجود ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں سوسال پہلے کھڑی تھی۔اس کا سب سے برا سبب مسلمانوں کا  دین سے دور ہونا اور غیروں کے قریب ہونا ہے۔کافر ہمیں اس لئے مارتے ہیں کہ یہ مسلمان ہیں اور ہم اس لئے  مار کھا رہے ہیں  کہ ہم صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہیں۔تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ  قرآن و سنت کی تعلیمات، اسلام کے انسانیت نواز پیغام اور اپنی روشن تہذیبی اَقدار کو پوری قوت اور خود اعتماد ی کے ساتھ دنیا پر آشکارا کریں،اور خود بھی اسی کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ زیر تبصرہ کتاب " تاریخ اسلام "شاہ معین الدین احمد ندوی صاحب کی کاوش ہے جو دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔اس کی پہلی جلد عہد رسالت،...

  • 14 تاریخ اسلام (اول) (بدھ 01 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:15598

    تاریخ،تہذیب وتمدن کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسانیت کے خدوخال اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے  ساتھ بڑی وضاحت سے اجاگر ہوتے ہیں انسانی تہذیب نے خوب سے خوب تر کی تلاش میں جو ارتقائی سفر طے کیا اور جن وادیوں اور منزلوں سے یہ کاروان رنگ وبو گزرا ہے ان کی روداد جب الفاظ کا پیکر اختیار کرتی ہے تو ’’تاریخ‘‘ بن جاتی ہے لیکن تاریخ ماضی کےواقعات کو دہرا دینے کا ہی نام نہیں بلکہ ماضی کی بازیافت کا فن ہے ۔ظاہر ہے کہ کچھ مخصوص افراد کےنام گنواکر یا کچھ چیدہ شخصیتوں کے حالات لکھ کر عہد گزشتہ کو زندہ نہیں کیا جاسکتا ۔اس کے لیے ضروری ہے کہ واقعات کے اسباب ونتائج کو گہری نظر سے دیکھا جائے اور احتجاجی زندگی کی ان قدروں کا جائزہ لیا جائے جو اقوام وملل کے عروج وزوال سے گہرا تعلق رکھتی ہیں ۔اور علم تاریخ ایک ایسا علم ہے کہ ہردور میں اس سے لوگوں کو دلچسپی رہی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ اپنے ماضی سے لگاؤ رہا ہے وہ اپنے پیچھے پھیلے ہوئے لامتناہی ارتقائی راستوں کی طرف مڑکر دیکھنا پسند کرتاہے کیونکہ ہر گزرا ہوا لمحہ اور اس سے وابستہ یادیں عزیز ہی نہیں ہوتیں بلکہ متاع حیات کا درجہ رکھتی ہیں۔ ماضی کا مطالعہ حال کو سجھنے اور مستقبل کے بہتر بنانے میں بڑی مدد دیتاہے گزرے ہوئے زمانےکو فراموش کرکے حال ومستقبل کو ساز گار بنانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔

    ’’تاریخ اسلام‘‘میں رسول اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے لےکر زوال خلافت تک کا دور نہایت شاندار انداز میں بیان کیا گیاہے کتاب کا انداز ایسا دلچسپ اور پرسوز ہ...

  • 15 تاریخ اسلام کوڈ نمبر 974 یونٹ 1 تا 18 (ہفتہ 08 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1690

    تاریخ اسلام کا آغاز پہلے نبی اور رسول کی آمد سے ہی ہو جاتا ہے۔تاریخ اسلام، چودہ صدیوں کے واقعات،حادثات، نشیب وفراز اور احوال وحالات پر مشتمل ہے۔تاریخ کے ذریعے ہم اپنے اسلاف کے کارہائے نمایاں سے واقف ہوتے ہیں۔تاریخ کے مطالعہ سے حوصلہ بلند ہوتا ہے اور دانائی وبصیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کتاب وسنت ڈاٹ کام پر جہاں مذہبی ، دینی، اور علمی وتحقیقی کتب اپلوڈ کی جاتی ہیں ۔وہاں  مدارس وسکولز اور کالجز ویونیورسٹیز کے طلباء کی سہولت کے لئے نصابی کتب کو بھی ترجیحی طور پر اپلوڈ کیا جاتا ہے، تاکہ طلباء بآسانی ان کتب کو حاصل کر سکیں اور علمی ونصابی تیار بھر پور طریقے سے کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تاریخ اسلام برائے ایم اے علوم اسلامیہ، کوڈ نمبر974" محترم ڈاکٹرمحمد سجادصاحب  کی کاوش ہے ۔اس کتاب کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ وثقافت نے  بطور سلیبس کے شائع کیا ہے۔اس کورس میں تاریخ اسلام کے تمام ادوار اور اس سے قبل کے حالات کی آگاہی پیش کی گئی ہے۔۔امید واثق ہے  کہ اگر کوئی طالب علم اس کتاب سے تیاری کر کے امتحان دیتا ہے تو وہ ضرور اچھے نمبروں سے پاس ہوگا۔ان شاء اللہ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو دنیوی واخروی تما م امتحانوں میں کامیاب فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 16 تاریخ اسلام کوڈ نمبر 974 یونٹ 1 تا 9 (جمعہ 07 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1460

    تاریخ اسلام، چودہ صدیوں کے واقعات،حادثات، نشیب وفراز اور احوال وحالات پر مشتمل ہے۔تاریخ کے ذریعے ہم اپنے اسلاف کے کارہائے نمایاں سے واقف ہوتے ہیں۔تاریخ کے مطالعہ سے حوصلہ بلند ہوتا ہے اور دانائی وبصیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کتاب وسنت ڈاٹ کام پر جہاں مذہبی ، دینی، اور علمی وتحقیقی کتب اپلوڈ کی جاتی ہیں ۔وہاں  مدارس وسکولز اور کالجز ویونیورسٹیز کے طلباء کی سہولت کے لئے نصابی کتب کو بھی ترجیحی طور پر اپلوڈ کیا جاتا ہے، تاکہ طلباء بآسانی ان کتب کو حاصل کر سکیں اور علمی ونصابی تیار بھر پور طریقے سے کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تاریخ اسلام، کوڈ نمبر 974" محترم ڈاکٹر سید مطلوب حسین کی کاوش ہے، جس کی نظر ثانی محترم ڈاکٹر علی اصغر چشتی نے فرمائی ہے۔اس کتاب کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد کے کلیہ عربی وعلوم اسلامیہ نے  بطور سلیبس کے شائع کیا ہے۔یہ کورس سیرت طیبہ اور خلافت راشدہ کے ادوار پر مشتمل ہے جو انسانیت کے لئے نمونہ عمل، معیار ہدایت اور مشعل راہ ہے۔امید واثق ہے  کہ اگر کوئی طالب علم اس کتاب سے تیاری کر کے امتحان دیتا ہے تو وہ ضرور اچھے نمبروں سے پاس ہوگا۔ان شاء اللہ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو دنیوی واخروی تما م امتحانوں میں کامیاب فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 17 تاریخ اسلام کوڈ نمبر 976 یونٹ 1 تا 9 (ہفتہ 08 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1409

    کتاب وسنت ڈاٹ کام پر جہاں مذہبی ، دینی، اور علمی وتحقیقی کتب اپلوڈ کی جاتی ہیں ۔وہاں  مدارس وسکولز اور کالجز ویونیورسٹیز کے طلباء کی سہولت کے لئے نصابی کتب کو بھی ترجیحی طور پر اپلوڈ کیا جاتا ہے، تاکہ طلباء بآسانی ان کتب کو حاصل کر سکیں اور علمی ونصابی تیار بھر پور طریقے سے کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تاریخ اسلام، کورس نمبر 3" محترم ڈاکٹر سید مطلوب حسین کی کاوش ہے، جس کی نظر ثانی محترم ڈاکٹر علی اصغر چشتی اور حافظ محمد سجاد تترالوی نے فرمائی ہے۔اس کتاب کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد کے کلیہ عربی وعلوم اسلامیہ نے  بطور سلیبس کے شائع کیا ہے۔یہ کورس خلافت عثمانیہ، سلطنت دہلی اور سلطنت مغلیہ کے ادوار پر مشتمل ہے۔اور یہ تینوں ادوار ایسے ہیں کہ ان میں مسلمان ہر میدان میں ترقی کی منازل طے کرتے رہےاس کتاب میں ان تینوں ادوار سے متعلق چند اہم نکات پیش کئے گئے ہیں۔امید واثق ہے  کہ اگر کوئی طالب علم اس کتاب سے تیاری کر کے امتحان دیتا ہے تو وہ ضرور اچھے نمبروں سے پاس ہوگا۔ان شاء اللہ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو دنیوی واخروی تما م امتحانوں میں کامیاب فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 18 تاریخ اسلام کے فدائی دستے (جمعرات 19 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:18444

    ہر قوم اپنے وجود کے مٹنے کے خدشہ پر دشمن کے وجود کو مٹانے پرتل آتی ہے یا کم از کم اپنا دفاع کرتی ہے۔ اسلام نے نظریہ اسلام اور دین کی پاسداری کے لیے دشمن اسلام سے لڑنے کے اصول و ضوابط مقرر کردیے ہیں اور یہ اصول دین اسلام  کو تمام ادیان پر فائق کرتا ہے کہ جس کے جنگی اصولوں میں یہ بات ہو کہ بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور جو ہتھیار نہ اٹھائے ان کو قتل نہیں کرنا۔  دشمن کو جلانا نہیں، دشمن کا مثلہ کرنا حرام ہو، دشمن کو جلانا ممنوع ہو، قیدیوں سے اچھے سلوک کی ترغیب دلائی گئی ہو اور قیدی عورتوں کی عصمت دری سے روکا گیا ہو۔ یہ وہ تمام اوصاف ہیں کہ جنہیں اپناکرایک مسلمان اپنے دشمنوں کے دل بھی جیت لیتا ہے۔دوران جنگ ایسے مواقع پیش آتے ہیں کہ  مجاہد کے دل میں جذبہ شہادت کی لہر اس قدر موجزن ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے دشمنوں میں موت کی پرواہ کئے بغیر گھس جاتا ہے اور دشمن اسلام کا نقصان کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوجاتا ہے۔تاریخ اسلام میں ایسی بہت  سی مثالیں ہیں کہ جن میں غازیان اسلام نے ایسی کاروائیاں سرانجام دیں کہ اپنے وجود کو انتہائی خطرے میں ڈال کر دشمن کو نقصان پہنچایا۔ فدائی اور خود کش حملہ میں یہ فرق ہے کہ فدائی حملہ میں جان کے بچ جانے کا  کم از کم ایک فیصد امکان ہوتا ہے جبکہ خود کش حملے میں 100 فیصد جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔جہاد کشمیر کی جنگ کے تناظر میں جب مجاہدین نے فدائی کاروائیاں شروع کیں تو ان کاروائیوں پر خودکشی کے اعتراضات وارد ہوئے جن کے جواب میں جماعت الدعوۃ کے مرکزی رہنما مولانا عبدالرحمٰن مکی نے فدائی حملوں  کے دفاع میں  ماہنام...

  • 19 تاریخ اسلام کے مسخ کردہ حقائق (بدھ 07 مارچ 2018ء)

    مشاہدات:1318

    اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان اپنی اس تاریخ سے کٹ چکا ہے۔اپنی بد اعمالیوں اور شریعت سے دوری کے سبب مسلمان آج پوری دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔اور ہر میدان میں انہیں شکست وہزیمت کا سامنا ہے ۔ تاہمصدر اسلام میں جب خلفائے راشدین تاریخ اسلام کے ابواب صفحہ ہستی پر منقوش کر رہے تھے تو عجمی دسیسہ کار تاریخ اسلام کے ان زریں اور تابناک ابواب کو مسخ کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ہمارا ایمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات تمام صنف اناث میں ہی نہیں بلکہ انبیائے کرام کے بعد تمام انسانوں سے شرف مجد میں بلند ترین مقامات پر فائز تھیں۔مگر عجمیت کے شاطر،عیار، اورخبیث افراد نے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر بڑی چابکدستی سے اسلام کو نیست ونابود کرنے کے لئے ایک لائحہ عمل مرتب کیا اور امہات المومنین پر طرح طرح کے بہتانات لگائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تاریخ اسلام کے مسخ کردہ حقائق‘‘حافظ سید محمد علی حسینی کی تصنیف ہے۔ جس میں تاریخ اسلام کے مسخ کردہ حقیقتوں کو واضح کیا ہے۔ مزید اس کتاب میں خاندان بنی عبد الشمس اور بنی ہاشم، خلافت اور خلافت راشدین کے متعلق تاریخ کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(رفیق الرحمن)

  • 20 تاریخ دولت فاطمیہ (اتوار 29 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:1699

    سلطنت فاطمیہ یا خلافت فاطمیہ خلافت عباسیہ کے خاتمے کے بعد 297ھ میں شمالی افریقا کے شہر قیروان میں قائم ہوئی۔ اس سلطنت کا بانی عبیداللہ مہدی چونکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے تھا (بعض محققین کو اس سے اختلاف ہے) اس لئے اسے سلطنت فاطمیہ کہا جاتا ہے ۔ عبید اللہ تاریخ میں مہدی کے لقب سے مشہور ہے۔ فاطمین حضرت فاطمہ کی نسل سے ہیں کہ نہیں اس بارے میں مورخین میں اختلاف ہے ۔ صرف ابن خلدون اور مقریزی اس بارے میں متفق ہیں کہ یہ فاطمی نسب ہیں۔ خود فاطمین یا ان کے داعیوں نے اثبات نسب میں کوئی حصہ نہیں لیا ۔ معتدد دفعہ ظہور کے زمانے میں نسب کا سوال اٹھایا گیا ، لیکن کسی امام نے اس کا جواب نہیں دیا ۔ معز سے مصر میں کسی نہ یہ سوال کیا کہ آپ کا نسب کیا ہے ۔ اس جواب میں معز نے ایک جلسے میں تلوار اپنی میان سے نکال کر کہا کہ یہ میرا نسب ہے اور پھر سونا حاصرینپر سونا اچھالتے ہوئے کہا کہ یہ میرا حسب ۔ اس زمانے میں جو خطبہ پڑھا جاتا تھا اس میں بھی ائمہ مستورین کی جگہ ممتخنین یا مستضعفین جیسے الفاظ پڑھا کرتے تھے ۔ زمانہ ظہور کے داعیوں نے بھی اس کی طرف توجہ نہیں دی ۔ جب بھی ان کے نسب کا سوال اٹھایا گیا تو انہوں نے خاموشی اختیار کرلی ۔ ان کی مشہور دعا ’ دعائم اسلام ‘ جو ہر نماز میں پڑھی جاتی ہے اس میں بھی کسی امام مستور کا ذکر نہیں پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تاریخ دَ‎ولتِ فاطمیہ‘‘ سید رئیس احمد جعفری ندوی کی تصنیف ہے۔ جس میں دولت فاطمی کی تاریخ، فاطمی خاندان کے فرماں رواں، فاط...

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 945
    • اس ہفتے کے قارئین: 3026
    • اس ماہ کے قارئین: 27554
    • کل قارئین : 47057835

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں