دکھائیں کتب
  • 21 تاریخ طبری جلد1 (منگل 04 فروری 2014ء)

    مشاہدات:17892

    زیر نظر کتاب تاریخ اسلامی کا بہت وسیع ذخیرہ اور تاریخی اعتبار سے ایک شاندار تالیف ہے جس میں مصنف نے بہت عرق ریزی سے کام لیا ہے۔واقعات کو بالاسناد ذکر کیا ہے جس سے محققین کے لیے واقعات کی جانچ پڑتال اور تحقیق سہل ہو گئی ہے۔یہ کتاب سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیر صحابہ وتابعین پر یہ تالیف سند کی حیثیت رکھتی ہے اور سیرت نگاری پر لکھی جانے والی کتب کا یہ اہم ماخذ ہے المختصر سیرت نبوی اور سیرت صحابہ وتابعین پر یہ ایک عمدہ کتا ب ہے ۔جس کا مطالعہ قارئین کو ازمنہ ماضیہ کی یاد دلاتا ہےاور ان عبقری شخصیات کے کارہائے نمایاں قارئین میں دینی ذوق ،اسلامی محبت اور ماضی کی انقلابی شخصیات کے کردار سے الفت و یگانگت پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔لہذا فحش لٹریچر ،گندے میگزین اور ایمان کش جنسی ڈائجسٹ کی بجائے ایسی تاریخی کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے جو شخصیات میں نکھار ،ذوق میں اعتدال ،روحانیت میں استحکام اور دین سے قلبی لگاؤ کا باعث بنیں ۔

  • 22 تاریخ ملت جلد اول (ہفتہ 25 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:4261

    تاریخ  ایک  ضروری اور مفید علم  ہے  اس  سے ہم کو دنیا کی تمام نئی اور پرانی قوموں کےحالات معلوم ہوتے ہیں او رہم ان کی ترقی اورتنزلی کےاسباب سے واقف ہوجاتے ہیں ہم جان  جاتے ہیں کہ کس طرح ایک قوم عزت کےآسمان کا ستارہ  بن کر چکمی اور دوسری قوم ذلت کے میدان کی گرد بن کر منتشر ہوگئی۔اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ  دنیا میں مذہب اسلام کی ابتداء انسان کی پیدائش کے ساتھ  ہوئی ۔ دنیا میں جس قدر پیغمبر آئے ان  سب نے  اپنی  امت کو اسلام ہی کاپیغام سنایا۔یہ ضرور ہے کہ خدا  کایہ پیغام دنیا کے ابتدائی زمانہ میں اس وقت کی ضرورتوں ہی کے  مطابق تھا جب دنیا نے ترقی کی منزل میں قدم رکھا  اور اس کی ضرورتوں میں اضافہ ہوا تو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ اس پیغام  کو مکمل صورت میں لے کر آئے۔ عام طور پر اللہ تعالیٰ کے اس مکمل پیغام کو ہی اسلام کہا جاتاہے ۔ اس لیے  تاریخ ِاسلام سے اس گروہ کی تاریخ مراد لی جاتی ہے جس نے اللہ  تعالیٰ کے آخری پیغمبر  حضرت  محمد مصطفیٰﷺ  کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے اس  مکمل اسلام کو قبول کیا ۔دنیا  کی اکثر قوموں کی تاریخ ، کہانیوں اور قصوں کی صورت میں  ملتی ہے  ۔ مگر اسلام کی تاریخ  میں یہ بات نہیں ہے ۔ اور مسلمانوں  نے شروع ہی سے اپنی تاریخ کو مستند طور پر لکھا  ہے اور ہر بات کا حوالہ دےدیا ہے  ۔یہی وجہ  ہے کہ دنیا کی تاریخ میں ’’ تاریخ اسلام‘‘ ایک خاص امتیاز رکھتی ہے ۔اس...

  • 23 تصویری تاریخ اسلام (جمعہ 10 اگست 2018ء)

    مشاہدات:782

    قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت وہی ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی میں اس کی یادداشت کی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک فرد واحد کی سوچ، شخصیت، کردار اور نظریات پر سب سے بڑا اثر اس کی یادداشت کا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم کے مجموعی طرزعمل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز اس کی تاریخ ہوتی ہے ۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک اپنی اصلاح نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے اسلاف  کی تاریخ اور ان کی خدمات کو محفوظ نہ رکھے۔اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تصویری تاریخ اسلام‘‘  ڈاکٹر  عبد الرؤف کی   تاریخ اسلام کے متعلق منفرد کاوش ہے ۔تاریخ اسلام کے اہم موضوع پر اس دلچسپ کتاب کو دنیا بھر  میں پہلی تصویری  تصنیف ہونے کا اعزاز  حاصل ہے ۔فاضل مصنف نے اس کتاب کی تدوین  اور تشکیل وتزئین میں بہت محنت اور احتیاط سے کام لیا ہے ۔مصنف  نے  کتاب کا آغاز کائنات کے پہلے انسان اور پہلے نبی حضرت آدم   سے شروع کیا ہے اور تمام اسلامی ملکوں کے علاوہ باقی  تمام دنیا پر اجمالی نگاہ ڈالی ہے ۔وسطی اور جنوب مشرقی ایشیا روس، چین، افریقہ، یورپ،امریکہ، آسڑیلیا وغیرہ میں اسلام  اور مسلمانوں کے ماضی اور حال   کے بصیرت افروز خاکے بھی  مصنف نے پیش کردئیے ہیں ۔نیز فاضل مصنف نے  اس کتاب میں ماضی کے تاریخی واقعات کی تفاصیل کے ساتھ ساتھ موجودہ زمانے کی تمام مسلم اکثریتوں اور اقلیتوں کے حالات او ر مسائل کی واضح نشاندہی  جابجا کردی   ہے ۔(م۔ا)

  • 24 خلافت اموی خلافت راشدہ کے پس منظر میں (اتوار 22 مئی 2016ء)

    مشاہدات:3159

    نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق ، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی کا عہد خلافت خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ اس عہد کی مجموعی مدت تیس سال ہے جس میں سیدنا ابوبکر صدیق  اولین اور سیدنا علی  آخری خلیفہ ہیں۔ اس عہد کی نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ یہ قرآن و سنت کی بنیاد پر قائم نظام حکومت تھا۔ خلافت راشدہ کا دور اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس زمانے میں اسلامی تعلیمات پر عمل کیا گیا اور حکومت کے اصول اسلام کے مطابق رہے۔ یہ زمانہ اسلامی فتوحات کا بھی ہے۔ اوراسلام میں جنگ جمل اور جنگ صفین جیسے واقعات بھی پیش آئے۔جزیرہ نما عرب کے علاوہ ایران، عراق، مصر، فلسطین اور شام بھی اسلام کے زیر نگیں آگئے۔خلافت راشدہ کا زمانہ مسلمانوں کے لیے نہایت عروج کا زمانہ تھا۔ جس میں مسلمانوں نے ہر میدان میں خوب ترقی کی۔ لوگوں کو معاشی خوشحالی نصیب تھی، امن و امان اور عدل و انصاف کا خصوصی اہتمام تھا۔ زیر تبصرہ کتاب "خلافت اموی خلافت راشدہ کے پس منظر میں" انڈیا کے معروف عالم دین سابق صدر شعبہ ادارہ علوم اسلامیہ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ ڈاکٹر پروفیسر محمد یسین مظہر صدیقی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے خلافت راشدہ کے پس منظر میں خلافت اموی کا جائزہ لیا ہے کہ ان دونوں خلافتوں کیا کیا  فرق تھا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

  • 25 دولت عثمانیہ جلد اول (جمعہ 22 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:3529

    سلطنت عثمانیہ یا خلافت عثمانیہ سن 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’دولت عثمانیہ ‘‘دار المصنفین شبلی اکیڈمی ،اعظم گڑھ ہند کے رفیق خاص جناب ڈاکٹر محمد عزیر کی تصنیف ہے ۔ بقول سید سلیمان ندوی﷫ (سابق ناظم دارالمصنفین)یہ کتاب اپنی تصنیف کے وقت دولت عثمانیہ کے تاریخ کے متعلق تحریری کی جانی والی اردو زبان میں پہلی کتاب تھی ۔اس سے پہلے دولت عثمانیہ کے متعلق جوکچھ لکھا گیا وہ محض پورپین مصنفین کے تراجم اورخیالات تھے ۔ لیکن مصنف کتاب ہذا نے سات برس کی محنت ومطالعہ کے بعد اسے تصنیف کیا ۔ اس میں عثمانی ترکوں کی تاریخ سے متعلق انگریزی، عربی، اور فارسی کی مستند کتابوں نیز بعض منتخب ترکی اور فرانسیسی تاریخوں کے ترجموں سے مدد لے کرسلطنت کے عروج وزوال کی تاریخ اور جمہوریہ ترکیہ کے کارناموں کی دو جلدوں میں مکمل تفصیل پیش کردی ہے۔کتاب کے دیباچہ سے معلوم ہوتا کہ یہ کتاب پہلی دفعہ 1939ء میں طبع ہوئی ۔ زیر تبصرہ ایڈیشن 2009ء طبع ہونے وال...

  • 26 سنہرے حروف (پیر 02 نومبر 2009ء)

    مشاہدات:18253

    چونکہ نبی کریم ﷺ ، صحابہ کرام، تابعین وتبع تابعین، فقہائے کرام اور سلف صالحین کی  زندگی امت مسلمہ کے ہر فرد کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے اس امر کی شدید ضرورت محسوس  کی جارہی تھی کہ ان تابندہ ستاروں کی زندگی کے درخشاں واقعات کو اختصار کے ساتھ یکجا کیا جا سکے- زیر مطالعہ کتاب میں عبدالمالک مجاہد نے اسلامی تاریخ کے انہی چنیدہ ستاروں کے  واقعات احاطہ تحریر میں لائے ہیں- مصنف نے سیرت رسول ﷺ، صحابہ کرام ، تابعین  اور اس کے بعد ترتیب وار سلف صالحین اور نامور سلاطین کے سبق آموز اور دلچسپ واقعات کا تذکرہ کیا ہے کتاب میں ذکر کردہ مصادر صحیح اور مستند ہیں- اسلاف کے تفقہ، رسوخ فی العلم، تواضع، ایثار اور اعلائے کلمۃ الحق کے یہ واقعات ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیے گرانقدر راہنمائی فراہم کرتے ہیں-

  • 27 شاہنامہ اسلام جلد اول (پیر 01 جولائی 2019ء)

    مشاہدات:473

    ابو الاثر حفیظ جالندھری پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور مقبول رومانی شاعر اور افسانہ نگار تھے جنہوں نے پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق کی حیثیت سے شہرتِ دوام پائی موصوف ہندوستان کے شہر جالندھر میں 14 جنوری 1900ء کو پیدا ہوئے۔ آزادی کے وقت 1947ء میں لاہور آ گئے۔ آپ نے تعلیمی اسناد حاصل نہیں کی، مگر اس کمی کو انہوں نے خود پڑھ کر پوری کیا۔ آپ نے محنت اور ریاضت سے نامور شعرا کی فہرست میں جگہ بنالی۔ حفیظ جالندھری گیت کے ساتھ ساتھ نظم اور غزل دونوں کے قادرالکلام شاعر تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ زیر نظر کتاب ’’ شاہنامہ اسلام‘‘ ہے ۔ اس  میں    انہوں نے اسلامی روایات اور قومی شکوہ کا احیا کیا جس پر انہیں فردوسی اسلام کا خطاب دیا گیا۔یہ کتاب  اسلام کی منظوم  تاریخ ہے اس کتاب کا بیشتر حصہ  اس عہد عہد زریں سےتعلق رکھتا  ہے جب اسلام کےہادی اعظم اپنے جمالِ جہاں آراسے دنیا کو نورانی کررہے تھے۔(م۔ا)

  • 28 صحابہ کرام ؓ کا عہد زریں (جمعہ 05 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:994

    نبیﷺ کے جانثار صحابہ کرامؓ جنہیں انبیائے کرام کے بعد دنیا کی مقدس ترین ہستیاں ہونے کا شرف حاصل ہے۔ جن کے بارے میں قرآں کریم کی رضی اللہ عنہ ورضوا عنہ کی ضمانت موجود ہے اور جنہیں آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحابی کالنجوم فرما کر ستاروں کی مانند قرار دیا ہے‘ روئے زمین پر وہ مبارک ہستیاں تھی جن کی سانس قرآن وسنت کی معطر خوشبووں سے لبریز تھیں اور جن کا ہر ہر لمحہ قال اللہ وقال الرسول کی مکمل عکاسی کرتا تھا۔ ایسی شخصیات اور ان کے عہد کا تعارف  اور ان کے کارنامے عوام تک پہنچانا قابل تعریف اور قابل سعادت ہے کیونکہ وہ ہمارے رہنماء تھے اور دین کو ہم تک پہنچانے میں انہوں نے بہت سے قربانیاں پیش کی ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں  صحابہؓ کے عہد زریں کا ہی تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس میں اسلوب سادہ اور عام فہم اپنایا گیا ہےاور ترتیب ایسی دی گئ ہے کہ کوئی مضمون چھوٹنے نا پائے اور دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق بھی ہے۔اور اہم باتوں کی وضاحت اور تفصیل کے لیے حاشیہ کی مدد لی گئی ہے ۔ اس کتاب کے مطالعے سے عوام کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ کتاب’’ صحابہ کرامؓ کا عہد زریں ‘‘ مولانا سید محمد میاں   کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 29 صحیح تاریخ الاسلام والمسلمین (پیر 22 اکتوبر 2012ء)

    مشاہدات:18840

    مسلمان قوم کی تاریخ فرقوں کی بہتات کی وجہ سے بے پناہ تحریف کا شکار رہی، کیونکہ ہر فرقہ اس کوشش میں رہا کہ وہ اپنوں کی شان بڑھائے اور دوسروں کو گرائے۔ ان کے اس طرز عمل سے عظیم ترین ہستیوں کی تاریخ میں شگاف پیدا ہوگئے۔ مسلمان قوم میں سے چند لوگوں نے حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے اس قدر غلو آمیز محبت کی کہ آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کر دیں جو اصل واقعات اور تاریخ سے میل نہیں رکھتیں اور اسی دوران دوسرے صحابہ کرام کی شان گھٹانے کی ناکام کوششیں کیں اور انھیں حضرت علی کا حق غصب کرنے، ان پر ظلم کرنے نیز اپنے حق میں برا بیج بونے والوں کے روپ میں پیش کیا۔ اس ضمن میں اگرچہ اہل السنت والجماعۃ کی طرف سے اگرچہ کافی کام ہوا ہے لیکن ڈاکٹر عثمان بن محمد ناصری حفظہ اللہ نے زیر نظر کتاب کی صورت میں بعثت رسولﷺ سے سانحہ کربلا تک صحابہ کرام کے فضائل اور جس انداز میں ان کی عدالت پر اعتراضات کے جوابات دئیے ہیں اس طریق پر اس سے قبل کام سامنے نہیں آیا۔ کتاب کا سلیس اردو ترجمہ ابو مسعود عبدالجبار سلفی نے بہت ہی خوبصورت انداز میں کیا ہے۔ کتاب کو چار فصول میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی فصل مطالعہ تاریخ کی کیفیت، امام طبری کے منہج اور اسلامی تاریخ میں سند کی اہمیت پر مشتمل ہے۔ دوسری فصل نبی کریمﷺ کے سانحہ ارتحال 11ھ سے61ھ تک رونما ہونے والے واقعات پر بے لاگ تحقیق ہے۔ تیسری فصل عدالت صحابہ پر مشتمل ہے۔ چوتھی فصل میں قضیہ خلافت پر بحث کی گئی ہے اور امامت علی بن طالب شیعی دلائل کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کے بعد دقیق علمی بحث کے ذریعے اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ عدالت صحابہ پر ایسی لاجواب تحقیقی کتاب ہے جو جام...

  • 30 طبقات ابن سعد - جلد1 (بدھ 16 مئی 2012ء)

    مشاہدات:23324

    حفاظتِ حدیث کے نقطہ نگاہ سے جب رویانِ حدیث کی جانچ پڑتال شروع ہوئی توان کے عہد اور ان کی معاصرت کی تلاش شروع ہوئی۔ اس طرح علم طبقات الرجال وجود میں آیا۔ تذکرہ رجال کی قدیم ترین کتابوں میں سے ایک مہتم بالشان کتاب ’طبقات الکبیر‘ کا اردو قالب اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ نہ صرف یہ کہ یہ کتاب ایک بہت ہی وسیع تذکرہ ہے بلکہ ایسے جزئی واقعات پر بھی اس کا احاطہ ہے جن کے ذکر سے دوسری کتب خالی ہیں۔ ’طبقات ابن سعد‘ کی ترتیب طبقات پر ہے۔ مصنف سب سے پہلے محمد رسول اللہﷺ کی سیرت طیبہ بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ایک ایک چیز کے لیے متعدد روایتیں پیش کرتے ہیں۔ عہد رسالت کے بعد وہ ایک ایک مقام کی تعیین کے ساتھ وہاں کے رہنے والے صحابہ کرام اور تابعین کے حالات طبقہ بہ طبقہ بیان کرتے ہیں۔ ابن سعد سب سے پہلے بدری صحابی کا ذکرکرتے ہیں اس کے بعد سابقون الاولون کا پھر مدینہ منورہ کے دیگر صحابہ کا اس کے بعد مدینہ منورہ کے تابعین کا۔ اس کے بعد اسی ترتیب کے بموجب بصریین، کوفیین اور دیگر مقامات میں رہنے والے صحابہ و تابعین کا طبقات پر مرتب تذکرہ اس کتاب میں ملتا ہے۔ آخری حصہ خواتین کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ اس طریقے کی وجہ سے کتاب کے مسلسل پڑھنے والوں کے سامنے ایک ایک زمانہ پور ی تفصیلات کے ساتھ آ جاتا ہے جو دوسرے طریقہ ترتیب سے نہیں آ سکتا۔(ع۔م)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1542
  • اس ہفتے کے قارئین: 12187
  • اس ماہ کے قارئین: 39881
  • کل قارئین : 45996772

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں