حیات امام ابن حزم(4504#)

محمد ابو زہرہ مصری
غلام احمد حریری
شیخ غلام علی اینڈ سنز پبلشرز لاہور ، حیدرآباد ، کراچی
708
17700 (PKR)
16.3 MB

امام ابن حزم کا پورا نام علی بن احمد بن سعید کنیت ابو محمّد ہے اور ابن حزم کے نام سے شہرت پائی. آپ اندلس کے شہر قرطبہ میں پیدا ہونے اور 72 سال کی عمر میں 452 ہجری میں فوت ہوئے۔ فقہ ظاہری سے متعلق ائمہ کرام کے تذکروں میں جب تک امام ابن حزم﷫ کا نام نہ آئے تو تعارف ادھورا رہ جاتا ہےامام ابن حزم بیسیوں کتب کے مصنف ہیں آپ کی وہ کتابیں جنہوں نے فقہ ظاہری کی اشاعت میں شہرت پائی وہ المحلی اور" الاحکام" فی اصول الاحکام ہیں۔ المحلی فقہ ظاہری اور دیگر فقہ میں تقابل کا ایک موسوعہ ہے۔موخرالذکر کتاب کا مو ضو ع اصول فقہ ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر یہ دونوں کتابیں نہ ہوتیں تو اس مسلک کا جاننے والا کوئی نہ ہوتا۔ ظاہری مسلک کے متبعین نہ ہونے کے با وجود یہ مسلک ہم تک جس زریعہ سے پہنچا ہے وہ زریعہ یہ دونوں کتابیں ہی ہیں۔
زیرتبصرہ کتاب’’حیات امام ابن حزم ‘‘مصری کے مشہور مصنف کتب کثیرہ اور سوانح نگار شیخ محمد ابوزہرہ مصری کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے امام ابن حزم کی سیرت وسوانح ، عصر وعہد، گردوپیش، طلب علم ، شیوخ وتلامذہ ،سیاسی کوائف واحوال، طلب علم میں کثرتِ اسفار ، علمی وسعت،معاصرین کی شہادت، افکار وآراء، فقہ ظاہری کی خصوصیات،سیاسی نظریات ، اصول وقواعد، شرعی دلائل وبراہین، فقہ ظاہری کے منفرد مسائل الغرض ہر وہ چیز بیان کردی ہے جو حیات ابن حزم کی ترتیب وتہذیب کے لیے ازبس ناگریز تھی۔وطن عزیز کے نامور مترجم کتب کثیرہ پروفیسر غلام احمد حریری﷫ نے اس کتاب کو اردو قالب میں ڈھالا ہے اور بعض مقامات پر حواشی بھی لگائے ہیں ۔(م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

مقدمہ

39

تمہید

43

ابن حزم معاصرعلماء کی نظر میں

43

عداوت ابن حزم کےاسباب

44

سلاطین وفقہاء کی کینہ توزی

45

جامعیت اوروسعت مطالعہ

47

ابن حزم عالم نفسیات کی حیثیت سے ابن حزم کی شخصی زندگی

48

ابن حز م کے متباین وحجامات کے وجود واسباب

49

ابن حز م کاعلمی ورثہ

50

ابن حز م اورظاہری فقہ

51

ابن حزم اورداؤد ظاہری کی فقہ کے مابین نقطہ امتیاز

52

ابن حزم کی فقہ کی خصوصیات

52

ابن حزم میں اور ان کاعصر ماحول

53

عصر ابن حزم میں اہل سلام اور عیسائیوں کااختلاط

54

اسلامی افکار کی وحدت

55

عصرابن حز م میں علمی کتب کی فراوانی

56

عصر ابن حزمیں سیاسی اضطراب

56

اندلس کاپرکشش ماحول

57

ابن حز م کی فنی نثر

59

ابن حزم کی سرگزشت حیات انکادور عصر

60

ابن حزم کی سرگزشت حیات

60

ولادت 384ء456ھ

60

ابن حزم کانام ونسب

61

تاریخ ولادت وفات

61

خادندانی نجابت وشرافت

62

حسب ونصب میں اختلاغ

63

ابن حزم فارسی الاصل اوم لاؤ تھے

64

ابن حزم کےخاندان میں سلام

65

ابن حزم کاعہد طقولیت

66

ابن حزم کابچپن

66

سیاسیات سےکنارہ کشی

67

ابن حزم کی حفاظت ونگہداشت

678

ابن حزم کی عفت وعصمت کاراز

67

ابن حزم آلام روزگار کی لپیٹ میں

69

ابن حز م کی زندگی میں عسر یسر کاامتزاج

71

ابن حز م عہد طالب علمی

72

حدیث وفقہ کی تحصیل

72

طالب علم کااولین محرک

73

واقعات پر نقد وجرح

74

مزید تنقید وتبصرہ

75

طلب علم کے بارے میں قطعی فیصلہ

75

مقام تلبیہ میں قیام اورتحیصل فقہ  میں کامل توجہ

76

ابن حز م اورفقہ امام مالک

77

ابن حز م اورفقہ شافعی

78

مختلف علوم وفنون کاتحصیل

79

ابن حز م اورمسند تدریس

80

اندلس میں اسلامی سلطنت کا زوال

81

ابن حزم سکون واطمینان کی تلاش میں

82

ابن حز بلنسیہ میں

83

کیاابن حز م بنی امیہ کےحامی تھے

84

ابن حز م قید وبند میں

85

عبدالرحمان المستظہر تخت خلافت پر ابن حزم المعتقد باللہ کےوزیر کی حیثیت سے

86

اندلس میں اموی خلافت کاخاتمہ اورابن حزم

87

ابن حزم کی سیروسیاحت

89

گردش زمان ونکبت دوراں

89

بلاد اندلس میں ابن حزم کے ذاتی مکانات

90

سفیرقیروان

90

ابن حزم جزیزہ میورقہ ہیں

92

کثرت اسفار کی غرض وغایت

93

ابن حزم کی تصانیف کاجلایا جانااور مراجعت وطن

95

ابن حزم کی اندلس نوردی

95

معتضد کاتصانیف ابن حزم کی نذرآتش کرنا

96

ابو جعفر منصور ارومعتضد کی باہم مشابہت ومماثلث

97

احراق کتب کے اسباب

98

ابن حزم کی تحریریں حکام کے سیاسی مصاصد میں حائل تھیں

99

عداوت ابن حز م کےدیگر اساب

100

علم سے وابستگی

101

آبائی گاؤں میں قیا م اورعلمی مشاغل

102

طلب معاش اورابن حزم

103

فکر معاش سے آزادی

104

کثرت مال ومنال

104

امام ابو حنیفہ اور ابن حزم کے مابین مماثلث

109

سلطانی ہدایا وعطایا کاشرعی حکم اور ابن حزم

109

سلطانی تحائف سےمحتر ز رہنے کےوجود اسباب

109

ابن حز م غنی تھے مگر مسرف اورعیاش نہ تھے

110

ابن حزم کاعلم وفضل

112

ابن حزم ایک جامع عالم کی حیثیت سے

112

ابن حزم عالم ادیان وباطل کی حیثیت سے

113

ابن حزم کی توصیف میں معاصرین کے بیانات

113

ابن احزم کی وسعت علمی

115

فن خطابت اورابن حزم

115

عناصر اربعہ کاذکر بیان

115

ابن حزم کے اوصاف خصوصی طلب علم کےلیے خداواصلاحیتوں کی اہمیت وضرورت

117

ابن حزم کی بے مثال قوت حافظہ

117

حاضرجوابی اور بدیہ گوئی

118

ابن حزم کی وقت فکر ونظر اور

119

عجزوانکسار

121

طلب علم میں جدوجہد

122

طلب علم اخلاص

124

احتساب نفس اورابن حزم

124

آپ کی شدت وحدت کاراز

126

ابن حزم کی تیز طبعی کے اسباب

127

ابن حزم کی صاف گوئی

128

حدت طبع کے ثمرات ونتائج

129

ابن حز م کی تیزی اورراک واحساس

130

ابن حزم کی وفا شعاری

131

عزت نفس اورابن حزم

132

خلاصہ مطالب سابقہ

134

ابن حزم کے شیوخ واساتذہ

135

شیوخ واساتذہ کی کثرت

135

ابو الحسین الفاسی

135

علم فقہ کی تحصیل

136

درس حدیث میں عام طلبہ کےساتھ حاضری

137

طلب حدیث سے طالب علمی کاآغاز

137

شافعی فقہ کی طرف میلان

138

کتب جن سےابن حز م مستفید ہوئے

139

علم ابن حزم کےمصادر ثلاثہ

140

فقہ ظاہری اورابن حزم

141

فقہ صحابہ وتابعین کی اہمیت  ابن حزم کی نگاہ میں

142

علوم عقلیہ اور ابن حزم

143

ابن حزم کااستغراق فی العلم

145

تحصیل علم کامل توجہ کےبغیر ممکن نہیں

145

حیات ابن حزمکاتحلیل وتجرزیہ

145

معاصر علماءسے ابن حز م کےمراسم

146

ابن حزم کےادبی مذاکرات

148

ابن حزم کےاعداد انصار

149

ابن حزم کاعصر عہد

151

عصر عہد سےاثر پذیریاوراہن حزم

153

عصر ابن حزم کےسیاسی حالات

153

اندلس میں فسادات کادوردورہ

154

اندلس میں مردانی حکومت کاقیام

154

عبدالرحمان الناصر کاعہد خلافت

155

اسلامی سلطنت کےزوال کی وجہ جیہ

156

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1215
  • اس ہفتے کے قارئین: 4869
  • اس ماہ کے قارئین: 33118
  • کل قارئین : 46461070

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں