دکھائیں کتب
  • 31 انکار حدیث حق یا باطل؟ (منگل 04 نومبر 2008ء)

    مشاہدات:22107

    منکرین حدیث کے تمام بنیادی شبہات کے دو ٹوک جواب پر مشتمل علمی و تحقیقی کتاب ہے۔ جس میں منکرین حدیث کی طرف سے پیش کئے جانے والے نام نہاد دلائل اور احادیث پر اعتراضات کا محکم براہین کی روشنی میں بھرپور جائزہ لیا گیا ہے۔ فتنہ انکار حدیث کے جائزے پر مشتمل اس کتاب میں ظنیات کی بحث، انکار حدیث کے اصولی دلائل، حجیت و کتابت حدیث، احادیث کے متفرق و متضاد ہونے کی حقیقت، اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور منصب رسالت کی حیثیت، نماز پنجگانہ اور منکرین حدیث، عذاب قبر اور ثواب قبر جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔

  • 32 انکار حدیث کا نیا روپ (جلد اول و دوئم ) (پیر 22 مارچ 2010ء)

    مشاہدات:19116

    پاک و ہند میں علماء اہل حدیث کی خدمت حدیث اسلامی تاریخ کاروشن باب ہے اہل علم نے ہر دور میں اس کی تحسین کی پاک وہند سے کتب حدیث کے نہایت مستند متون شائع ہوئے اس خطہ زمین میں کتب حدیث کی نہایت جامع ومانع شروح وحواشی تحریر کیے گئے۔بر صغیر میں فتنہ انکار حدیث صدیوں سے زوروں پر ہےاس کی بعض صورتیں ایسے صریح انکار حدیث پر مبنی ہیں جس کے حامل کا مسلمان ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے اس فتنہ کے بنیادی اسباب میں دین سے لاعلمی ،غیر مسلم تہذیب سے مرعوبیت اور سیاسی وفکری محکومی سرفہرست ہے یہ پڑھے لکھے تجدد پسند حضرات کافتنہ ہے جوعلوم اسلامیہ سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے اسلام اور اس کے اوامر ونواہی سے جذباتی عقیدت رکھتے ہیں ۔فتنہ انکار حدیث  کو واضح کرنے اور عوام الناس کو اس سے متعارف کروانے کےلیے فدائیان کتاب وسنت نے دن رات محنت کی ان میں سے ایک غازی عزیر بھی ہیں جنہوں نے ’’انکار حدیث کا نیا روپ‘‘جیسی عظیم اور مفصل کتاب لکھ کر حدیث پر اٹھائے جانے والے تمام سوالات کاحل پیش کردیاہے ۔اس کتاب میں جہاں منکرین قرآن وسنت کے تمام اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے وہاں حجیت حدیث ،حفاظت حدیث اور کتابت حدیث جیسے اہم مضامین پر غازی صاحب نے اپنی مجتہدانہ بصیرت سے خوب روشنی ڈالی ہے جس کو پڑھنے کے بعد کسی صائب العقل او رسلیم الفطرت شخص کو حدیث کےمتعلقہ شکوک وشبہات دور کرنے میں مجال انکار نہیں رہتی۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے۔جس میں  حجیت حدیث ،حفاظت حدیث اور کتابت حدیث جیسی اہم مباحث کی تفصیلی گفتگو کے ساتھ منکر ین حدیث امین احسن اصلاحی ک افکار کا کتاب وسنت کی روشنی میں...

  • 33 اوکسفرڈ ابتدائی انسائیکلوپیڈیا زمین اور کائنات (جمعہ 27 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1274

    کائنات میں زمین کے محل وقوع کی معلومات 400 برس کے دور بینی مشاہدات کا نچوڑ ہے، شروع میں زمین کو کائنات کا مرکزسمجھا جاتا تھا، اور کائنات صرف ان سیاروں پر مشتمل تھی جو ننگی آنکھ سے دیکھے جاسکتے تھے اور ان کے کنارے پر مستقل ستاروں کا کرہ تھا۔ سترہویں صدی میں شمس مرکزی نمونے کو تسلیم کئے جانے کے بعد ولیم ہرشل اور دوسروں کے مشاہدے سے معلوم ہوا کہ سورج وسیع ستاروں کی قرص نما شکل میں موجود ہے۔بیسویں صدی تک ایڈون ہبل کے مرغولہ نما سحابیہ کے مشاہدے سے معلوم ہوا کہ ہماری کہکشاں پھیلتی ہوئی کائنات میں موجود ارب ہا ارب کہکشاؤں میں سے ایک ہے بیسویں صدی کے اختتام تک، کائنات کی کل ساخت خاصی واضح ہو گئی تھی، جہاں فوق جھرمٹ اور خالی جگہیں ریشوں اور خالی جگہوں سے وسیع جال بن رہے تھے۔فوق جھرمٹ اور خالی جگہیں کائنات میں آپس میں بندھی ہوئی سب سے بڑی ساختیں ہیں جن کا ہم مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ چونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ کائنات کا کوئی مرکز یا سرحد نہیں ہے، لہٰذا کوئی بھی مخصوص نقطہ ایسا نہیں ہوگا جس کی نسبت سے ہم کائنات میں زمین کے محل وقوع کو بیان کرسکیں۔ تاہم کیونکہ قابل مشاہدہ کائنات کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ وہ کائنات کا ایسا حصّہ ہے جو ارضی مشاہدین کو نظر آتا ہے، اس تعریف کی رو سے زمین کائنات کا مرکز ہے۔ اس بات کا اب بھی تعین نہیں کیا جا سکا کہ آیا کائنات لامحدود ہے یا نہیں۔ بہت سے ایسے مفروضے بھی موجود ہیں جن کے مطابق شاید ہماری کائنات ان کثیر کائناتوں میں محض ایک مثال ہے؛ تاہم ابھی تک متعدد کائناتوں (multiverse) کے وجود کا کوئی مشاہدہ نہیں کیا جا سکا، کچھ تو یہ بھ...

  • انسان نے اپنے صدیوں کے روزمرہ مشاہدات سے اور تجربات سے مندرجہ ذیل اصول اخذ کئے تھے۔کہ یہ کائنات سمجھ میں آ سکتی ہے کیونکہ اس کے کچھ قوانین ہیں جو ہر جگہ یکساں طور پر نافذ ہیں۔ ان قوانیں کو جان کر فطری قوتوں کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ان قوتوں سے حسبِ منشاء ضرورت کا کام لیا جا سکتا ہے۔آج ہم اِن اصولوں کے ذریعے حاصل کردہ علم کو سائنس کا نام دیتے ہیں۔انسان نے جو سب سے پہلی سائنسی دریا فت کی تھی، وہ تھی " آگ" انسان نے دیکھا کہ آگ روشن ہے، جلا دیتی ہے، پکا دیتی ہے، جانوروں کو بھگا دیتی ہے، یہ توانائی ہے، اسے قابو کیا جا سکتا ہے ، اس سے کام لئے جا سکتے ہیں یہ سائنسی تجربات تھے۔ یہ اُس کی سائنس تھی۔ انسان کائنات کو صرف سمجھتا ہی نہیں تھا وہ تخلیق اور ایجاد کا ذہن بھی رکھتا تھا۔ فطری قوتوں کا حسبِ منشا استعمال کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے قوانین قدرت کو نئے رخ سے استعمال کرنا شروع کیا۔اپنے اختیارات سے استعمال کرنا شروع کیا۔ یہ استعمال ٹیکنالوجی کہلایا۔انسان نے جو سب سے پہلے ایجاد کی وہ پہیہ تھی ۔ اس نے دیکھا کہ گول چیز دیگر شکلوں والی اشیاء کی نسبت باآسانی حرکت کر سکتی ہے۔ اس قانون قدرت کو اس نے پہیہ بنا کر استعمال کیا۔ یہ اس کی ٹیکنالوجی تھی۔ آگ توانائی تھی ، سائنس تھی اور پہیہ ایجاد تھا، ٹیکنالوجی تھی۔پھر انسان نے دیکھا کہ جس کے پاس توانائی تھی وہ طاقتور تھا، اسی نے دوسروں پر سبقت حاصل کر لی تھی۔ جس کے پاس ایجاد تھی، اسی کے پاس قوت تھی وہ آگے بڑھ گیا ۔ ان کے استعمال سے انسان پر ترقی کے راستے کھل گئے۔یعنی آگ توانائی ہے پہیہ ایجاد ہے۔توانائی سائنس ہے...

  • کتاب وسنت ڈاٹ کام پر جہاں مذہبی ، دینی، اور علمی وتحقیقی کتب اپلوڈ کی جاتی ہیں ۔وہاں  مدارس وسکولز اور کالجز ویونیورسٹیز کے طلباء کی سہولت کے لئے نصابی کتب کو بھی ترجیحی طور پر اپلوڈ کیا جاتا ہے، تاکہ طلباء بآسانی ان کتب کو حاصل کر سکیں اور علمی ونصابی تیار بھر پور طریقے سے کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " ایم۔اے اسلامیات ، پارٹ  2، اہم سوالات کا جامع حل " محترم غلام مصطفی ایم۔اے علوم اسلامیہ، محترمہ مسز حریم مصطفی ایم۔ اے علوم اسلامیہ کی مشترکہ کاوش ہے ، جس کی نظر ثانی محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد شریف شاکر شعبہ علوم اسلامیہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد نے فرمائی ہے۔یہ کتاب کتاب انہوں نے ایم، اے اسلامیات سال دوم کےطلباء کے لئے بڑی محنت  سے بطور گائیڈ تیار کی ہے۔اس کتاب میں انہوں نے سال دوم کے تمام  اسلامی پرچہ جات کو بڑی تفصیل سے جمع کر دیا ہے، جس میں فقہ، دعوت وارشاد، اسلام اور جدید عمرانی افکار وتحریکات، اسلام اور سائنس، اسلام اور فلسفہ، عالم اسلام کے وسائل ومسائل اور اسلام اور جدید سیاسی وعمرانی افکار شامل ہیں۔امید واثق ہے  کہ اگر کوئی طالب علم اس گائیڈ سے تیاری کر کے امتحان دیتا ہے تو وہ ضرور اچھے نمبروں سے پاس ہوگا۔ان شاء اللہ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو دنیوی واخروی تما م امتحانوں میں کامیاب فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 37 بابرکت رزق اور موجودہ دور کے فتنے (ہفتہ 16 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2012

    یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان نے اس دھرتی پر اپنی ضرورتیں لے کر قدم رکھا۔ کھانے کے لیے غذا، پینے کے لیے پانی، پہننے کے لیے لباس،گرمی،سردی، بارش، طوفان سے بچنے کےلیے گھر انسان کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔اور اس کے زندہ رہنے کا دارومدار ان ضرورتوں پر ہےاسی طرح حسن پسندی کی حس بھی انسانی فطرت میں شامل ہے، جس کے تحت وہ ہر چیز میں حسن و خوبی کو پسند کرتا ہے۔ایسے ہی سہولت اور آسائش پسندی بھی انسانی مزاج کاحصہ ہے،جس کے لیے وہمیشہ بہتر سےبہتر کی تلاش میں رہتا ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق خالق کائنات میں سب بنیادی ضرورتیں، سہولتیں، آسائشیں، زیبائش کی ہر چیز اس کائنات میں پیدا کر رکھی ہے۔ اب انسان کو چاہیے کہ وہ ان آسائشوں سے اسلام کی تعلیمات کے مطابق فائدہ اٹھائے۔ مگر انسان عجلت میں آکر حلال وحرام کی تمیز کو پس پشت ڈال دیتا ہے اور ہوس و لالچ کا شکار ہوتے ہوئے دنیا و آخرت میں خسارے کا سامان تیارکرتا ہے۔ زیر بحث کتاب"بابرکت رزق اور موجودہ دور کے فتنے"خالد گھرجاکھی کی تالیف کردہ ہے۔جس میں کسب حلال کی ترغیب دی گئی ہےاور وہ اسباب جن سے تجارت حرام ہوجاتی ہے ان کابڑے احسن انداز سے ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کو اجر عظیم سے نوازے اور بنی نوع کو کسب حلال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 38 تجدید و احیائے دین (منگل 12 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:2281

    اسلام کی اصطلاحی زبان کے جو الفاظ کثرت سے زبان پر آتے ہیں ان میں سے ایک لفظ مجدد بھی ہے۔اس لفظ کا ایک مجمل مفہوم تو ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ جو شخص دین کو از سر نو زندہ اور تازہ کرے وہ مجدد ہے۔لیکن اس کے تفصیلی مفہوم کو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔کہ تجدید دین کی حقیقت کیا ہے؟ کس نوعیت کے کام کو تجدید دے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟ اس کام کے کتنے شعبے ہیں؟مکمل تجدید کا اطلاق کس کارنامے پر ہو سکتا ہے؟اور جزوی تجدید کیا ہوتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تجدید واحیائے دین "جماعت اسلامی پاکستانی کے بانی مولانا سید ابو الاعلی مودوی﷫ کی تصنیف ہے ۔جس میں آپ نے تحریک تجدید واحیائے دین کا بے لاگ تجزیہ کیا ہے، مجددین کی حقیقی عظمت کو اجاگر کیا ہے اور ان کے عظیم کارناموں کی اہمیت کو جس انداز میں بیان کیا ہے وہ نہ صرف آئندہ مورخین کے لئے ایک صحیح بنیاد فراہم کرے گی بلکہ دین کے خادموں کے دلوں میں ایک تازہ ولولہ، ایک نیا جوش اور دین کی سرفرازی کے لئےایک نئی تڑپ اور لگن پیدا کرے گی۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 39 تحفہ منکرین حدیث (منگل 07 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:1149

    ہر دور میں دشمنانِ اسلام نے اسلام کے خلاف بڑی گہری سازشیں کیں کسی نے اللہ کا انکار کیا، کسی نے انیباء و رسل کا انکار کیا اور کسی آسمانی کتابوں کا انکار کیا، لیکن ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے دشمنان اسلام کی سازشوں کو نا کام کیا کیونکہ اللہ نعالیٰ نے دین اسلام کو بھیجا ہی ادیان باطلہ پر غالب کرنے کے لئےہے۔لہذا اس دور میں بھی دشمنان اسلام نے قرآن مجید کا انکارایسے اندازمیں کیا ، وہ اس طرح کہ انہوں نے ایسی چیز کا انکار کیا ہے جس کے بغیرقرآن سمجھنا نا ممکن ہے اور وہ ہے رسول اکرم ﷺ کی احادیث مبارکہ کیونکہ جب احادیث کا انکار ہو گیا تو شریعت کی باقی چیزوں کا انکار خود بخود ہو جائے گا۔اور اللہ نے تعالیٰ کے فضل کرم سے منکرین حدیث کی کوششوں کو نا کام بنانے کے لئے علماء و محدثین نے محنتیں کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تحفہ منکرین حدیث‘‘ابو واقد طاہر احمد کی بہت عمدہ کاوش ہے ۔ جس میں منکرین حدیث کے اعتراضات کا ازالہ کرتے ہوئے اس کتاب کو تین حصّوں میں منقسم کیا ہے ۔پہلا حصہ ’’حدیث وحی الٰہی ہے ‘‘ پر مشتمل ،دوسرا حصہ ’’حفاظت حدیث‘‘کے بیان میں اور تیسرا حصہ ’’اعتراضات کے جوابات ‘‘ میں ہے ۔لہذا اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے حدیث کی معرفت اور آپﷺسے محبت پیدا ہو گی۔ یہ تصنیف منکرین حدیث کے شکوک شبہات کو دور کرنے کے لیے اور منکرین حدیث کے لیے کھلی تلوار ہے - پر فتن دور میں اپنے آپ کو ذہنی انتشار سے محفوظ رکھنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی ضروری ہےاللہ رب العزت ابو واقد طاہر احمد...

  • تزکیۂ نفس ایک قرآنی  اصطلاح ہے ۔اسلامی شریعت کی اصطلاح میں تزکیہ کا مطلب ہے اپنے نفس کوان ممنوع معیوب اور مکروہ امور سے پاک صاف رکھنا جنہیں قرآن وسنت میں ممنوع معیوب اورمکروہ کہا گیا ہے۔گویا نفس کو گناہ اور عیب دارکاموں کی آلودگی سے  پاک صاف کرلینا اور  اسے  قرآن وسنت کی روشنی  میں محمود ومحبوب اور خوب صورت خیالات  وامور سے آراستہ رکھنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے  انبیاء کو جن اہم امور کےلیے بھیجا ان میں سے ایک تزکیہ نفس بھی ہے  جیسا کہ  نبی اکرم ﷺ کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے : هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ‘‘اس  آیت سے معلوم ہوتاہےکہ رسول اکرم ﷺ پر نوع انسانی کی اصلاح کےحوالے جو اہم ذمہ داری  ڈالی گئی اس کےچار پہلو ہیں ۔تلاوت آیات،تعلیم کتاب،تعلیم حکمت،تزکیہ انسانی۔ قرآن مجید میں یہی مضمون چار مختلف مقامات پر آیا ہے  جن میں ترتیب مختلف ہے  لیکن ذمہ داریاں یہی  دہرائی گئی ہیں۔ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تلاوت آیات اورتعلیم کتاب وحکمت کا منطقی نتیجہ تزکیہ ہے۔تزکیہ نفس  کے حصول کےلیے قرآن وحدیث میں وارد بہت سے امور کااختیار کرنا اور بہت سےامور کا ترک کرنا ضروری ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ تعلیمات نبوی ﷺ اور جدید علم نفسیات جلد2‘‘ مولانا ہارون معاویہ صاحب کی تصنیف ہے ۔ یہ کتاب نبوی تعلیمات اور جدید علم نفسیا...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2146
  • اس ہفتے کے قارئین: 4344
  • اس ماہ کے قارئین: 38365
  • کل قارئین : 47853487

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں