اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس
بنگلور ٹاؤن، شارع فیصل، کراچی
5 کل کتب
دکھائیں

  • 1 شمالی امریکا کے مسلمان (جمعہ 02 فروری 2018ء)

    مشاہدات:813

    اسلام خدا کی طرف سے آخری دین اور مکمل دین ہے جو انسانیت کے تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے اور آج کی سسکتی ہوئی انسانیت کو امن اور سکون کی دولت عطا کرتے ہوئے دنیاوی کامیابی کے ساتھ اخروی نجات کا باعث بن سکتا ہے ۔ اسلام وہ دین یا نظام حیات ہے جس میں حضور ختم المرسلینﷺ کی وساطت سے انسانیت کے نام خدا کے آخری پیغام یعنی قرآن مجید کی روشنی میں زندگی بسر کی جائے۔ اُس وحی خداوندی کی روشنی میں فطرت کی قوتوں کو مسخر کرتے ہوئے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لایا جائے۔اُس ضابطہ حیات پر کامل ایمان لاتے ہوئے قوانینِ خداوندی کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کرنے کا نام اسلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے جو نظام اور قانون دیا ہے اس کا نام اسلام ہے۔ اس نظام زندگی کی رہنمائی انبیا اکرام کی صورت میں جاری رہی اور حضور پاک ﷺ پر یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔

    زیر تبصرہ کتاب ’’ شمالی امریکہ کے مسلمان‘‘ ای وون یازبک حدّاد اور جین آئیڈلمین اسمتھ کی کتاب ہے جس کا اردو ترجمہ شاہ محی الحق فاروقی نے کیا ہے۔ جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکا کے بڑے بڑے شہری مراکز میں اسلامی آبادیوں کی پچّی کاری کو بیان کیا ہے۔اور شہری پس منظر میں نسلی آبادیوں پر پردہ چاک کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مترجم کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو عزت ومقام عطا فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

  • 2 تہذیبوں کا تصادم ( ڈاکٹر سہیل انجم ) (بدھ 07 فروری 2018ء)

    مشاہدات:1423

    ۱۴۰۰ء سال کی تاریخ میں اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان تعامل کو تہذیبی تصادم کی صورت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ ہم صلیبی جنگوں کا حوالہ دے سکتے ہیں جو ہم نے اسلام کے خلاف مغربی ایشیا اور اَندلس میں لڑیں۔ ہم سالانہ عثمانی مہم کا یورپ میں حوالہ دے سکتے ہیں جس نے مقدس جنگ کی شکل دھار لی۔ کیا ہم اپنے آپ کو کئی سو سالوں کی مناظرانہ تحریروں کے وِرثے سے جو مغرب نے اسلام کے خلاف پیدا کیا، بیگانہ کرسکتے ہیں؟ بالکل اس طرح جیسے مسلمانوں نے اُنیسویںصدی تک یورپی تہذیب کوغیر اہم خیال کرکے کیا۔لیکن، متبادل طور پر، ہم وہ بھی کرسکتے ہیں جو زیادہ تر علما آج کررہے ہیں۔ وہ یہ کہ ہم دیکھیں کہ عیسائی اور مسلم تہذیب نے تاریخ کے ان سالوں میں کیسے فائدہ مند معاملہ کیا اور ایک دوسرے کو بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اب تمام مسلم امت کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ماضی میں کی ہوئی غلطیوں پر قابو پا لیں اوران شاء اللہ ایک دن عالمی نظام کی تشکیل مسلمانوں کے ہاتھ آ جائےگی۔

    زیر تبصرہ کتاب ’’ تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو‘‘ معروف امریکی سکالر سیموئیل پی ہنٹنگٹن کی تصنیف ہے ۔ جس کا اردو ترجمہ سہیل انجم صاحب نے کیا ہے۔ مصنف نے اس میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا عالمی سیاست کے مستقبل میں تہذیبوں کے درمیان جھگڑے جاری رہیں گے؟پھر اس کا جواب یہ دیا ہے کہ تہذیبوں کے درمیان تصادم عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔مصنف کی نظر میں تہذیبوں کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا بین الاقوامی نظام،جنگ سے بچاؤ کا واحد وسیلہ ہے ۔مسٹر ہنٹنگٹن نے وا...

  • انسان نے اپنے صدیوں کے روزمرہ مشاہدات سے اور تجربات سے مندرجہ ذیل اصول اخذ کئے تھے۔کہ یہ کائنات سمجھ میں آ سکتی ہے کیونکہ اس کے کچھ قوانین ہیں جو ہر جگہ یکساں طور پر نافذ ہیں۔ ان قوانیں کو جان کر فطری قوتوں کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ان قوتوں سے حسبِ منشاء ضرورت کا کام لیا جا سکتا ہے۔آج ہم اِن اصولوں کے ذریعے حاصل کردہ علم کو سائنس کا نام دیتے ہیں۔انسان نے جو سب سے پہلی سائنسی دریا فت کی تھی، وہ تھی " آگ" انسان نے دیکھا کہ آگ روشن ہے، جلا دیتی ہے، پکا دیتی ہے، جانوروں کو بھگا دیتی ہے، یہ توانائی ہے، اسے قابو کیا جا سکتا ہے ، اس سے کام لئے جا سکتے ہیں یہ سائنسی تجربات تھے۔ یہ اُس کی سائنس تھی۔ انسان کائنات کو صرف سمجھتا ہی نہیں تھا وہ تخلیق اور ایجاد کا ذہن بھی رکھتا تھا۔ فطری قوتوں کا حسبِ منشا استعمال کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے قوانین قدرت کو نئے رخ سے استعمال کرنا شروع کیا۔اپنے اختیارات سے استعمال کرنا شروع کیا۔ یہ استعمال ٹیکنالوجی کہلایا۔انسان نے جو سب سے پہلے ایجاد کی وہ پہیہ تھی ۔ اس نے دیکھا کہ گول چیز دیگر شکلوں والی اشیاء کی نسبت باآسانی حرکت کر سکتی ہے۔ اس قانون قدرت کو اس نے پہیہ بنا کر استعمال کیا۔ یہ اس کی ٹیکنالوجی تھی۔ آگ توانائی تھی ، سائنس تھی اور پہیہ ایجاد تھا، ٹیکنالوجی تھی۔پھر انسان نے دیکھا کہ جس کے پاس توانائی تھی وہ طاقتور تھا، اسی نے دوسروں پر سبقت حاصل کر لی تھی۔ جس کے پاس ایجاد تھی، اسی کے پاس قوت تھی وہ آگے بڑھ گیا ۔ ان کے استعمال سے انسان پر ترقی کے راستے کھل گئے۔یعنی آگ توانائی ہے پہیہ ایجاد ہے۔توانائی سائنس ہے...

  • 4 اسلام میں پانی کا انتظام (ہفتہ 02 جون 2018ء)

    مشاہدات:1350

    پانی انسانی زندگی کا نہایت اہم غذائی جزو ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ پانی ہی زندگی ہے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ اب تک دریافت شدہ کروڑوں سیاروں اور ستاروں میں سے ہماری زمین ہی وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی پوری آب تاب کے ساتھ رواں دواں ہے اور اس کی واحد وجہ یہاں پر پانی کا ہونا ہے ۔پانی جسم انسانی کی بناوٹ اور اس کی مشینری کے اندر افعال انجام دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی غیرموجودگی یاکمی کی صورت میں انسانی جسم مختلف خرابیوں سے دوچار ہو جاتا ہے۔مشرق وسطی اورشمالی افریقہ میں پانی میں بڑی تیزی کےساتھ ترقیات کا کلیدی مسئلہ بنتا جارہا ہے ۔ یہ خطہ ساری دنیا میں آبادی میں اضافے کی بلند ترین اوسط شرح رکھنے والے علاقوں میں ایک ہے۔جبکہ یہاں قدرتی پانی کی فراہمی قلیل ہے۔یہ خطہ مختلف عقائد رکھنے والی بڑی بڑی مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ تیس کروڑ مسلمانوں کا بھی وطن ہے۔ اس لیے اسلامی تناظر کی تفہیم کو عام کرنا مجوزہ آبی انتظام کی پالیسیوں کےحوالے سے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے مسلمان ممالک اور اس جیسے دیگر ممالک کی پائیدار اور منصفانہ ترقی کی کنجی ہے۔
    زیر نظر کتاب ’’ اسلام میں پانی کا انتطام ‘‘ ناصر آئی فاروقی اور اسیت کے بسوا س کی تصنیف ہے اس کتاب میں مجوزہ آبی انتظام کی متعدد پالیسیوں کو اسلامی تناظر میں پیش کیا گی ہے جس میں طلب آب کا انتظام ضائع شدہ پانی کا دوبارہ استعمال اور اضافہ شدہ محصولات کے موضوعات شامل ہیں ۔ یہ کتاب ان مققین کے لیے وسیع تر مکالمے کی راہیں کھولتی ہے جو آبی انتظام کی ایسی پالیسیوں کی نشاندہی کرر ہے ہ...

  • 5 اوکسفرڈ ابتدائی انسائیکلوپیڈیا زمین اور کائنات (جمعہ 27 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1204

    کائنات میں زمین کے محل وقوع کی معلومات 400 برس کے دور بینی مشاہدات کا نچوڑ ہے، شروع میں زمین کو کائنات کا مرکزسمجھا جاتا تھا، اور کائنات صرف ان سیاروں پر مشتمل تھی جو ننگی آنکھ سے دیکھے جاسکتے تھے اور ان کے کنارے پر مستقل ستاروں کا کرہ تھا۔ سترہویں صدی میں شمس مرکزی نمونے کو تسلیم کئے جانے کے بعد ولیم ہرشل اور دوسروں کے مشاہدے سے معلوم ہوا کہ سورج وسیع ستاروں کی قرص نما شکل میں موجود ہے۔بیسویں صدی تک ایڈون ہبل کے مرغولہ نما سحابیہ کے مشاہدے سے معلوم ہوا کہ ہماری کہکشاں پھیلتی ہوئی کائنات میں موجود ارب ہا ارب کہکشاؤں میں سے ایک ہے بیسویں صدی کے اختتام تک، کائنات کی کل ساخت خاصی واضح ہو گئی تھی، جہاں فوق جھرمٹ اور خالی جگہیں ریشوں اور خالی جگہوں سے وسیع جال بن رہے تھے۔فوق جھرمٹ اور خالی جگہیں کائنات میں آپس میں بندھی ہوئی سب سے بڑی ساختیں ہیں جن کا ہم مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ چونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ کائنات کا کوئی مرکز یا سرحد نہیں ہے، لہٰذا کوئی بھی مخصوص نقطہ ایسا نہیں ہوگا جس کی نسبت سے ہم کائنات میں زمین کے محل وقوع کو بیان کرسکیں۔ تاہم کیونکہ قابل مشاہدہ کائنات کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ وہ کائنات کا ایسا حصّہ ہے جو ارضی مشاہدین کو نظر آتا ہے، اس تعریف کی رو سے زمین کائنات کا مرکز ہے۔ اس بات کا اب بھی تعین نہیں کیا جا سکا کہ آیا کائنات لامحدود ہے یا نہیں۔ بہت سے ایسے مفروضے بھی موجود ہیں جن کے مطابق شاید ہماری کائنات ان کثیر کائناتوں میں محض ایک مثال ہے؛ تاہم ابھی تک متعدد کائناتوں (multiverse) کے وجود کا کوئی مشاہدہ نہیں کیا جا سکا، کچھ تو یہ بھ...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 887
  • اس ہفتے کے قارئین: 7056
  • اس ماہ کے قارئین: 46624
  • کل قارئین : 47265038

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں