سموئیل پی ہنٹنگٹن

  • سموئیل پی ہنٹنگٹن

    No Image
    یہ کتاب معروف امریکی سکالر سیموئیل پی ہنٹنگٹن کی تصنیف ہے ۔مصنف نے اس میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا عالمی سیاست کے مستقبل میں تہذیبوں کے درمیان جھگڑے جاری رہیں گے؟پھر اس کا جواب یہ دیا ہے کہ تہذیبوں کے درمیان تصادم عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔مصنف کی نظر میں تہذیبوں کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا بین الاقوامی نظام،جنگ سے بچاؤ کا واحد وسیلہ ہے ۔مسٹر ہنٹنگٹن نے واضح کیا ہے کہ مسلم ممالک میں آبادی کا دھماکہ خیز اضافہ اور مشرقی ایشیاء کا معاشی ابھار عالمی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے ۔ان پیش رفتوں نے مغربی بالا دستی کو چیلنج کیا ہے اور نام نہاد مغربی آفاقی تصورات کی مخالفت کو فروغ دیا ہے نیز نیو کلیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ،ترک وطن،انسانی حقوق اور جمہوریت جیسے مسائل کے حوالے سے تہذیبی جھگڑے کو بھڑکایا ہے ۔یہ کتاب یقینی طور پر دنیا میں سب سے زیادہ موضوع بحث بننے والی کتابوں سے ایک ہے۔
    نوٹ:یہ کتاب اس لیے پیش کی جارہی ہے کہ ان غیر اسلامی تصورات ونظریات کو سمجھنے میں مدد ملے،جن سے ایک دنیا متاثر ہو رہی ہے تاکہ ان کی تردید وتغلیط کی راہ ہموار ہو سکے۔)(ط۔ا)

    مزید مطالعہ۔۔۔

  • سموئیل پی ہنٹنگٹن

    No Image

    ۱۴۰۰ء سال کی تاریخ میں اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان تعامل کو تہذیبی تصادم کی صورت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ ہم صلیبی جنگوں کا حوالہ دے سکتے ہیں جو ہم نے اسلام کے خلاف مغربی ایشیا اور اَندلس میں لڑیں۔ ہم سالانہ عثمانی مہم کا یورپ میں حوالہ دے سکتے ہیں جس نے مقدس جنگ کی شکل دھار لی۔ کیا ہم اپنے آپ کو کئی سو سالوں کی مناظرانہ تحریروں کے وِرثے سے جو مغرب نے اسلام کے خلاف پیدا کیا، بیگانہ کرسکتے ہیں؟ بالکل اس طرح جیسے مسلمانوں نے اُنیسویںصدی تک یورپی تہذیب کوغیر اہم خیال کرکے کیا۔لیکن، متبادل طور پر، ہم وہ بھی کرسکتے ہیں جو زیادہ تر علما آج کررہے ہیں۔ وہ یہ کہ ہم دیکھیں کہ عیسائی اور مسلم تہذیب نے تاریخ کے ان سالوں میں کیسے فائدہ مند معاملہ کیا اور ایک دوسرے کو بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اب تمام مسلم امت کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ماضی میں کی ہوئی غلطیوں پر قابو پا لیں اوران شاء اللہ ایک دن عالمی نظام کی تشکیل مسلمانوں کے ہاتھ آ جائےگی۔

    زیر تبصرہ کتاب ’’ تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو‘‘ معروف امریکی سکالر سیموئیل پی ہنٹنگٹن کی تصنیف ہے ۔ جس کا اردو ترجمہ سہیل انجم صاحب نے کیا ہے۔ مصنف نے اس میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا عالمی سیاست کے مستقبل میں تہذیبوں کے درمیان جھگڑے جاری رہیں گے؟پھر اس کا جواب یہ دیا ہے کہ تہذیبوں کے درمیان تصادم عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔مصنف کی نظر میں تہذیبوں کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا بین الاقوامی نظام،جنگ سے بچاؤ کا واحد وسیلہ ہے ۔مسٹر ہنٹنگٹن نے واضح کیا ہے کہ مسلم ممالک میں آبادی کا دھماکہ خیز اضافہ اور مشرقی ایشیاء کا معاشی ابھار عالمی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے ۔ان پیش رفتوں نے مغربی بالا دستی کو چیلنج کیا ہے اور نام نہاد مغربی آفاقی تصورات کی مخالفت کو فروغ دیا ہے نیز نیو کلیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ،ترک وطن،انسانی حقوق اور جمہوریت جیسے مسائل کے حوالے سے تہذیبی جھگڑے کو بھڑکایا ہے ۔یہ کتاب یقینی طور پر دنیا میں سب سے زیادہ موضوع بحث بننے والی کتابوں سے ایک ہے۔

    مزید مطالعہ۔۔۔

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39760560

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں