دکھائیں کتب
  • ذکر عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معانی یاد کرنا ،یاد تازہ کرنا ،کسی شئے کو بار بار ذہن میں لانا ،کسی چیز کو دہرانا اور دل و زبان سے یاد کرنا ہیں۔ذکر الہٰی یادِ الہٰی سے عبارت ہے ذکر الہٰی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ ہر وقت اور ہر حالت میں۔ اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے اپنے معبود حقیقی کو یاد رکھے اور اس کی یاد سے کبھی غافل نہ ہو۔ ذکر الہٰی ہر عبادت کی اصل ہے تمام جنوں اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد عبادت الہٰی ہے اور تمام عبادات کا مقصودِ اصلی یادِ الہٰی ہے ۔کوئی عبادت اور کوئی نیکی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور یاد سے خالی نہیں۔مردِ مومن کی یہ پہچان ہے کہ وہ جب بھی کوئی نیک عمل کرے تو اس کا مطمعِ نظر اور نصب العین فقط رضائے الہٰی کا حصول ہو ۔یوں ذکرِ الہٰی رضائے الہٰی کا زینہ قرار پاتا ہے۔ اس اہمیت کے پیش نظر قرآن و سنت میں جابجا ذکر الہٰی کی تاکید کی گئی ہے۔ کثرت ذکر محبت الہٰی کا اولین تقاضا ہے :انسانی فطرت ہے کہ وہ اس چیز کو ہمیشہ یاد کرتا ہے جس کے ساتھ اس کا لگاؤ کی حدتک گہرا تعلق ہو ۔وہ کسی صورت میں بھی اسے بھلانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ زیر نظر کتاب ’’ اللہ کا ذکر فضائل،فوائد ،برکات ،ثمرات  ‘‘امام ابن القیم  الجوزیہ ﷫ کی ایک نادر اور انتہائی  نفع بخش تصنیف   ’’ الوابل الصیب من الکلم الطیب‘‘ میں  سے حصۂ ذکر کا عام فہم اور سلیس اردو ترجمہ ہے  یہ ترجمہ مولانا  خالد محمود صاحب ( فاضل جامعہ اشرفیہ ) نے کیا  ہے  تاکہ اردو داں طبقہ سے امام ابن قیم کی اس  کتاب سے مست...

  • 72 اللہ کی عبادت علم و یقین کے ساتھ (جمعرات 26 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:2082

    اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے اپنے پیروکاروں کی اخلاقی اور روحانی دونوں اعتبا ر سے تربیت کر کے ان کو اس بات کی جانب راغب کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے لئے جہدوجہد کریں بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کی بھی مدد کریں اور آگے بڑھنے میں مدد کریں ،انکا خیال رکھیں اوراپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک کریں نہ کہ انکے دلوں کودکھی کریں۔قرآن کریم کا موضوع ہی انسان ہے تو اس میں انسان کے لئے ہر حوالے سے احکامات موجود ہیں جس پر وہ عمل کر کے اپنی زندگی کو پرسکون طریقہ کارکے مطابق بسر کر سکتا ہے ۔مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہم مسلمانوں نے خاص طور پر اس الہامی کتاب کے احکامات پر عمل درآمد کرنا تقریباََ چھوڑ ہی دیاہے جس کی وجہ سے ہم گونا گوں مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔قرآن مجید میں بیان کردہ احکامات ہر دور کے لئے یکساں ہیں ۔یہ طرہ امتیاز اسی آسمانی کتاب کو حاصل ہے کہ اس میں زیر زبر تک کی ہیر پھیر ممکن نہیں ہے اور اس میں بیان کردہ احکامات پر کسی بھی لمحے انسان عمل کرکے اپنی نجات کو ممکن بنا سکتا ہے۔شرعی احکامات محض ایک دو موضوعات پر مبنی نہیں ہیں  بلکہ یہ اُن تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں جس سے انسان کو واسطہ پڑتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اللہ کی عبادت علم ویقین کے ساتھ"محترم محمد بن مناور الحنینی  کی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ محترم قاری محمد اقبال عابد نے کیا ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے شرعی احکام کی اقسام اوران کا علم ہونے کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ) عبادات 

  • 73 اللہ کے مہمانوں کی خدمت میں ( کلر بمعہ تصویر ) (جمعہ 17 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:1482

    بیت اللہ کا حج  ارکانِ اسلام میں ایک اہم ترین  رکن ہے۔ بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اورآرزو ہے۔ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر  زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے، اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبویﷺ کہ آپ نےفرمایا "الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة "حج مبرور کا ثواب جنت کے  سوا کچھ نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں زیرنظر کتاب " اللہ کے مہمانوں کی خدمت میں "وزارت اطلاعات ومذہبی امور سعودی عرب کی کاوش ہے۔ جس میں انہوں  حج وعمرہ کے تمام مسائل او ر اس دوران پڑھی جانے والی دعائیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جمع کر دی گئی ہیں ۔اور اس کے ساتھ قربانی وعیدین کے مسائل بھی نہایت اختصار مگر دلائل اور جامعیت کے ساتھ بیان کر دیئے ہیں،اور جا بجا رنگین تصاویر بھی لگا دی ہیں تاکہ مقامات مقدسہ کی زیارت کرنے میں کوئی کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔سعودی حکوت کی طرف سے مرتب کردہ یہ دلکش کتاب خود پڑھنے اور عزیز واقارب دوست احباب کو تحفہ دینے کے لائق ہے تاکہ حج وعمرہ اور قربانی وعیدین کے فرائض مسنون طریقے سے ادا کیے جاسکیں اللہ تعالی ان  کی اس کاوش کو اہل اسلام کے لیے مفید بنائے۔آمین۔(راسخ)

    حج 
  • 74 اللہ کے پسندیدہ ایام (جمعہ 09 فروری 2018ء)

    مشاہدات:979

    اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور اس کے لیے کچھ ایسے مواسم کا انتخاب فرمایا ہے جن میں عبادت باقی  ایام کی بہ نسبت زیادہ افضل ہوتی ہے‘ جیسا کہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ کہ جس میں ایک نیکی کا اجر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے اور یوم عرفہ ‘ شب قدر کہ ہزار مہینے کی عبادت کا ثواب ملتا اور اسی طرح ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں عبادت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک ذوالحجہ کے پہلے دس دن رمضان کے آخری دس سے بھی افضل ہیں مگر افسوس کے اکثر مسلمانوں کو ان فضائل کا علم اور شعور تک نہیں ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  ایک کتابچہ ہے جو خاص عشرہ ذوالحجہ کے فضائل پر مشتمل ہے۔ اس میں سب سے پہلے عشرہ ذوالحجہ کے فضائل قرآن پاک سے بیان کیے گئے ہیں اور عشرہ ذوالحجہ کی وجہ تسمیہ کو بھی بیان کیا گیا ہے۔پھر عشرہ ذوالحجہ کے فضائل احادیث مبارکہ سے بیان کیے گئے ہیں۔ اور پھر عشرہ ذوالحجہ کے مستحب اعمال کون کون سے ہیں ان کو بیان کیا گیا ہے اور عشرہ ذوالحجہ کی خصوصیات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ قرآن وحدیث کے بعد عشرہ ذوالحجہ اور سلف صالحین کے عنوان سے سلف صالحین کے اقوال پیش کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب’’ اللہ کے پسند یدہ ایام عشرہ ذو الحجہ کے فضا ئل اعمال اور خصا ئل ‘‘ حافظ شفیق الرحمن زاہد کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذ...

    حج 
  • زمانہ جس قدر خیرالقرون سے دور ہوتا جارہا ہے، اتنا ہی فتنوں کی تعداد اور افزائش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ہر روزایک نیا فتنہ سر اٹھاتا ہے اور عوام الناس کو اپنے نئے اعتقاد ،افکار اور اعمال کی طرف دعوت دیتاہے۔ اپنی خواہشات نفسانی کے پیش نظر قرآن وسنت کی وہ تشریح کرتا ہے جو ان کے خود ساختہ مذہب واعمال کے مطابق ہو۔عوام چونکہ ان کے مکروفریب سے ناواقف ہوتے ہیں ۔لہذا ان کے دام میں پھنس جاتے ہیں اور بعض اوقات اپنے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔انہی فتنوں میں ایک تقلید کا فتنہ ہے،جس نے لوگوں کے اذہان کو جامد کر کے رکھ دیا ہے۔موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ جرابوں پر مسح کرنے کے حوالے سے اہل علم کے ہاں دو مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔اس اختلاف کاسبب فقہا میں یہ رہا ہے کہ بعض فقہا کے نزدیک وہ روایت جس میں جرابوں پر مسح کا ذکر ہوا ہے، اتنی قوی نہیں ہے یا ان تک وہ روایت نہیں پہنچی ہے۔ چنانچہ یہ استدلال کیا گیا ہے کہ صرف انہی جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے جن میں نمی اندر نہ جا سکتی ہو۔ ہمارے نزدیک چمڑا ہو یا کپڑا مسح کی اجازت رخصت کے اصول پر مبنی ہے۔ جرابوں کی ساخت کی نوعیت اس رخصت کا سبب نہیں ہے۔ رخصت کاسبب رفعِ زحمت ہے۔ جس اصول پر اللہ تعالیٰ نے پانی کی عدم دستیابی یا بیماری کے باعث اس بات کی اجازت دی ہے کہ لوگ تیمم کر لیں، اسی اصول پر قیاس کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کی حالت میں جرابیں پہنی ہوں تو پاؤں پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔ اصول اگر رخصت، یعنی رفعِ زحمت ہے تو اس شرط کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ جرابیں چمڑے کی ب...

  • زمانہ جس قدر خیرالقرون سے دور ہوتا جارہا ہے، اتنا ہی فتنوں کی تعداد اور افزائش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ہر روزایک نیا فتنہ سر اٹھاتا ہے اور عوام الناس کو اپنے نئے اعتقاد ،افکار اور اعمال کی طرف دعوت دیتاہے۔ اپنی خواہشات نفسانی کے پیش نظر قرآن وسنت کی وہ تشریح کرتا ہے جو ان کے خود ساختہ مذہب واعمال کے مطابق ہو۔عوام چونکہ ان کے مکروفریب سے ناواقف ہوتے ہیں ۔لہذا ان کے دام میں پھنس جاتے ہیں اور بعض اوقات اپنے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔انہی فتنوں میں ایک تقلید کا فتنہ ہے،جس نے لوگوں کے اذہان کو جامد کر کے رکھ دیا ہے۔موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ جرابوں پر مسح کرنے کے حوالے سے اہل علم کے ہاں دو مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔اس اختلاف کاسبب فقہا میں یہ رہا ہے کہ بعض فقہا کے نزدیک وہ روایت جس میں جرابوں پر مسح کا ذکر ہوا ہے، اتنی قوی نہیں ہے یا ان تک وہ روایت نہیں پہنچی ہے۔ چنانچہ یہ استدلال کیا گیا ہے کہ صرف انہی جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے جن میں نمی اندر نہ جا سکتی ہو۔ ہمارے نزدیک چمڑا ہو یا کپڑا مسح کی اجازت رخصت کے اصول پر مبنی ہے۔ جرابوں کی ساخت کی نوعیت اس رخصت کا سبب نہیں ہے۔ رخصت کاسبب رفعِ زحمت ہے۔ جس اصول پر اللہ تعالیٰ نے پانی کی عدم دستیابی یا بیماری کے باعث اس بات کی اجازت دی ہے کہ لوگ تیمم کر لیں، اسی اصول پر قیاس کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کی حالت میں جرابیں پہنی ہوں تو پاؤں پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔ اصول اگر رخصت، یعنی رفعِ زحمت ہے تو اس شرط کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ جرابیں چمڑے کی ب...

  • شریعتِ اسلامیہ میں دعا کو اایک  خاص مقام حاصل ہے ۔او رتمام شرائع ومذاہب میں بھی  دعا  کا تصور موجود  رہا ہے مگر موجود ہ شریعت میں اسے مستقل عبادت کادرجہ حاصل ہے ۔صرف دعا ہی  میں  ایسی قوت ہے  کہ جو تقدیر کو  بدل سکتی  ہے  ۔دعا ایک  ایسی عبادت  ہے جو انسا ن ہر لمحہ  کرسکتا ہے  اور  اپنے خالق  ومالق  اللہ  رب العزت سے اپنی  حاجات پوری کرواسکتا ہے۔مگر یہ  یاد رہے    انسان کی دعا اسے  تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی  ملحوظ رکھے۔ بہت سارے  اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی  کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے  اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’الورد المصفّی المختار‘‘عبد العزیز بن عبد الرحمٰن  الفیصل کا آیات قرآنی اور  احادیث نبویہ اور سلف صالحین سے منقول دعاؤں کا مجموعہ ہے ۔جسے  جناب عطاء اللہ ثاقب صاحب نے  اردو قالب میں  ڈھالا ہے ۔ یہ کتاب  پہلے مکتب الدعوۃ الاسلامیہ  کی طرف سے شائع ہوئی  تھی موجود ہ ایڈیشن اشاعت کتب دینیہ کے عالمی ادارے ’’ دار السلام ‘‘ نے  بڑے خوبصورت انداز میں شائع کی ہے ۔ (م۔ا)

  • 78 الکتاب المستطاب فی جواب فصل الخطاب (جمعہ 07 اگست 2015ء)

    مشاہدات:2430

    الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين، أما بعد فالصراع العلمي والنضال المذهبي بين أهل الحديث والحنفية في القارة الباكندية (باكستان والهند ) أمر معروف و مشهور، و من المسائل المهمة التى كثر حولها الكلام والجدال مسئلة قراءة فاتحة الكتاب في الصلاة خلف الإمام " فوضعوا فيه التأليفات الكبار و سعوا فيما ادعوا من الإثبات والإنكار، ولكن المقلدين قد أكثروا الاستدلال بالرأي والقياس، وظنوا أنه يروج عند كثير من الناس، ثم إذا علموا كساده في سوق الدرايات والروايات، أرادوا أن يلبسوه لباس السنن والآيات، فتكلفوا بل حرفوا. و لم يعرفوا أن هذين العلمين، التكلف فيهما عين الشين وأيضا ليس فرسان هذا الميدان إلا من رزق الفهم في كتاب الله و نال الثريا للإيمان، و هم أهل الحديث الذين ساروا سيرا حثيثا، وأما أولئك فاشتغالهم بعلم الحديث قليل قديما و حديثا فلذا تراهم في كل مسئلة يناظرون فيها أهل الحديث قاصرين، وأهل الحديث عليهم ظاهرين، وكيف يدرك الظالع شأو الضليع، وهل يستوى الخالع والخليع، ومن حمل وزرا فوق طاقته، يهلك أو يسقط من ساعته" و على هذا المنوال ألف شيخ الحنفية العلامة أنور شاه الكشميري كتابه "فصل الخطاب" ودافع عن مذهبه و رد على مخالفه و اشتهر أو شُهِّر عند  بعض الناس بأن كتاب الشيخ المذكور ليس هناك من يستطيع الجواب عليه من أهل الحديث، بل" تحدى به متعصبةُ الحنفية أهلَ الحديث، بل أعلن مؤلفه أن لا يمكن للسلفيين أن يفهموا الكتاب!" حتى وصل الخبر إلى الشيخ الحافظ عبدالله الروبري، فتصدى للرد عليه وألف كتابا ماتعا و سماه...

  • 79 الکلمۃ الکافیۃ فی قراءۃ سورۃ الفاتحہ (منگل 01 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:1439

    نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔لیکن نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے،نمازی خواہ منفرد ہو،امام ہو یا مقتدی ہو۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میں فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔یہ احادیث اور اس معنی پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’ الکلمۃ الکافیۃ فی قراءۃسورۃ الفاتحۃ‘‘ مولانا حافظ قاری محمد اسماعیل اسد حافظ آبادی ﷫ کی کاوش ہے اس میں انہوں نے اختصار کےساتھ کتاب وسنت کی روشنی میں مسئلہ سورۃ فاتحہ خلف الامام کو ٹھوس دلائل کےساتھ پیش کیا ہے۔موصوف نے یہ کتابچہ ایک حنفی مولوی صاحب کے دعووں...

  • 80 امام صحیح العقیدہ ہونا چاہیے (بدھ 31 دسمبر 2008ء)

    مشاہدات:20946

    ہمارے معاشرے میں بگاڑ کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ تقلید جامد ہمارے معاشرے میں در آئی ہے – احکامات الہی کو کتاب وسنت کی روشنی میں پرکھنے کی بجائے قول امام پر آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں- دکھ تو اس بات کا ہے کہ ارکان ااسلام میں سے اہم ترین رکن نماز بھی اس سے محفوظ نہیں-زیر نظر کتاب میں سید بدیع الدین شاہ راشدی نے بالدلائل اس بات کی وضاحت کی ہے کہ نماز کی صحت کے لیے امام کے عقیدے کا درست ہونا انتہائی ضروری ہے- ان کا کہنا ہے کہ حنفی عقیدہ رکھنے والے حضرات کے عقائد میں اضطراب پایا جاتا ہے اور عقیدہ کا صحیح اور درست ہونا اسلام کا اولین فریضہ ہے- اس کتاب کوپڑھ کر آپ کو اس سوال کا تسلی بخش جواب مل جائے گا کہ حنفی امام کے پیچھے نماز ہوتی ہے یانہیں ہوتی؟
     

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1418
    • اس ہفتے کے قارئین: 7949
    • اس ماہ کے قارئین: 27242
    • کل قارئین : 47734969

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں