کل کتب 187

دکھائیں
کتب
  • 21 #4141

    مصنف : سید ابو بکر غزنوی

    مشاہدات : 6110

    تقاریر و خطابات سید ابوبکر غزنوی 

    (منگل 23 فروری 2016ء) ناشر : فاران اکیڈمی لاہور

    پروفیسر سید ابو بکر غزنوی﷫ پا ک وہندکے ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جو اپنےعلمی عملی اور اصلاحی کا رناموں کے بدولت منفر د و ممتاز حیثیت رکھتا ہے اور جس کی دینی وسیاسی خدمات اس سرزمین میں مسلمانوں کے تاریخ کا ایک زریں باب ہیں۔اس خطۂ ارضی میں ان کے مورث اعلیٰ سید عبداللہ غزنوی ﷫اپنے علم وفضل اور زہد وتقویٰ کی وجہ سے وقت کے امام مانے جاتے تھے اور لوگ بلا امتیاز ان کا احترام کرتے تھے۔ ان کے والد ماجد مولانا سید داؤد غزنوی﷫ کی عملی وسیاسی زندگی بھی تاریخ اہل حدیث کا ایک سنہرا باب ہے ۔سید ابوبکر غزنوی ﷫ بھی ایک ثقہ عالم دین ،نکتہ رس طبیعت کے مالک اور دین کےمزاج شناس تھے ۔مولانا سید غزنوی فطرتاً علم دوست مطالعہ پسند اور کم آمیز قسم کےآدمی تھے۔جن لوگوں نے ان کا بچپن دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کتاب ومطالعہ سے ان کا کتنا گہرا دلی تعلق تھا۔اردو فارسی ،انگریزی اور عربی زبان پرپوری دسترس رکھتے تھے انھوں نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے عربی کا امتحان دیا توصوبہ بھر میں اول رہے۔ پروفیسر ابوبکر غزنوی نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں عربی کے لیکچرر کی حیثیت سے کیا۔اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد اسلامیہ کالج سول لائنز کو ڈگری کالج کی حیثیت حاصل ہوگئی تو موصوف شعبہ عربی کے صدر بن کر وہاں منتقل ہوگئے ۔اور اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی اورنٹیل کالج میں عربی کےخصوصی لیکچر بھی دیتےتھے۔ اس کے بعد جلد ہی انجینیرنگ یونیورسٹی لاہور نے اپنے دروازے ان کے لیے کھول دیے اور شعبہ اسلامیات کے صدر کی حیثیت سے وہاں اٹھ گئے ۔اس کے بعد بہالپور یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے طور پر ان کا تقرر ہوا اور ابھی وہ یونیورسٹی کےاصلاح وترقی کے پرگراموں پر عمل کراہی رہےتھے اور یونیورسٹی کامعیار بلند ہورہا تھا کہ موت آگئی اور وہ اللہ کو عزیز ہوگئے۔مولانا سید ابوبکر غزنوی ﷫ کی ذات متعدد اوصافِ فاضلہ کامجموعہ تھی ۔اور سید صاحب جدید وقدیم علوم پر یکساں دسترس رکھتے تھے آپ کی شخصیت مغربی علوم وفنون اور تہذیب وتمدن سے خو ب آگاہ تھی ۔ سید صاحب نے اپنے خطبات اور تحریروں کے ذریعے دین کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تقاریر وخطبات سید ابو بکر غزنوی﷫ ‘‘سید صاحب کے مختلف تقایر وخطابات کا مجموعہ ہے ۔یہ خطبات مولانا نے مختلف اہم مواقع پر ارشاد فرمائے ان میں مولانا کو وہ خطبات بھی شامل ہیں جوانہوں 1965ء کی جنگ کےسلسلے میں ارشاد فرمائے تھے ۔اس مجموعہ میں پہلا خطبہ ماموں کانجن میں اہل حدیث کانفرنس منعقدہ اکتوبر 1975ء میں مولانا کی جانے والی علمی تقریر ہے۔سید صاحب کے ان خطبات کو فاران اکیڈمی نے 1995ء میں شائع کیا ۔اس مجموعہ میں شامل خطبات کے عنوانات حسب ذیل ہیں۔ اتباع رسولﷺ تبلیغ کاایک بھولا ہوا اصول،تعلیم وتزکیہ،اس دنیا میں اللہ کاقانون جزا وسزا،اقوام کے عروج وزوال کے بارے میں ضابطۂ الٰہی،اس دنیا میں عذاب الٰہی کی صورتیں،محمد انقلاب کے چند خط و خال،مسئلہ جہاد کشمیر۔ یہ سیدصاحب کا وہ خطبہ جمعہ ہے جوانہوں نے 20 اگست 1965ء کو دار العلوم تقویۃ الاسلام میں ارشاد فرمایا۔اس میں کتاب وسنت کی روشنی میں مسئلہ جہادِ کشیمر کی وضاحت کی گئی ہے،غزوۂ تبوک میں ہمارےلیے سامانِ عبرت ہے،یوم تشکر،فریضہ جہاد کے تقاضے،قوم سےخطاب وقت کی پکار،توحید کےتقاضے،شہدائے پاکستان کو خراج عقیدت قرآن وسنت کی روشنی میں ۔یہ تقریرریڈیو پاکستان لاہور سےدوران جنگ نشر کی گئی۔ اللہ تعالیٰ مرتب وناشر کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور سید صاحب کے درجات میں اضافے کا باعث اور قارئین کے لیےنفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 22 #4201

    مصنف : ابو حنظلہ محمد نواز چیمہ

    مشاہدات : 4835

    توحید کی آواز المعروف خطبات نواز جلد اول

    (ہفتہ 06 فروری 2016ء) ناشر : حنظلہ اکیڈمی مرکز توحید، گوجرانوالہ

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ، خاص استعداد و صلاحیت کا نام ہے جس کے ذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار، اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو عطا فرماتا ہے اور خطابت و بیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح و قلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس و تقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیے ضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت، معاملات میں درستگی، آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات نواز جلد اول‘‘ ہر دلعزیز عوامی جناب مولانا محمد نواز چیمہ کے تقریبا 36 اہم موضوعات پر خطبات کا مجموعہ ہے۔ موصوف نے ان خطبات میں دلچسپ اور غیرمشہور واقعات کو باحوالہ درج کیا ہے اور ہرموضوع میں اشعار بھی درج کیے ہیں۔ اور حتی الوسع موضوع اور ضعیف روایات کی نشاندہی کی ہے اور صحیح احادیث و روایات سے عنوان بیان کیے ہیں۔ آیات و احادیث اور واقعات کے مستند کتب سے حوالہ جات بھی نقل کیے۔ کتاب ہذا خطبات نواز کی جلد اول ہے جوکہ ہمیں کسی صاحب نے سائٹ پر پبلش کرنے کے لیے عنایت کی تھی اگر کسی صاحب کے پاس اس کی مزید جلدیں ہوں تو ہمیں پبلش کرنے کے لیے دے دیں تاکہ قارئین اس سے بھی مستفید ہوسکیں۔ (م۔ا)

  • 23 #4656

    مصنف : نور العین سلفی

    مشاہدات : 9644

    جمعہ کے خطبے بسلسلہ خطبات نور جلد۔2

    (ہفتہ 14 مئی 2016ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    دعوت وتبلیغ ، اصلاح وارشاد انبیائی مشن ہے۔ اس کے ذریعہ بندگان اٖلہ کی صحیح رہنمائی ہوتی ہے صحیح عقیدہ کی معرفت اور باطل عقائد وخیالات کی بیخ کنی ہوتی ہے۔ شریعت اور اس کے مسائل سےآگاہی اور رسوم جاہلیت نیز اوہام و خرافات کی جڑیں کٹتی ہیں دعوت، اصلاح وارشاد کے بہت سے وسائل و اسالیب ہیں انہیں میں سے ایک مؤثر ذریعہ دروس وخطابت کا ہے۔ خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک و شبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمیٰ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح و قلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اور تزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جمعے کے خطبے‘‘ مولانا نور العین سلفی کی تصنیف ہے۔ اس میں انہوں نے معاشرے کی ضرورت کے اہم موضوعات پر قرآن وسنت کے دلائل سے مزین 24 خطبات پیش کیے ہیں ۔اور کتاب آغاز میں فاضل منصف نے ان حضرات کے لیے کہ جو خود تو خطیب اور عالم نہیں ہوتے لیکن کسی عالم نہ ہونے کی وجہ سے کتاب دیکھ مجبوراً خطبۂ جمعہ کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں ان کے لیے خطبہ جمعہ کے دونوں خطبوں میں پڑھے جانے والے عربی الفاظ اور اختتامی کلمات اور دعاؤں کوبھی شامل کردیا ہے۔ اور اس کے بعد خطباء اور سامعین ذمہ داریوں کو بیان کیا ہے۔ یہ جمعہ کے خطبے کی دوسری جلد ہے جس منہاج السنہ ڈاٹ کام سے ڈاؤن لوڈ کرکے کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے اگر کسی صاحب کے پاس اس کی دوسری جلد ہے تو ہمیں عنائت کردے تاکہ اسے بھی کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا جاسکے ۔(م۔ا)

  • حجۃ الوداع کے خطبے اور نصیحتیں

    (بدھ 04 دسمبر 2019ء) ناشر : نا معلوم

    خطبہ حجۃ الوداع کو اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔خطبہ حجۃ الوداع بلا شبہ انسانی حقوق کا اولین اور مثالی منشور اعظم ہے۔حجۃ الوداع میں نبی کریم ﷺ کی تقریر اور نصیحتیں بے شک بہت اہم اور بنیادی ہیں آپ نےاس میں مذہبِ اسلام کےاصول ، بھلائی کی باتیں اور اچھے اخلاق کو بہت کھلے اور نصیحت بھر ے الفاظ میں بیان فرمایا کیونکہ  آپ کو جامع بات انوکھی حکمتیں مکمل خیرخواہی، حسنِ بیان اچھے الفاظ  اور فصیح کلام سے نوازا گیا تھا۔ نبی کریم ﷺ کے خطبا ت میں یہ آخری خطبہ بڑی اہمیت  کا حامل ہے اس خطبہ کی تشریح وتوضیح پر مستقل کتب موجود ہیں ۔نبی کریمﷺ نے اس خطبہ حجۃ الوواع کے موقع پر  صحابہ کرام  کو مخاطب کرتے ہوئے  کہا: یہ میری تم سے آخری اجتماعی ملاقات ہے،شاید اس مقام پر اس کے بعد تم مجھ سے نہ مل سکو۔تو نبی کریم ﷺ  اس کے بعد ذوالحجہ کا  مہینہ آنے سے  قبل  ربیع الاول میں ہی  اپنے حقیقی سے جاملے ۔ محترم جناب    شیخ عبد الرزاق بن عبد المحسن البدر  نےزیر نظر کتاب  ’’ حجۃ  الوداع  کےخطبے اور نصیحتیں‘‘ میں آپ ﷺ کی مبارک تقریروں اور قیمتی خطبوں کے بعص حصوں کو مختصر شرح کے ساتھ جمع کیا ہے ۔ فاضل مصنف نے ایام حج کا  خیال کرتے ہوئے اس کتاب کو تیرہ دروس میں تقسیم کیا ہے ۔اصل کتاب عربی زبان میں  ’’خطب ومواعظ من حجة الوداع‘‘ کے نام سے  ہے۔جناب محمد وسیم خان بن محمد نسیم خان نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)

  • 25 #973

    مصنف : ڈاکٹر محسنہ عظیم

    مشاہدات : 18339

    حدیث میں سید مودودی رحمہ اللہ کی خدمات

    (بدھ 02 نومبر 2011ء) ناشر : ادارہ معارف اسلامی منصورہ لاہور

    مغرب کے فکری تسلط کی وجہ سے جب سیکولر ازم  مسلمانو ں کے لیے  دین  کی حیثیت اختیار کر چکا تھا،جب بے دینی ، اباحیت ، الحاد او ردہریت کا  ہر طرف دور دورہ تھا،بلکہ ذہنی مرعوبیت  میں  مسلمان اس قدر  آگے جا چکے تھے کہ اپنا دین ہی بیگانگی کی تصویر پیش کر رہا تھا جس کے متعلق مولانا مودودی لکھتے ہیں ( رفتہ رفتہ حالت یہ ہو گئی کہ لوگوں کو یہ عجیب معلوم ہونے لگا کہ کوئی شخص پڑھا لکھا بھی ہو اور وہ خدا کو بھی مانتا ہواور نماز   روزہ جیسے احکام کی پیروی بھی کرتا ہو)۔اس دین بیزار ماحول میں مولانا مودودی ﷫ نے مغربی فکری تسلط کے بت کو پاش پاش کیا اور مسلمانوں کی ذہنی مرعوبیت دور کرنے کی کامیاب سعی کی ۔اسی دور کے بڑے بڑے فتنوں میں سے ایک  فتنہ انکارحدیث  کا بھی ہے ، جس کے علمی مقابلے کے لیے مولانا مرحوم نے متعدد کتب  تالیف کیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں :الجہاد فی الاسلام ،مسئلہ قادیانیت،پردہ ،اسلام اور ضبط ولادت،انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کا اسلامی حل ،سود۔بہرصورت مولانا نے ہر علمی میدان میں  کی عالمانہ تحریریں موجود ہیں  ۔ ڈاکٹر محسنہ عظیم کی اس تالیف میں بھی مولانا کی ان مساعی جملیہ پر نظر ڈالی گئی ہے ۔ یہ اصل میں پی  ایچ ڈی کا مقالہ ہے جسے بعد میں کتابی شکل دی گئی ہے ۔ محترمہ نے اسے مختلف  پانچ ابواب اورمقدمہ میں تقسیم کیا ہے ۔ایک مفید کتاب ہے جو لائق مطالعہ ہے۔(ناصف)
     

  • 26 #3354

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 5614

    حصن الخطیب

    (منگل 21 جولائی 2015ء) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب وغیرہ ) اسلامی وعلمی خطبات کی کتابوں کی لسٹ میں گراں قدر اضافہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’حصن الخطیب‘‘ محترم مولانا ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی مرتب شدہ ہے جوکہ علماء خطبا اورواعظین کےلیے 16 علمی وتحقیقی خطبات کا نادر مجموعہ ہے ۔ کتاب کے آغاز میں خطباء اور واعظین حضرات کے لیے مصنف کا تحریرکردہ’’ خیرخواہی کا چوتھا سبق‘‘کے عنوان سے طویل مقدمہ بھی انتہائی لائق مطالعہ ہے ۔ موصوف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دینے کےساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں ۔تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے۔ جن میں سے چار کتابیں(خشبو ئے خطابت ،ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب ، حصن الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں ۔کتاب ہذا حصن الخطیب کو موصوف نے بہت دلجمعی اور محنت سے مرتب کیا ہے ۔ ہر موضوع پر سیر حاصل مواد کے ساتھ ساتھ تحقیق وتخریج کا وصف بھی حددرجہ نمایا ں ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی تبلیغی واصلاحی ،تصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے،ان کے علم وعمل اور زور ِقلم میں اضافہ فرمائے ۔اور ان کی تمام کتب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا) 

  • 27 #2085

    مصنف : سید بدیع الدین شاہ راشدی

    مشاہدات : 2821

    حق و باطل عوام کی عدالت میں

    (بدھ 14 مئی 2014ء) ناشر : جمعیت اہل حدیث،سندھ

    رب کائنات نے ہر دور میں فرعون کے لئے موسی کو پیدا فرمایا ہے۔جہاں بڑے بڑے ظالم ،جابر اور غاصب آئے جو اسلام کے پودے کو کاٹنا بلکہ جڑ سے اکھاڑنا چاہتے تھے،وہاں اسلام پر اپنی جان ،مال ،وطن ، اولاد اور سب کچھ قربان کر کے اسلام کی شمع کو روشن کرنے والے بھی سر پر کفن باندھے میدان کار زار میں موجود تھے۔ایسے معززین ،مکرمین اور خادمین اسلام میں سے ایک روشن نام شیخ العرب والعجم   ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی کا بھی ہے۔آپ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ متعدد کتب کے مصنف اور مولف ہیں،جو عربی ،اردو اور سندھی میں لکھی گئی ہیں۔اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ شاہ صاحب کی پیش کردہ تحقیق کو آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔زیر نظر کتاب (حق وباطل عوام کی نظر میں)بھی آپ کے بے شمار شہ پاروں میں سے ایک جوہر نایاب ہے،جو آپ کے ایک خطبے کا خلاصہ ہے۔اس میں شاہ صاحب نے دلائل وبراہین سے یہ ثابت کیا ہے کہ جماعت حقہ صرف وہی جماعت ہے جو قرآن وسنت کی بنیاد پر قائم ہے۔وہی اصل اور عہد رسالت سے چلی آرہی ہے۔دیگر تمام تمام جماعتیں اور مسالک جو اپنے آپ کو دیگر اماموں کی طرف منسوب کرتے ہیں ،وہ اصل سے کٹ چکے ہیں۔اللہ تعالی شاہ صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کی قبر کو منور فرمائے ۔آمین(راسخ)

     

     

  • 28 #417

    مصنف : ڈاکٹر حافظ انس نضر مدنی

    مشاہدات : 18997

    حمیدالدین فراہی اور جمہور کے اصول تفسیر تحقیقی وتقابلی مطالعہ(پی ایچ ڈی مقالہ)

    (منگل 18 جنوری 2011ء) ناشر : مجلس التحقیق الاسلامی، لاہور

    قرآنِ مجید وہ عظیم کتاب ہے ،جسے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رُشد و ہدایت کیلئے نازل فرمایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین سے لے کر آج تک ہر دور میں اہل علم مفسّرین اس کی مشکلات کو حل کرتے اور اس کی گتھیوں کوسلجھاتے چلے  آئے ہیں۔ہر دَور میں مفسرین کرام نے خصوصی ذوق اور ماحول کے مطابق اس کی خدمت کی اور تفسیر کے مخصوص مناہج اور اصول اپنے سامنے رکھے۔ پیش نظر"حمید الدین فراہی اور جمہور کے اصول تفسیر" حافظ انس نضر مدنی کا پی ایچ ڈی کے لیے لکھا جانے والا مقالہ ہے۔ محترم حافظ صاحب امتیازی حیثیت میں فاضل مدینہ یونیورسٹی ہونے کے ساتھ ساتھ ’مجلس التحقیق الاسلامی‘اور ’کتاب ونت ڈاٹ کام‘ کے انچارج ہیں۔ موصوف جہاں طلباء جامعہ لاہور الاسلامیہ کو علم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں وہیں متنوع علمی و تحقیقی کاموں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ آپ کی خداد صلاحیتوں کا ایک اظہار زیر نظر مقالہ ہے۔ مولانا حمید الدین فراہی رحمہ اللہ کے  منہجِ تفسیر اور مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ کی تفسیر ’تدبر قرآن ‘ پر تو کسی نہ کسی حوالے  سے تحقیقی کام موجود ہے  لیکن مولانا فراہی رحمہ اللہ کے  اُصول تفسیر اور جمہور کے  اُصول تفسیر میں  مناسبت اور تقابل پر مرتب تحقيقی کام پہلی بارسامنے آیا ہے۔محترم حافظ صاحب نے مولانا فراہی رحمہ اللہ کے  اُصول تفسیر اور تفسیر پر موجود کام کا سلف صالحین کے  مناہجِ تفسیر سے اس انداز میں تقابلی جائزہ پیش کیاہےکہ واضح ہو سکے  کہ کیا یہ ایک شے  کے  دو رُخ ہیں یا ان میں  آپس میں  جوہری اختلاف اور فرق ہے۔

     

  • 29 #4575

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 4822

    خطبات ( مودودی )

    (جمعہ 22 جولائی 2016ء) ناشر : اسلامک پبلیکیشنز، لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات‘‘ مولانا مودودی ﷫ کے ان کا خطبات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے 1938ء میں دارالسلام (نزد پٹھان کوٹ مشرق پنجاب) کی مسجد میں خطبات جمعہ ارشاد فرمائے تھے ۔ ان خطبات کی پہلی مرتبہ اشاعت 1940ء میں ہوئی ۔ان خطبات میں مولانا مودودی نے اسلام کے بنیادی ارکان کو دل میں اتر جانے والے دلائل کے ساتھ آسان انداز میں پیش کیا ہے ۔(م۔)

  • 30 #974

    مصنف : ابو الکلام آزاد

    مشاہدات : 21645

    خطبات آزاد

    (جمعہ 04 نومبر 2011ء) ناشر : ارشد بک سیلرز علامہ اقبال روڑ آزاد کشمیر

    مولانا ابوالکلام آزاد کو اللہ تعالیٰ نے تحریر و تقریر کی بیش بہا صلاحیتوں سے مالا مال کیا۔ اس کا ایک سرسری اندازہ اس سے کیجئے کہ مولانا نے پندہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ ’لسان الصدق‘ جاری کیا جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بہت تعریف کی۔ مولانا موصوف بیک وقت عمدہ انشا پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی اور بہترین مفسر قرآن تھے۔ اگرچہ مولانا سیاسی مسلک میں کانگریس کے ہمنوا اور ہندوستان کے بٹوارے کے زبردست مخالف تھے لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کا درد ضرور تھا۔ پیش نظر کتاب مولانا ابو الکلام آزاد کی جادو بیانی کو تحریری صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس میں مولانا کی 1914ء سے لے کر 1948ء تک کی اہم تقریروں کو جمع کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی ورق گردانی سے مولانا کی وسعت نظر، اپنے مفہوم کو موزوں ترین الفاظ میں بیان کرنے کی قدرت اور مفکرانہ طریق استدلال کا حقیقی اندازہ ہوگا۔ مولانا اگرچہ ایک خاص فقہی مسلک سے متعلق رہے لیکن ان کی بیشتر تقاریر مسلکی منافرت سے پاک نظر آتی ہیں۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ بعض حضرات کی زبردست تقریریں بھی جب کاغذ پر منتقل ہوتی ہیں تو اس کی چاشنی اور دلپذیری ختم ہو جاتی ہے لیکن مولانا کا یہ امتیاز ہے کہ ان کی تقریریں اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود پڑھنے میں اسی قدر مؤثر ہیں جتنی وہ اس دور میں سننے میں تھیں۔(ع۔م)
     

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 18 19 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1352
  • اس ہفتے کے قارئین 14991
  • اس ماہ کے قارئین 53385
  • کل قارئین49438951

موضوعاتی فہرست