دکھائیں کتب
  • 41 خطبات حافظ سیف اللہ منصور (جمعہ 28 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1799

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس  کےذریعے  ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے  افکار ونظریات  کا قائل بنانے کے لیے  استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت  وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ  ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت  نہیں کرتے ۔اس لیے  خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات  میں  انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ،  عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات سیف اللہ منصور ‘‘ جماعوۃ باکستان کے سرگرم مرکزی رہنما مولانا سیف اللہ منصور ﷫ کی منتخب  تقاریر کا  ایک شاندار مجموعہ ہے ۔محترم  حافظ صاحب مرحوم نے جامعہ سلفیہ سے فراغت کے بعد  جب دعوت کےمیدان میں  رکھا تو داعئ اسلام اور مبلغ جہاد بن کر اپنی انقلاب آفریں گفتگو اور سحر انگیز آواز کےساتھ نوجوان نسل کےخ...

  • 42 خطبات حرم (بدھ 04 جنوری 2012ء)

    مشاہدات:15840

    دعوت واصلاح دین حنیف کا بنیادی شعبہ ہے ، جس کا احیاء استحکام دین اور اسلامی تعلیمات کی ترویج و تبلیغ کا مؤثر ذریعہ ہے۔دین  اسلام سے وابستہ افراد کی اصلاح اور شرعی مسائل سے آگاہی کے لیے مختلف اوقات اور مواقع پر دروس مشروع ہیں ،لیکن اصلاحی نکتہ نظر سے خطبہ جمعہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔جو عوام کی عقائید و افکار اور اخلاق و آداب سنوارنے میں نہایت اہم ہے۔عام خطبا کی  نسبت خطبائے حرم مکی خطبہ جمعہ کی تیاری میں زیادہ محنت کرتے ہیں اور عقائد و نظریا ت اور شرعی احکام کے احیا کے لیے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ۔زیر نظر خطبات امام الحرم محمد بن عبد اللہ بن السبیل کے خطبات جمعہ  کا مجموعہ ہے ،جو بہترین علمی دستاویز اور خطباء کے لیے بیش قیمت مجموعہ ہے۔(ف۔ر)
     

  • 43 خطبات حرم ( السدیس ) (جمعہ 09 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:3136

    اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی  قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء  ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔ شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اور خطبات کے ذریعے عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں۔ علمائے کرام کے مجموعہ خطبات کےحوالے سے کئی مجموعات شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز، خطاب سلفیہ، خطبات آزاد، خطبا ت بہاولپور ی خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر، خطبات یزدانی، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب، اور فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ ﷾ کے خطبات وغیرہ، قابلِ ذکر ہیں۔ اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ خطبات حرم ‘‘امام کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس ﷾ کے بیت اللہ میں دیے گئے خطبات جمعہ میں سے منتخب خطبات ’’ کوکبۃ الکوکبۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ ان منتخب خطبات کو نہایت خوبصورت سلیس اردو میں پیش کرنےکا اعزاز دار السلام نے حاصل کیا ہے۔ تعمیر سیرت کےلیےان پُر تاثیر خطبات کا...

  • 44 خطبات حرمین حصہ اول (جمعرات 03 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:3921

    اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار اہمیت کا حامل  ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی  قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء  ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں ۔اور خطبات کے ذریعے  عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں ۔ علمائے  کرام  کے  مجموعہ خطبات  کےحوالے سے  کئی  مجموعات  شائع ہوچکے  ہیں۔ان میں  سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از  مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از  مولانا محمد داؤد راز ، خطاب  سلفیہ ،خطبات آزاد ، خطبا ت  بہاولپور ی خطبات  علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب ،وغیرہ ، قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے  12 ضخیم مجلدات پر مشتمل  ’’نضرۃ النعیم  ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔زیر  نظر کتاب  خطبات حرمین ‘‘  دو جلدوں پر مشتمل  خطباء حرمین شریفین کے خطبات کامجموعہ ہے۔جلد اول حرم مکی کے تین شیوخ اور جلد ثانی حرم مدنی کے  پانچ  شیوخ کے  خطبات پر مشتمل ہے جلد اول کے شروع میں حرم مکی  او رجلدثانی  کے شرو...

  • 45 خطبات حرمین حصہ دوم (جمعہ 04 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:3277

    اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار اہمیت کا حامل  ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی  قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء  ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں ۔اور خطبات کے ذریعے  عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں ۔ علمائے  کرام  کے  مجموعہ خطبات  کےحوالے سے  کئی  مجموعات  شائع ہوچکے  ہیں۔ان میں  سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از  مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از  مولانا محمد داؤد راز ، خطاب  سلفیہ ،خطبات آزاد ، خطبا ت  بہاولپور ی خطبات  علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب ،وغیرہ ، قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے  12 ضخیم مجلدات پر مشتمل  ’’نضرۃ النعیم  ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔زیر  نظر کتاب  خطبات حرمین ‘‘  دو جلدوں پر مشتمل  خطباء حرمین شریفین کے خطبات کامجموعہ ہے۔جلد اول حرم مکی کے تین شیوخ اور جلد ثانی حرم مدنی کے  پانچ  شیوخ کے  خطبات پر مشتمل ہے جلد اول کے شروع میں حرم مکی  او رجلدثانی  کے شرو...

  • 46 خطبات حقوق الوالدین و اولاد (اتوار 30 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:2782

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات حقوق الوالدین والاولاد‘‘ہردلعزیز عوامی خطیب جناب مولانا محمد نواز چیمہ﷾ کے حقوق والدین واولاد کے موضوع پر خطبات کا مجموعہ ہے ۔اس مجموعہ میں پیش کیے گئے موضوعات کےعنوانات یہ ہیں ۔ حقوق والدین ،عظمت ماں،حقو ق اولاد، نام کس طرح رکھیں ، اچھے اور برے ناموں کے اثرات ،تربیت اولاد ، اسلامی پردہ ، زینت یا فیشن،سوسائٹی اچھی یا بری؟اسلام کی تربیت یافتہ عورتیں، تربیت یافتہ بچے ، تربیت نوجواناں،علم کی تلاش،...

  • 47 خطبات خطیب (فیضان اشرف) (جمعرات 19 مئی 2016ء)

    مشاہدات:5447

    دعوت و تبلیغ، اصلاح و ارشاد انبیائی مشن ہے۔ اس کے ذریعہ بندگان اٖلہ کی صحیح رہنمائی ہوتی ہے صحیح عقیدہ کی معرفت اور باطل عقائد و خیالات کی بیخ کنی ہوتی ہے۔ شریعت اور اس کے مسائل سے آگاہی اور رسوم جاہلیت نیز اوہام و خرافات کی جڑیں کٹتی ہیں۔ دعوت و تبلیغ، اصلاح و ارشاد کے بہت سے وسائل و اسالیب ہیں انہیں میں سے ایک مؤثر ذریعہ دروس وخطابت کا ہے۔ خطابت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ، خاص استعداد و صلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار، اپنے جذبات و احساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمیٰ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت و صدارت کی بلندیوں کو حاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب و سنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہے جس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے۔ اس لیے خطبا حضرات کے لیے ضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت، معاملات میں درستگی، آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیرتبصرہ کتاب ’’خطبات خطیب‘‘ انڈیا کے ایک ابھرتے ہوئے نو جوان سل...

  • 48 خطبات خلافت (منگل 31 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1211

    نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد اس اسلامی مرکزیت کو برقرار رکھنے کے لیے آپ کے جانشین مقرر کرنے کا جو طریقہ اختیار کیاگیا اسے خلافت کہتے ہیں۔ پہلے چار خلفاء سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر فاروق ، سید عثمان غنی ،سیدنا علی المرتضیٰ کو عہد خلافت راشدہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ ان نائبین رسول نے قرآن و سنت کے مطابق حکومت کی اور مسلمانوں کی مذہبی رہنمائی بھی احسن طریقےسے کی۔اور ہر طرح سے یہ خلفاء اللہ تعالیٰ کے بعد اہل اسلام کے سامنے جوابدہ تھے۔ اور ان کا چناؤ مورثی نہیں تھا بلکہ وصیت اکابر صحابہ کی مشاورت سے ان کا انتخاب کیا جاتا رہا۔خلیفہ کی صفات اور شرائط ،خلیفہ کے فرائض منصبی ،خلیفہ کے حقو ق ،خلیفہ کے اختیارات وغیرہ کا بیان کتب حدیث وسیر میں موجود ہے ۔ حتی کہ اس موضو ع پر باقاعدہ اہل علم نے مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات خلافت‘‘ پاکستا ن میں نظام ِخلافت کے قیام کے لیے ’’ تحریک خلافت پاکستان ‘‘ کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے خلافت کے موضوع پر چار خطبات کا مجموعہ ہے ۔موصوف نے ستمبر 1999ء میں اس مذکورہ تحریک کا آغاز کیا ۔ڈاکٹر اسرار کےیہ خطبات خلافت کی اصل حقیقت اور اس کا تاریخی پس منظر اور عہد حاضر میں اس کے دستوری وقانونی اور معاشی ومعاشرتی ڈھانچے اور اس کے قیام کے لیے سیرت نبویﷺ سے ماخوذ طریق کار کی تشریح پر مشتمل ہیں ۔(م۔ا)

  • 49 خطبات راشدیہ (اتوار 30 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1656

    شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین شاہ راشدی ﷫ 16 مئی 1926ء کوگوٹھ فضل شاہ ( نیو سعیدآباد) ضلع حیدرآباد میں سندھ میں پیدا ہوئے۔دینی تعلیم کاآغاز پنےمدرسہ ’’دارالارشاد،،سےکیا یہ ان کاٖآبائی مدرسہ تھا۔3ماہ کی قلیل مدت میں حفظ القرآ ن کی تکمیل کی ۔اس کےبعد اپنےوالدمحترم سید احسان اللہ شاہ راشدی ﷫ سےتفسیرحدیث اورفقہ کی تحصیل کی ۔ سید بدیع الدین شاہ راشدی ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے اور آپ نے مختلف مواقع پر بڑی علمی اور تاریخی خطبات ارشاد فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات راشدیہ ‘‘ علامہ سید بدیع الدین شاہ راشد ی ﷫ کے تیرہ نادر خطبات کا گراں قد ر علمی مجموعہ ہے ۔ جو شاہ صاحب مرحوم نے مختلف مواقع پر سیرت النبی ﷺ کانفرنسوں میں بطور خطبہ صدارت ارشاد فرمائے۔ان خطبات میں کچھ خطبات سندھی زبان میں تھےتو مولاناعبدالرحمن میمن صاحب نے ان خطبات کا ترجمہ کرکے ان کومرتب کیا ہے۔(م۔ا)

  • 50 خطبات رحمانی (پیر 13 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:2757

    فضیلۃالشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی ﷾بلاشبہ پاکستان کے لئے علمی لحاظ سے سرمایہ اعزاز افتخار ہیں۔آپ کی لِلاہیت،تقویٰ، طہارت، رسوخ فی العلم کے اپنے خواہ غیر سبھی معترف ہیں، آپ ایک اچھے منتظم، بلند پایہ محقق، مثالی مدرس، داعی الی الحق ،بیدارمغز ،صاحب طرز ادیب وانشاءپرداز، اور سنجیدہ خطیب شمار کیے جاتے ہیں۔آپ طلباء کے لئے مشفق ،علماء کرام کے قدردان، اپنے پرائے سبھی کی بات خندہ پیشانی سے سننے کی عادت سے سرفراز ہیں۔ آئے دن آپ کے مقالات ومحاضرات علمیہ، ملکی اور غیر ملکی جرائد کی زینت بنے نظر آتے ہیں، جن سے آپ کی علمی بصارت وبصیرت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔شیخ موصوف۲۸دسمبر۱۹۵۵ء کو عروس البلاد کراچی میں پیدا ہوئے،آپ کا بچپن اور جوانی اسی شہر میں گزری آپ کا ابتدائی اسم گرامی شکیل احمد تجویز ہوا تھا، مگر آپ کے استا د گرامی قدر مولانا کرم الدین سلفی نے تبدیل کرکے عبداللہ رکھا جس سے آپ نے شہرت پائی ،پرائمری کے بعد آپ کو آپ کے والد گرامی نے دین کے لیے وقف کردیا اور دارالحدیث رحمانیہ کراچی میں دینی تعلیم کےحصول کےلیے داخل کروایا۔اس وقت یہ دینی دانش گاہ بڑی شہرت کی حامل تھی۔ جہاں آپ نے آٹھ سال بڑی محنت ولگن سے تعلیم حاصل کی اور امتیازی نمبروں سے سندالفراغ اور دستار بندی سے سرفراز ہوئے۔ مزید علمی تشنگیٔ دور کرنے کی غرض سے آپ نے جامعہ الامام محمد بن سعود اسلامیہ یعنی ریاض یونیورسٹی میں داخلہ لیا، اور وہاں چار سال تعلیم حاصل کی او رپھر وطن واپس آکر جامعہ رحمانیہ کراچی جیسے باوقار اسلامی ادارہ میں پورے آٹھ سال تک’’شیخ الحدیث‘‘ کے...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2020
  • اس ہفتے کے قارئین: 10703
  • اس ماہ کے قارئین: 44724
  • کل قارئین : 47919819

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں