دکھائیں کتب
  • 31 خطبات اسلام سال بھر کی ترتیب کے ساتھ (جمعہ 05 فروری 2016ء)

    مشاہدات:13053

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ، خاص استعداد و صلاحیت کا نام ہے جس کے ذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار، اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت و صدارت کی بلندیوں کو حاصل کرتا ہے۔ جوخطیب کتاب و سنت کے دلائل و براہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح و قلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس و تقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے۔ اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت، معاملات میں درستگی، آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات اسلام‘‘ جامعہ اسلامیہ اہل گوجرانوالہ کے مدرس جناب ابو طلحہ عبدالسمیع عاصم بن ابی البرکات احمدکی مرتب شدہ ہے۔یہ مجموعہ خطبات خاص عام ہرایک کے لیے مفید ہے۔ مرتب نےاس میں خطباء کی سہولت کے پیش نظرسال بھر کے مختلف مواقع کی مناست کےمطابق 60 سے زائد مضامین مرتب کرکے ان کی تخریج بھی کی ہے۔اور یہ کوشش کی ہےکہ ہر مضمون زیادہ سے زیادہ قرآنی آیات اوراحادیث مبارکہ سے مزین ہو۔ پوری کتاب میں تاریخی و...

  • 32 خطبات اقبال ایک مطالعہ (بدھ 13 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:3583

    علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف،قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی ،بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریہ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الٰہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔ علامہ اقبال 9 نومبر 1877ء (بمطابق 3 ذیقعد 1294ھ) کو سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلافات رہے ہیں لیکن حکومت پاکستان سرکاری طور پر 9 نومبر 1877ء کو ہی ان کی تاریخ پیدائش تسلیم کرتی ہے۔اقبال کے آبا ؤ اجداد اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آئے اور محلہ کھیتیاں میں آباد ہوئے۔علامہ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی اور مشن ہائی سکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ زمانہ طالبعلمی میں انھیں میر حسن جیسے استاد ملے جنہوں نے آپ کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ اور ان کے اوصاف خیالات کے مطابق آپ کی صحیح رہنمائی کی۔ زیر تبصرہ کتاب"...

  • 33 خطبات الہ آبادی جلد اول (ہفتہ 26 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:3285

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات الہ آبادی ‘‘الہ آباد (ٹھینگ موڑ) ضلع قصور کے نامور دلنشیں پنچابی زبان کے ہردلعزیز خطیب مولانا شریف آبادی﷫ کے خطبات کا مجموعہ ہے ۔مولانا موصوف کی تقایر بلاشبہ کوزے میں سمندر بند کرنے کےمترادف ہیں جن میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کونہایت حسین وددلکش انداز میں بیان فرماتے تھے۔آپ الہ آباد کی مرکزی مسجد میں طویل عرصہ خطیب رہے جہاں دور دور سے احباب آپ کاخطبہ سننے کےلیے تشریف لاتے۔ مولانا جوانی کی...

  • 34 خطبات انبیاء (ہفتہ 16 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:1486

    خالق کائنات نے زمین پر انسان کو پیدا کرنے کے بعد ایسے ہی نہی چھوڑ دیا بلکہ اس کی راہ نمائی اور ہدایت کا سامان مہیا کیا۔ اور اسے اپنی مرضی سے آگاہ کرنے کے لیے رسولوں اور نبیوں کا سلسلہ جاری کیا۔ تمام رسول مختلف قوموں اور زمین کے خطوں میں بندگی رب کی ایک ہی دعوت لے کر آتے رہےاور ان کی دعوت ان کا کردار اور طریق کار تقریبا ہر دور اور ہر انسانی معاشرے میں یکساں ہی رہا ہے۔ جس کی پوری تصویر قرآن پاک کی مختلف آیات میں بکھری پڑی ہے۔ اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔ شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اور خطبات کے ذریعے عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں۔  زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات انبیاءؐ‘‘اسعد علی گیلانی کی ہے۔ جس میں قرآن مجید کے بیان کردہ انبیاء کی دعوتی تقاریر کو مربوط اور یک جا کر دیا گیا ہے، تا کہ تاثر کی یکسانی سے دعوت فکر اور دعوت حق کی حقانیت کا اظہا رہو۔اور انبیاء کی مستند تقاریر کو دعوتی مراحل اور زمانی ترتیب کا لحاظ کرتے ہوئے مربوط کیا گیا ہے۔ تا کہ وحدثِ تاثر قائم رہے یہ تقاریر صرف قرآن مجید سے ہی اخذ کی گئی ہیں اور بہت ہی کم بائبل اور توریت سےبھی استفادہ کی...

  • 35 خطبات اہل حدیث (جمعہ 25 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:3336

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات اہل حدیث‘‘عوامی اجتماعات میں عوامی انداز میں علمی گفتگو کرنے والے عصر حاضر کے نامور خطیب سید سبطین شاہ نقوی﷾ کے19 علمی خطبات کا مجموعہ ہےسید صاحب کے خطبات میں دلائل کا سمند ر موجزن ہے۔جو ایمان کو تازگی روح کو پاکیزگی، عقائد کوپختگی اور عمل کوبیدار بخشتا ہے۔ جس کی موجیں عقائد باطلہ اور نظریات فاسدہ کوبہالے جاتی ہیں۔ شاہ صاحب کےخطبات خالصتاً علمی ، اصلاحی اور دعوتی حقائق پر مبنی ہیں۔کتاب کےمرتب جن...

  • 36 خطبات بہاولپور جلد اول (منگل 13 مئی 2014ء)

    مشاہدات:6130

    ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش: 9فروری 1908ء، انتقال : 17 دسمبر 2002ء) معروف محدث، فقیہ، محقق، قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔ آپ جامعہ عثمانیہ سے ایم۔اے، ایل ایل۔بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے یورپ پہنچے۔ بون یونیورسٹی (جرمنی) سے ڈی فل اور سوربون یونیورسٹی (پیرس)سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ ڈاکٹر صاحب کچھ عرصے تک جامعہ عثمانیہ حیدر آباد میں پروفیسر رہے۔ یورپ جانے کے بعد جرمنی اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ فرانس کے نیشنل سنٹر آف سائینٹیفک ریسرچ سے تقریباً بیس سال تک وابستہ رہے۔ علاوہ ازیں یورپ اور ایشیا کی کئی یونیورسٹیوں میں آپ کے توسیعی خطبات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔زیر نظر کتاب خطبات بہاولپور دراصل مارچ 1980ءمیں جامعہ عباسیہ(اسلامیہ یونیورسٹی بھاولپور،پاکستان) کی دعوت پر یونیورسٹی میں ججز، علماءاور یونیورسٹیوں کے چانسلرز او رڈین حضرات کی زیر صدارت ڈاکٹر حمیداللہ  کے مختلف علمی موضوعات پر بارہ خطبات کا مجموعہ ہے جو علمی حلقوں ، قانون دان او ر دانشور طبقے کے درمیان خطبات بہاولپور کے نا م سے معروف ہے ۔یہ خطبات 8مارچ 1980 ء سے 20 ماچ 1980ءتک مسلسل جاری رہے۔ان خطبات کوسننے کےلیے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے اساتذہ،طلباء وطالبات کےعلاوہ شہر کے علمائے کرام اوراہل ذوق و طلب خواتین وحضرات کی ایک کثیر تعدادتشریف لاتی جن میں ملک کے...

  • 37 خطبات بہاولپوری جلد1 (پیر 24 جون 2013ء)

    مشاہدات:4795

    محترم پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری  ایک قناعت پسند  ،حق گواور سادگی پسند انسان تھے ۔انہوں نے اپنی زندگی کا ایک خاصہ  حصہ خدمت دین کیلے وقف کردیا تھا ۔اللہ تعالی نے ان کے خلوص کی وجہ سے ان کی کلام میں ایک بندہءمومن جیسی تاثیررکھی ہوئی تھی ۔ان کی کلام انتہائی سادہ اورسچائی پرمبنی ہوتی تھی۔اسی وجہ سے ان کی تقریروتحریر اپنےاندر ایک خاص قسم کا اثررکھتی ہوتی تھی ۔ان کے خطبات کے اند ر توحید کا اثبات اور موجودہ رسومات  کی  پرزورتردیدملتی ہے۔ان کی ہرممکن کوشش ہواکرتی تھی کہ اپنامدعا ومقصداپنے سامعین کو منتقل کردوں۔اور اس کے لیے وہ الفاظ کے پیچ وخم میں مبتلا نہیں ہوتے تھے ۔بلکہ مشکل اور پیچیدہ الفاظ سے حتی الوسع گریز ہی کیا کرتےتھے۔  مکتبہ اسلامیہ فیصل آباد نے ان خطبات وتقاریر کو ایک کتابی شکل میں آپ کے پیش خدمت کرنےکی سعادت حاصل کی ہے۔اس سلسلے میں  ناشر محترم جناب عبداالغفار صاحب نے حافظ صاحب کے اخلاص بھری خدمات کی قدر کرتےہوئے  بس لاگت کی بقدر قیمت کتاب متعین کی ہے۔اللہ ناشراور محترم حافظ صاحب کو اجرجزیل سے نوازے۔اوریہ بیان و تحریر ان کی دنیا وآخرت کی نجات کا ذریعہ بنائے۔آمین۔(ع۔ح)
     

  • 38 خطبات جمعہ انتخاب اسلامی خطبات (بدھ 22 اگست 2012ء)

    مشاہدات:26652

    اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار اہمیت کا حامل  ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علم دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی  قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء  ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے  نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں اور اگر یہی اقتباسات کو تحریری شکل دے کر لوگوں کے لیے شائع کردیاجائے تو گراں قدر خدمت دین ہے۔زیرنظر  کتاب مولانا عبدالسلام بستوی کے خطبات کہ جن میں امور زندگی سےمتعلقہ موضوعات پر  قرآن و حدیث کی نصوص سے مزین، مبسوط اور مستقل تحریریں جمع  تھیں کا  خلاصہ ہے ۔جس میں عقائد و اخلاقیات، عبادات اور معاملات سے متعلقہ بیسیوں مضامین اکٹھے کردیئے گئے ہیں اور ان تحریروں کو بحوالہ بنانے کے لیے  عبارات و نصوص کی تخریج کردی گئی ہے تاہم اگر اس میں موجود روایات کی صحت کا حکم ابھی باقی ہے اگر وہ بھی ہوجاتا تو قارئین کے لیے اس بیش بہا علمی خزانہ سے استفادہ میں اور بہتری پیدا ہوجاتی۔(ک۔ط)
     

  • 39 خطبات جمعہ و عیدین (جمعہ 25 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:8383

    ادب وآداب اور اخلاق کسی بھی قوم کا طرہ امتیاز ہے گو کہ دیگر اقوام یا مذاہب نے اخلاق و کردار اور ادب و آداب کو فروغ دینے میں ہی اپنی عافیت جانی مگر اس کا تمام تر سہرا اسلام ہی کے سر جاتا ہے جس نے ادب و آداب اور حسن اخلاق کو باقاعدہ رائج کیا اور اسے انسانیت کا اولین درجہ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بات کی جاتی ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں زبان (یعنی اخلاق) سے پھیلا۔ حسنِ اخلاق اور ادب پر لاتعداد احادیث مبارکہ ہیں کہ چھوٹے ہوں یا بڑے‘ سب کے ساتھ کس طرح ادب سے پیش آنے کی تلقین اور ہدایت فرمائی گئی ادب اور اخلاق کسی معاشرے کی بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے جو معاشرے کو بلند تر کر دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ادب سے عاری انسان اپنا مقام نہیں بنا سکتا۔ باادب بامراد اور بے ادب بے مراد ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ادب کس کاکیوں اور کیسے ‘‘ماہنامہ ضیا حدیث کے ایڈیٹر جنا ب نعمان فاروقی﷾ کے والد گرامی محترم مولانا حکیم محمد ادریس فاروقی﷫ کے ماہنامہ ضیائے حدیث میں لکھے گئے قسط وار کالم ’’ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں‘‘ کی کتابی صورت ہے۔ اس کالم میں موصوف نے ادب الٰہی اور رسول اللہﷺ کےادب پر لکھا یہی مضمون مولانا ادریس فاروقی کی زندگی کا آخری مضمون بن گیا۔بعد ازاں موصوف کے   صاحبزادے مولانا محترم نعمان فاروقی نے ان مضامین کو جمع کر کے انہیں مرتب کیا اوران پر مزید کام کیا، بہت سے مقامات پر اضافے کیے اور اسے ایک خوبصورت کتاب کی صورت میں عوام الناس کے استفادے کے لیے۔ شائع کیا ہے۔ (م۔ا)

  • 40 خطبات حاصلپوری (جمعہ 22 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:4062

    اسلامی معاشرے میں بطور رہبر راہنما امام و خطیب ہوتا ہے، جس کی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ وقت، دن اور مہینوں کی مناسبت سے قوم کی راہنمائی کرے۔ کیونکہ خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات حاصل پوری‘‘ فضیلۃ الشیخ محمد عظیم حاصلپوری صاحب کی ہے۔ جس میں خطبات کو عربی مہینوں کی مناسبت سے ترتیب دیا گیا ہے۔کیونکہ اس کتاب کی اصل وجہ تسمیہ خطبات بہاولپوری ہے۔مولانا عظیم حاصل پوری صاحب کا مسکن بہاول پور کی تحصیل حاصل پور ہے۔موصوف کو اللہ تعالیٰ نے بہت تھوڑی عمر میں بہت زیادہ مقبولیت سے نوازا ہے، ان کی زندگی میں زبان سے نکلا ہر لفظ اور قلم سے لکھا ہر جملہ تقریبا چھپ جاتا اور لوگ اس انتظار ہوتے کہ نئی کتاب کب مارکیٹ میں آ رہی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’خطبات حاصل پوری‘‘ موصوف نے سات جلدوں میں شائع کر کے اپنا...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1489
  • اس ہفتے کے قارئین: 3687
  • اس ماہ کے قارئین: 37708
  • کل قارئین : 47839161

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں