کل کتب 187

دکھائیں
کتب
  • 71 #4841

    مصنف : عبد اللہ بن زید المحمود

    مشاہدات : 1901

    خطبات عبد اللہ بن زیدالمحمود

    (ہفتہ 29 اکتوبر 2016ء) ناشر : الدار السلفیہ، ممبئی

    علامہ عبد اللہ بن زید المحمود عالم اسلام کے مشہور وجید عالم ، مجتہد اورداعی ہیں۔موصوف بیسوی صدی کی عظیم علمی شخصیت ہیں جو نصف صدی سے زائد عرصہ مسلسل اپنی عربی زبان اور قلم سےمجددانہ انداز میں حق کی تبلیغ کرتے رہے ۔ان کی زبان میں تاثیر اور قلم میں بلا کا زور تھا ۔دوحہ ، قطر کی جامع مسجد میں ان کےخطبات جمعہ کی گونچ پوری اسلامی دنیا میں سنی گئی ۔ 1359ء میں حاکم قطر کی درخواست پر ملک عبدالعزیز ﷫ نے انہیں بطور قاضی قطر بھیجا۔ لہذا آپ نے خطابت کے ساتھ ساتھ طویل عرصہ قطر میں بطور قاضی وجج بھی کا م کیا ۔تمام اہم دینی موضوعات پر آپ کے رسائل موجود ہیں۔خاص طور پر مسلک سلف کی تائید اور شرک وبدعات اورمنکرات وفواحش کی رد میں آپ کےتحریر شدہ رسائل انتہائی قابل قدر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات عبد اللہ بن زیدالمحمود‘‘ شیخ عبداللہ بن زید المحمود کےعلمی خطبات، مواعظ ومقالات کےمجموعہ’’ الحکم الجامعۃ لشتی العلوم النافعۃ‘‘ کاترجمہ ہے ۔یہ کتاب واعظین منبر کےلیے ایک پوری لائبریری اور اسلام کاتحقیقی مطالعہ کرنے والے حضرات کےلیے سند وحجت اور دلیل وبرہان کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس میں وعظ ونصیحت ، حکمت ومعرفت بھی ہے ۔یہ مجموعہ علامہ موصو ف کی علمی زندگی کا خلاصہ ہے ۔تقریبا 27 سال قبل الدار السلفیہ،بمبئی کے مدیر مختار احمد ندوی نےاس مجموعہ کاترجمہ کرواکر شائع کیا جسے اب کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیاجار ہا ہے۔۔(م۔ا)

  • 72 #634

    مصنف : عمر فاروق قدوسی

    مشاہدات : 88873

    خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر

    (ہفتہ 16 فروری 2013ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    ’’او میری امت کے جوانان رعنا، او میری قوم کے سپوتو! اٹھو آج تمھارے مسلک اور تمھاری جماعت کو تمھاری ضرورت ہے۔ کس کے لیے؟ حق کی علمبرداری کے لیے! ملک میں کتاب و سنت کی عملداری کے لیے! ملک میں کتاب و سنت کی علمداری کے لیے! شرک و گمراہی کو مٹانے کے لیے اور کتاب و سنت کو پھیلانے کے لیے! اور ان شاء اللہ! وہ دن آنے والا ہے، جب پاکستان کی فضاؤں میں پرچم لہرا ئے گا تو کتاب اللہ کا لہرائے گا اور سنت رسول اللہ کا لہرائے گا.... اور اس دن کو طلوع ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔‘‘ یہ اس شخصیت کے الفاظ ہیں جس نے پاکستان میں اہل حدیث میں نئی روح پھونکی۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے خطابت کا ایسا ملکہ عطا کیا کہ آغا شورش کاشمیری نے ان کی ایک تقریر سن کر کہا ’’احسان الٰہی اگر تم آئندہ سے خطابت چھوڑ دو تو تمھاری صرف اس ایک تقریر سے تمھیں برصغیر پاک و ہند کے چند بڑے خطیبوں میں شمار کیا جائے گا۔‘‘ علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید 31 مئی 1945ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ اور اسلام کا یہ فرزند 23 مارچ 1987ء میں بم دھماکے میں زخمی ہونے کے بعد 30 مارچ 1987ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ زیر نظر کتاب اسی بطل جلیل کے خطبات پر مشتمل ہے جو انھوں نے مختلف مواقعوں پر دئیے۔ ان خطبات میں اسلام کیا ہے؟، اہل حدیث کی دعوت، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک متفق علیہ شخصیت، سیرت عمر فاروق، واقعہ کربلا۔ پس منظر، فرقہ واریت کا خاتمہ، حقوق العباد کی اہمیت، علما اور طلبا سے خطاب اور مولانا آخری خطبہ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ خطبات جہاں لوگوں کے عقائد و اخلاق سنوارنے کا سبب بنیں گے وہیں ان خطبات سے اصحاب رسول کی تنقیص کرنے والوں کے مقابلہ کے لیے لوگوں کو ایسے حقائق کا علم ہوگا جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ یہ کتاب خطبا مقررین اور عوام و خواص کے لیے یکساں مفید ہے۔(ع۔م)
     

  • 73 #3569

    مصنف : پروفیسر حافظ محمد سعید

    مشاہدات : 2925

    خطبات قادسیہ فتنہ تکفیر

    (اتوار 30 اگست 2015ء) ناشر : دار الاندلس،لاہور

    اسلام امن وسلامتی کا دین  ہے   جس میں انسانوں کے جان ومال کی حفاظت اوراس کی عزت وآبرو کی ضمانت دی گئی ہے رسول اللہﷺ نےباہمی انسانی ہمدردی اور خیر خواہی  پرمبنی دین حق کی طرف  لوگوں کو دعوت دی اور اس کے ساتھ  ساتھ  لوگوں کےدرمیان اتحاد واتفاق پیدا کیا۔ امت  کو اختلاف اور تفرقہ بازی سے بچنے کی تلقین کی اور ایسے تمام فتنوں سے آگاہ کیا  جو امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے ہیں  اور ان فتنوں سے بچنے  کے طریقے بھی بیان فرمائے۔ آپ ﷺ کےبیان کردہ فتنوں میں سب سے  بڑا اورخطر ناک فتنہ’’ فتنۂ تکفیر اور خوارج‘‘ ہے  یعنی ایک مسلمان کادوسرے  مسلمان کو کافر قرار دینے کا فتنہ ، مسلمان حکمرانوں  کےخلاف تلوار اٹھانے  اور مسلح بغاوت  کافتنہ۔مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان کو قتل کرنے ان کا مال  لوٹنے اوران کی عزتوں کو پامال کرنے کافتنہ۔ ان فتنوں نے تاریخ اسلام میں مسلمانوں کوسب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ عصر حاضر میں بھی اس فتنے نے دین ِاسلام کی حقیقی تصویر کو داغ دار او رحق پر مبنی سچی دعوت کو بدنام کیا ہے۔علمائے حق نے اس موضوع پر راہنمائی بھی کی ہے  لیکن اس سلسلے میں زیاد ہ تر مواد  عربی زبان ہے  ۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’ خطبات قادسیہ  فتنہ تکفیر‘‘  جماعۃ الدعوۃ  پاکستان کے امیر   محترم جناب حافظ سعید صاحب ﷾  کے اس موضوع پر  مسلسل بارہ خطبات کامجموعہ ہے ۔یہ خطبات آپ نے مرکز القادسیہ  ،لاہور میں    ارشاد فرمائے  آپ نے  ان  خطبات میں  ’’فتنہ تکفیر اور فتنۂ خوارج‘‘ کی  حقیقت ، اسباب، نقصانات اوراس سےبچاؤ کے طریقے بڑے  عام فہم انداز  اور آسان الفاظ میں  تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اسلام کا  صحیح  عقیدہ اور اس کی حقیقت اور سچی تصویر لوگوں کےسامنے پیش کی ہے  تاکہ عام مسلمان اس فتنے  میں مبتلا ہونے  سے بچ جائیں ۔دارالاندلس نے  حافظ صاحب کے ان  خطبات کو   کتاب شکل میں  مرتب  کر کے  حسن طباعت سےآراستہ کیا ہے۔اس موضوع پر اردوزبان میں  یہ کتاب بڑی اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ ان خطبات  کوقارئین کے عقائد واعمال کی اصلاح کاذریعہ بنائے    اور حافظ سعید صاحب کی عمر میں خیروبرکت  فرمائے  اور غلبۂ  دین  اسلام کے لیے ان کی اور ان کے  رفقاء کی  تمام مساعی  جمیلہ کو  قبول فرمائے (آمین)  (م۔ا)

  • 74 #5994

    مصنف : محمد اسماعیل سلفی

    مشاہدات : 1848

    خطبات محمد اسماعیل سلفی

    (اتوار 26 نومبر 2017ء) ناشر : ام القریٰ پبلی کیشنز، گوجرانوالہ

    نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنے پر اللہ نے اس امتِ محمدیہ کو بہترین امت قرار دیا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے پیغام کو دوسرں تک منتقل کرنا بڑے عظیم لوگوں کا کام ہے۔اسی بنیاد پر خطابت اللہ تعالیٖ کی عطا کردہ، خاص استعداد کا نام ہے جس کے ذریعے ایک مبلغ اپنے ما فی الضمیر کے اظہار، اپنے جذبات و احساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار و نظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جو خطیب کتاب و سنت کے دلائل و براہینسے مزین وعظ کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہے جس کا سامعین کے روح و قلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبہ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک اتہائی اہم نصیحت ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔جس کے پیشِ نظر بہت سی کتابیں خطبات کے نام سے لکھی جا چکیں ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’خطبات شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی﷫ ‘‘ جس میں خطبات کو    قرآن مجید کی سورتوں (البقرۃ، المائدۃ، التوبۃ،بنی اسرائیل، الانبیاء، الحج، المؤمنون، النور، الفرقان، حم السجدۃ، الفتح، الصف اور الجمعہ) کی روشنی میں مدوّن کیا گیا ہے۔اس کتاب میں خطبات کی تعداد 92 ہےاور حتی الامکان بیشتر مقامات پر خطبات اور ان کی اشاعت کی تاریخ بھی درج ہے۔ سلفی صاحب کی پیدائش 1895ء میں تحصیل وزیر آباد کے گاؤں ’’ ڈھونیکے ‘‘ میں ہوئی۔ 20 فروری 1968ء کو اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے ۔ آپ بیک وقت مفسر، محدث، فقیہ، مؤرخ، ادیب اور محقق عالم دین تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔ آمین۔ ( پ،ر،ر)

  • 75 #2115

    مصنف : محمد جونا گڑھی

    مشاہدات : 5439

    خطبات محمدی

    (اتوار 01 جون 2014ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    جمعہ کے خطبات پر دنیا کی مختلف زبانوں میں بے شمار کتابیں موجود ہیں اور ان میں اب بھی مسلسل اضافہ ہورہاہے اسلامی خطبات ، خطبات جمعہ از عبد السلام بستوی ، زاد الخطیب از ڈاکر حافظ محمد اسحا ق زاہد وغیرہ قابل ذکر ہیں اور ان کے علاوہ اہل علم او ر خطباء حضرات کے ذاتی خطابات کے بے شمار مجموعےموجود ہیں لیکن اب تک نبیﷺ کے جملہ خطبات کو جمع وترتیب کا کام کسی نےنہیں کیا اس لحاظ سے خطبات محمدی اپنے موضوع پر ایک منفرد اور مثالی کتاب اور خطباتِ نبوی کامستند ترین مجموعہ ہے مولانامحمد جوناگڑھی﷫ خود ایک سحربیان خطیب تھے خطابت کاملکہ فطری طور پر ان کے اندر قدرت نے بڑی فیاضی سے کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا کہ وہ خطیب الہند کے نام سے معروف ہیں احادیث پر ان کی گہری اور وسیع نظر تھی خطبات محمدی میں انہوں نے صحیح احادیث اور معتبر دینی کتبِ تفسیر وحدیث سے چن چن کر خطبات ِ نبوی ﷺ کے موتیوں کو جمع کردیا ہے خطبات محمدی کے اس مجموعہ میں رسول اللہﷺ کے ایک ہزار(1000) سے زائد خطبات موجود ہیں مولانا موصوف اس کتاب کے علاوہ بیسیوں علمی وتحقیقی کتب کےمؤلف ہیں اور مشہور زمانہ تفسیر کی معتبرکتاب تفسیر ابن کثیر کے مترجم بھی ہیں اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کے درجات بلند فرمائے او رعوام الناس کے لیے ان کی کوششوں کو نفع بخشش بنائے(آمین)(م۔ا)

     

     

  • 76 #692

    مصنف : سید سلیمان ندوی

    مشاہدات : 19666

    خطبات مدراس

    (جمعرات 21 اکتوبر 2010ء) ناشر : ادارہ مطبوعات طلبہ لاہور ، کراچی

    مولاناسیدسلیمان ندوی رحمہ اللہ ایک عظیم سیرت نگار،جلیل القدرعالم اورمنفردادیب تھے۔ان کے قلم گوہربارسے کتنی شہرہ آفاق کتابیں منصہ مشہودپرآئیں ۔خطبات مدراس بھی سیدصاحب کی ایک بے مثال کتاب ہے ،جس میں موصوف نے سیرت نبوی ہی کوموضوع بنایاہے اوربڑے ہی ادبی وعلمی انداز سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے مختلف پہلوؤں کواجاگرکیاہے۔اس کتاب میں چھ (6)خطبات ہیں ،جن میں متعدداورمتنوع جہات پربحث کی گئی ہے ۔ضرورت اس امرکی ہے کہ سیرت پاک کابغورمطالعہ کیاجائے اوراپنی زندگیوں کواس کے مطابق ڈھالاجائے ۔یہ کتاب اس میں یقیناً معاون ہوگی۔ان شاء اللہ


     

  • 77 #3046

    مصنف : داؤد راز دہلوی

    مشاہدات : 2998

    خطبات نبوی (داؤد راز)

    (اتوار 29 مارچ 2015ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی   ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے   12 ضخیم مجلدات پر مشتمل   ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ عصر ِحاضر میں   استاذی المکرم ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد﷾ کی تین جلدوں پر مشتمل زاد الخطیب اور فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ ﷾کی کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب) اسلامی وعلمی خطبات کی کتابوں کی لسٹ میں گراں قدر اضافہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ خطبات نبوی‘‘ برصغیر پاک وہند کے عظیم محدث شارح بخاری مولانا محمد داؤد راز دہلوی ﷫ کی تصنیف ہے جس میں مولانا مرحوم نے خطیب الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے 23 سالہ دور نبوت کے خطبات کوبڑی تگ ودو اور محنت سے جمع کیا اور پھر انکی بہترین اسلوب اور اصلاحی انداز میں خوبصور ت تشریح   پیش کی ہے۔ یہ کتاب بہت سے مضامین کا احاطہ کیے ہوئے ۔ مثلاً عقائد،معاملات ،معاشرت ،معیشت اور اخلاقیات وغیرہ۔ان خطبات میں فاضل مصنف نے صحیح اسلامی زندگی کا خاکہ پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کا وش کو قبول فرمائے اور خطباء و واعظین کےاسے نفع بخش بنائے۔آمین) م۔ا)

  • 78 #3131

    مصنف : محمد ادریس طوروی

    مشاہدات : 2327

    خطبات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ( ادریس طوروی )

    (ہفتہ 02 مئی 2015ء) ناشر : ادبستان، لاہور

    سیرت نبوی ﷺ کامو ضوع  ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت وتوفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو  آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،اور لکھی جا رہی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔سیرت نبوی ﷺ کے متعدد پہلو ہیں جن میں ایک پہلو آپ ﷺ کے خطبات بھی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " خطبات نبوی ﷺ  "محترم مولانا محمد ادریس طوروی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے آپﷺ کے خطبات کو تفصیل سے بیان کر دیا ہے،اس کتاب میں انہوں نے اردو ترجمے کے ساتھ ساتھ اصل عربی عبارتوں کو بھی نقل کر دیا ہے تاکہ تحقیق کرنے والے اہل علم کے آسانی رہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • 79 #2981

    مصنف : سید ابو بکر غزنوی

    مشاہدات : 3430

    خطبات و مقالات ( سید ابوبکر غزنوی)

    (اتوار 15 مارچ 2015ء) ناشر : مرکز الحرمین الاسلامی، فیصل آباد

    پروفیسر سید ابو بکر غزنوی﷫ پا ک  وہندکے ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جو اپنےعلمی عملی اور اصلاحی کا رناموں کے بدولت منفر د و ممتاز حیثیت رکھتا ہے اور جس کی دینی وسیاسی خدمات اس سرزمین میں مسلمانوں کے تاریخ  کا ایک زریں باب ہیں۔اس خطۂ  ارضی میں ان کے مورث اعلیٰ سید  عبداللہ غزنوی ﷫اپنے علم وفضل اور زہد وتقویٰ کی وجہ سے وقت کے امام مانے جاتے تھے اور لوگ بلا امتیاز ان کا احترام کرتے تھے۔ ان کے والد ماجد مولانا سید داؤد غزنوی﷫ کی عملی وسیاسی زندگی بھی تاریخ اہل حدیث کا ایک سنہرا باب ہے ۔سید ابوبکر غزنوی ﷫ بھی  ایک ثقہ عالم دین ،نکتہ رس طبیعت کے مالک اور دین کےمزاج شناس تھے ۔مولانا سید غزنوی فطرتاً علم دوست مطالعہ پسند اور کم آمیز قسم کےآدمی تھے۔جن لوگوں نے ان کا بچپن دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کتاب ومطالعہ سے ان کا کتنا گہرا دلی تعلق تھا۔اردو فارسی ،انگریزی  اور  عربی زبان پوری دسترس رکھتے تھے انھوں نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے عربی کا امتحان دیا توصوبہ بھر میں اول رہے۔ پروفیسر ابوبکر غزنوی نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں عربی کے لیکچرر کی حیثیت سے کیا۔اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد اسلامیہ کالج سول لائنز کو ڈگری کالج کی حیثیت حاصل ہوگئی تو موصوف شعبہ عربی کے صدر بن کر  وہاں منتقل ہوگئے ۔اور اس  کے ساتھ ساتھ  یونیورسٹی اورنٹیل کالج میں عربی کےخصوصی لیکچر بھی دیتےتھے۔ اس کے بعد جلد ہی انجینیرنگ یونیورسٹی لاہور نے اپنے دروازے ان کے لیے  کھول دیے اور شعبہ اسلامیات کے صدر کی حیثیت سے وہاں اٹھ گئے ۔اس کے بعد بہالپور یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے طور پر ان کا تقرر ہوا اور ابھی وہ یونیورسٹی کےاصلاح وترقی کے پرگراموں پر عمل کراہی رہےتھے اور یونیورسٹی کامعیار بلند ہورہا تھا کہ موت آگئی اور وہ اللہ کو عزیز ہوگئے۔مولانا سید ابوبکر غزنوی ﷫ کی ذات متعدد اورصافِ فاضلہ کامجموعہ  تھی ۔اور سید صاحب جدید  وقدیم  علوم پر یکساں دسترس رکھتے  تھے آپ  کی شخصیت مغربی علوم وفنون اور تہذیب وتمدن سے  خو ب آگاہ تھی ۔ سید صاحب نے   اپنے  خطبات  اور تحریروں کے ذریعے  دین کے  تمام پہلوؤں کا  احاطہ کیا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات ومقالات سید ابو بکر غزنوی ‘‘ سید صاحب کے    مختلف مقالات  ومحاضرات کا مجموعہ   ہے جسے میاں طاہر صاحب نے مرتب کر کے  شائع کیا ہے ۔ان  خطبات  میں  ادب وآداب ،  معاشرت ،  مصیبت ،  سیاست وحکومت، جہاد او ر عبادات سمیت زندگی کا کوئی بھی  پہلو تشنہ نہیں چھوڑا۔ایک اعلیٰ انسانی معاشرے کی تشکیل کے لیے  یہ تحریریں ایسا سرچشمہ فیض ہیں  جو نئی نسل کی تربیت اور کردار سازی کے لیے رہنما کا درجہ رکھتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ  مرتب وناشر کی  اس کاوش کو قبول فرمائے  اور  سید صاحب  کے درجات میں  اضافے کا باعث اور قارئین کے لیےنفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)
     

  • 80 #4759

    مصنف : مفتی عبد الخالق آزاد

    مشاہدات : 2242

    خطبات و مقالات ( عبید اللہ سندھی )

    (منگل 27 ستمبر 2016ء) ناشر : دار التحقیق و الاشاعت لاہور

    امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی کی شخصیت برصغیر پاک و ہند میں کسی تعارف کی محتاج نہیں آپ 28 مارچ 1876ء بمطابق 12 محرم الحرام 1289ھ کو ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں چیلانوالی کے ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے۔1884ء میں آپ نے اپنے ایک ہم جماعت سے مولانا عبیداللہ پائلی کی کتاب “تحفۃ الہند“ لے کر پڑھی۔ اس کے بعد شاہ اسماعیل شہید کی کتاب “تقویۃ الایمان“ پڑھی اور یوں اسلام سے رغبت پیدا ہوگئی۔ 15 برس کی عمر میں 19 اگست 1887ء کو مشرف با اسلام ہوئے۔اردو مڈل تک کی تعلیم آپ نے جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان میں حاصل کی۔ پھر قبول اسلام کے بعد 1888ء میں دیوبند گئے اور وہاں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور تفسیر و حدیث، فقہ و منطق و فلسفہ کی تکمیل کی۔1901ء میں گوٹھ پیر جھنڈو میں دالارشاد قائم کیا۔1909ء میں اسیر مالٹا محمود الحسن کے حکم کی تعمیل میں دارالعلوم دیوبند گئے اور وہاں طلباء کی تنظیم “جمیعت الانصار“ کے سلسلے میں اہم خدمات انجام دیں۔1912ء میں دلی نظارۃ المعارف کے نام سے ایک مدرسہ جاری کیا جس نے اسلامی تعلیمات کی اشاعت میں بڑا کام کیا ہے۔ترکی میں 1924ء میں اپنی ذمہ داری پر تحریک ولی اللہ کے تیسرے دور کا آغاز کیا۔ اس موقع پر آپ نے آزادئ ہند کا منشور استنبول سے شائع کیا۔ترکی سے حجاز پہنچے اور 1939ء تک مکہ معظمہ میں رہے۔ اسی عرصہ میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق اور دینی مسائل کو تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ عوام تک پہنچایا۔ساری زندگی قائد حریت کی حیثیت سے اسلامی اور سیاسی خدمات انجام دیتے رہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات ومقالات مولانا عبید اللہ سندھی ‘‘ مفتی عبد الخالق آزاد کی مرتب شدہ ہے ۔یہ کتاب مولانا سندھی کے تحریک آزادی کے تناظر میں تحریر کئے جانے والے سیاسی، اقتصادی، دستوری وتاریخی مقالات وخطبات کا مجموعہ ہے ۔ مولانا سندھی کے معرکۃ الاراء خطبات او رآئینی دفعات پر مشتمل دستوری خاکے اور جماعتوں کےاغراض ومقاصد بھی اس اس کتاب کا حصہ ہیں۔غرض یہ کتاب مولانا سندھی اور شیخ الہند کے افکار وخیالات کا ایک بہترین مرقع ہے۔مرتب نے تمام مقالات کو سالوں کی ترتیب کے مطابق مرتب کیا ہے۔(م۔ا)

< 1 2 ... 5 6 7 8 9 10 11 ... 18 19 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1627
  • اس ہفتے کے قارئین 7612
  • اس ماہ کے قارئین 46006
  • کل قارئین49332382

موضوعاتی فہرست