اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #512

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

    مشاہدات : 15150

    عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد ایک تجزیاتی مطالعہ ۔پارٹ 1

    (جمعہ 01 اپریل 2011ء) ناشر : شیخ زاید اسلامک سنٹر لاہور

    اصطلاح فقہاء میں‘احکام شرعیہ میں سے کسی چیز کے بارے میں ظن غالب کو حاصل کرنے کے لئے اس طرح پوری پوری کوشش کرنا کہ اس پر اس سے زیادہ غور وخوض ممکن نہ ہو اجتہاد کہلاتا ہے‘گویا کہ ہر ایسی کوشش جوکہ غیرمنصوص مسائل کا شرعی حل معلوم کرنے کے لئے کی جاتی ہے، اجتہاد ہے۔اور اگر ایسی کوشش اجتماعی ہو یعنی وہ کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کے تحت ہوتو اجتماعی اجتہاد کہلاتی ہے۔ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہر علم کا دائرہ اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ ایک مجتہد اور فقیہ کے لئے ہرایک شعبہ علم میں مہارت پیدا کرنا تو دور کی بات ، اس کے مبتدیات کا احاطہ کرنا بھی ناممکن ہو گیا ہے‘مزید برآں فقہ الاحکام( دین) سے متعلق مختلف علوم و فنون پر دسترس رکھنے والے علماء تو بہت مل جائیں گے لیکن فقہ الواقعہ(دنیا) سے تعلق رکھنے والے اجتماعی اور انسانی علوم ومسائل کی واقفیت علماء میں تقریبا ناپید ہے۔آج ایک عالم کو جن مسائل کاسامنا ہے وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہیں۔ان متنوع مسائل کا صحیح معنوں میں ادراک اور شریعت کی روشنی میں ان کا حل پیش کرنا اکیلے ایک عالم کے لئے تقریباً ناممکن ہے۔اس لیے آج اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ علماء کی انفرادی اجتہادی کاوشوں کے بجائے اجتماعی سطح پر اجتہاد کے کام کو فروغ دیا جائے‘ ایسے ادارے اور فقہی اکیڈمیاں قائم کی جائیں جو اجتماعی اجتہاد کے اس کام کو آگے بڑھا سکیں‘ان اداروں میں عالم اسلام کے ممتاز اور جید علماء کو نمائندگی حاصل ہو۔علماء کے علاوہ مختلف عصری علوم کے ماہرین بھی اس مشاورتی عمل میں شریک ہوںتا کہ زیر بحث مسئلہ کوفنی نقطہ نظر سے سمجھنے میں علماء کی مدد کریں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس قسم کی ملی جلی فکری اوراجتہادی کوششوں سے مسئلہ اور زیادہ نکھر جائے گا، اور تعیین و اطلاق کی ایک لائق عمل شکل اختیار کر لے گا۔اسی طرح کا ایک اجتماعی اور شورائی اجتہاد ہی فقہ اسلامی کی معاصر ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے اورڈاکٹر محمود احمد غازی کے بقول اس اجتماعی اجتہاد کے نتیجے میںایک کوسمو پولیٹن یا اجتماعی فقہ امت مسلمہ کوحاصل ہو سکتی ہے جسے فقہ شافعی ‘فقہ حنبلی ‘فقہ مالکی یا فقہ حنفی کی بجائے ’فقہ اسلامی‘ کے نام سے موسوم کیا جا سکتا ہے اور جو سب مذاہب اسلامیہ کے نزدیک قابل قبول ہو گی۔لیکن اس اجتماعی اجتہاد کے ضمن میں علماء کو دو باتوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا ایک یہ کہ اجتماعی اجتہاد کی صورت علماء کی کسی بھی مجلس یا ’لجنۃ‘ کا اصل مقصود حکم الہی کی تلاش ہو اور باہمی مفاہمت اس مقصد پر کسی طور بھی غالب نہ آنے پائے اور دوسری بات یہ کہ اس اجتماعی جتہاد کو اجماع کا درجہ دے کر اس کی بنیاد پر کوئی تقنین سازی کرتے ہوئے اس کے مخالف رائے رکھنے والے مجتہدین پر جبرااس کا نفاذ نہ کیا جائے۔
    اجتماعی اجتہاد کے موضوع پر ابھی تک ایک ہی کتاب سامنے آئی ہے جس کا نام ’ الاجتہاد الجماعی فی التشریع الاسلامی‘ہے۔یہ کتاب ڈاکٹر عبد المجید السوسوہ کی ہے۔ڈاکٹر السوسوہ کی اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد علماء میں اجتماعی اجتہاد کی شرعی حیثیت اور دلائل کے بار ے میں ایک علمی بحث کاآغاز ہوگیا۔بعض علماء نے اجتماعی اجتہاد کے حق میں اور بعض نے اجتماعی اجتہاد کی مخالفت میں مضامین لکھے ہیںاور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ علامہ البانی نے ’السلسلۃ الضعیفۃ ‘ میںالسوسوہ کی کتاب میں موجود بعض اصولی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے ۔ بعض دوسرے علماء مثلا مصطفی الزرقا،مصطفی الشلبی ،محمد یوسف موسی ،محمود شلتوت ،احمد شاکر، ڈاکٹر زکریا البری ،ڈاکٹر محمد عمارۃ، ڈاکٹر محمد الدسوقی ،شیخ عبد الامیرقبلان لبنانی ،محمد عبدہ،بدیع الزمان النورسی اور مفتی شام علامہ شیخ احمد کفتارونے بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ اجتماعی اجتہاد کی تائید میں لکھاہے۔ اس سلسے میں قابل ذکر کام پروفیسر ڈاکٹر طاہر منصوری صاحب کی کاوشوں کے نتیجے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے زیر اہتمام اجتماعی اجتہا د کے تصور و ارتقاء پر ایک علمی سیمینار کا انعقادہے۔ جس میں ملک بھر سے مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز اور جید علماء نے شرکت کی اور اجتماعی اجتہاد سے متعلق اپنے نظریات اور خیالات کا اظہار کیا۔سیمینار کے مقالہ جات انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کے تحت کتابی شکل میں شائع بھی ہو چکے ہیں۔زیر نظر مقالہ بھی اجتماعی اجتہاد کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالہ سے ایک مستند دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے اور پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی۔ ایچ۔ڈی (۲۰۰۳۔۲۰۱۰ئ)کے مرحلہ میں مکمل ہوکر جمع ہو چکا ہے ۔
     

  • 2 #512.01

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

    مشاہدات : 15833

    عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد ایک تجزیاتی مطالعہ ۔پارٹ 2

    (ہفتہ 02 اپریل 2011ء) ناشر : شیخ زاید اسلامک سنٹر لاہور

    اصطلاح فقہاء میں‘احکام شرعیہ میں سے کسی چیز کے بارے میں ظن غالب کو حاصل کرنے کے لئے اس طرح پوری پوری کوشش کرنا کہ اس پر اس سے زیادہ غور وخوض ممکن نہ ہو اجتہاد کہلاتا ہے‘گویا کہ ہر ایسی کوشش جوکہ غیرمنصوص مسائل کا شرعی حل معلوم کرنے کے لئے کی جاتی ہے، اجتہاد ہے۔اور اگر ایسی کوشش اجتماعی ہو یعنی وہ کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کے تحت ہوتو اجتماعی اجتہاد کہلاتی ہے۔ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہر علم کا دائرہ اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ ایک مجتہد اور فقیہ کے لئے ہرایک شعبہ علم میں مہارت پیدا کرنا تو دور کی بات ، اس کے مبتدیات کا احاطہ کرنا بھی ناممکن ہو گیا ہے‘مزید برآں فقہ الاحکام( دین) سے متعلق مختلف علوم و فنون پر دسترس رکھنے والے علماء تو بہت مل جائیں گے لیکن فقہ الواقعہ(دنیا) سے تعلق رکھنے والے اجتماعی اور انسانی علوم ومسائل کی واقفیت علماء میں تقریبا ناپید ہے۔آج ایک عالم کو جن مسائل کاسامنا ہے وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہیں۔ان متنوع مسائل کا صحیح معنوں میں ادراک اور شریعت کی روشنی میں ان کا حل پیش کرنا اکیلے ایک عالم کے لئے تقریباً ناممکن ہے۔اس لیے آج اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ علماء کی انفرادی اجتہادی کاوشوں کے بجائے اجتماعی سطح پر اجتہاد کے کام کو فروغ دیا جائے‘ ایسے ادارے اور فقہی اکیڈمیاں قائم کی جائیں جو اجتماعی اجتہاد کے اس کام کو آگے بڑھا سکیں‘ان اداروں میں عالم اسلام کے ممتاز اور جید علماء کو نمائندگی حاصل ہو۔علماء کے علاوہ مختلف عصری علوم کے ماہرین بھی اس مشاورتی عمل میں شریک ہوںتا کہ زیر بحث مسئلہ کوفنی نقطہ نظر سے سمجھنے میں علماء کی مدد کریں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس قسم کی ملی جلی فکری اوراجتہادی کوششوں سے مسئلہ اور زیادہ نکھر جائے گا، اور تعیین و اطلاق کی ایک لائق عمل شکل اختیار کر لے گا۔اسی طرح کا ایک اجتماعی اور شورائی اجتہاد ہی فقہ اسلامی کی معاصر ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے اورڈاکٹر محمود احمد غازی کے بقول اس اجتماعی اجتہاد کے نتیجے میںایک کوسمو پولیٹن یا اجتماعی فقہ امت مسلمہ کوحاصل ہو سکتی ہے جسے فقہ شافعی ‘فقہ حنبلی ‘فقہ مالکی یا فقہ حنفی کی بجائے ’فقہ اسلامی‘ کے نام سے موسوم کیا جا سکتا ہے اور جو سب مذاہب اسلامیہ کے نزدیک قابل قبول ہو گی۔لیکن اس اجتماعی اجتہاد کے ضمن میں علماء کو دو باتوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا ایک یہ کہ اجتماعی اجتہاد کی صورت علماء کی کسی بھی مجلس یا ’لجنۃ‘ کا اصل مقصود حکم الہی کی تلاش ہو اور باہمی مفاہمت اس مقصد پر کسی طور بھی غالب نہ آنے پائے اور دوسری بات یہ کہ اس اجتماعی جتہاد کو اجماع کا درجہ دے کر اس کی بنیاد پر کوئی تقنین سازی کرتے ہوئے اس کے مخالف رائے رکھنے والے مجتہدین پر جبرااس کا نفاذ نہ کیا جائے۔
    اجتماعی اجتہاد کے موضوع پر ابھی تک ایک ہی کتاب سامنے آئی ہے جس کا نام ’ الاجتہاد الجماعی فی التشریع الاسلامی‘ہے۔یہ کتاب ڈاکٹر عبد المجید السوسوہ کی ہے۔ڈاکٹر السوسوہ کی اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد علماء میں اجتماعی اجتہاد کی شرعی حیثیت اور دلائل کے بار ے میں ایک علمی بحث کاآغاز ہوگیا۔بعض علماء نے اجتماعی اجتہاد کے حق میں اور بعض نے اجتماعی اجتہاد کی مخالفت میں مضامین لکھے ہیںاور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ علامہ البانی نے ’السلسلۃ الضعیفۃ ‘ میںالسوسوہ کی کتاب میں موجود بعض اصولی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے ۔ بعض دوسرے علماء مثلا مصطفی الزرقا،مصطفی الشلبی ،محمد یوسف موسی ،محمود شلتوت ،احمد شاکر، ڈاکٹر زکریا البری ،ڈاکٹر محمد عمارۃ، ڈاکٹر محمد الدسوقی ،شیخ عبد الامیرقبلان لبنانی ،محمد عبدہ،بدیع الزمان النورسی اور مفتی شام علامہ شیخ احمد کفتارونے بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ اجتماعی اجتہاد کی تائید میں لکھاہے۔ اس سلسے میں قابل ذکر کام پروفیسر ڈاکٹر طاہر منصوری صاحب کی کاوشوں کے نتیجے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے زیر اہتمام اجتماعی اجتہا د کے تصور و ارتقاء پر ایک علمی سیمینار کا انعقادہے۔ جس میں ملک بھر سے مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز اور جید علماء نے شرکت کی اور اجتماعی اجتہاد سے متعلق اپنے نظریات اور خیالات کا اظہار کیا۔سیمینار کے مقالہ جات انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کے تحت کتابی شکل میں شائع بھی ہو چکے ہیں۔زیر نظر مقالہ بھی اجتماعی اجتہاد کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالہ سے ایک مستند دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے اور پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی۔ ایچ۔ڈی (۲۰۰۳۔۲۰۱۰ئ)کے مرحلہ میں مکمل ہوکر جمع ہو چکا ہے ۔
     

  • 3 #536

    مصنف : حافظہ مریم مدنی

    مشاہدات : 13027

    محدث روپڑی اور تفسیری درایت کے اصول(ایم فل۔ مقالہ)

    (جمعرات 14 اپریل 2011ء) ناشر : شیخ زاید اسلامک سنٹر لاہور

    زیر نظر کتاب حافظہ مریم مدنی کا ایم فل کا مقالہ ہے۔ جس میں انہوں نے قرآن کی تفسیر روایت و درایت سے اخذ کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔کیونکہ انسانی عقل کتنی ہی پختہ ہو ،خیالات میں کتنی ہی رفعت ہو اور افکاری بالیدگی میں کتنی ہی موزونیت ہو قرآنی آیات کی تفسیر کو سمجھنے کے لیے روایات (احادیث نبوی )اور درایات(صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کے تفسیری اقوال ) کا علم بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔اس لیے کہ قرآنی آیات کے صحیح مفہوم کی تعیین کے یہی دو طریق اصل ماخذ ہیں۔علماء حق اور محدثین کا قرآن کی تفسیر میں یہی اسلوب رہا ہے ۔لیکن مرور زمانہ کے ساتھ کئی گمراہ فرقے ،روشن خیال افراد اور مغرب زدہ دانشوروں نے قرآنی آیات کی گتھیاں سلجھانے اور قرآنی آیات کے مفہوم کی تعیین کے لیے لغت عربی ،عرب ادبا ء کے کلام اور عقلی سوچ کا سہارا لیا ہے ۔جو وحی کی تعبیر و تشریح میں مستقل اتھارٹی نہیں ہیں ۔بلکہ اپنی تخلیقی کمزوریوں کے باعث خود بھی محتاج اصلاح ہیں۔لہذا کلام الہی کی صحیح تعبیر و تشریح احادیث نبویہ ﷺ یا آثار صحابہ ہی سے ممکن ہے۔البتہ اجتہادی مسائل میں اہل علم کے اختلافی اقوال کی صورت میں دلائل شرعیہ یا لغت عرب سے مدد لی جاسکتی ہے ۔اس پس منظر میں فکری اصلاح اور صحیح قرآنی تعبیر و تفسیر کے لیے یہ مقالہ ایک اہم سنگ میل ہے ۔جس میں مقالہ نگار نے روپڑی خاندان کے چشم و چراغ اور علماء برصغیر کے آسمان کے درخشندہ ستارے حافظ عبداللہ محدث روپڑیؒ کے قرآنی تفسیر کی تعبیر میں روایت و درایت کا اہتمام کرنے کے راہنما اصول کا بیان ہے ۔نیز یہ مقالہ منکرین حدیث و مستشرقین کی فکری یلغار کے سامنے ایک مضبوط بند ہے ۔جس سے عقلی توفق اور پرویزی افکار کی منہ زور لہریں ٹکرا کر اپنی موت آپ مر جائیں ۔حافظہ مریم مدنی کی یہ کاوش ان کے کتاب وسنت سے شغف ،دین اسلام سے قلبی لگاؤ اور احادیث و آثار کے دفاع کی لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اللہ تعالی ٰ مصنفہ کی اس دینی خدمت کو شرف قبول بخشے اور انہیں اس طرح کے مزید علمی کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
     

  • 4 #928

    مصنف : پروفیسر حافظ احمد یار

    مشاہدات : 19991

    قرآن وسنت چند مباحث - جلد اول

    (منگل 26 جولائی 2011ء) ناشر : شیخ زاید اسلامک سنٹر لاہور

    زیر نظر کتاب پروفیسر احمد یار مرحوم،سابق صدر شعبہ اسلامیات ،جامعہ پنجاب،لاہور کے چند علمی وتحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے جس میں علوم القرآن،سیرت نبوی اور دیگر موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔زیادہ تر مضامین کا تعلق قرآنی علوم سے ہے۔چنانچہ اس سے متعلق 9مضامین شامل کتاب ہیں جن میں انتہائی اہم مباحث پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس ضمن میں قرآن کریم کی ترتیب نزول،کتابت مصاحف اور علم رسم،رسم عثمانی،خط نسخ اور صلیبیوں اور صیہونیوں کی قرآن دشمنی جیسے عنوانات پر تحقیقی بحث کی گئی ہے۔اس کے علاوہ لغات واعراب قرآن اور تفسیر الجامع الازھر پر تبصرہ بھی شامل ہے۔اس کے بعد سیرۃ النبی پر تین تحریریں ہیں ان میں اخلاق نبوت سے اکتساب فیض کی شرط او ر علامت کا تذکرہ ہے،پھر عصر حاضر کے لیے سیرت کا پیغام اجاگر کیا گیا ہے اور تیسرے مضمون میں اسلام کے نظام عدل واحسان اور برائیوں کے انسداد پر روشنی ڈالی ہے۔آخر میں عشرگی اہمیت وافادیت پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔اس پہلو سے یہ کتاب بہت علمی نکات وفوائد کی حامل ہے،جس کا مطالعہ یقیناً اضافہ علم کا موجب ہو گا۔(ط۔ا)
     

  • 5 #2295

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد عبد القیوم

    مشاہدات : 4122

    امام ابن شہاب زہری اور ان پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ

    (اتوار 03 اگست 2014ء) ناشر : شیخ زاید اسلامک سنٹر لاہور

    امام محمد بن مسلم بن عبيد الله بن عبد الله بن شهاب زہری (50۔124ھ) زبردست ثقہ امام، حافظ، اور فقیہ تھے۔ زہری نے کئی صحابہ کرام اور کئی کبار تابعین سے روایات لی ہیں آپ کی روایات تمام کتبِ صحاح، سنن، مسانید، معاجم، مستدرکات، مستخرجات، جوامع، تواریخ اور ہر قسم کی کتب حدیث میں شامل ہیں آپ کی جلالت اور اتقان پر امت کا اتفاق ہےامام  زہری ﷫ کا شمار ان جلیل القدر آئمہ حدیث میں ہوتا ہے  جو علمِ حدیث میں  ’’جبل العلم‘‘  کامقام رکھتے ہیں ۔اسی لیے آپ علم حدیث میں ایک فردکی حیثیت سے  نہیں بلکہ علم  حدیث کا  دائرۃ المعارف کی  حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں ۔علمائے جرح وتعدیل اسماء الرجال اور فنون حدیث میں نابغہ روز گار شخصیات آپ کی امامت وجلالت ،ثقاہت وعدالت پر متفق ہیں۔ حقیقت یہ کہ آپ ہی کی  محنت شاقہ کی بدولت آج  ہم  احادیث  نبویہ سے اپنے قلوب کوگرمائے  ہوئے ہیں وگرنہ بقول اما م لیث بن سعد اگر ابن شہاب زہری  نہ ہوتے تو بہت سی احادیثِ نبویہ ضائع ہو جاتیں ۔لیکن بعض جاہل منکرین حدیث نے امام زہری پر صرف اس لئے تشیع کا الزام لگایا کیونکہ ان کا ترجمہ محض کسی شیعہ کتب رجال میں موجود ہے۔ حالانکہ کسی شخص کا شیعہ کی کتب رجال میں ذکر ہونا اس بات کا قطعی ثبوت نہیں ہے کہ وہ شخص شیعہ ہے۔ یہ الزام بالکل بے بنیاد اور جھوٹا ہے جبکہ اس کے برعکس امت میں سے کسی عالمِ دین و محدث نے کبھی ایسا نہیں کہا ہے۔زیر نظر کتاب ’’امام ابن شہاب زہری  اور ان پر اعتراضات کا  تحقیقی جائزہ‘‘محتر م حافظ عبد القیوم صاحب  (لیکچررشیخ  زاید اسلامک سنٹر ،لاہور) کی  علمی کاوش  ہے  جسے انہوں نے  جاوید غامدی کے  ادارہ الموردکے  ترجمان انگریزی  مجلہRenaissance  میں  المورد کے سکالر جنا ب شہزاد سلیم کے شائع ہونے  مضمون کا  تحقیقی  جائزہ لیتے ہوئے تحریر کیا ۔ جس میں انہوں نے علمِ حدیث کے روشن چراغ  اما م  ابن شہاب زہری  کےحالات ،ان کی خدمات اور ان پر کیےگے اعتراضات  کا مدلل تجزیہ پیش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ دعاع حدیث  کے  سلسلے میں  مصنف  کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔(آمین)  (م۔ا)

     

  • 6 #2739

    مصنف : محمد اسلم صدیق

    مشاہدات : 2338

    قراءات شاذہ شرعی حیثیت اور تفسیر وفقہ پر اثرات

    (منگل 23 دسمبر 2014ء) ناشر : شیخ زاید اسلامک سنٹر لاہور

    قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے  آخری  کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات  اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش  ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت  میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔قراءات قرآنیہ کے میدان میں جہاں قراءات متواترہ پر کتب لکھی گئی ہیں وہیں قراءات شاذہ پر بھی کتب موجود ہیں۔زیر تبصرہ مقالہ " قراءات شاذہ ،شرعی حیثیت اور تفسیر وفقہ پر اثرات"ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ایک عرصہ دراز تک کام کرنے والے ریسرچ فیلو  محترم محمد اسلم صدیق صاحب کی کاوش ہے جو انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم فل کے پیش کیا تھا۔آپ نے اس مقالے میں قراءات شاذہ کی شرعی حیثیت کو واضھ کرتے ہوئے ان کے تفسیر وفقہ پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔کیونکہ قراءات قرآنیہ تمام  علوم وفنون کا منبع ومصدر ہیں ،قراءات خواہ متواترہ ہوں یا شاذہ ،علم نحو وصرف، بلاغہ،لغت،الغرض تمام علوم آلیہ میں ایک اہل رکن اور  محور کی حیثیت رکھتی ہیں۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • 7 #2815

    مصنف : حافظ سمیع اللہ فراز

    مشاہدات : 2974

    رسم عثمانی اور اسکی شرعی حیثیت

    (اتوار 18 جنوری 2015ء) ناشر : شیخ زاید اسلامک سنٹر لاہور

    قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ آسمانی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان کتاب کو آخرالزمان پیغمبر جناب محمد رسول اللہﷺ پر نازل کیا اور ’’إنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَوَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ‘‘ (الحجر:۹) فرما کر اس کی حفاظت کا فریضہ اپنے ذمہ لے لیا۔ قرآن مجید کا یہی امتیاز ہے کہ دیگر کتب سماوی کے مقابلے میں صدیاں بیت جانے کے باوجود محفوظ و مامون ہے اور اس کے چشمہ فیض سے اُمت سیراب ہورہی ہے۔ قرآن مجید کا یہی امتیاز اور اعجاز دشمنانِ اسلام کی آنکھوں میں کاٹنے کی طرح کھٹک رہا ہے اور ان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اس کتاب لاریب کی جمع و کتابت میں شکوک و شبہات پیدا کردیئے جائیں، جن کی بنیاد پریہ دعویٰ کیا جاسکے کہ معاذ اللہ گذشتہ کتابوں کی مانند قرآن مجید بھی تحریف و تصحیف سے محفوظ نہیں رہا ،لیکن چونکہ حفاظت قرآن کا فریضہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیاہے، چنانچہ تاریخ اسلام کے ہر دور میں مشیت الٰہی سے حفاظت قرآن کے لیے ایسے اقدامات اور ذرائع استعمال کئے گئے جو اپنے زمانے کے بہترین اور موثر ترین تھے۔ حفاظت قرآن کے دو بنیادی ذرائع حفظ اور کتابت ہیں، جوعہد نبوی سے لے کر آج تک مسلسل جاری و ساری ہیں۔عہد نبوی میں حفاظت ِقرآن کا بنیادی ذریعہ حفظ و ضبط تھا۔ متعدد صحابہ کرام قرآن مجید کے حافظ اور قاری تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کتابت وحی کا سلسلہ بھی جاری رہا، جیسے ہی کوئی آیت مبارکہ نازل ہوتی نبی کریم ﷺ کاتبینِ وحی کوبلوا کر لکھوا دیا کرتے تھے اور بتلاتے تھے کہ فلاں فلاں آیت کوفلاں فلاں سورت میں لکھو۔ عہد نبوی میں قرآن مجید مکمل لکھا ہوا موجود تھا مگر ایک جگہ جمع نہیں تھا،بلکہ مختلف اشیاء میں متفرق طور پر موجود تھا۔ عہد صدیقی میں واقعہ یمامہ کے بعد قرآن مجید کو صحف کی صورت میں ایک جگہ جمع کردیا گیا اور عہد عثمانی میں واقعہ آرمینیہ و آذربائیجان کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق   کے دور میں ایک جگہ جمع کئے گئے قرآن مجید کے متعدد نسخے تیار کرکے مختلف اَمصار میں روانہ کردیئے گئے۔ عہد عثمانی میں کتابت قرآن کا ایسارسم اختیار کیا گیا، جو تمام قراء ت متواترہ کا احتمال رکھتا تھااور جو درحقیقت عہد نبوی اورعہد صدیقی میں لکھے گئے صحف کے رسم سے ماخوذ تھا -رسم عثمانی سے مراد وہ رسم الخط ہے، جوسیدنا عثمان   کے حکم پر سیدنا زید بن ثابت   اور ان کے دیگر ساتھیوں نے کتابت ِمصاحف میں اختیار کیا۔ زیر نظر کتاب’’رسمِ عثمانی اوراس کی شرعی حیثیت‘‘ محترم  حافظ سمیع اللہ فراز  صاحب کے  اس تحقیقی مقالہ کی  کتابی صورت  ہے جو  انہوں نےشیخ زاید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی ،لاہور میں  ایم فل   کے  لیے پیش کیا ہے ۔موصوف نے    اس کتاب میں  نزول قرآن  کے وقت رائج عربی خط اور رسم قرآنی میں اتفاق واختلاف ، عہد نبوی،عہد صدیقی، اور عہد عثمانی  میں رسم  قرآنی  کی تعریف  سیدنا عثمان  کے عہد کے مصاحف کی کتابت اور صحابہ کرام  کی موافقت،رسم عثمانی توقیفی ہے یا غیرتوقیفی،رسم عثمانی کا تشریحی مقام یعنی شرعاً مصاحف کی کتابت میں رسم عثمانی کا التزام ضروری ہے  یا  نہیں ؟رسم عثمانی  کےقواعد ستہ کےرموز وفوائد،علم الرسم کی تاریخ ،قدیم وجدید معترضین کارسم  عثمانی پر شبہات واشکلات کا مدلل ابطال جیسے موضوعات کو موضوع بحث بنایا ہے  اورانتہائی محنت وجانفشانی سے  بنیادی مصادر ومآخذ سے متعلقہ مباحث کو جمع کرتے ہوئے بڑی دقتِ نظر سے  اس علم کے اہم مسائل کی تنقیح وتوضیح کی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو  نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)
     

  • 8 #3024

    مصنف : محمد فیروز الدین شاہ کھگہ

    مشاہدات : 4253

    اختلاف قراءات اور نظریہ تحریف قرآن

    (ہفتہ 21 مارچ 2015ء) ناشر : شیخ زاید اسلامک سنٹر لاہور

    قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے آخری  کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔مگر افسوس کہ بعض مستشرقین ابھی تک اس وحی سماوی کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور اس میں تحریف ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ مسلمانوں کو اس سے دور کیا جا سکے۔اہل علم نے ہر دور میں ان دشمنان اسلام کا مقابلہ کیا ہے اور مستند دلائل سے ان کے بے تکے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ زیر نظر کتاب ''اختلاف قراءات اور نظریہ تحریف قرآن'' محترم محمد فیروز الدین شاہ کھگہ کا ایم فل کا مقالہ ہے جو انہوں نے شیخ زید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم فل کی ڈگری کے حصول کے لئے لکھا تھا۔اس میں انہوں نے قراءات قرآنیہ کا تعارف، تدوین وارتقاء،سبعہ احرف اور اختلاف قراءات،اختلاف قراءات اور استشراقی نظریہ تحریف کے موضوعات پر تفصیلی بحث کی ہےاور مدلل دلائل سے مستشرقین کے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ اللہ تعالی قراء ات قرآنیہ کے دفاع کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 9 #3382

    مصنف : سعید احمد بودلہ

    مشاہدات : 1422

    سجدۃ القلم

    (بدھ 01 جولائی 2015ء) ناشر : شیخ زاید اسلامک سنٹر لاہور

    اس کائنات کا حسن انسان کے ذوق جمال کا مرہون منت ہے۔اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ متعدد انسانی علوم کا منشا وباعث بھی انسان کا ذوق جمال ہے۔ما فی الضمیر اور احساسات ومشاہدات کے اظہار کے لئے انسان گفتگو اور تحریر کا سہارا لیتا ہے۔انسان کا جمالیاتی ذوق زبانی ذریعہ اظہار پر صرف ہوا تو علم لغت، علم بیان،علم بدیع،علم بلاغت،علم مناظرہ اور علم منطق جیسے علوم وجود میں آئے اور تحریری ذریعہ بیان کو انسانی جمالیات نے رونق بخشی تو علم رسم،علم کتابت،خطاطی ،پینٹنگ اوردیگر علوم وجود میں آئے۔ زیر تبصرہ کتاب"سجدۃ القلم"محترم جناب سعید احمد بودلہ صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلامی خطاطی کے شائقین کو اس فن کے بارے میں بعض بنیادی معلومات اور خطوط کے اوصاف کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے اپنی اس کتاب میں اللہ تعالی کے ننانوے 99 نام مبارک مختلف خطوط اور رنگوں میں تخلیق کئے ہیں جو اس فن کے ساتھ ان کے گہرے تعلق پر ایک واضح دلیل ہے۔جناب بودلہ صاحب صرف مصور وخطاط ہی نہیں بلکہ وہ ایک مخلص مسلمان اور بے لوث انسان بھی ہیں۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے اس فن کی خدمت میں مصروف ہیں اور پرائیڈ آف پرفارمنس کا اعزاز ان کو حاصل ہے۔ یہ کتاب فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ایک منفرد اور قیمتی اثاثہ ہے اور اپنے اندر دلکشی کے کئی سامان رکھتی ہے۔ (راسخ)

  • 10 #6526

    مصنف : ڈاکٹر اشتیاق احمد گوندل

    مشاہدات : 2209

    پاکستان میں اسلام اور لبرل ازم کی کشمکش

    (بدھ 30 مئی 2018ء) ناشر : شیخ زاید اسلامک سنٹر لاہور

    لبرل ازم آزادی کے تصور کی ترجمانی کرتا ہے(یہ لاطینی لفظ لیبر جس کا مطلب آزاد ہے سے نکلا ہے)، جو کہ ایک بہت ہی پُرکشش نعرہ ہے خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کا استحصال کیا جارہا ہو لیکن اس کا اصل مطلب عام زبان میں استعمال ہونے والے معنی سے مختلف ہے۔ لبرل کے عام معنی آزادی کے ہی ہیں یعنی کسی مخصوص روکاوٹ سے نجات حاصل کرنا جیسا کہ غلامی سے آزادی یا فوجی قبضے سے آزادی وغیرہ۔ لیکن سیاسی لحاظ سے آزادی کے معنی جیسا کہ لبرل ازم نے واضع کیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو اس بات کی آزادی حاصل ہو کہ وہ جو چاہے عمل اختیار کرسکے۔ لہذا سیاسی معنوں میں آزادی کا مطلب یہ تصور بن گیا کہ انسان خودمختار(اقتدار اعلیٰ) ہے۔لبرل ازم کے بنیادی تصورات سترویں صدی سے لے کر انیسویں صدی کے درمیان برطانیہ میں نمودار ہوئے اور نشونما پائے۔ ان صدیوں میں لبرل ازم کے تصورات اپنے مخالفوں کے خلاف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ لوکی نے لبرل تصورات کو بادشاہت کے خلاف برطانوی تاجروں کی اشرافیہ کی حمائت میں استعمال کیا؛ اور افادیت(Utilitarian) کے نظریات کے حامل فلاسفروں نے لبرل ازم کو برطانوی سرمایہ داروں کی حمائت میں جاگیر داروں کے خلاف استعمال کیا۔اسی دوران انتہاء پسند فرانسیسی انقلابیوں نے خفیہ برطانوی حمائت سے لبرل ازم کو اپنی ریاست اور یورپ کی دوسری ریاستوں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس کے علاوہ امریکی سرمایہ داروں کے ایک گروہ نے اس تصور کو برطانیہ میں ایک گروہ کے خلاف استعمال کیا ۔ لبرل ازم کو بین الاقوامی سطح پر عثمانی خلافت کے خلاف استعمال کیا گیا اور اس کے خاتمے کے بعد اس تصور کو نئی دشمن آئیڈیالوجیز (نظریہ حیات) فاشزم اور کمیونزم کے خلاف استعمال کیا گیا۔ بل آخر اکیسویں صدی میں ایک بار پھر لبرل ازم کو اسلامی آئیڈیا لوجی کو اُبھرنے سے روکنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔ لہذا مخلص مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ لبرل ازم کے فلسفے کو جانیں اور مغرب کے ایک نظریاتی ہتھیار کے طور پر اس کا فہم حاصل کریں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’پاکستان میں اسلام اور لبرل ازم کی کشمکش‘‘ محترم جناب ڈاکٹر اشتیاق گوندل صاحب کی تصنیف ہے ۔ در اصل یہ کتاب موصوف کے ڈاکٹریٹ کے مقالہ کی کتابی صورت ہے جو انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں پی ایچ کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے پیش کیا۔ بعد ازاں شیخ زید اسلامک سنٹر ، پنجاب یونیورسٹی ۔لاہور نے اس مقالے کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر اسے کتابی صورت میں شائع کیا ہے ۔فاضل مصنف نے اس میں قیام پاکستان سے آج تک اسلام اور لبرازم کی فکری کشاکش کی تصویر پیش کی ہے ۔ نیز اس میں مقاصد پاکستان سے انحراف کی وجوہات ، اسباب وعلل تلاش کرنے کی اور نظریہ پاکستان پر پڑی گرد کو صاف کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔(م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1910
  • اس ہفتے کے قارئین 7750
  • اس ماہ کے قارئین 59783
  • کل قارئین49530892

موضوعاتی فہرست