کل کتب 187

دکھائیں
کتب
  • 11 #4328

    مصنف : ابو یحیٰ

    مشاہدات : 3549

    بس یہی دل

    (اتوار 13 مارچ 2016ء) ناشر : انذار پبلشرز، پاکستان

    انسان کی پیدائش کا مقصد رب العا لمین کی عبادت کرنااور صراط مستقیم پر گامزن رہناہے۔ اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے رب العالمین نے روز اول سے ہی ہر دور میں انبیاء کو دنیا میں بھیج کر لوگوں کو رب العالمین کی بندگی اور اطاعت الٰہی کا درس دیا۔ اب چونکہ آپﷺ کی بعثت کے بعد سلسہ نبوت ختم ہوچکاہے، اور معاشرہ کی اصلاح کرنا علماء کی ذمہ داری ہےکہ لوگوں کو اپنا مقصد حیات یاد دلاتے رہیں، پس اسی مقصد حیات کی تذکیر کے لیے زیرہ تبصرہ کتاب ’’بس یہی دل‘‘ میں فاضل مصنف ابو یحی نے اس موضوع کو قلم بند کیا ہے، جوکہ دراصل ان کے لکھے ہوئے مختلف مضامین پر مشتمل ہے، اور ا ن مضامین کو کتابی شکل میں لکھنے سے ان کا مقصد لوگوں کے اندر ایسی شخصیت کو پیداکرنا ہے جس کے لیے خدا کی ذات،صفات اور اس کی ملاقات زندگی کا سب سے اہم موضوع بن جائے اور جو بد ترین حالات میں بھی امید کے ساتھ جینا سیکھ لے۔ یہی وہ صفات ہیں جو کسی شخصیت کو اللہ تعالیٰ کی مطلوب شخصیت بناتی ہیں۔ یہی وہ شخصیت ہے جسے قرآن قلب سلیم کہتاہے اور جس کا بدلہ جنت کی ختم نہ ہونے والی ابدی زندگی ہے۔ آخر میں ہم اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت مصنف کی اس کاوش کواپنی بارگاہ ميں قبول فرمائے۔ آمین(شعیب خان)

  • 12 #3839

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 8092

    بُستان الخطیب

    (جمعہ 18 دسمبر 2015ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی کتب( خوشبوئے خطابت منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب ، مصباح الخطیب ، حصن الخطیب ، بستان الخطیب) اسلامی وعلمی خطبات کی کتابوں کی لسٹ میں گراں قدر اضافہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’بستان الخطیب‘‘ محترم مولانا ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی مرتب شدہ ہے جوکہ علماء خطبا اورواعظین کےلیے 17 علمی وتحقیقی خطبات کا نادر مجموعہ ہے ۔ کتاب کے آغاز میں خطباء اور واعظین حضرات کے لیے مصنف کا تحریرکردہ’’ خیرخواہی کا چھٹا سبق‘‘کے عنوان سے طویل مقدمہ بھی انتہائی لائق مطالعہ ہے ۔ اس میں انہوں نے خطبائے کرام کے لیے انتہائی قیمتی باتیں سپرد قلم کی ہیں کامیاب اور اچھا خطیب ومبلغ بننے کے لیے ان کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا۔ (ان شاءاللہ ) ۔موصوف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے خطیب ، واعظ اور مدرس بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دینے کےساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں ۔تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے۔ جن میں سے چھ کتابیں(خشبو ئے خطابت ،ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب ، حصن الخطیب،بستان الخطیل) خطابت کے موضوع پر ہیں ۔کتاب ہذا بستان الخطیب کو موصوف نے بہت دلجمعی اور محنت سے مرتب کیا ہے ۔ ہر موضوع پر سیر حاصل مواد کے ساتھ ساتھ تحقیق وتخریج کا وصف بھی حددرجہ نمایا ں ہے ۔ مولانا عبدالمنان راسخ ﷾ کے خطبات حسب ذیل امتیازی خوبیوں کے حامل ہیں۔ منفرد موضوعات کا چناؤ،سب مواد موضوع کےمطابق، قرآنی آیات اور صحیح احادیث پر مشتمل ، تاریخی واقعات کا اہتمام، رسمی گردان بازی سے اجنتاب ، حتی المقدور اعراب کی صحت کا خیال اللہ تعالیٰ ان کی تبلیغی واصلاحی ،تصنیفی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے،ان کے علم وعمل اور زور ِقلم میں اضافہ فرمائے ۔اور ان کی تمام کتب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

  • 13 #1011

    مصنف : حافظہ عائشہ مدنی

    مشاہدات : 12856

    بیسویں صدی میں حقوق نسواں کی تعبیر نو۔مقالہ پی ایچ ڈی

    (منگل 01 نومبر 2011ء) ناشر : مجلس التحقیق الاسلامی، لاہور

    عورت چھپانے کی چیز ہے اور یہ جس قدر پردہ اور چادر چار دیواری کا اہتمام کرے گی اور پردہ کے متعلق جس شدت سے اسلامی احکام کی پابندی کرے گی ۔اپنی عزت وعصمت کو اتنا ہی محفوظ سمجھے گی ۔اس کی عزت اور شخصی وقار میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔کیونکہ عورت کی عصمت وعفت کے تحفظ کے لیے جو نقطہ نظر پیش کیا ہے اور جو قوانین وضوابط مقرر کیے ہیں۔اس سے بہترین قوانین کا نفاذ ناممکن ہے ۔پھر ان قوانین وضوابط سے انحراف اور شمع محفل بننے کے شوق سے عورت کی جو تذلیل وتحقیر ہوئی ہے اور بے شرمی وبے حیائی کا جو طوفان بدتمیزی برپا ہوا ہے ۔(الامان والحفیظ)ازل سے ابلیس لعین کی یہی منشا رہی ہے کہ مردوزن کا اختلاط ہو ،جنسی بےراہ روی کے سوتے پھوٹیں اور ہر شخص ضمیر کا مجرم ٹھہرے ۔اس شیطانی وار سے نظریات کمزور پڑتے ،عقائد میں لچک پیدا ہوتی اور مذہبی قوانین میں ترامیم کا بے ہودہ سلسلہ شروع ہوتا یعنی شیطان کی مراد پوری ہو جاتی ہے کہ انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ٹوٹے اور وہ خواہشات کا اسیر ہو کر شیطان کا کارندہ بن جائے۔اسی مناسبت سے شیطان کا سب سے زیادہ زور بےپردگی پر ہے کہ عورت گھر کی زینت بننے کے بجائے شمع محفل اور دل لگی کا سامان بنے۔اس کے لیے نام نہاد دانشور ،مغربیت پسند مفکر اور کتاب وسنت سے نابلد مغرب کے آلہ کار ،مذہبی سکالر اس شیطانی فکر کو ڈوز فراہم کر رہے ہیں۔اور مختلف این جی اوز ،تحریکیں اور جماعتیں حقوق نسواں کی آڑ میں شرم وحیا کی پیکر معصوم وناسمجھ عورت کو بازار کی زینت اور حرص وحوص کی آماجگاہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔زیر نظر مقالہ میں حافظہ عائشہ مدنی نے ان تمام تحریکوں کے محرکات ذکر کر کے کتاب وسنت کے دلائل سے ان کے تدارک کی بہترین کوشش کی ہے ۔اللہ تعالیٰ مؤلفہ کو جزائے خیر دے اور مقالہ ہذا کو دین اسلام سے برگشتہ اور بےپردگی کی دلدادہ خواتین کے لیے باعث ہدایت بنائے ۔آمین(ف۔ر)
     

  • 14 #1129

    مصنف : حافظ طاہر اسلام عسکری

    مشاہدات : 15752

    تبدیلی حالات سے شرعی احکام کی تبدیلی کے تصورات ۔مقالہ ایم فل

    (پیر 11 جون 2012ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    فی زمانہ نفاذ شریعت کی کوششوں کے ذیل میں یہ سوال سنجیدگی سے سامنے آ رہا ہے کہ جن مسائل سے متعلق قرآن و حدیث میں واضح نصوص موجود ہیں لیکن موجودہ حالات میں ان پر عمل میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں تو کیا ان کو بعینہ تسلیم کر لیا جائے یا حالات کے مطابق ان میں ترمیم و اضافہ ممکن ہے؟ اس وقت آپ کے سامنے حافظ طاہر اسلام عسکری صاحب کامل محنت اور جانفشانی کے ساتھ لکھا جانے والا ایم۔فل کا مقالہ ہے۔ جو کہ بنیادی طور پر اسی سوال کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیاہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے تین طبقات کا تذکرہ کیاہے۔ پہلا طبقہ وہ ہے جو قرآن و حدیث کے منصوص احکام کو غیر متبدل مانتے ہیں۔ دوسری طبقہ جدت پسندوں کا ہے جن کے مطابق سیاست، معیشت اور معاشرت سے متعلقہ اسلامی حدود وضوابط کو عصری تقاضوں کے پیش نظر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں تیسرا طبقہ ان علما کا ہے جو عقائد و عبادات میں تو کسی تبدیلی کے قائل نہیں ہیں لیکن حالات کے تحت معاملات سے متعلقہ احکام میں تبدیلی کی حمایت کرتے ہیں۔ محترم حافظ صاحب نے اس قسم کے تمام خیالات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اجتہاد کا درست تصور اور اس کا دائرہ کار واضح کیا ہے۔ علاوہ ازیں نصوص شریعت کی تبدیلی کے حق میں جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں اسلامی اصول تحقیق کی روشنی میں ان کاتحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ حافظ صاحب نے تبدیلی حالات سے متعلق عرب علما کے نقطہ نظر کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔ (ع۔م)
     

  • 15 #4650

    مصنف : ظہیر احمد عبد الاحد

    مشاہدات : 6882

    تحفۃ الواعظین کتاب و سنت کی روشنی میں

    (اتوار 08 مئی 2016ء) ناشر : الفرقان ایجو کیشنل اینڈ اسلامک ریسرچ اکیڈمی، نئی دہلی

    دعوت وتبلیغ ، اصلاح وارشاد انبیائی مشن ہے۔ اس کے ذریعہ بندگان اٖلہ کی صحیح رہنمائی ہوتی ہے صحیح عقیدہ کی معرفت اور باطل عقائد وخیالات کی بیخ کنی ہوتی ہے ۔شریعت اور اس کے مسائل سے آگاہی اور رسوم جاہلیت نیز اوہام وخرافات کی جڑیں کٹتی ہیں۔ دعوت وتبلیغ ، اصلاح وارشاد کے بہت سے و سائل واسالیب ہیں انہیں میں سے ایک مؤثر ذریعہ دروس و خطابت کا ہے۔ خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ، خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کے ذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار، اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمیٰ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت و صدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کا سامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے۔ اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت، معاملات میں درستگی، آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تخفۃ الواعظین‘‘ مولانا حافظ ظہیر احمدعبد الاحد کی کاوش ہے۔ یہ کتاب قمری سال کےماہ وسال ایام کےلحاظ سے ضرورت زندگی کے تین سو ساٹھ دروس واسباق پر مشتمل ہے۔ اس کی ابتداء ماہ محرم الحرام اورانتہا ماہ ذی الحجہ پر ہے ہر ماہ کے آغاز پر اس کی وجہ تسمیہ اور اشارۃً کچھ تاریخی واقعات قلمبند ہیں۔یہ کتاب بڑی معیاری اور دعوتی منہج کے مطابق ہے اس کے مشمولات ومضامین آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ وحسنہ پر ہی مبنی ہیں اور یہ دروس مختصر ڈھائی تین صفحات پر مشتمل ہیں۔ خاص وعام سبھی لوگ اس کوبعد نماز پڑھ کر سنا سکتے ہیں۔ کتاب ہذامیں اگرچہ سے ہر ماہ کی مناسبت سے ماہ کے کچھ اسباق و دروس شامل ہیں لیکن موقع و محل اور مقتضائے حال کی رعایت سے ہر قاری و واعظ اسے اپنی سماجی ضرورت کے مطابق مختلف مناسب ترتیب دیکر استعمال کرسکتا ہے۔ (م۔ا)

  • 16 #6435

    مصنف : ڈاکٹر سعید الرحمن بن نور حبیب

    مشاہدات : 8332

    تحقیقات اسلامیات ( پی ایچ ڈی ایم فل ایم اے فہرست اردو مقالات )

    (منگل 12 جون 2018ء) ناشر : العلم پبلیکیشنز پشاور

    اشاریہ سازی کی ابتداء مذہبی کتابوں کے لیے مرتب اشاریوں سے ہوئی۔ یہ اشاریے جو سولہویں، سترہویں صدیوں میں مرتب ہوئے الفاظ ، نام یا عبارت کے ٹکڑوں پر مشتمل ہوتے تھے ، اشاریہ متلاشی معلومات کے لیے درکار معلومات کی نشاندہی کا وسیلہ ہے کتابوں کے برعکس رسائل کی اشاریہ سازی نسبتا زیادہ قدیم نہیں ۔ یوں تو سائنسی علو م میں تحقیق کی روز افزوں رفتار کی بدولت رسائل کی اشاعت کی تعدا د اٹھارہویں صدی سے ہی بڑھنے لگی تھی لیکن انیسویں‎ صدی کے آخری دور تک ان میں شائع مضامین کی تعداد اتنی بڑھ چکی تھی کہ باحثین کو اشاریہ کی مدد کے بغیر واقفیت حاصل کرنا مشکل ہو گیاجس کے نتیجہ میں رسائل کی اشاریہ سازی کی داغ بیل پڑی ۔ آج اہمیت اور افادیت کے اعتبار سے کتابوں کے اشاریے سے کہیں زیادہ رسائل کے اشاریوں کا مقام ہے ۔ رسائل کے اشاریہ سازی میں معاون قاعدے اور ضابطے مرتب ہوئے ہیں ، جواشاریہ سازی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وضع کیے گئے ۔ برصغیر پاک وہند میں بھی اردو زبان میں اشاریہ سازی کے کام میں بڑی ترقی ہوئی ہے ۔ اس وقت برصغیر ہند و پاک سے لاتعداد رسائل و جرائد شائع ہو رہے ہیں۔ یہ جرائد ادبی، نیم ادبی، سیاسی، مذہبی،سماجی اور دیگر موضوعات پرمشتمل ہیں۔ رسائل و جرائد کی اشاعت کی ایک طویل تاریخ ہے اور موضوعات کے اعتبار سے ان کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ اہمیت وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے کیونکہ آگے چل کر یہی رسائل و جرائد تاریخ نویسی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض رسائل و جرائد کی اہمیت تو کتابوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور ان کا انتظار قارئین کو بے چین کیے رکھتا ہے۔ ان رسائل میں جرائد میں بکھرے ہوئے قیمتی نادر مواد کے استفادے کے لیے رسائل کے اشاریہ جات بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔اشاریہ سے مراد کتاب کے آخر میں یا رسالہ کی مکمل جلد کے آخر میں شامل وہ فہرست ہے جو کتاب ، رسالہ یا دیگر علمی شے میں موجود معلوماتی اجزا ء، الفاظ ، نام ، کی نشاندہی اور ان تک رسائی کے لیے حوالہ مقام شناخت یا مقام ذکر پر مشتمل ہوتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تحقیقات اسلامیات ‘‘ ڈاکٹر سعید الرحمٰن بن نور حبیب ( اسسٹنٹ پورفیسر عبد الولی خان یونیورسٹی مردان کی ایک منفرد کاوش ہے ۔ جس میں انہوں نے پاک وہند کے 100 جامعا ت میں 2227 ڈاکٹریٹ ، 2687 ایم فل اور 2931 ایم اے سطح پر لکھے گئے مقالات اور 475 مزید مجوزہ قابل بحث عنوانات یعنی کل 8320 موضوعات کا اولین الف بائی توضیحی اشاریہ پیش کیا ہے ۔مرتب موصوف کی اپنےنوعیت کی ایک منفرد کاوش ہے ۔ موصوف نے اولاً لفظ ’ اشاریہ‘‘ کا معنیٰ ومفہوم مختلف لغات سے بحوالہ پیش کیا ہے ۔پھر اشاریہ سازی ،فہرس بندی وکتابیات نویسی کی ضرورت واہمیت کے متعلق معروف شخصیات کی اراء وافکار کو پیش کیا ہے جس سے اشاریہ کی اہمیت وافادیت کو آسانی سے سجھا جاسکتا ہے ۔زیر نظر فہرس مقالات کو ئی عام فہرس نہیں ہے بلکہ یہ ایک علمی ، تحقیقی فنی ، توضیحی اورموضوعاتی فہرست ہے جو ایک اہم تحقیقی دستاویز اور وضاحتی کتابیات کی حیثیت رکھتی ہے جس ریسرچ کے اساتذہ وشائقین یکساں مستفید ہوسکتے ہیں۔ (م۔ا)

  • 17 #2723

    مصنف : حافظ زبیر علی زئی

    مشاہدات : 6966

    تحقیقی ، اصلاحی اور علمی مقالات جلد اول

    dsa (پیر 22 دسمبر 2014ء) ناشر : الکتاب انٹرنیشنل، نئی دہلی

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ تھے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔ملک بھر  سےطلبہ کی کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔  آپ کے  شاگردوں  میں مولانا حافظ ندیم ظہیر﷾،مولانا حافظ شیر محمد﷾،مولانا صدیق رضا﷾، مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری ﷾ وغیرہ کے  اسمائے گرامی  قابل ذکر ہیں۔موصوف  ﷫10نومبر2013ء بروز اتوار  طویل علالت کےبعد اپنی خالق حقیقی جاملے ۔شیخ ﷫ کا نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر﷾نے پڑھایا۔نماز جنازہ میں علماء،طلباء سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان  کی رحلت  پر   کئی مجلات ورسائل میں  ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے مختلف اہل علم  کے  مضامین شائع ہوئے ۔شیخ موصوف کے جاری کردہ مجلہ’’الحدیث‘‘ کے ذمہ داران نے    شیخ کی  حیات وخدمات پر مشتمل  ’’الحدیث ‘‘کا خاص نمبر نکالنے کا اعلان کیا تھا  ۔ ناجانے کیوں اس    رسالے کی اشاعتِ خاص ابھی تک شائع نہ ہوسکی ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحقیقی ،علمی  واصلاحی مقالات ‘‘جو کہ ضخیم  چھ جلدوں  پر مشتمل ہے  او رشیخ کے ان تحقیقی وعلمی مضامین کامجموعہ  جو    مختلف علمی مجلات بالخصوص  الحدیث حضرو  میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔ جنہیں    بڑی محنت سے  عام فہم انداز میں موضوعاتی ترتیب،  ابواب بندی اور فہارس کے  ساتھ مرتب کیاگیا  اور  مولانا محمد سرور عاصم ﷾نے اعلیٰ معیار اور بہترین طرز پر شائع کیا۔ شیخ   کے  تلمیذ خاص  حافظ ندیم  ظہیر ﷾ کی زیر  نگرانی   ان مقالات کی ترتیب وتبویب کا مزید کام جاری ہے۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے  مفید اورمصنف وناشرین کےلیے  ذریعۂ نجات بنائے  ۔(آمین)زیر نظر نسخہ   الکتاب انٹرنیشنل ،دہلی سے  طبع شدہ ہے(م۔ا)

     

  • 18 #752

    مصنف : حافظ زبیر علی زئی

    مشاہدات : 24499

    تحقیقی اصلاحی اورعلمی مقالات جلد اول

    dsa (بدھ 08 دسمبر 2010ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    ’تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات‘ دراصل محترم حافظ زبیر علی زئی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف مواقع پر رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب میں متنوع موضوعات پر تفصیلی ابحاث موجود ہیں خصوصاًعقائد، عبادات، سیر و التاریخ اور اسماء الرجال جیسے موضوعات پر سیر حاصل مباحث شامل کی گئی ہیں۔ محترم مصنف چونکہ دفاع حدیث اور خدمت مسلک اہل حدیث کے جذبے سے سر شار ہیں اس لیے انہوں نے حدیث یا اہل حدیث کے خلاف اعتراضات کرنے والوں کو دندان شکن اور مسکت جوابات سے نوازا ہے۔ کتاب کی دوسری اور تیسری جلد عقائد، مسلک اہلحدیث کی حقانیت ، نماز کے بعض مسائل اور تحقیق الروایات جیسے موضوعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہےاس کے علاوہ ایک بریلوی عالم کے جواب میں لکھے گئے ایک رسالے کو بھی کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔
     

  • 19 #2953

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 6455

    ترجمان الخطیب

    (ہفتہ 14 فروری 2015ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی   ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے   12 ضخیم مجلدات پر مشتمل   ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب) اسلامی وعلمی خطبات کی کتابوں کی لسٹ میں گراں قدر اضافہ ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ترجمان الخطیب‘‘ محترم مولانا ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے جوکہ علماء خطبا اورواعظین کےلیے چودہ علمی وتحقیقی خطبات کا نادر مجموعہ ہے۔ خطباء اور واعظین حضرات کے لیے مصنف کا تحریرکردہ طویل مقدمہ بھی انتہائی لائق مطالعہ ہے۔ مولانا راسخ صاحب تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے ۔ موصوف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ اور عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دے رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تبلیغی واصلاحی ،تصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے،ان کے علم وعمل اور زور قلم میں اضافہ فرمائے ۔اور ان کی تمام کتب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)۔م۔ا) خطبات و مقالات

  • 20 #6955

    مصنف : نبیل اختر چوہدری

    مشاہدات : 1363

    تفسیر تذکیر القرآن کے اسلوب و منہج کا تحقیقی جائزہ ( مقالہ ایم اے )

    (جمعرات 09 مئی 2019ء) ناشر : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد

    مولانا وحید الدین خان یکم جنوری 1925ءکو پید ا ہوئے۔ اُنہوں نے  اِبتدائی تعلیم مدرسۃ الاصلاح ’سرائے میر اعظم گڑھ میں حاصل کی ۔شروع  شروع میں مولانا مودودی﷫ کی تحریروں سے متاثر ہوکر  1949ء میں جماعت اسلامی   ہند میں شامل ہوئے  لیکن 15 سال بعد جماعت اسلامی کوخیر باد کہہ دیا  اورتبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کرلی ۔ 1975ء میں اسے بھی مکمل طور پر چھوڑ دیا ۔مولاناموصوف تقریبا دو صد کتب کے مصنف ہیں  جو  اُردو ،عربی، اورانگریزی زبان میں ہیں۔مولانا کی تصنیفات میں  ایک کتاب تفسیر ’’ تذکیر القرآن ‘‘ بھی ہے ۔ اُن  کی تحریروں میں مکالمہ بین  المذاہب ،اَمن کابہت  زیادہ ذکر ملتاہے  اوراس میں وعظ وتذکیر  کاپہلو  بھی نمایاں طور پر موجود ہے ۔لیکن مولانا  صاحب کے افکار  ونظریات میں تجدد پسندی کی  طرف میلانات اور رجحانات بہت پائے جاتے  ہیں  اُنہوں نے  دین کے بنیادی تصورات کی از سر نو ایسی تعبیر وتشریح پیش کی ہے جو ان سے پہلے کسی نے  نہیں کی اوروہ نہ صرف اس بات کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ اپنے لیے  اس میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔ مولانا وحید الدین خان افکار ونظریات  کے متعلق ڈاکٹر  حافظ زبیر  ﷾ کی کتاب لائق مطالعہ ہے ۔ زیر نظر  تحقیقی مقالہ  بعنوان تفسیر’’ تذکیر القرآن ‘‘ کے اسلوب ومنہج کا تحقیقی جائزہ ‘‘ محترم جناب نبیل اختر چوہدری  کی  کاوش ہے  مقالہ نگار نے یہ مقالہ علامہ اقبال اوپن  یونیورسٹی کے کلیہ عربی  وعلوم اسلامیہ میں پیش کر کے ایم فل کی ڈگری حاصل کی  ہے ۔ مقالہ نگار نے اس  تحقیقی مقالے کو چار ابواب میں تقسیم کر کے اس میں  مولانا وحید الدین خان  کی تفسیر تذکیر القرآن کا تحقیقی  وتنقیدی جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ پہلے دو ابواب میں  تفسیر کا مفہوم اور ارتقاء اور مولانا صاحب کےحالات زندکی  پر روشنی ڈالی ہے ۔جبکہ تیسرے باب میں تفسیر تذکیر القرآن کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ پیش کیا ہے اور چوتھی باب میں  دو اہم  معاصر تفاسیر تدبر قرآن  اور تفہیم القرآن  سے  تقابلی موازنہ کیا ہے۔مقالہ نگار  نے   اپنی تحقیقی مقالہ میں یہ بات ثابت کی  ہے کہ  مولانا وحید الدین  خان کی تفسیر تذکیر القرآن ایک علمی شاہکار  نہیں  کہ جس میں  تمام پہلوؤں کا احاطہ کیاگیا ہو بلکہ یہ صرف سادہ اسلوب میں تذکیر ونصیحت ہے۔(م۔ا)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 18 19 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1921
  • اس ہفتے کے قارئین 7761
  • اس ماہ کے قارئین 59794
  • کل قارئین49532142

موضوعاتی فہرست