دکھائیں کتب
  • 1 آثار حنیف بھوجیانی جلد اول (جمعہ 22 فروری 2019ء)

    مشاہدات:2179

    مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی﷫ (1909۔1987)ضلع امرتسر کے ایک گاؤں’’ بھوجیاں‘‘ میں 1909ءکوپیداہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی میاں صدرالدین حسین اور مقامی علماء  کرام  سے حاصل کی ۔اس کےبعد  پندرہ سولہ برس  کی عمر  میں مدرسہ حمیدیہ ،دہلی میں   داخل ہوئے او روہاں مولانا عبدالجبار کھنڈیلوی اور ابوسعید شرف الدین دہلوی سے   بعض متداول درسی کتب  اور حدیث کا درس لیا ۔بعد ازاں لکھو کے  اور گوندالانوالہ  کے اہل حدیث مدارس میں علوم دینیہ کی تکمیل کی جہاں مولانا عطاء اللہ  لکھوی اور  حافظ محمد گوندلوی ان کے اساتذہ میں  شامل تھے ۔مولانا  نے عملی زندگی  کاآغاز اپنے  گاؤں کے اسی  مدرسہ  فیض الاسلام میں بطور مدرس کیا جس میں  انہوں نے  خود ابتدائی تعلیم حاصل کی  تھی ۔لیکن چند ماہ  قیام کے بعد  گوجرانوالہ تشریف گئے او رمختلف مدارس میں  تدریسی فرائض سرانجام  دیتے رہے ۔سالانہ تعطیلات  گزارنے گاؤں  گئے ہوئے تھے کہ  ہندوستان تقسیم ہوگیا ۔مولانا ہجر ت کر کے پاکستان آگئے اور اپنے  پرانے تعارف  وتعلق کےتحت گوندلانوالہ میں سکونت اختیار کی ۔ اسی زمانے میں گوجرانوالہ سے ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ کا  ڈیکلریشن حاصل کیا اور مولانا محمد  حنیف ندوی کی ادارت میں   9اگست 1949ء کو ’’الاعتصام‘‘ کی اشاعت  کا آغاز...

  • 2 آسان دین (جمعرات 14 نومبر 2019ء)

    مشاہدات:669

    عرصہ ہوا کہ فیس بک پر آسان دین کے عنوان سے ایک سلسلہ ہائے مضامین مکمل کیا تھا کہ بہت سے دوستوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان مضامین کو یکجا کر کے کسی کتابچے کی صورت شائع کر دیا جائے تو اسی غرض سے یہ کتابچہ مرتب کیا گیا ہے۔ اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ آسان دین کے نام سے اس کتابچے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے یہ تصویر کا ایک رخ ہے، مکمل تصویر نہیں ہے۔ لیکن یہ تصویر کا وہ رخ ضرور ہے کہ جسے مذہبی حلقوں کی طرف سے لوگوں کے سامنے پیش نہیں کیا گیا لہذا مجھے اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ تصویر کے اس رخ کو بھی لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے تا کہ دین کی سخت گیری کا جو روایتی تصور اس وقت سوسائٹی میں عام ہو چکا ہے، اس میں اعتدال پیدا ہو۔ اللہ عزوجل ہم سب کی علمی کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے، آمین۔(م۔ا)

  • 3 احادیث میں تعارض رفع کرنے کے اصول۔مقالہ ایم فل (جمعرات 16 فروری 2012ء)

    مشاہدات:18229

    قرآن مقدس کے بعد احادیث نبویہ دین اسلام کا دوسرامعتبر ذریعہ ہے ۔دین اسلام  کے یہ دو اصل بڑے ماخذ ہیں ، اس اہمیت کے پیش نظر صحابہ کرام  ،تابعین و تبع تابعین اور علماء و محدثین جیسے قرآن حکیم کو سینوں میں محفوظ کیا ،اسی طرح ذخیرہ حدیث کوحفظ وتحریر اوردرس و تدریس کے ذریعہ محفوظ و مامون بنایا اور قبول حدیث کے ایسے حتمی اور معتبر اصول وضع  کیے کہ احادیث نبویہ میں اختراع اوروضع احادیث کا خاتمہ ہوگیا ۔پھر علما و محدثین نے فقہ و اجتہاد سے شرعی مسائل مستنبط کیے اور کتاب وسنت کے دلائل سے مسائل اخذ کرنے کے قواعد و ضوابط وضع کیے ،جن کی راہنمائی سے اصل مسئلہ تک رسائی ممکن ہوئی اور علمائے سلف کی ان کاوشوں سے تاویلات وتحریفات اور احادیث نبویہ میں تشکیکات پیدا کرنے والوں کےاہداف متاثر ہوئے اور ایسے فتنہ گروں کو ہر دور میں سخت پسپائی اورندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ان متجددین کا اصل ہدف احادیث میں شکوک و شبہات پیداکر کے دین کے اس  دوسرے بڑے ماخذ کو بے اثر کر کے اپنی من مانی تاویلات اور فکری کجی کو ایک باقاعدہ دین کی شکل دینا تھا ۔لیکن نہ یہ بازیگر اپنی اس مہم جوئی میں ماضی میں کامیاب ہوسکے اورنہ یہ حال  واستقبال میں کبھی سرخرو ہوں گے ،کیونکہ دین کی حفاظت کاذمہ خود اللہ مالک الملک نے اپنے ذمہ لیا ہے ۔لہذا ان فتنہ گروں کو سوائے ذلت و رسوائی اور ہزیمت وشکست  کے کچھ نہ ملے گا ۔منکرین احادیث نے احادیث رسول میں کئی طرح سے تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی،ان میں ایک اعتراض یہ تھا کہ احادیث اس حوالہ سے غیر معتبر ہیں کہ ان میں اختلاف پایا جات ہے اورایک ہی معنی کئی متضاد مفہوم کی اح...

  • 4 استقبالیہ و صدارتی خطبات (منگل 20 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:6091

    قیامِ پاکستان کے بعد مسلک کے عنوان پر  سب سے پہلی غیر سیاسی تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث  ہے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان وطن عزیز کی وہ اولین تنظیم ہے جس نے وعظ وتبلیغ اور تحریر وتصنیف سےاسلام کے چشمۂ صافی کے آبِ حیات کے جام سرعام لنڈھائے اور تشنگان دین وعمل کی سرابی کا فریضہ انجام دیتی رہی ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے تحت  سال دو سال کےبعد کسی شہر میں ایک کانفرنس کا انعقاد   عمل میں لایا جاتا جس کی میزبانی کےلیے ہرشہر  کی جماعت کا ہر شخص مستعد ہوتا اسے جمعیت اہل حدیث کی سالانہ کانفرنس کا نام دیا جاتا۔ ہر کانفرنس کا صدر استقبالیہ کانفرنس کےپہلے اجلاس میں شہر انعقاد سے متعلقہ تاریخی ، جغرافیائی اور مسلکی خدمات کا تذکرہ کرتا اور اپنے رفقائے کار کی طرف سے مہمانوں کو خوش آمدید کہتا۔کانفرنس کی صدارت کےلیے  ہر دفعہ ملکی سطح کی کسی اہم علمی اور خاندانی شخصیت کو منتخب کر کے ان کی خدمت میں صدارت قبول کرنے کی درخواست کی جاتی ۔صدارت کااعزاز قبول کرنے والے حضرات ِ گرامی کانفرنس کے لیے پہلے اجلاس کی صدارت بایں انداز فرماتے کہ خطبہ صدارت ارشاد فرماتے جس میں وہ مسلک کی حقانیت ، محدثین سےتعلق اوران کی خدمات کا تذکرہ بھی فرماتے۔مرکز کی افادیت ،اہمیت، خدمات اوراس کے مقاصد پر سیر حاصل تبصرہ بھی کرتے اوراصلاح واحوال کی تجاویزسے بھی  مرکزی جمعیت اہل حدیث کونوازتے ۔جماعت اہل حدیث کی اشاعتی خدمات ، رسائل وجرائد تو تاریخ میں  محفوظ ہوچکے ہیں ۔لیکن اس کی  تبلیغی خدمات کو  محفوظ کرنے کی ضرورت  تھی۔ زیر تبصرہ کتا...

  • اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے ،جوانسان کی دینی و دنیوی ہر معاملہ میں پوری راہنمائی کرتاہے اور انسانی زندگی کا کوئی پہلو تشنہ اور ناقص نہیں چھوڑتا جہاں انسان کی راہنمائی نہ ہو۔اسلام دیگرانسانی اقدار کے تحفظ کے ساتھ خاندانی زندگی کا کامل نظام دیتاہے ،جو انسانی سوچ کا عکاس اوردنیا کا معتدل ترین نظام ہے۔اسلام خاندانی نظام واحد مؤثرنظام ہے ،جوعصمت کا محافظ ، خاندانی کفالت کا بہترین ذمہ دار اور خاندان کے افراد کے حقوق وفرائض کا اصل محافظ ہے۔اسی نظام کو اپنانے سے معاشرتی استحکام پیدا ہو سکتاہے اور معاشرتی ناہمواریوں اور باہمی خاندانی تنازعات کا ازالہ ممکن ہے۔زیر نظر مقالہ میں خاندان کی اہمیت ،معاشرتی حقوق و فرائض اور خاندانی افراد کے حقوق کا مفصل بیان ہے،ان تعلیمات پر عمل کر کے معاشرتی نظام کو مستحکم بنایا جاسکتاہے اور تیزی سے روبہ زوال نظام خاندان کے بگاڑ کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور معاشرے میں پھیلی بددلی کا ازالہ کیا جاسکتاہے۔(ف۔ر)
     

  • امام بیہقی رحمہ اللہ ایک عظیم محدث تھے،جن کی کتاب ’السنن الکبری‘کتب حدیث میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔یہ کتاب پانچویں صدی ہجری میں مرتب کی گئی اور ارباب علم ونظر کے ہاں انتہائی اعلیٰ مرتبہ کی حامل ہے۔’السنن الکبریٰ‘میں بے شمار علمی نکات وفوائد موجود ہیں اور اس میں نقد کی روح کارفرما نظر آتی ہے۔اس کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے  جو تحقیق حدیث میں زیادہ سے زیادہ مسائل کا احاطہ کرنا چاہے یا نقد کے طرق اور باریکیوں سے آگاہی کا متمنی ہو۔زیر نظر مقالہ میں امام بیہقی کے منہج کو اجاگر کیا گیا ہے ،جسے انہوں نے ’السنن الکبریٰ‘کی تدوین وتالیف میں مد نظر رکھا ہے۔آغاز میں  امام بیہقی کا مفصل تعارف کرایا گیا ہے پھر کتب حدیث میں ’السنن الکبریٰ‘کا مقام ومرتبہ اجاگر کیا گیا ہے۔بعد میں ان اصولوں کی وضاحت ہے جنہیں امام صاحب نے پیش نظر رکھا ہے۔روایات کے اخذ وقبول اور جرح ونقد میں جو ضابطے امام بیہقی کے سامنے رہے ہیں ،انہیں بھی بیان کیا گیا ہے۔یہ مقالہ ایم فل کی ڈگری کے حصول کے لیے لکھا گیا ہے ،چنانچہ تحقیق کے باب میں لائق بھروسہ ہے۔(ط۔ا)

  • 7 انبار نگینہ المعروف مواعظ چیمہ (جمعہ 28 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:4643

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ انبار نگینہ المعروف مواعظ چیمہ ‘‘ ہردلعزیز عوامی خطیب جناب مولانا محمد نواز چیمہ﷾ کےدرج ذیل اہم موضوعات پر خطبات کا مجموعہ ہے ۔ اعوذ بااللہ، شیطانی چالیں،شیطانی حملے ،پناہ کیسے اور کن چیزوں سے ، فضائل بسم اللہ، فوائد ذکر الٰہی،اقسام ذکر الٰہی ،ذکر الٰہی سے غفلت کے نقصانات، توبہ،بخشش کےبہانے ، قرآءت قرآن ، سماعت قرآن تاثیر قرآن ،قرآن اور صاحب قرآن، فوائد قرآن، فضائل قرآن، تعلیم قرآن کی اجرت،فضائل ماہ...

  • 8 انسانیت آج بھی اسی در کی محتاج ہے (بدھ 26 فروری 2014ء)

    مشاہدات:4963

    اس  دنیا میں  بہت سےبڑے  بڑے  نامور  آدمی   پیدا ہوئے اور انہوں نے  بہت   کارہائے  نمایاں  سر انجام دئیے لیکن ساری دنیا جانتی  ہے  کہ ان میں  ہر ایک کا  دائرہ محدود تھا  او ران میں  کسی  کی زندگی ایسی نہیں تھی  کہ جو ہمیشہ سارے عالم کے انسانوں کے لیے  نمونہ بن سکے  اگر کوئی بہت اچھا فاتح تھا تو ظلم سے  اس کادامن پاک نہ تھا  ،اگر کوئی اچھا مصلح اور معلّم ِاخلاق تھا تو قائدانہ صلاحیت او راخلاقی  جرأت  سے محروم تھا روحانیت کا دلدادہ تھا تو عملی زندگی  سے نا آشنا او ر دنیاکے نشیب وفراز سے بے خبر تھا  ۔صرف نبی کریم ﷺ کی  ایسی ذات ہے کہ  جو عام اجتماعی  دائرہ سےلے کر  زندگی کے چھوٹے  سے چھوٹے  گوشے تک اس میں ہر چیز کے لیے  قیامت کے لیے  رہنمانی  موجود ہے  نبی کریم  ﷺکی سیرت  پر  عہد نبوی سے  لے  کر  آج تک  بے شمار    لکھنے والوں نے  مختلف انداز میں  لکھا ہے  اور لکھ  رہے  ہیں ۔زیر نظر کتابچہ   بھی سیرت النبی  ﷺ  کے  موضوع پر مولانا محمد حسنی   کے  مضامین کامجموعہ  ہے  جس میں  انہو ں نے  سیرت محمدی  کا اعجاز،سیرت محمدی اور  اس کےتقاضے ،اور نبی  کر یم  ﷺ کے اخلاق کو  بڑے  احسن   میں  پیش کیا  ہے  اللہ تعالی ...

  • 9 ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر میں (اتوار 26 دسمبر 2010ء)

    مشاہدات:13471

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخلاق و کردار اور افعال و اقوال سے قلب و فکر کو جس قدر جلابخشی اس میں کوئی دوسرا ان کا شریک نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان کی اخروی و دنیوی فلاح کو صرف اور صرف  اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی پنہاں رکھا گیا ہے۔ فاضل مصنف ’عبدالمالک قاسم‘زیر نظر مختصر سے رسالہ میں عام فہم انداز میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ایک دن کے معمولات کو سامنے لائے ہیں۔ کتابچے میں آپ جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز گفتار، اعزہ و اقربا اور ازداوجی زندگی سے متعارف ہوں گے وہیں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمین، طرز گفتار اور اجتماعی زندگی کے مختلف مراحل کی مفید معلومات بھی حاصل ہوں گی۔ کتاب میں بیان کردہ صفات کو اپنا کر ہم ایک اچھے مؤمن کی حیثیت سےزندگی گزار سکتے ہیں۔

  • اسلام میں  فتویٰ نویسی کی تاریخ  اتنی  ہی پرانی  ہے جتنا  کہ  بذات  خود اسلام۔ فتویٰ سے  مراد پیش  آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی  روشنی  میں شریعت کا وہ  حکم  ہے  جو کسی سائل کےجواب  میں کوئی عالم دین  اور احکامِ شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے  کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے  چلا آرہا ہے  ۔نبی کریم  ﷺ نے  اپنی زبانِ ر سالت  سے   سوال کرنے اور اس سوال کاجواب دینے کےادب آداب بھی سکھلائے ہیں ۔کتب فقہ وحدیث میں  یہ  بحثیں موجود ہیں او رباقاعدہ آداب  المفتی والمستفتی  کے نام سے  کتب بھی  لکھی گئیں ہیں  اب عصر حاضر میں  تو مفتی کورس بھی کروائے جاتے ہیں۔ ہر دور میں فتاویٰ  کےاثرات  دیر پار ہے  ہیں ۔فتاوی کےاثرات کبھی کبھی تاریخ ساز ہوتے ہیں ۔ہندوستان میں شاہ عبد العزیز   محدث دہلوی ﷫کے  فتوےکاہی اثر تھا کہ سید احمد شہید﷫ اور شاہ اسماعیل شہید﷫ کی قیادت میں مجاہدوں کی ایک تحریک اٹھی جس نےملک کو انگریزی استبداد سےنجات دلانے کےلیے  کمر کس لی اور اس کی راہ  کی صعوبتیں براداشت کرتے ہوئے 1831ء میں جام شہادت نوش کیا ۔ یہ اس فتویٰ کااثر تھا کہ ہندوستانیوں میں قومی شعور پیدا ہوا، ان میں آزادی کا احساس جاگا اور 1857ء میں انگریزوں کےخلاف ایک فیصلہ کن جنگ چھیڑ دی۔ہندوستان میں آزادی کےبعد افتا کافریضہ کافی اہمیت اختیار کرگیا۔لی...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1376
  • اس ہفتے کے قارئین: 3606
  • اس ماہ کے قارئین: 17577
  • کل قارئین : 48329211

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں