اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

محمد افضل

  • نام : محمد افضل

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #6975

    مصنف : محمد افضل

    مشاہدات : 1208

    برصغیر کے علمائے اہل حدیث کی کتب فتاویٰ تعارفی و تحقیقی جائزہ ( مقالہ ایم فل )

    (برصغیر کے علمائے اہل حدیث کی کتب فتاویٰ تعارفی و تحقیقی جائزہ ( مقالہ ایم فل )) ناشر : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد

    اسلام میں  فتویٰ نویسی کی تاریخ  اتنی  ہی پرانی  ہے جتنا  کہ  بذات  خود اسلام۔ فتویٰ سے  مراد پیش  آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی  روشنی  میں شریعت کا وہ  حکم  ہے  جو کسی سائل کےجواب  میں کوئی عالم دین  اور احکامِ شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے  کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے  چلا آرہا ہے  ۔نبی کریم  ﷺ نے  اپنی زبانِ ر سالت  سے   سوال کرنے اور اس سوال کاجواب دینے کےادب آداب بھی سکھلائے ہیں ۔کتب فقہ وحدیث میں  یہ  بحثیں موجود ہیں او رباقاعدہ آداب  المفتی والمستفتی  کے نام سے  کتب بھی  لکھی گئیں ہیں  اب عصر حاضر میں  تو مفتی کورس بھی کروائے جاتے ہیں۔ ہر دور میں فتاویٰ  کےاثرات  دیر پار ہے  ہیں ۔فتاوی کےاثرات کبھی کبھی تاریخ ساز ہوتے ہیں ۔ہندوستان میں شاہ عبد العزیز   محدث دہلوی ﷫کے  فتوےکاہی اثر تھا کہ سید احمد شہید﷫ اور شاہ اسماعیل شہید﷫ کی قیادت میں مجاہدوں کی ایک تحریک اٹھی جس نےملک کو انگریزی استبداد سےنجات دلانے کےلیے  کمر کس لی اور اس کی راہ  کی صعوبتیں براداشت کرتے ہوئے 1831ء میں جام شہادت نوش کیا ۔ یہ اس فتویٰ کااثر تھا کہ ہندوستانیوں میں قومی شعور پیدا ہوا، ان میں آزادی کا احساس جاگا اور 1857ء میں انگریزوں کےخلاف ایک فیصلہ کن جنگ چھیڑ دی۔ہندوستان میں آزادی کےبعد افتا کافریضہ کافی اہمیت اختیار کرگیا۔لیکن ہمارا دستور آئینِ اسلام کے شرعی قوانین سے قعطا ًمیل نہیں کھاتا ۔ افتا کے نفاذ  اور اس پر عمل  کی آزادی بہت ہی محدود ہوچکی ہے ۔ حکومتی عدالتیں دار الافتا کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتی ۔بر صغیر پاک وہند کےعدالتی نظام نے  انصاف کےحصول کوبہت پچیدہ اوردشوار بنادیا ہے ۔پاک ہند میں  دار الافتاء کی تعد اد عربی مدارس سے کم  نہیں  مگر افسوس کہ ان میں باہمی ربط اور ہم آہنگی  نہیں ہے ۔  برصغیر پاک وہند میں  قرآن  کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی وتراجم کےساتھ فتویٰ نویسی میں  بھی  علمائے اہل حد یث کی کاوشیں لائق تحسین ہیں  تقریبا  چالیس کے قریب   علمائے حدیث کے فتاویٰ جات    کتابی صورت میں   شائع ہو چکے  ہیں ۔ زیر نظر  مقالہ بعنوان’’ برصغیر میں علمائے اہل حدیث کی کتبِ فتاویٰ تعارفی وتحقیقی  مطالعہ  ‘‘  جناب     محمد افضل  صاحب  کا ایم فل  علوم اسلامیہ  کے لیے تیارکیا گیا وہ تحقیقی کامقالہ ہے جسے انہوں نے معروف اہل حدیث پروفیسر ڈاکٹر خالدظفراللہ ﷾ آف سمندری کی نگرانی میں مکمل  کر کے  2007ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پیش کیا ۔مقالہ نگار نے اس تحقیقی مقالے میں  مسلک اہل حدیث کی سترہ مستقل کتب فتاویٰ کا مفصل تعارف پیش کیا ہے ۔یہ مقالہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے ۔ باب اول  میں برصغیر میں مسلک اہل حدیث ۔ ایک تعارف کےعنوان کے تحت برصغیر میں علم حدیث کی خدمت کرنے والے نمایاں علماء ومدثین کا تذکرہ ہے ۔باب دوم میں  فتویٰ کامفہوم اور اہمیت بیان کرنے کےکے بعد  برصغیر کے علمائے اہل حدیث کی کتب فتاویٰ کاتعارف وتحقیقی جائزہ پیش کیاگیا ہے ۔باب سوم میں عصری کتبِ فتاویٰ  کہ جن کہ  مؤلفین حیات ہیں  کا تعارفی وتحقیقی جائزہ پیش کیاگیا ہے(اس مقالہ کو تیار کرتے وقت مولانا حافظ عبد المنان نوری﷫ اور مولانا حافظ زبیر علی زئی ﷫ حیات تھے مولانا نور پوری 2012ء اور مولانا حافظ زبیر علی زئی نومبر2013ء میں  اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون)۔باب چہارم میں علمائے اہل حدیث کی کتبِ فتاویٰ کی روشنی میں اصول دین اورمسائل کا بیان کیا گیا ہے  اس ضمن  میں  وہ عقائد ومسائل بیان کیے گئے ہیں  کہ جن پر علمائےاہل حدیث کی اکثریت  کا اتفاق ہے ۔باب پنجم میں جدید عصری مسائل کےبارے میں علمائے اہلحدیث کی آراء کوبیان کیاگیا ہے ۔مقالہ نگار نے  یہ مقالہ خود کتاب وسنت سائٹ پر پبلش  کرنے کےلیے عنایت کیا  ہے ۔(م۔ا)

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 2176
  • اس ہفتے کے قارئین 14826
  • اس ماہ کے قارئین 38366
  • کل قارئین49248585

موضوعاتی فہرست