دکھائیں کتب
  • 61 ایک دن میں کروڑوں نیکیاں (بدھ 28 جون 2017ء)

    مشاہدات:1152

    یہ کتاب حافظ فیصل اللہ نصر کی تصنیف ہے۔

  • 62 با ادب با نصیب (پیر 22 مئی 2017ء)

    مشاہدات:2901

    ادب وآداب اور اخلاق کسی بھی قوم کا طرہ امتیاز ہے گو کہ دیگر اقوام یا مذاہب نے اخلاق و کردار اور ادب و آداب کو فروغ دینے میں ہی اپنی عافیت جانی مگر اس کا تمام تر سہرا اسلام ہی کے سر جاتا ہے جس نے ادب و آداب اور حسن اخلاق کو باقاعدہ رائج کیا اور اسے انسانیت کا اولین درجہ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بات کی جاتی ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں زبان (یعنی اخلاق) سے پھیلا۔ حسنِ اخلاق اور ادب پر لاتعداد احادیث مبارکہ ہیں کہ چھوٹے ہوں یا بڑے‘ سب کے ساتھ کس طرح ادب سے پیش آنے کی تلقین اور ہدایت فرمائی گئی ادب اور اخلاق کسی معاشرے کی بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے جو معاشرے کو بلند تر کر دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ادب سے عاری انسان اپنا مقام نہیں بنا سکتا۔ باادب بامراد اور بے ادب بے مراد ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’بادب بانصیب‘‘ سید محمد ابوبکر غزنوی﷫ کے افادات سے مرتب شدہ ہے۔ سید ابو بکر غزنوی﷫ زندگی بھر خلوص اور گرم جوشی سے سیرت طیبہﷺ کے ان شفاف چشموں سے لوگوں کو سیراب کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ ان کے لیکچرز، خطبات اور تحریریں اسلامی آداب، شائستگی اور قرینوں کی تعلیم کے پاکیزہ اور جانفزا جھونکوں سے بھر پور ہوتے۔ طارق اکیڈمی، فیصل آباد کے مدیر جناب محمد سرور طارق نے سید ابو بکر غزنوی﷫ کی تحریروں، خطبات و مقالات سے یہ حسین و جمیل گلدستہ ترتیب دیا ہے۔ یہی آداب ہیں جنہیں اخلاق بھی کہا جاتاہے اور اخلاق ہی میزان عمل کاسب سے وزنی اثاثہ ہے۔ (م۔ا)

  • اسلام ایک کامل اور اکمل دین ہے جواپنے ماننے والوں کوصرف مخصوص عقائد ونظریات کو اپنانے ہی کی دعوت نہیں دیتا بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر یہ دین مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کی یہ روشن اور واضح تعلیمات اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب قرآن مجید او رنبی کریم ﷺ کی صحیح احادیث کی شکل میں مسلمانوں کے پاس محفوظ ہیں۔ انہی دوچشموں سے قیامت تک مسلمان سیراب ہوتے رہے ہیں گے اور اپنے علم کی پیاس بجھاتے رہیں گے۔اسلام نے جہاں بڑی عمر کے مردوں اور عورتوں کے حقوق بیان کیے ہیں وہیں بچوں اورچھوٹی عمر کے نونہالوں کے حقوق کاتذکرہ بھی کیا ہے ۔عصر حاضرکے جدید آلات اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے نتیجےمیں پیدا ہونے والے مسائل میں سے بچوں کی بدچلنی اور جنسی بے راہ روی ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے جس کے تدارک ک طرف ہمیں مکمل توجہ دینی چاہیے اوراس کے لیے ہر ممکن تدبیر کو اختیار کرنا چاہیے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’بد چلنی اورجنسی بے راہ روی سے بچوں کی حفاظت کیسے کریں؟ ‘‘ فضیلۃ الشیخ متعب بن محمد بن سلیمان کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے بد چلنی کی تاریخ اور اس کی مختلف اقسام ، دور حاضر میں جنسی بے راہ روی پھیلنے کے اسباب ، نوخیز عمری میں بچوں کے لیے حفاظتی تدابیر ، والدین کا ان کے ساتھ طرز عمل اور بچوں کو غلط لوگوں کی صحبت اورراستوں سےمحفوظ رکھنے کے وسائل جیسے مفید موضوعات پر روشنی ڈالی ہے ۔یہ کتاب والدین اور گھریلو سربراہان کےلیے نہایت مفید ثابت ہوسکتی ہے ۔جس کے مطالعے سے وہ بہتر انداز میں اپنے فرائض اد ا کرسکیں گے۔اللہ تعالیٰ کتاب ہذا کے مصنف ومتر...

  • 64 بدکاروں کی زندگی کا عبرتناک انجام (بدھ 26 دسمبر 2012ء)

    مشاہدات:17480

    حقیقی کامیاب وہ شخص  ہے جو دنیا میں کامیاب ہو گیا، جو دنیا کی زندگی میں اللہ کی رضا کا سرٹیفکیٹ حاصل کر کے کامیاب نہ ہو سکا وہ آخرت میں بھی ناکام و نامراد رہے گا۔ جو لوگ دنیا میں رہتے ہوئے اللہ کی ذات کے سامنے جوابدہی اور احتساب کے تصو کو بھلا دیتے ہیں وہ اپنی موت کو بھی بھلا بیٹھتے ہیں۔ اچانک ایک دن موت کے کوڑے کی ضربیں جب لگنے لگتی ہیں تو ان کو اس وقت یاد آتا ہے کہ ہم نے تو مرنا بھی ہے لیکن اب وقت بیت چکا ہوتا ہے۔ دنیا دیکھتی ہے کہ ان کا موت کے وقت اس قدر عبرتناک اور خوفناک انجام ہوتا ہے کہ لوگ توبہ توبہ کرتے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے استغفار کرتے ہیں۔ اس کتاب میں بھی دنیا کے مختلف ممالک کے بدکاروں کی زندگی کا عبرتناک انجام دکھایا گیا ہے، مرتے وقت ان کے جان نکلنے کے عبرتناک مناظر دکھائے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ آپ اس سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔ جان نکلتے وقت اللہ  و سولﷺ کے باغیوں کا یہ رسوا کن ذلت ناک عبرتناک انجام کیوں ہوتا ہے؟ کیسے کیسے اعمال کرنے کے نتیجے میں ذلت ناک و اذیت ناک موت مرنے کے بعد جہنم کے فرشتوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر جہنم کا ایندھن بننا پڑتا ہے؟ اگر آپ ایسے انجام سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے کامل رہنمائی فراہم کرے گی۔ اس کتاب کو مجدّی فتحی السیّد نے تالیف کیا ہے اور اردو قالب میں منتقل کرنے کے فرائض ابوحمزہ پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی نے ادا کیے ہیں۔(ع۔م)
     

  • انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں...؟۔ بہت کم ایسے خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں بھر زندگی سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں ۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کت...

  • 66 برکت اس کے حصول اور اس سے محرومی کے اسباب (پیر 21 اگست 2017ء)

    مشاہدات:1638

    ’’برکت‘‘ کا موضوع ان دینی موضوعات میں سے ہے جن میں انتہائی قوی وعمیق پیغام ہے اور اس پر خالص اسلامی رنگ ہے۔ اسلام نے روح اور مادہ کے درمیان توازن پیدا کیا ہے اور اس کے لیے کچھ چیزیں بنائی ہیں جن سے روحانی اور مادی دونوں اقدار حاصل ہوں‘ چنانچہ ساری عبادات میں روحانی اور مادی دونوں فوائد رکھے گئے ہیں مثلا نماز میں روحانی سکون واطمینان یعنی بندے کے فطری تقاضہ بندگی کی طرف میلان کے ساتھ مادی فائدہ یہ ہے کہ بھائی چارگی‘ تعاون ومساوات ہوتی ہے‘ ایسے ہی برکت سے بھی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہے اور ہمارے اعمال صالحہ مقبول ہو رہے ہیں اور نتیجۃً ہمارے رزق میں برکت ہو رہی ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  بھی برکت  اور اس کے حصول کے اسباب کون کون سے ہیں اور کن اسباب وذرائع یا گناہوں کی وجہ سے ہم برکت کی نعمت سے محروم کیے جاتے ہیں کو بیان کیا گیا ہے۔ برکت کے مفہوم واقسام کو بھی بیان کیا گیا ہے اور کتاب کو مختصر انداز میں اور کتاب وسنت اور سلف کے اقول سے پوری دلیل سے پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے عوام کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ کتاب’’ برکت  اس کے حصول اور اس سے محرومی  کے اسباب ‘‘ ابو حذیفہ ابراہیم بن محمد کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے...

  • 67 برکت کے اسباب اور محنت کی اہمیت (منگل 11 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:2270

    آج کی مادی دنیا میں لوگ اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ انہیں سوائے دولت اکٹھی کرنے، اسی کے لئے بھاگ دوڑ کرنے اور زندگی کی ساری راحتیں اس خیالی راحت کو حاصل کرنے میں کھپا دینے کے علاوہ اور کسی بات کو سوچنے کی فرصت ہی نہیں ملتی ہے۔درحقیقت ہماری زندگی حقیقی رنگ، لذت، سرور اور نزاکت احساس کھو چکی ہے اور لطف یہ ہے کہ ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہے۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" برکت کے اسباب اور محنت کی اھمیت "محترم مولانا آصف نسیم صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے شریعت کی روشنی میں برکت کے اسباب اور محنت کی اھمیت پر گفتگو فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • 68 بس یہی دل (اتوار 13 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:3357

    انسان کی پیدائش کا مقصد رب العا لمین کی عبادت کرنااور صراط مستقیم پر گامزن رہناہے۔ اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے رب العالمین نے روز اول سے ہی ہر دور میں انبیاء کو دنیا میں بھیج کر لوگوں کو رب العالمین کی بندگی اور اطاعت الٰہی کا درس دیا۔ اب چونکہ آپﷺ کی بعثت کے بعد سلسہ نبوت ختم ہوچکاہے، اور معاشرہ کی اصلاح کرنا علماء کی ذمہ داری ہےکہ لوگوں کو اپنا مقصد حیات یاد دلاتے رہیں، پس اسی مقصد حیات کی تذکیر کے لیے زیرہ تبصرہ کتاب ’’بس یہی دل‘‘ میں فاضل مصنف ابو یحی نے اس موضوع کو قلم بند کیا ہے، جوکہ دراصل ان کے لکھے ہوئے مختلف مضامین پر مشتمل ہے، اور ا ن مضامین کو کتابی شکل میں لکھنے سے ان کا مقصد لوگوں کے اندر ایسی شخصیت کو پیداکرنا ہے جس کے لیے خدا کی ذات،صفات اور اس کی ملاقات زندگی کا سب سے اہم موضوع بن جائے اور جو بد ترین حالات میں بھی امید کے ساتھ جینا سیکھ لے۔ یہی وہ صفات ہیں جو کسی شخصیت کو اللہ تعالیٰ کی مطلوب شخصیت بناتی ہیں۔ یہی وہ شخصیت ہے جسے قرآن قلب سلیم کہتاہے اور جس کا بدلہ جنت کی ختم نہ ہونے والی ابدی زندگی ہے۔ آخر میں ہم اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت مصنف کی اس کاوش کواپنی بارگاہ ميں قبول فرمائے۔ آمین(شعیب خان)

  • 69 بچوں سے گفتگو کیسے کریں (جمعہ 09 جون 2017ء)

    مشاہدات:1131

    قرآن مجید میں جہاں والدین کےحقوق کاتذکرہ آیا ہے وہیں اولاد کے حقوق کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے ۔جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوشک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔اولاد کرہ ارض پر اللہ تعالیٰ کاسب سے خوبصورت تحفہ ہے اس کی تربیت والدین کی اولین ذمہ داری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’بچوں سے گفتگو کیسے کریں ‘‘ محترمہ حفصہ صدیقی کی مرتب شدہ ہے انہوں نےاس کتاب کو کئی انگریزی ، اردو کتب اور دیگر ذرائع سےاستفادہ کر کے مرتب کیا ہے اور کوشش کی کہ یہ کتاب علمی سے زیادہ عملی طریقوں سے واقفیت دلائے ۔فاضل مرتبہ نے اس کتاب کو منظم انداز میں ترتیب دیا ہے ۔ ذہنی اور تحریری مشقوں اور اکثرباتوں کو واقعات کی مدد سے سمجھانےکی کوشش کی ہے ۔کتاب...

  • 70 بچوں کے لیے 40 نصیحتیں (منگل 09 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:5053

    والدین پر بچوں کےحقوق میں سے اہم ترین یہ ہےکہ والدین اپنے بچوں کی دینی واسلامی ،اخلاقی وجسمانی اورمعاشرتی تربیت کریں۔ جیسے والدین پر ضروری ہے کہ وہ بچےکی پیدائش کے بعد اس کےحقوق مثلاً بچے کے کان میں اذان کہنا ، اسے گھٹی دینا ،ساتویں دن اچھا نام رکھنا ،سر منڈوانا ،عقیقہ کرنا او رختنہ کرنا وغیرہ لازم ہیں ۔ اسی طرح والدین پر ضروی ہے کہ کہ وہ اپنے بچوں کوبچپن میں ہی قرآن کریم کی تعلیم دلوائیں اور اسے ارکان اسلام کی تعلیم دے کر انہیں اس کاپابند بنائیں۔اور انہیں شریعت کے تمام احکام وآداب کی تعلیم دیں یعنی کھانے پینے،سونے ،جاگنے ،اٹھنے بیٹھنے ،چلنے پھرنے اور ملنے جلنے کےاسلوب وسلیقے سکھائیں اوراس کا خصوصی اہتمام کریں جیسا کہ حضرت جابر ﷜ نے کیا تھا کہ بچوں کی تربیت کے لیے تجربہ کار ایک بیوہ سے نکاح کرلیا۔ زیر نظر کتابچہ ’’ بچوں کےلیے 40 نصیحتیں‘‘مولانا محمد عظیم حاصل پوری ﷾ (مدیرماہنامہ المحمدیہ،حاصل پور )کی کاوش ہےجس میں انہوں نے بچوں کےلیے وہ 40 نصیحتیں اکٹھی کی ہیں جو مختلف موقعوں پر انبیاء﷩ ، نبی کریم ﷺ، صحابہ کرام ﷢،تابعین﷭ اور سلف صالحین نے اپنے بچوں کوکیں۔اور اس میں خصوصا تربیت اولاد کے سلسلہ میں جو اللہ تعالیٰ نےاور نبی کریم ﷺ نے حکیم لقمان کی نصیحتیں اپنے بیٹے کے لیے ذکر کیں ہیں ان کاذکر کیاہے ۔تاکہ ہمارے بچے اپنے بزرگوں کی نصیحتوں پر عمل کرتے ہوئے معاشرے کےمعزز فرد کہلائیں اور دنیا وآخرت کی کامیابیوں اور کامرانیوں کوسمیٹ سکیں۔اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی تمام تدریسی ،تبلیغی واصلاحی اور تصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے اور...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2207
  • اس ہفتے کے قارئین: 6384
  • اس ماہ کے قارئین: 25677
  • کل قارئین : 47727239

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں