دکھائیں کتب
  • 41 اصول اخلاقیات (جمعرات 29 ستمبر 2016ء)

    مشاہدات:1219

    ہم اپنی روز مرہ زندگی میں جو تصدیقات قائم کرتے ہیں ان میں سے چند ایسی تصدیقات کو الگ کرنا نہایت آسان ہے جن کی صداقت سے اخلاقیات بلا شبہ سروکار رکھتی ہے۔جب کبھی ہم کہتے ہیں کہ"فلاں شخص اچھا ہے"یا"فلاں آدمی برا ہے"، جب کبھی ہم پوچھتے ہیں کہ "مجھے کیا کرنا چاہئے؟"یا"کیا ایسا کرنا میرے لئے نادرست ہے؟"جب کبھی ہم یہ کہنے کی جرات کرتے ہیں کہ "عفت فضیلت ہے اور مے نوشی رذالت ہے" تو بلا شبہ یہ اخلاقیات ہی کاکام ہے کہ وہ اس قسم کے سوالات اور بیانات پر بحث کرے۔علاوہ ازیں اخلاقیات کے ذمے یہ کام بھی ہے کہ وہ ہمارے ان بیانات کو جو افراد کے اخلاقسے یا ان کے افعال کے اخلاقی پہلو سے متعلق ہوتے ہیں، غلط یا صحیح ٹھہرانے کے اسباب بیان کرے۔اکثر حالتوں میں ہم"فضیلت، رذالت،فرائض، درست، خیر،شر"جیسی اصطلاحات استعمال  کرتے ہیں، جن میں ہم اخلاقی حکم لگا رہے ہوتے ہیں، اگر ہم ان احکام کی صداقت کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اخلاقیات کے کسی نہ کسی نکتے پر بحث کرنا ہوگی۔ زیر تبصرہ کتاب" اصول اخلاقیات "محترم جارج ایڈورڈمور کی انگریزی تصنیف ہے جس کا اردو ترجمہ محترم پروفیسر عبد القیوم صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں اخلاقیات کے اصول بیان کئے ہیں۔(راسخ)

  • 42 اعزاز القرآن لعباد الرحمن المعروف اوصاف مومن (بدھ 15 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:2297

    اخلاق ان صفات اور افعال کو کہا جاتا ہے جو انسان کی زندگی میں اس قدر رچ بس جاتے ہیں کہ غیر ارادی طورپربھی ظہور پذیر ہونے لگتے ہیں۔ بہادر، فطری طور پر میدا ن کی طرف بڑھنے لگتا ہے اور بزدل، طبیعی انداز سے پرچھائیوں سے ڈرنے لگتا ہے۔ کریم کا ہاتھ خود بخود جیب کی طرف بڑھ جاتا ہے اور بخیل کے چہرے ہر سائل کی صورت دیکھ کر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں۔ اسلام نے غیر شعوری اور غیر ارادی اخلاقیات کو شعوری اور ارادی بنانے کا کام بھی انجام دیاہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان ان صفات کو اپنے شعور اور ارادہ کے ساتھ پیدا کرے تاکہ ہر اہم سے اہم موقع پر صفت اس کا ساتھ دے ورنہ اگر غیر شعوری طور صفت پیدا بھی کرلی ہے تو حالات کے بدلتے ہی اس کے متغیر ہو جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ان تذکروں کو ملاحظہ کیا جائے جہاں اسلام نے صاحب ایمان کی اخلاقی تربیت کاسامان فراہم کیا ہے اور یہ چاہا ہے کہ انسان میں اخلاقی جوہر بہترین تربیت اور اعلیٰ ترین شعور کے زیر اثر پیدا ہو۔اللہ تعالی نے قرآن مجید کی سورۃ الفرقان کے آخری رکوع میں عباد الرحمان کی بارہ صفات ذکر کی ہیں ،جو گویا بارہ مستقل مضامین ہیں۔ان صفات میں سے"زمین پر عاجزی سے چلنا ، جاہلوں سے اعراض کرنا ، راتوں کو عبادت کرنا، جہنم کے عذاب سے پناہ مانگنا ، خرچ کرنے میں اعتدال سے کام لینا ، نہ فضول خرچی  کرنا اور نہ ہی بخل کرنا ، شرک سے اجتناب کرنا ، قتل ناحق سے بچنا ، زنا اور بدکاری سے پرہیز کرنا، جھوٹی گواہی سے احتراز کرنا ، بری مجالس سے پہلوتہی  کرنا، کتاب اللہ سے متاثر ہونا ، بیوی بچوں اور اپنے لئے ہدایت کی دعا کرن...

  • 43 افواہوں کی شرعی حیثیت وجوہات اقسام اثرات (جمعہ 02 جون 2017ء)

    مشاہدات:1554

    ہمارے دین کامل اسلام میں جھوٹ بہت بڑا عیب اور بد ترین گناہ ہے ۔جھوٹ کا مطلب ہے وہ بات جو واقعہ کے خلاف ہویعنی اصل میں وہ بات اس طرح نہیں ہوتی ۔جس طرح بولنے والا اسے بیان کرتا ہے ۔اس طرح وہ دوسروں کو فریب دیتا ہے ۔جو اللہ اور بندوں کے نزدیک بہت برا فعل ہے ۔جھوٹ خواہ زبان سے بولا جائے یا عمل سے ظاہر کیا جائے ۔مذاق کے طور پر ہو یا بچوں کو ڈرانے یا بہلانے کےلئے ہر طرح سے گناہ کبیرہ اور حرام ہے ۔جھوٹ گناہوں کا دروازہ ہے کیونکہ ایک جھوٹ بول کر اسے چھپانے کےلئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں ۔قرآن و حدیث میں اس قبیح عادت کو چھوڑنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے۔جھوٹ بولنا مومن کا شیوہ نہیں اور جس کےدل میں ایمان ہوتا ہے وہ جھوٹ بولنے سے کتراتا ہے کیونکہ اس میں رب الٰہی کی ناراضگی ہے ۔ارشاد نبوی ﷺ ہےکہ ’’ جب انسان جھوٹ بولتا ہے تو فرشتے اس کے منہ کی بدبو سے 70 میل دور چلے جاتے ہیں ۔ایک حدیث میں ہےکہ بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور وہ اس میں اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ و ہ اللہ کےہاں بھی جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘ جو انسان جھوٹ کو اپنا لیتا ہے اس کا معاشرے میں کوئی وقار نہیں ہوتا اپنے پرائے سب اس سے دور چلے جاتے ہیں اور وہ لوگوں کی نظروں میں گر جاتاہے۔جھوٹ کی ایک قسم افواہ سازی بھی ہے جو کہ انسان بنا کچھ سوچے سمجھے کوئی بات کسی سے سن کر لوگوں میں پھیلادیتے ہیں جب کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی ۔جس سے انسان کی عزت پر حرف آتا او رمسلمان کی عزت کو نبی کریم ﷺ نے کعبہ کی حرمت سے بڑھ کر قرار دیا ہے ۔افواہ سازی کے عصر حاضر میں مختلف ذرائع بن چکے ہیں ۔ بالخصوص میڈیا...

  • 44 السلام علیکم (جمعہ 06 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:6028

    دنیا کی ہر مہذب قوم میں یہ رسم پا ئی جاتی ہے کہ  جب وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملتے ہیں، توچند مخصوص الفاظ کسی خاص انداز سے ادا کرتے ہیں۔ان کے  یہ الفاظ و انداز ان کا ملی وقومی شعار بن جاتا ہے۔جیسے ہندو رام رام،سکھ جئے گرو، اور انگریز گڈ مورننگ،گڈ مون اور گڈ ایوننگ وغیرہ جیسے الفاظ ادا کرتے ہیں۔اسلام نے بھی طرز ملاقات کے آداب کو بیان کرتے ہو ئے باہمی ملاقات کرتے وقت(السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ) جیسے عظیم الشان الفاظ  کہنے کاحکم دیا ہے۔ ان سے بہتر کوئی دعائیہ کلمات نہیں ہیں۔کیونکہ ان میں دنیا وآخرتدونوں جہانوں کی کامیابی کے راز مضمر ہیں،اور یہ محبت و دعا گوئی کا بہترین اظہار ہیں۔ چونکہ سلام کے احکام ومسائل سے آگاہ ہونا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے ،چنانچہ فاضل مؤلف مولانا عبد الغفور اثری نے خالصتا اصلاحی جذبہ سے سرشار ہو کر نہایت عرق ریزی،تحقیق اور مستند دلائل کے ساتھ نہایت سلجھے ہوئے اسلوب میں یہ کتابچہ مرتب فرمایا ہے ،جو اپنے موضوع ایک منفرد کاوش ہے،اور مطالعہ کے لائق ہے۔اللہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔(راسخ)
     

  • 45 الفوائد (اردو) جلد اول (جمعرات 01 ستمبر 2011ء)

    مشاہدات:25540

    موجودہ دور سراسر مادیت کا دور ہے ،جس میں ہر شخص دنیوی مال ودولت اور جاہ ومنصب کےحصول میں سرگرداں نظر آتا ہے ۔تزکیہ نفس،اصلاح قلب اور فکر آخرت سے مکمل تغافل برتا جا رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر شخص بے چینی اور بے سکونی کا شکار ہے ۔ایسے میں اس کے طرح کے لڑیچر کی اشد ضرورت ہے جس میں اصلاح باطن اور اخلاص وللہیت کی اہمیت کا اجاگر کیا جائے اور ان کے حصول کا عملی طریقہ بھی واضح کیا جائے۔زیر نظر کتاب اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے ۔مولانا ابو محمد امین اللہ پشاوری نے اس کتاب میں ایمان وتقویٰ،زہدوقناعت،محبت الہیٰ ،حسن خاتمہ کے اسباب،استقامت  فی الدین کا طریق کار اور دیگر بہت سے مفید موضوعات پر بحث کی ہے ۔اس میں جا بہ جا قرآن وحدیث اور اقوال سلف سے بہت زیادہ استدلال کیا گیا ہے  اور ضعیف اور موضوع روایات سے اجتناب کیا گیا ہے ۔گویا یہ ایک مستند کتاب ہے ،اصل کتاب عربی میں تھی جسے جناب محمد علی صدیقی نے اردو میں منتقل کیا ہے جس کی بدولت عوام بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔امید ہے اس کے مطالعہ سے اصلاح قلب ودین کا داعیہ بیدار ہو گا اور لوگ خداوند قدوس کی جانب متوجہ ہوں گے۔(ط۔ا)
     

  • اس جہانِ رنگ و بو میں شیطان کے حملوں سے بچتے ہوئے شریعتِ الٰہیہ کے مطابق زندگی گزارنا ایک انتہائی دشوار امر ہے۔مگر اللہ ربّ العزت نے اس کو ہمارے لئے یوں آسان بنا دیا کہ ایمان کی محبت کو ہمارے دلوں میں جاگزیں کر دیا۔اسلام اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لانے کا نام ہے اور اس ایمان کی سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ انسان کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبت ہو اللہ کی محبت ایسی محبت کہ اس کے ساتھ کوئی بڑ ے سے بڑ ا انسان بھی اس محبت میں شریک نہیں ہو سکتا۔اور اس محبت کا تقاضا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔ زیر تبصرہ کتاب" اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کے تقاضے "محترم ابو تیمیہ ساجد الرحمن چوہدری صاحب کی انگریزی تصنیف ہے، جس کا  اردو ترجمہ محترم ابو یحیی محمد زکریا زاہد صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں اللہ تعالی اور نبی کریم ﷺ سے محبت کے تقاضے بیان فرمائے ہیں۔ اللہ تعالی  سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم  کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں  اللہ تعالی اورآپ ﷺ سے محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • 47 اللہ تعالیٰ کی 10 تاکیدی نصیحتیں (ہفتہ 19 اگست 2017ء)

    مشاہدات:1372

    اللہ رب العزت نے امت محمدیہ کو فضیلت بخشتے ہوئے ‘ پہلی تمام امتوں سے افضل قرار دیا اور ہمیں جامع شریعت دی اور دینے کے بعد اس کی حفاظت کا ذمہ بھی خود لے لیا۔ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کے ذمہ کچھ اہم ذمہ داریوں کو عائد بھی کیا ہے اور کئی ایک پر تاکید بھی فرمائی ہے۔ جن احکام کو بیان کرنے کے بعد یا ان کے بیان میں تاکید نہیں فرمائی گئی ان پر عمل کرنا ہمارا فرض ہے اور پھر جن احکامات پر تاکید فرمائی گئی ہے ان کے عمل کی ضرورت پہلی صورت سے بھی زیادہ ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں  ان دس نصیحتوں کو ذکر ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے مثلاً شرک کی ممانعت‘ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک‘ اولاد کے قتل کی ممانعت‘ قول وفعل میں فحش کی ممانعت‘ قتل ناحق کی ممانعت‘ یتیم کا مال کھانے کی ممانعت‘ ماپ تول کو پورا کرنے کا حکم‘ حق اور سچ کہنا‘ عہد وفاء کرنا اور سیدھے راستے کی پیروی کرنا۔ اس کتاب کو تخریج وتحقیق کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور ملا کر لکھے جانے والے الفاظ مثلا انکو اسکے وغیرہ کو الگ الگ کر کے لکھا گیا ہے‘ آیات کی کمپوزنگ کی بجائے قرآن کی اصل کتابت لگائی گئی ہے‘ قولی احادیث پر اعراب لگائے گئے ہیں‘ اہم تعلیقات لگائی گئیں ہیں اور حاشیہ میں متعلقہ وصیت سے ملتی جلتی اور بھی آیات کو شامل کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے عوام کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ کتاب’’ اللہ تعالیٰ کی دس تاکیدی نصیحتیں ‘‘ حافظ جلال الدین قاسمی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتال...

  • 48 اللہ تعالیٰ کی پسند اور نا پسند (منگل 18 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1894

    اللہ کی پسند وناپسند ہر مسلمان کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسی معیار پر اس کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار ہے ۔اگر بندے اللہ تعالی کےپسندیدہ کام کریں گے تو وہ ان سے راضی اور خوش ہوگا او ران کو مزید نعمتوں اور بھلائیوں سے نوازے گا ۔لیکن اگر وہ اللہ کےناپسندیدہ کام کریں گے تو وہ ان سے ناراض ہوگا اور انہیں سزا دےگا۔پہلی صورت میں بندوں کےلیے کامیابی اور فلاح ہے اور دوسری صورت میں ان کے لیے ناکامی اور خسارا ہے ۔لہذا یہ ضروری ہے کہ ہم دنیا اور آخرت میں اپنی کامیابی اور فلاح کےلیے صرف وہی کام کریں جو اللہ تعالیٰ کوپسند ہیں اور جن کے کرنے کا اس نے ہمیں حکم دیا ہے خواہ وہ حکم ہمیں قرآن مجید کے ذریعے سےدیا گیا ہے یا سنت کےذریعے سے ۔اسی طرح ہمیں دنیا اور آخرت میں ناکامی اور خسارے سےبچنے کے لیے ایسے کاموں سےباز رہنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں اور جن سے اس نے ہمیں منع فرمایا ہے خواہ وہ ممانعت قرآن میں کی گئی ہو یا سنت میں ۔اور ایمان کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ایسے کام کیے جائیں جن سے اللہ اور اس کا رسول ﷺ راضی ہو جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَنْ يُرْضُوهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِين (سورۃ توبہ :62)’’اللہ اور اس کے رسول ﷺ زیادہ حق دار ہیں کہ انہیں راضی کریں اگر وہ مومن ہیں ‘‘۔اس کے علاوہ ہرمسلمان اللہ تعالی کے اطاعت اور اس کےرسولﷺ کی اطاعت کاپابند ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’اللہ کی پسند اور ناپسند‘‘ شیخ عدنان الطرشہ کی عربی کتاب ماذا يحب الله وماذا یبغض..؟ کا سلیس ترجمہ ہے ۔بنیادی طور پ...

  • 49 اللہ سے شرم کیجئے (پیر 12 اکتوبر 2009ء)

    مشاہدات:16223

    مصنف نے اس کتاب میں معاشرتی برائیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ہر کی قباحت اور شرعی حکم کو بیا ن کیا ہے- ان معاشرتی بداخلاقیوں اور کبیرہ گناہوں کو مختلف ابواب کے تحت بیا ن کیا ہے-مصنف نے کتاب کو موضوعات کے اعتبار سے سات مختلف ابواب میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ہر باب کو مختلف فصول میں تقسیم کیا ہے-مصنف نے اپنی کتاب میں جن موضوعات کا احاطہ کیا ہے وہ اجمالا درج ذیل ہیں:حیا کی فضیلت و اہمیت،شرک و تکبیر سے اجتناب،زبان کی حفاظت،جھوٹ وغیبت سے اجتناب اور نقصانات،گالی گلوچ سے اجتناب،پردے کا احکام،حرام مال سے اجتناب،حرام مال کے مختلف ذرائع،مدارس کے مال اور مختلف خیراتی اداروں کے مال کو خرچ کرنے میں احتیاط کو مدنظر رکھنا،دنیا کی محبت ،مال کی محبت اور بخل سے اپنے آپ کو بچانے کی ضرورت واہمیت،سخاوت اور مہمان نوازی کی اہمیت وفضیلت،بغض وعداوت سے بچتے ہوئے تزکیہ نفس کی ضرورت واہمیت کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس چیز پر زور دیا گیا ہے کہ انسان کو ہروقت اپنی موت کو یاد رکھنا چاہیے-اس کے علاوہ بے شمار شاندار موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے-

  • 50 اللہ کی پسند و ناپسند (ہفتہ 23 اگست 2014ء)

    مشاہدات:1886

    اللہ کی پسند وناپسند ہر مسلمان کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے  کیونکہ اسی معیار پر اس کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار ہے ۔اگر بندے اللہ تعالی کےپسندیدہ کام کریں گے تو وہ ان سے راضی  اور خوش ہوگا او ران کو مزید نعمتوں اور بھلائیوں سے نوازے گا ۔لیکن اگر وہ   اللہ کےناپسندیدہ کام کریں گے  تو وہ ان سے ناراض ہوگا اور انہیں سزا دےگا۔پہلی صورت میں بندوں کےلیے  کامیابی  اور فلاح  ہے  اور دوسری   صورت میں ان کے لیے   ناکامی اور خسارا ہے ۔لہذا یہ ضروری ہے کہ ہم دنیا  اور آخرت  میں اپنی کامیابی اور فلاح کےلیے  صرف وہی  کام کریں جو اللہ تعالیٰ کوپسند ہیں اور جن کے  کرنے کا اس نے ہمیں حکم دیا ہے  خواہ وہ حکم  ہمیں  قرآن مجید   کے ذریعے  سےدیا گیا ہے یا سنت  کےذریعے سے ۔اسی طرح ہمیں دنیا اور آخرت میں ناکامی  اور خسارے  سےبچنے کے لیے  ایسے کاموں سےباز رہنا چاہیے جو  اللہ تعالیٰ  کو ناپسند ہیں اور جن سے اس نے  ہمیں منع فرمایا ہے  خواہ وہ ممانعت قرآن میں کی گئی  ہو یا سنت میں ۔اور ایمان  کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ایسے کام کیے جائیں جن سے اللہ  اور اس کا رسول ﷺ راضی ہو  جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَنْ يُرْضُوهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِين (سورۃ توبہ :62)’’اللہ  اور اس کے رسول ﷺ زیادہ حق دار ہیں  کہ انہیں راضی کریں اگر  وہ مومن  ہیں &lsquo...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1617
  • اس ہفتے کے قارئین: 15045
  • اس ماہ کے قارئین: 29866
  • کل قارئین : 46429684

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں