دکھائیں کتب
  • 91 حاصل زندگی (بدھ 22 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:3920

    امام ابن حزم  کی  شخصیت علمی حلقوں میں  تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ یہ امام   ابن حزم کی  کردارسازی کے موضوع پر  لکھی کتاب الاخلاق والسیر کا اردو ترجمہ ہے۔اس میں انہوں نے  اخلاق اور معاشرتی روایات کا تجزیہ  کیاہے۔  انہوں نے اس  کتاب کی بنیاد کتاب و سنت کے راہنما اصولوں کے ساتھ ساتھ اپنے ذاتی تجربات ومشاہدات  اورافکار وخیالات پر رکھی ہے ۔ اور   زیادہ تر اپنے ذاتی تجرباتِ زندگی اور پند ونصائح  کو ذکر کرتے ہوئے عنوانات قائم کئے ہیں۔اس کتاب کے معروف عنوانات تزکیۂ نفس، عقل مندی ،راحت وسکون،علم وعرفان،اخلاق وکردار، دوستی وخیر خواہی ، محبت ، عادات وخصال ، بری عادتیں اوران کا  علاج،مدح پسندی کی خواہش،انسان کی عجیب وغریب عادتیں،اور  علمی محفلیں وغیرہ ہیں۔اصل کتاب عربی میں ہے ،اورعربی سے اردو ترجمے کا کام  مولانامحمد یوسف ﷾آف راجووال کے صاحبزادے ڈاکٹر  عبدالرحمن  یوسف نےسرانجام دیا ہے۔ اس کو شائع کرنےمیں حافظ عبد اللہ حسین روپڑی  آف کراچی اور عارف جاوید محمدی﷾ نےنمایاں کردار اداکیاہے۔اللہ ان سب کی محنتوں کو قبول فرمائے۔(آمین)(م۔ا)
     

  • 92 حسن اخلاق قرآن و حدیث کی روشن میں (جمعرات 17 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:8350

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑی دولت اور نعمت سے نوازا ہے، جو پورے دین کو جامع اور اس کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ نعمت اور دولت اخلاق ہے، ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے، چنانچہ آپﷺ کی راز دار زندگی اور آپﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، ”آپﷺ کے اخلاق کا نمونہ قرآن کریم ہے“۔ آپﷺ نے اپنے ہر قول وفعل سے ثابت کیا کہ آپﷺ دنیا میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، چنانچہ ارشاد ہے: ”بعثت لاتتم مکارم الاخلاق“ یعنی ”میں (رسول اللہ ﷺ) اخلاق حسنہ کی تکمیل کے واسطے بھیجا گیا ہوں“۔ پس جس نے جس قدر آپﷺ کی تعلیمات سے فائدہ اٹھاکر اپنے اخلاق کو بہتر بنایا اسی قدر آپﷺ کے دربار میں اس کو بلند مرتبہ ملا، صحیح بخاری کتاب الادب میں ہے، ”ان خیارکم احسن منکم اخلاقا“ یعنی ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ حضورﷺ کی ساری زندگی اخلاقِ حسنہ سے عبارت تھی، قرآن کریم نے خود گواہی دی ”انک لعلی خلق عظیم“ یعنی ”بلاشبہ آپﷺ اخلاق کے بڑے مرتبہ پر فائز ہیں“۔ آپ ﷺ لوگوں کوبھی ہمیشہ اچھے اخلاق کی تلقین کرتے آپ کے اس اندازِ تربیت کےبارے میں حضرت انس﷜ کہتے ہیں۔ رایتہ یامر بمکارم الاخلاق(صحیح مسلم :6362) میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کو عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ انسانی زندگی میں حسن اخلاق کی اسی اہمیت کےپیش نظر زیر تبصر ہ کتا ب’’حسن اخلاق قرآن وحدیث کی روشنی میں ‘‘ الہدی ٰ انٹرنیشنل کے شعبہ ت...

  • 93 حفظ حیا اور ازدواجی زندگی (ہفتہ 29 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2430

    حیا ایمان کاشعبہ ہے اور ایمان سب سے زیادہ مقدم ومحبوب نعمت  ہے لہذا ایمان کی نگہداشت اور حیا کےلیے ضروری ہے کہ حیا کی بارش سےاسے  مسلسل سینچنے کا عمل جاری رکھا جائے۔ جب کسی انسان کےاندر حیا کا آبِ حیات کم ہوجائے تو یہ خطرےکی علامت ہے کہ اس کا ایمان کم ہوگیا  ہےرسول اللہ ﷺ نے  فرمایا: الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ قُرِنَا جَمِيعًا، فَإِذَا رُفِعَ أَحَدُهُمَا رُفِعَ الْآخَرُ(مستدرکحاکم)’’حیا اور ایمان باہم جڑے ہوئے ہیں جب ان میں سے ایک اٹھتا ہے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے‘‘موجودہ معاشرے میں یہ خیال پایا جاتاہے کہ نکاح کےبعد حیا کی ضرورت نہیں رہتی  جو جی چاہے کرو جیسا چاہو پہنو، جیسی چاہو باتیں کرو یہ خیال سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ نکاح تو حیا اور عفت کوبرقرار رکھنے کا محفوظ ترین قلعہ ہے اور  حیا توکنوار پنے اور ازدواجی زندگی دونوں حالتوں میں عمر بھر کی عادت کےطور پر اپنائے رکھنا ضروری ہے۔رسول اللہ ﷺ کےبارے میں صحابہ کرام ﷢ بیان کرتے ہیں کہ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ (صحيح بخاري ومسلم) ’’آپ ﷺ کنواری دوشیزہ سے بڑھ حیا دار تھے۔ آپ ﷺ کو اگر کوئی کام ناگوار گزرتا تو(حیا کےباعث اس کا نام نہ لیتے) بلکہ آپﷺ کے چہرے سے پتا چل جاتا(کہ آپ ﷺ کو فلاں کام ناگوار گزرا ہے‘‘ حیا کےبارے میں رسول اللہﷺ کے جتنے بھی ارشادات ہیں وہ ہر شادی شدہ اور غیر شادی شدہ مرد اور ع...

  • 94 حفظ حیا اور محرم رشتہ دار (جمعہ 07 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2263

    حیا ایک ایسی صفت ہے جو کسی  شخص میں جتنی  زیادہ ہوگی  اس کو  وہ اتنا ہی فحش ومنکر سے درو رکھے گی ۔ارشاد نبوی  ہے :’’جب تم میں حیا نہ رہے تو جوجی چاہے کر‘‘ کچھ کیفیاتِ قلبی ایسی ہیں جو اسلام میں پسندیدہ ہیں ان میں جتنا زیادہ مبالغہ کیا جائے اتنا ہی زیادہ ایمان اور اسلام میں نکھار آتاہے  حیاان میں  سے ایک اہم صفت ہے نبی اکرمﷺ کے حیا کےبارے  میں ایک صحابی کہتے ہیں :’’رسول اللہ ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکی  سے بھی زیادہ باحیا تھے ‘‘اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ  نے حضرت موسیٰ  رضی اللہ عنہ   واقعہ کےضمن میں شیخ کبیر کی لڑکی کے حیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاء ’’ان دولڑکیوں میں سے ایک شرماتی ہوئی ان کے پاس آئی‘‘اس سے معلوم ہوا کہ  حیا خواتین کی سیرت کا  لازمی حصہ ہے ۔اس لیے اگر  مرد اور عورت میں  حیا کی کثرت ہے تویہ اس کےلیےخیر وبرکت کا باعث ہے   ۔لیکن آج دور ِحاضر میں  حیا کا جذبہ دم توڑ تا جارہا ہے ،معاشرہ کھلم کھلا بے حیائی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ محرم رشتوں کے درمیان شرم وحیا اور لحاظ کی جو  مضبوط دیوار تھی وہ اب عام گھرانوں میں نہ ہونے کے برابر ہے ۔با پ بھائی خود اپنی بیٹی اور بہنوں کو ہر قسم کی زیب وزینت خود کرواتے اور دیکھ کر انہیں داد دیتے ہیں  جو کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف  ہے۔زیر نظر کتاب ’’ حفظِ حیا اور محرم رش...

  • 95 حفظ حیا اور کنواری لڑکیاں (پیر 12 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2826

    اللہ تعالیٰ نے انسان کواشرف المخلوقات بناکر فطری خوبیوں سے مالامال کیا ہے۔ان خوبیوں میں سے ایک اہم ترین خوبی شرم وحیا ہے۔شرعی نقطہٴ نظرسے شرم وحیا اس صفت کا نام ہے جس کی وجہ سے انسان قبیح اور ناپسندیدہ کاموں سے پرہیز کرتاہے۔ دین اسلام نے حیاء کی اہمیت کو خوب اجاگر کیا ہے تاکہ مومن باحیاء بن کر معاشرے میں امن وسکون پھیلانے کا ذریعہ بنے۔نبی کریم ﷺ نے ایک صحابی  کو دیکھا جو اپنے بھائی کوسمجھا رہا تھا کہ زیادہ شرم نہ کیا کرو آپ ﷺ نے سنا تو ارشاد فرمایا:اس کو چھوڑدو کیونکہ حیاء ایمان کا جز ء ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا :حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں جانے کاسبب ہے اور بے حیائی جفاء(زیادتی) ہے اور جفا ءدوزخ میں جانے کا سبب ہے ۔حیاء کی وجہ سے انسان کے قول و فعل میں حسن و جمال پیدا ہوتا ہے لہٰذا باحیاء انسان مخلوق کی نظر میں بھی پرکشش بن جاتا ہے اور پروردگار عالم کے ہاں بھی مقبول ہوتا ہے اور قرآن مجید میں بھی اس کا ثبوت ملتاہے۔سیدنا شعیب علیہ السلام کی بیٹی جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بلانے کے لئے آئیں تو ان کی چال وڈھال میں بڑی شائستگی اور میانہ روی تھی۔ اللہ رب العزت کو یہ شرمیلا پن اتنا اچھا لگا کہ قرآن مجید میں باقاعدہ اس کا تذکرہ فرمادیا۔ جو شخص حیاء جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے وہ حقیقت میں محروم القسمت بن جاتا ہے ایسے انسان سے خیر کی توقع رکھنا بھی فضول ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب شرم وحیا ء نہ رہے تو پھر جو مرضی کر۔ زیر تبصرہ کتاب " حفظ حیا اور کنواری لڑکیاں "معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب...

  • 96 خطاؤں کا آئینہ (ہفتہ 26 نومبر 2011ء)

    مشاہدات:17223

    زیر نظر کتاب عقائد ،عبادات اور احکام وآداب کی اصلاح کے متعلق ایک بہترین کاوش ہے۔جس میں عقائد کی خرابیوں ،طہارت،وضو،نماز اور دیگر عبادات میں پائی جانے والی خلاف شریعت چیزوں پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے ۔اور عقائد وعبادات میں پائی جانے والی خامیوں اور خرابیوں کو دلائل سے ثابت کیا گیا ہے ۔اصلاح عقائد وعبادات کے موضوع پر یہ مفید ترین کتاب ہے ۔جس کے مطالعہ سے آپ عقائد وعبادات میں واقع خرابیوں اور خامیوں کی اصلاح  اور خلاف شرع امور سے اجتناب کرسکتے ہیں ۔کتاب کی تیاری اور تبویب وترتیب مؤلف کے ذوق مطالعہ اور رسوخ فی العلم کی شاہد ہے ۔موجودہ معاشرتی بگاڑ اور دینی بے راہ روی کے اس دور میں سادہ لوح مسلمانوں  کے لیے اصلاح کا بہترین مجموعہ ہے ۔(ف۔ر)
     

  • 97 خطاؤں کا آئینہ ( جدید ایڈیشن) (جمعہ 17 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:2056

    ایک مسلمان کی ساری زندگی  عبادات کےگرد گھومتی ہے ،وہ اپنے رب کوراضی کرنے کےلیے  اپنے ہر فعل کو عبادت بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ جس پر وہ اجروثواب کاحقدار ٹھہرے ۔لیکن اگر اسے پتہ چل جائے کہ یہ جوعبادت اور نیکی میں ا س قدر محنت خلوص اور خشوع وخضوع سے کررہا ہوں اس میں  فلاں جگہ پر یہ خطاء اور غلطی سرزد ہورہی ہے جس کی وجہ سے عبادت یا نیک کام باعث اجراوثواب ہونےکی بجائے نہ صرف یہ کہ رب کریم کی بارگا ہ میں  قبول  نہیں ہور ہا بلکہ گناہوں کا باعث بن رہا ہے  تو  وہ یقیناً اس  خطاء وغلطی کی اصلاح پہلی فرصت میں کر ے گا ۔آج بہت سےمسلمان پر  اپنی عبادات بالخصوص  ارکان خمسہ  میں بہت ساری خطاؤں  کے مرتکب ہور ہے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’خطاؤں کا  آئینہ ‘‘صالح بن عبدالعزیز آل شیخ کی  تصنیف ہے جس میں انہوں نے  مسلمانوں کی عبادات میں پائی جانے والی  خطاؤں  کی نشاندہی کی ہے۔ یہ کتاب  اپنے موضوع پر ایک مکمل  اور بے مثا ل کتاب ہے  کہ جس کی روشنی میں ہر مسلمان اپنی عبادت کو خطاؤں سے پاک کر سکتاہے مؤلف نے ایک مسلمان کےلیے عبادات میں واقع ہونےوالی خطاؤں کےمجموعے  کو مرتب کرکے اس کتاب کو گویا ایک آئینہ بنادیا ہے  کہ جس میں انسان اپنی عبادات کے عکس کا جائزہ لےسکتاہے ۔تاکہ اس کی عبادات قرآن وسنت کےمطابق ہوکر اللہ رب العزت کے دربار میں پہنچیں اور قبولیت کادرجہ حاصل کرکےمؤمن کےدرجات میں بلندی کا  عث بنیں اور بندہ کو مزید اپنے رب کےنزدیک کردیں۔اللہ...

  • 98 خطرناک گناہ (ہفتہ 07 نومبر 2009ء)

    مشاہدات:17847

    موجودہ مسلم معاشروں میں ایسے محرمات کا ارتکاب عام ہوگیا ہے جو اللہ تعالی کے ہاں سخت ناپسندیدہ  اور مہلک ہیں- طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ان گناہوں کو  نہ صرف یہ کہ انتہائی معمولی خیال کیا جاتا ہے بلکہ  ان کے جواز کے فتوے بھی جڑے جاتے ہیں- زیر مطالعہ کتاب میں ایسے ہی برے اعمال کے ہولناک نتائج پر بالتفصیل روشنی ڈالی گئی ہے- مصنف نے غیر اللہ کے نام کی قسم اٹھانا،نماز میں ترک اطمینان، لواطت، بیوی سے دوران حیض مباشرت، دیوثیت، سود خوری، کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا اور پڑوسیوں سے بدسلوکی جیسے دیگر درجنوں  مسائل کی اصل حقیقت بیان  کرتے ہوئے  واضح کیا ہے کہ ان گناہوں کو اختیار کرنے کی وجہ سے ہم  ایک انتہائی ہولناک  اور نہ ختم ہونے والے عذاب کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں-

  • 99 خوش نصیبی کی راہیں (جمعہ 20 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:3017

    حقیقی مومن سچی طلب ، محبت، عبودیت ، توکل، خوف وامید،خالص توجہ او رہمہ وقت حاجت مندی کی کیفیت کے ساتھ  اللہ   تعالیٰ کی  طرف رجوع کرتا ہے  پھر وہ اللہ کے رسول کی طرف  رجوع کرتا ہے ۔ دریں صورت کہ اس کی ظاہر ی وباطنی حرکات وسکنات شریعت محمدی کے مطابق ہوں ۔ یہی وہ شریعت ہے جو اللہ تعالیٰ کی پسند اور مرضی کی تفصیل کواپنے  اندر سموئے  ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کے علاوہ کوئی ضابطہ حیات قبول نہیں کرے گا۔ ہر وہ  عمل  جو اس طریقۂزندگی  سے متصادم ہو وہ توشۂ آخرت بننے کی بجائے نفس پرستی کا مظہر ہوگا۔ جب ہرپہلو سے سعادت مندی  شریعت محمدیہ پر موقوف ہے  تو اپنی خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے  کہ انسان اپنی زندگی  کے تمام لمحات اس کی معرفت اورطلب کے لیے وقف کردے۔ زیر نظر کتاب ’’ خوشی نصیبی کی راہیں‘‘ امام ابن قیم الجوزیہ ﷫ کی کتاب ’’طریق الہجرتین وباب السعادتین‘‘  کا ترجمہ وتلخیص ہے امام موصوف نے  اس کتاب میں رجوع الی الرسول کےبنیادی خدوخال سمونے کی  کی کوشش کی  ہے  اور اس کی ابتدا  فقر وحاجت  مندی  اور بندگی سےکی ہے  کہ یہ سعادت کا وہ دروازہ   اور سیدھا  راستہ ہےکہ  خوشی نصیبی  کے حصول  کےلیے صرف اسی میں  داخل ہوا جاسکتا ہے ۔  اور کتاب کا  اختتام  مکلف مخلوق جن وانس  کے آخرت میں طبقات اور   خوش بختی  یا بد بختی  کےگھر میں ان کےمراتب کےبی...

  • 100 خوشگوار زندگی کے 12اصول (ہفتہ 02 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:17534

    آج کے مادی دور میں ہر شخص ایک خوشگوار زندگی گزارنے کا خواہش مند ہے ۔لیکن زیادہ تر لوگوں کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ ایک اچھی اور خوش گوار زندگی دنیوی آسائشوں اور مال ودولت ہی سے حاصل ہو سکتی ہے،لیکن افسوس کہ ہم نے اس باب میں قرآن وحدیث سے یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی کہ خوش گوار زندگی کے اصول کیا ہیں؟یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بے شمار آسائشوں کے حصول کے  بعد بھی بے سکونی و بے اطمینانی رہتی ہے۔جناب ڈاکٹر حافظ اسحٰق زاہد نے زیر نظر کتابچے میں کتاب وسنت کی روشنی میں 12 ایسے اصول ذکر کیے ہیں جو خوش گوار زندگی کے ضامن ہیں اور سچ یہ ہے کہ ان کو نظر انداز کر کے کبھی بھی مطمئن وسرور زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔ہر مسلمان کو چاہیے کہ ان اصولوں کو اپنائے تاکہ وہ دنیا میں ایک خوش گوار زندگی گزار سکے اور آخرت میں بھی اچھی زندگی کا مستحق ہو سکے۔(ط۔ا)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1026
  • اس ہفتے کے قارئین: 9892
  • اس ماہ کے قارئین: 23863
  • کل قارئین : 48410914

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں