دکھائیں کتب
  • 81 تقویٰ کے ثمرات اور گناہوں کے اثرات (ہفتہ 20 فروری 2016ء)

    مشاہدات:3902

    تقویٰ کا مطلب ہے پیرہیز گاری ، نیکی اور ہدایت کی راہ۔ تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہو جانے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجک معلوم ہونے لگتی ہے اور نیک کاموں کی طرف اس کو بے تاہانہ تڑپ ہوتی ہے۔ ۔ اللہ تعالیٰ کو تقوی پسند ہے۔ ذات پات یا قومیت وغیرہ کی اس کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے قابل عزت و احترام وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ ۔ تقویٰ دینداری اور راہ ہدایت پر چلنے سے پیدا ہوتا ہے۔ بزرگان دین کا اولین وصف تقویٰ رہا ہے۔ قرآن پاک متقی لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے۔افعال و اقوال کے عواقب پر غوروخوض کرنا تقویٰ کو فروغ دیتا ہے۔اور روزہ تقویٰ حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ روزے، خدا ترسی کی طاقت انسان کے اندر محکم کر دیتے ہیں۔ جس کے باعث انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی عزت اور عظمت اس کے دل میں ایسی جاگزیں ہو جاتی ہے کہ کوئی جذبہ اس پر غالب نہیں آتا اور یہ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان اللہ کے حکم کی وجہ سے حرام ناجائزاور گندی عادتیں چھوڑ دے گا اور ان کے ارتکاب کی کبھی جرات نہ کرے گا۔ تقویٰ اصل میں وہ صفت عالیہ ہے جو تعمیر سیرت و کردار میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ عبادات ہوں یا اعمال و معاملات۔ اسلام کی ہر تعلیم کا مقصود و فلسفہ، روحِ تقویٰ کے مرہون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر تقویٰ اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ خوفِ الٰہی کی بنیاد پر حضرت انسان کا اپنے دامن کا صغائر و کبائر گناہوں کی آلودگی سے پاک صاف رکھنے کا نام تقویٰ ہے۔اور اللہ اور اس...

  • 82 تنگی کے بعد آسانی (جمعرات 22 جون 2017ء)

    مشاہدات:1605

    دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ اسے اس جہاں میں طرح طرح کی مصائب اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تمام مصائب وآلام بیماری اور تکالیف سب کچھ منجانب اللہ ہیں اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا حصہ ہے کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ کی ذات ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ اطاعت پرمضبوط ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جوآزمائش انہیں پہنچی ہے ۔اس پر وہ صبر کریں تاکہ انہیں بغیر حساب اجروثواب دیا جائے ۔ اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی تقاضا ہےکہ وہ اپنے نیک بندوں کوآزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کوپاک سےنیک کو بد سے اور سچے کوجھوٹے سے جدا کردے ۔ لیکن جہاں تک ان کے اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے شمار گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے ‘‘ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی ضرورت ہے یعنی نفس پر اتنا قابو ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں وہ اداس اور بدل نہ ہو۔دنیاوی زندگی کے اندر انسان کوپہنچنے والی مصیبتوں میں کافر اور مومن دونوں برابر ہیں مگر مومن اس لحاظ سے کافر سےممتاز ہےکہ وہ اس تک...

  • 83 تواضع (بدھ 26 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:1535

    نبیﷺ اپنے علمی‘ عملی اور نبوی درجات کی سب سے بلندی پر فائز تھے‘ بلاشبہ آپ اللہ کے سب سے بڑے متقی‘ سب سے بڑے عالم اور سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے بندے تھے لیکن خود کو سب سے زیادہ متواضع‘ خاکسار اور اللہ کا عاجز بندہ تصور کرتے تھے‘ اور یہی شان آپ ﷺ کے تمام اصحاب کرام میں بھی پائی جاتی تھی‘ دنیا میں اللہ کے محبوب بندے‘ انبیاء‘ صدیقین‘ شہداء اور صالحین تمام اپنے علم وتقوی میں جتنے بلند تھے اسی مناسبت سے اللہ سے ڈرنے والے‘ اس کی بارگاہ میں گردن عجز ونیاز جھکانے والے اور خود کو اللہ کا ادنی بندہ سمجھنے والے بھی تھے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  بھی خاص اسی موضوع پر ہے جس میں ’’التواضع‘‘ پر بڑی جامع‘ بڑی مفید اور مؤثر کتاب ہے۔ اس میں سب سے پہلے تواضع کی تعریف پھر سلف صالحین کے نزدیک تواضع کی تعریف‘  تو اس کے بعد باب بندی کی گئی ہے پہلے باب میں قرآن کریم  اور حدیث سے تواضع کی فضیلت‘ دوسرے باب میں نبیﷺ اور صحابہ کا تواضع‘ اور تیسرے میں صحابہ وتابعین اور علمائے کرام نے تواضع کی کیا فضیلت بیان کی کو‘ چوتھے میں تواضع اختیار کرنے والوں کی صفات اور احوال کو اور پانچویں میں تواضع کے ثمرات کو  بیان کیا گیا ہے۔۔ یہ کتاب’’ تواضع ‘‘ ابو مریم مجدی فتحی السید کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے...

  • 84 تہذیب الاخلاق (پیر 11 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:2596

    نبی کریم ﷺ اخلاقیات کے اعلی ترین مقام پر فائز تھے،اللہ تعالی نے آپ کو اخلاق کا بہترین نمونہ اور پیکر بنا کر بھیجا تھا۔کسی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو آپ نے جواب دیا: کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز تھے۔ اس کی گواہی قرآن نے بھی دی اور صحابہ و ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم نے بھی۔ یہاں تک کہ آپ کے بدترین مخالفین،جنہوں نے آپ پر طرح طرح کے الزامات تو لگائے لیکن کبھی آپ کی سیرت اور کردار کی بابت ایک لفظ بھی نہ کہہ پائے۔حیرت کا مقام ہے کہ آپ کے ہم عصر مخالفین تک آپ کو اعلیٰ اخلاق و کردار کا حامل گردانتے تھے۔ لیکن چودہ سو سال بعد مغرب کے آزادی صحافت کے علمبرداروں کو آپ کے کردار پر انگشت نمائی کا گھناؤنا خیال سوجھا۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہم اپنے پیارے نبی جناب محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور کردار کا مطالعہ کریں اور اس کا زیادہ سے زیادہ پرچار کریں۔ زیر تبصرہ کتاب "تہذیب الاخلاق" محترم حافظ قاری محمد ہمایوں صاحب کی مرتب کردہ ہے جسے وزارت مذہبی امور، حکومت پاکستان کے شعبہ تحقیق ومراجع نے شائع کیا ہے۔مرتب موصوف نے  انتہائی سادہ لیکن مؤثر انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و سیرت کو بیان کیا ہے۔ اس کا مطالعہ ہر اس مسلمان کے لئے مفید ہے جو آپ سے محبت کا دعوٰی کرتا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے اخلاق اور اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق دے...

  • 85 ثواب کمانے کے مواقع (اتوار 29 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:3621

    دنیا کے اس چند روزہ دار  امتحان کو اللہ تعالیٰ نے آخرت کے تیاری او ر نیکیاں کمانے کی مہلت قرار دیا ہے۔  اللہ کا یہ بے پایاں انعام  واحسان ہے کہ اس نے انسان  کو نیکی کی طرف راغب کرنےکے لیے چھوٹے چھوٹے اعمال کے بدلے  عظیم نیکیاں او راجروثواب کا وعد ہ کیا ہے ۔انسان کی  یہ فطرت بھی  ہے کہ  وہ اعمال نامے میں اضافہ کے لیے ان ترغیبات پر انحصار کرتاہے ۔جن میں  اکثر مستند باتوں کی بجائے  بزرگوں کے اقوال اور ضعیف احادیث کا سہار ا لیا جاتا ہے۔ قرآن مجید اور نبی کریم  ﷺ کے مستند فرامین میں ایسے اعمال کاتذکرہ ملتاہے  جو انسان  کو جنت میں لے جانے کا  حقیقی سبب بن  سکتے ہیں۔زیرتبصرہ کتاب  ایک عرب عالم دین نایف بن ممدوح بن عبد العزیز آل سعود کی عربی  کتا ب فرص کسب الثواب کا اردو ترجمہ  ہے   جس میں فاضل مصنف  نے  بڑے احسن انداز میں کتاب  اللہ اورصحیح احادیث   کی  روشنی  میں ایسے  اعمال  و اسباب کو جمع کردیا  ہے  ،جن پر  عمل کر کے  انسان جنت کا  حق دار بن سکتاہے ۔کتاب کے  ترجمےکا کام ’’ زاد الخطیب‘‘ کے  مؤلف ڈاکٹر  حافظ محمد اسحاق  زاہد ﷾ نے سر انجام دیا ہے ۔ حافظ   صاحب اس کتاب کے علاوہ  متعدد کتب کے مترجم ومؤلف  بھی ہیں۔  اللہ    تعالیٰ  اشاعت دین  کے سلسلے  میں ان کی تمام مساعی  جمیلہ کو قبول فرمائے  اور  امت&n...

  • 86 جھوٹ ایک معاشرتی ناسور (جمعہ 24 ستمبر 2010ء)

    مشاہدات:21979

    اسلامی تعلیمات کامقصدبنی نوع انسان کورب کریم کےقرب وحضورکااہل بناتاہے ۔اس ضمن میں خصوصیت کےساتھ اخلاقی برائیوں سےبچنے کی تلقین کی گئی ہے ،جن میں جھوٹ سرفہرست ہے۔کتاب وسنت کی روسے مومن جھوٹ کاارتکاب نہیں کرسکتا۔یہی وجہ ہے کہ جھوٹوں پرخداکی لعنت کی گئی ہےاوراسے منافق کی علامت قراردیاگیاہے ۔حقیقت یہ ہےکہ ایمان کی اصل صدق وسچائی ہےجبکہ کفرونفاق کذب وجھوٹ پراساس پذیرہے۔لیکن افسوس ہے کہ آج کل نام نہادمسلمانوں میں جھوٹ عام ہوتی ہے اوراس کی مختلف شکلیں معاشرے میں رواج پذیرنظرآتی ہے۔یہ قبیح جرم اس قدرپھیل چکاہے کہ بعض صورتوں کوتوجھوٹ سمجھاہی نہیں جاتامثلاً جھوٹامیڈیکل سرٹیفکیٹ ،جھوٹ کی وکالت کرنا،جھوٹے سابقے ولاحقے لگانا،جھوٹی خبریں اخباروں میں شائع کرناکروانا،جھوٹی ڈگریوں کی بنیادپرمعاشرے میں تعارف کرواناوغیرہ جیساکہ فی زمانہ اس کابخوبی مشاہدہ کیاجاسکتاہے ۔اس کےعلاوہ بھی بے شمارشکلوں میں جھوٹ موجودہے لیکن ہم اس پہلوسے غفلت کاشکارہیں ۔زیرنظرکتاب میں اسی مسئلہ کوموضوع بحث بنایاگیاہے اورقرآن وحدیث کی روشنی میں اس کے مختلف پہلوؤں پرمفصل کلام کیاگیاہے ،جس کےمطالعے سے یقیناً جھوٹ سے نفرت کاداعیہ بیدارہوگااوراصلاح نفس کاجذبہ پیداہوگا۔ان شاء اللہ

     

     

  • 87 جھوٹ کی سنگینی اور اس کی اقسام (جمعرات 19 مئی 2011ء)

    مشاہدات:11439

    گناہوں کی دو قسمیں ہیں :صغیرہ  اور کبیرہ ،پھر کبیرہ گناہوں  میں بعض انتہائی سنگین ہیں ،جن کی بنا پر لوگ شدید اذیت اور مشکلات سے دو چار ہوتے ہیں ۔ایسے ہی گناہوں میں سے ایک بد ترین گناہ جھوٹ ہے ۔لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جھوت عام ہو چکا ہے ۔بہت سے لوگ دوسرے لوگوں کے جھوٹ پر رنجیدہ ہونے والے اپنے لیے دروغ گوئی کو عقل و دانش کی علامت سمجھتے ہیں ۔کذب بیانی سے بزعم خود دوسروں کو بے وقوف بنانے کا تذکرہ اپنے لیے باعث افتخار گردانتے ہیں ۔عالم اسلام کے عظیم اسکالر ڈاکٹر فضل الہیٰ نے زیر نظر کتاب میں جھوٹ کی ہلاکت خیزی کو واضح کیا ہے اور جھوٹ کی سنگینی ،جھوٹ چھوڑنے کا عظیم الشان صلہ ،جھوٹ کی اقسام اور جھوٹ بولنے  کی اجازت کے مواقع جیسے اہم مسائل کو قرآن و حدیث اور علمائے سلف کے اقوال کی روشنی میں اجاگر کیا ہے ۔ہر مسلمان کو یہ کتاب لازماً پڑھنی چاہیے تاکہ معاشرے کو جھوٹ جیسے قبیح جرم سے پاک کیا جا سکے ۔
     

  • 88 جہنم میں لے جانے والی مجلسیں (ہفتہ 08 مارچ 2014ء)

    مشاہدات:3313

    انسان  شروع سےہی  اس  دنیا میں تمدنی  او رمجلسی زندگی  گزارتا آیا ہے پیدا ہونے سے لے کر  مرنے تک اسے  زندگی  میں  ہر دم مختلف مجلسوں سے واسطہ پڑتا  ہے  خاندان ،برادری  اور معاشرے کی یہ مجالس جہاں ا س کے  اقبال میں بلندی ،عزت وشہرت میں اضافے  او ر نیک نامی  کا باغث بنتی ہیں وہیں اس کی  بدنامی  ،ذلت اور بے عزتی  کاباعث بنتی ہیں  انسان کو  ان  مجلسوں میں شریک ہو کر کیسا رویہ اختیار کرناچاہیے کہ جو اسے  لوگوں کی نظروں میں ایسا وقار اور عزت وتکریم والا مقام بخش دے  کہ لوگ  اس کے مرنے کے  بعد بھی اسے یاد   رکھیں ۔ زیر نظر کتاب جوکہ ایک عربی کتاب کا ترجمہ ہے  اس میں ایسی  ہی باتوں او ر امور قبیحہ کی  نشاندہی  کی  گئی ہے کہ جو  روزمرہ  کی  یاروں ،دوستوں ، عزیزوں، رشتہ داروں ،کاروباری شراکت داروں  وغیرہ کے ساتھ  مل  بیٹھ کر  گفتگو کرنے کی مجلسوں میں سرانجام دئیے  جاتے ہیں  فاضل مصنف   نے بہت ہی خوبصورت انداز میں  آداب ِمجالس کو  شرعی  دلائل کے ساتھ  پیش کیا  ہے  اس کتاب میں  مذکور موضوعات  اتنے عمدہ او رمفید   ہیں کہ ہر مجلس ومحفل میں پیش  کئے جانےکے قابل ہیں  ہر مربی  ومعلم  ان کی روشنی میں  اپنےزیر تربیت حلقہ کے افراد کی  تربیت  کرسکتاہے  اللہ سےدعا ہے کہ  قرآن وسنت کی  رو...

  • 89 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے (ہفتہ 09 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2260

    جن لوگوں کے اعمال اچھے نہیں ہوتے ہیں یا وہ اچھائی کرنا نہیں چاہتے ہیں،وہ لوگ قیامت کے بارے میں مختلف قسم کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں قیامت نہیں آنی ہے،کبھی کہتے ہیں جزا وسزا نہیں ہوگی،کبھی کہتے ہیں اگر دوبارہ زندہ ہوئے تو جنت میں ہم ہی جائیں گے۔ایسے لوگ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلاء ہیں،ان کو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہئے کہ انصاف کا دن ضرور قائم ہوگا اور انسان کو اس کے اعمال کے مطابق جزا وسزا ضرور ملے گی۔اللہ تعالی ہمیشہ انصاف کرتے ہیں اور قیامت کے دن بھی انصاف کریں گے۔اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتے ۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا ہے اللہ تعالی نیکوکاروں کو تو جہنم میں پھینک دیں اور نافرمانوں اور سرکشوں کو جنت دے دیں،بلکہ ہر شخص سے اس کے اعمال کے مطابق ہی معاملہ کیا جائے گا۔یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت دار الجزاء ہے،وہاں ہر انسان کو اس کے دنیا میں کئے گئے اعمال کے مطابق جزا وسزا ملے گی۔جبکہ ایک محدود حد تک اس دنیا میں بھی اللہ تعالی انسان کو اس کے اچھے یا برے اعمال کا صلہ دے دیتے ہیں۔کارخانہ قدرت کا نظام عدل و انصاف پر مبنی ہے۔اللہ تعالی عدل وانصاف کا اختیار اپنے پاس رکھتے ہیں۔یہاں جو کوئی بھی ظلم کرے گا نظام عدل اس کو ظلم کا بدلہ چکھا دے گا۔ زیر تبصرہ کتاب" جیسا کرو گے ویسا بھرو گے "محترم محمد طیب محمدی کی کاوش ہے جس میں انہوں نے اللہ تعالی کے نظام عدل کا اثبات کرتے ہوئے ظالموں کی اس غلط فہمی کو دور کیا ہے کہ آخرت بھی ان کے لئے ہی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جو جیسا کرےگا ویسا ہی بھرے گا۔جزا وسزا کا دن ضرور قائم ہوگا اور ہر انسان کو اس کے عمل...

  • 90 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے (قاری محمد اعظم ) (جمعہ 16 جون 2017ء)

    مشاہدات:1619

    روز جزاانسان کو اس کے اعمال کے مطابق جزا وسزا ضرور ملے گی۔اللہ تعالی ہمیشہ انصاف کرتے ہیں اور قیامت کے دن بھی انصاف کریں گے۔اللہ کسی پرظلم نہیں کرتے ۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کو تو جہنم میں پھینک دیں اور نافرمانوں اور سرکشوں کو جنت دے دیں،بلکہ ہر شخص سے اس کے اعمال کے مطابق ہی معاملہ کیا جائے گا۔یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت دار الجزاء ہے،وہاں ہر انسان کو اس کے دنیا میں کئے گئے اعمال کے مطابق جزا وسزا ملے گی۔جبکہ ایک محدود حد تک اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ انسان کو اس کے اچھے یا برے اعمال کا صلہ دے دیتے ہیں۔کارخانہ قدرت کا نظام عدل و انصاف پر مبنی ہے۔متعدد احادیث کی روہ سے اللہ کی ذات کا اعلان بھی یہی ہے کہ تم کسی پر آسانی کرو میں تم پر کروں گا۔ تم کسی مسلمان کا عیب چھپاؤ گے تو تم بھی کبھی رسوانہ ہوگئے ، تم دوسروں پر رحم کروگے تو تم پر رحم کیا جائے گا۔اگرکسی مسلمان کی مدد کروگے تو میں تمہاری مدد کروں گا ۔ تم کسی پر خرچ کروگے تم میں تمہیں عطا کروں گا ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ جیسا کرو گے ویسا بھروگے ‘‘ جامعہ اسلامیہ سلفیہ ،گوجرانوالہ کے فاضل نوجوان جناب قاری محمد اعظم کی کاوش ہے انہوں نےاس کتاب میں اللہ تعالیٰ کےاس قانون کو واضح کرنےکوشش کی ہے کہ اللہ کے ساتھ جو بندہ سلوک کرتا ہے اللہ بھی اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتا ہے ۔ مثلاً جو اللہ کو یاد کرتا ہے اللہ اسے یاد کرتا ہے جو اسے بھول جاتاہے اللہ اسے بھول جاتا ہے۔اور جوشخص اللہ کےبندوں کے ساتھ جو رویہ اپنائے گا اللہ تعالیٰ بھی اس کےساتھ ویساہی سلوک فرمائیں گے ۔مثلا...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1036
  • اس ہفتے کے قارئین: 9902
  • اس ماہ کے قارئین: 23873
  • کل قارئین : 48411052

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں