دکھائیں کتب
  • 11 احکام سلام (بدھ 18 مئی 2016ء)

    مشاہدات:2240

    دنیا میں بسنے والےتمام لوگ ملاقات کے وقت اپنے اپنے مذہب ، تہذیب وتمدن اور اطوار اوخلاق کی بنا پر ایک دوسرے کے لیے نیک جذبات کا اظہار مختلف انداز سے کرتے ہیں ۔لیکن دین اسلام کی تعلیمات انتہائی اعلیٰ اور ممتاز ہیں۔ اسلام نے ملاقات کے وقت’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ او رجواباً وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہنے کا حکم دیا ہے ۔ اسلامی تَحِیّہ (سلام) میں ایک عالمگیر جامعیت پائی جاتی ہے ۔اس میں اللہ کا تعالیٰ کا ذکربھی ہے ۔ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اسے آپس میں پھیلائیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے :’’ایک مسلمان کادوسرے مسلمان پر حق ہے کہ وہ اس کے سلام کا جواب دے (صحیح بخاری) سلام کے جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت طلب کرنے کے لیے دعائیہ کلمات ہیں وہاں آپس میں محبت واخوت بڑھانے کا ذریعہ اوراجنبیت کو ختم کرنے کا باعث بھی ہیں۔مسلمانوں کا آپس ملاقات کے وقت زبان سےسلام کہنے کے ساتھ ہاتھ سے مصافحہ کرنا ایسی عظیم سنت ہے کہ اس پر عمل کرنے سے دل سے حسد ،بغض، اور کینہ وغیرہ دورہو جاتاہے۔ جس کی بدولت معاشرے میں امن و سکون کی فضا قائم ہوتی ہے۔ باہمی بھائی چارے اور محبت کو فروغ دینے میں اہم ترین عنصر ایک دوسرے کو سلام کہنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے مسلم معاشرے اس قسم کی بہت سی اقدار سے تہی نظر کرتے آنے لگے ہیں۔ اپنے جاننے والے کی حد تک سلام دعا باقی ہے لیکن اجنبی کو سلام کی روش متروک ہوتی جا رہی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’احکام سلام ‘‘ مولانا عبد الغفور اثری ﷫کی تصنیف ہے۔اس کتاب میں فاضل مصنف نے اہمیت سلام ، فضائل سلام،...

  • 12 اخلاص کے ثمرات اور ریاکاری کے نقصانات (ہفتہ 31 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:5399

    کسی بھی عمل کی قبولیت کے لیے دو بنیادی شرطوں(اخلاص،اور عمل کاسنت نبوی کے مطابق ہونا) کا پایا جانا  بے حدضروری ہے  ان میں سے  کسی ایک  شرط کا فقدان اس عمل کی قبولیت سے  مانع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے  مذکورہ دونوں شرطوں کو قرآن مجید کی مختلف آیات  میں بھی بیان کیا ہے۔اخلاص عبادات کی روح  ہے ۔ اس کے  بغیر ساری عبادتیں بے جان ہیں ۔اور اس  میں کوئی شک نہیں کہ اخلاص نصرت ومدد، اللہ کے عذاب سے نجات او ردنیا وآخرت میں بلندئ درجات کاسبب ہے  ۔ مخلص انسان سے اللہ  عزوجل کی محبت اور پھر زمین وآسمان والوں کی محبت سےسرفرازی کاسبب اخلاص ہی  بنتا ہے ۔ یہ درحقیقت ایک نور  ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں  سے  جس کےدل میں چاہتا ہے  ہے ودیعت فرمادیتا ہے۔ زیر  کتاب’’اخلاص کےثمرات اور ریا کاری کے نقصانات‘‘مملکت سعودی عرب کے معروف عالم  فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعید بن علی قحطانی﷫ کی عربی کتاب کا ترجمہ ہے۔جس میں  شیخ  مرحوم نے  اخلاص کامفہوم  ، اس کی  اہمیت اوراچھی نیت کامقام بیان کیا ہے ۔ا ور نیک عمل سے دنیا طلبی کی خطرناکی ،دنیا کی خاطر عمل کی قسمیں ریاکاری کی خرناکی،اس کی انواع واقسام،نیک عمل پر اس کے اثرات اور ریا کاری کےاسباب ومحرکات  نیز حصول اخلاص کے طریقے  ذکر کیے  ہیں ۔کتاب کے اردوترجمہ کی سعادت انڈیا کے  ممتاز عالم دین  جناب ابو عبد اللہ  عنایت اللہ  سنابلی﷾ نے حاصل کی  ہے۔موصوف اس کتاب کے...

  • 13 اخلاق العلماء (ہفتہ 02 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1984

    اللہ تبارک وتعالیٰ نےاپنی مخلوق میں سےجس کو پسند فرمایا ان کو ایمان کی دولت سےنوازہ پھر ایمان والوں میں سے جن کو پسند فرمایاان پر احسان فرمایاتو ان کو کتاب وحکمت اور دین کی سمجھ عطافرمائی علم سے ان کا درجہ بلندکیااور بردباری سے ان کوآراستہ کیا۔انہیں سے حلال وحرام، حق وباطل،مفید اور غیرمفید، بھلائی اور برائی کی تمیز ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی کلام پاک میں علماء دین کا ذکر اپنے نورانی فرشتوں کے ساتھ کیاہے اور رسول اللہ ﷺ نے علماء دین کو انبیاء کرام کا وارث قرار دیا ہے۔ یہ علماء ہی ہیں جو غافل انسانیت کے لیے تنبیہ اور تشنگان حق کے لیے روشنی کے مینارہیں شیطان انہیں کی وجہ سے کبیدہ خاطر ہےاہل حق کے دل انہیں سے زندہ و جاوید ہیں اور گمراہوں کے دل انہیں سے مرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"اخلاق العلماء"ابو بکر محمد بن الحسین بن عبداللہ الآجری کی تصنیف ہے جس کو محمد سلیمان الکیلانی نے بہت احسن انداز سے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ اس میں علماء کی فضیلت،علماء کے آداب،علماء کی ہمنشینی وغیرہ کا ذکرکیاہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم کو اجر عظیم عطافرمائے۔آمین(عمیر)

  • 14 اخلاق اور فلسفہ اخلاق (اتوار 01 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:7435

    اخلاقیات کی بنیاد کیا ہو ؟ فلسفہ یا مذہب اس حوالے سے تاریخ کے مختلف ادوار میں ہمیں مختلف آرا نظر آتی ہیں ۔ اگر انبیاء اور وحی والہامی تعلیمات کو دیکھا جائے تو اس میں اخلاقیات کی بنیاد ہمیں مذہب ہی نظر آتی ہے ۔ اور اس کے بعد اگر یونانیوں کو دیکھا جائے تو ان کے ہاں اخلاقیات کی اساس فلسفہ ہے ۔ یونانیوں نے اخلاقیات کو ایک مستقل علم بنا دیا ۔ حتی کہ ارسطو نے اس پر ایک مستقل کتاب بھی لکھ ڈالی ۔ اس کے بعد عیسائیت اور اسلام نے پھر اخلاقیات کو مذہبی بنیاد فراہم کردی ۔ تاہم تاریخی طور پر یہ کشمکش جاری ہی رہے گی ۔ لیکن آج تک کے اس تاریخی تسلسل کو زیر نظر کتاب میں بحسن و خوبی بیان کر دیا گیا ہے ۔ اگرچہ یہ کتاب اپنے موضوع پر کوئی مستقل اضافہ تو نہیں البتہ اس کی تحریر میں مصنف کا جو بالخصوص جذبہ کار فرما ہے وہ یہ ہے کہ اردو کو ایک علمی زبان بنایا جائے اور یہ مواد دوسری زبانوں سے اردو میں منتقل کیاجائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ مصنف کی نظر میں آج تک اس موضوع پر جتنی بھی کتابیں لکھی گئیں ہیں وہ سب فلسفہ یا مذہب میں سے کسی ایک کی حمایت میں لکھی گئی ہیں ۔ اس میں کوشش کی گئی ہےکہ یہ موضوع غیر جانب دار ہو کر لکھا جائے ۔ (ع۔ح)
     

  • 15 اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات (پیر 20 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:11500

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑی دولت اور نعمت سے نوازا ہے، جو پورے دین کو جامع اور اس کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ نعمت اور دولت اخلاق ہے، ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے، چنانچہ آپﷺ کی راز دار زندگی اور آپﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، ”آپﷺ کے اخلاق کا نمونہ قرآن کریم ہے۔ آپﷺ نے اپنے ہر قول وفعل سے ثابت کیا کہ آپﷺ دنیا میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، چنانچہ ارشاد ہے: ”بعثت لاتتم مکارم الاخلاق“ یعنی ”میں (رسول اللہ ﷺ) اخلاق حسنہ کی تکمیل کے واسطے بھیجا گیا ہوں“۔ پس جس نے جس قدر آپﷺ کی تعلیمات سے فائدہ اٹھاکر اپنے اخلاق کو بہتر بنایا اسی قدر آپﷺ کے دربار میں اس کو بلند مرتبہ ملا، صحیح بخاری کتاب الادب میں ہے، ”ان خیارکم احسن منکم اخلاقا“ یعنی ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ حضورﷺ کی ساری زندگی اخلاقِ حسنہ سے عبارت تھی، قرآن کریم نے خود گواہی دی ”انک لعلی خلق عظیم“ یعنی بلاشبہ آپﷺ اخلاق کے بڑے مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپ ﷺ لوگوں کوبھی ہمیشہ اچھے اخلاق کی تلقین کرتے آپ کے اس اندازِ تربیت کےبارے میں حضرت انس﷜ کہتے ہیں۔ رایتہ یامر بمکارم الاخلاق(صحیح مسلم :6362) میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کو عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات‘‘ اشاعت کتب کے معروف انٹر نیشنل ادارے دار السلام کے ڈائریکٹر جناب مولانا عبد المالک مجاہد﷾ کی ایک منفر د کاو...

  • 16 ادب کس کا، کیوں اور کیسے (بدھ 30 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:1928

    ادب و آداب اور اخلاق کسی بھی قوم کا طرہ امتیاز ہے گو کہ دیگر اقوام یا مذاہب نے اخلاق و کردار اور ادب و آداب کو فروغ دینے میں ہی اپنی عافیت جانی مگر اس کا تمام تر سہرا اسلام ہی کے سر جاتا ہے جس نے ادب و آداب اور حسن اخلاق کو باقاعدہ رائج کیا اور اسے انسانیت کا اولین درجہ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بات کی جاتی ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں زبان (یعنی اخلاق) سے پھیلا۔ حسنِ اخلاق اور ادب پر لاتعداد احادیث مبارکہ ہیں کہ چھوٹے ہوں یا بڑے‘ سب کے ساتھ کس طرح ادب سے پیش آنے کی تلقین اور ہدایت فرمائی گئی ادب اور اخلاق کسی معاشرے کی بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے جو معاشرے کو بلند تر کر دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ادب سے عاری انسان اپنا مقام نہیں بنا سکتا۔ باادب بامراد اور بے ادب بے مراد ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ادب کس کاکیوں اور کیسے ‘‘ماہنامہ ضیا حدیث کے ایڈیٹر جنا ب نعمان فاروقی ﷾ کے والد گرامی محترم مولانا حکیم محمد ادریس فاروقی﷫ کے ماہنامہ ضیائے حدیث میں لکھے گئے قسط وار کالم ’’ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں‘‘ کی کتابی صورت ہے۔ اس کالم میں موصوف نے ادب الٰہی اور رسول اللہ ﷺ کے ادب پر لکھا یہی مضمون مولانا ادریس فاروقی کی زندگی کا آخری مضمون بن گیا۔ بعد ازاں موصوف کے صاحبزادے مولانا محترم نعمان فاروقی نے ان مضامین کوجمع کرکے انہیں مرتب کیا اوران پر مزید کام کیا، بہت سے مقامات پر اضافے کیے اور اسے ایک خوبصورت کتاب کی صورت میں عوام الناس کے استفادے کے لیے شائع کیا ہے۔ (م۔ا)

  • 17 استقامت فضائل اور درپیش مشکلات (جمعرات 05 فروری 2015ء)

    مشاہدات:3421

    استقامت سے مراد اسلام کو عقیدہ ،عمل اورمنہج قرار دے کر مضبوطی سے تھام لینا ہے۔اور  استقامت  اللہ  اوراس کے روسول ﷺ کی اطاعت  کو لازم پکڑنے اوراس پر دوام اختیار کرنے کا نام ہے۔اہل علم نے استقامت کی مختلف تعریفیں کی  ہیں  ۔ سیدنا  حضرت عمرفاروق ر  فرماتے کہ استقامت کامطلب احکامات اور منہیات پر ثابت قدم رہنا  اور لومڑی کی طرح مکر وفریب سے کام نہ لینا یعنی اوامر کےبجالانے  اور نواہی  کے ترک پراستمرار بجالانا  ہے۔امام ابن قیم ﷫ استقامت کے متعلق   تمام اقوال میں تطبیق دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ استقامت ایک ایسا جامع کلمہ ہے جو  توحید اور اوامر ونواہی پر استقامت ،اسی طرح  فرائض کی ادائیگی اللہ  تعالیٰ کی محبت اس کی  اطاعت  وفرماں برداری لازم پکڑنے ،معصیت کوچھوڑدینے  اور اللہ تعالیٰ کی حقیقی بندگی اختیار کرنے کا نام ہے ۔اللہ تعالیٰ نےنبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کو استقامت اختیار کرنے کاحکم بھی دیا ہے ۔ارشادباری تعالیٰ  ہے : فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ(11؍112)اس آیت کریمہ میں  اللہ تعالیٰ نے اپنی نبیﷺ اور ان کے ساتھیوں کویہ حکم دیا ہےکہ وہ ویسی ہی استقامت اختیار کریں جیسی استقامت کا انہیں حکم دیاگیا ہے اور اس سے دائیں بائیں نہ ہٹیں اور نہ ہی اللہ  کی شریعت سے تجاوز کریں۔ زیر نظر کتاب ’’استقامت فضائل اور درپیش مشکلات‘‘ شیخ  مسند القحطانی کی عربی تصنیف الاس...

  • 18 استقامت(راہ دین پر ثابت قدمی) (اتوار 18 دسمبر 2011ء)

    مشاہدات:18327

    دین اسلام اللہ تبارک وتعالیٰ کاپسندیدہ مذہب ہے،روز قیامت اس کے سوا کوئی دین قبول نہیں ہو گا، اس لیے کتاب وسنت کے دلائل غیر مسلموں کو دین حنیف قبول کرنے کی تاکید کرتے ہیں اورمسلمانوں کو تا حیات دین اسلام سے شدید وابستگی کی تلقین کرتے ہیں، کیونکہ جنت کا اصل وارث وہ  ہے جس کا انجام  ایمان پر ہو-لہذا  ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اسلامی احکامات پر سختی سے کاربند ہو اورزندگی میں کس بھی موقع پردین سے بددل نہ ہو، دین کو دل و جان سے قبول کرنے کے بعد دین پر جم جانا اور استقامت کا مظاہرہ کرنا ہی اصل دین ہے ۔زیر نظر کتاب میں استقامت دین کی اہمیت وضرورت کا بیان ہے نیز وہ چیزیں جو دین میں استقامت کاباعث ہیں ان کی وضاحت کی گئی ہے ۔(ف۔ر)
     

  • 19 اسلاف کا راستہ (بدھ 27 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:1194

    آج جب ہم اعدائے دین کی طرف دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی صفوں میں ہزارہا اختلافات کے باوجود مکمل ہم آہنگی ،وحدت اور یکجہتی پائی جاتی ہے۔اور جب ہم اپنی طرف دیکھتے ہیں تو ایک خدا ،ایک نبی،ایک قرآن اور ایک کعبہ کے ماننے والے انتشار وخلفشار میں مبتلاء،تفرقہ بازی،دھڑے بندی اور افتراق وتشتت کے ہاتھوں قعر مذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں سسکتے نطر آتے ہیں۔وہ دین جو سراپا اتحاد واتفاق ہے ،اہل ہوس نے اسے فرقہ بندی کے زہر آلود خنجر سے لخت لخت کر دیا ہے اور عالمگیر انسانی اخوت کے داعی گروہ بندی کے زخموں سے چور چور نڈھال پڑے کراہ رہے ہیں اور تہذیب وانسانیت کے دشمن ہر جگہ ان کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔ آج امت مسلمہ میں اتفاق اور اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ہم 58 اسلامی ممالک ہیں۔ 2 ارب مسلمان ہیں۔ ہم بہت طاقتور ہوسکتے ہیں، بشرطیہ اختلاف کے ناسور سے نکل آئیں۔ ایک نقطے پر متفق ہوجائیں۔ مسلمانوں کے لیے اس وقت سب سے اہم اور مشترکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ سب مل کر وقت کے طاغوت سے نجات حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔ اور اس کا ایک ہی حل ہے کہ ہم الگ الگ راستے چھوڑ کر اپنے اسلاف کے راستے کو اپنا لیں۔ زیر تبصرہ کتاب " امت میں تفرقہ بازی کا حل، اسلاف کا راستہ"فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن محمد المعتاز ﷾کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی ﷾نے کیا ہے، جبکہ اس پر تقدیم فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان﷾ کی تحریر کردہ ہے۔ اس کتاب میں مولف موصوف نے امت کو تفرقہ بازی سے بچنے اور اتحاد واتفاق پر قائم رہنے کی ترغیب دی ہے۔ بارگاہ...

  • 20 اسلام اور اجتماعیت (پیر 12 جون 2017ء)

    مشاہدات:1914

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ،جس میں زندگی کے ہر ہر گوشے سے متعلق  راہنمائی موجود ہے۔اس کی ایک اپنی ثقافت ،اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے ،جو اسے دیگر مذاہب سے نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص اسلام لاتا ہے تواس میں متعدد تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔اس کی دوستی اور دشمنی کے معیارات بدل جاتے ہیں۔وہ دنیوی مفادات اور لالچ سے بالا تر ہو کر صرف اللہ کی رضا کے لئے دوستی رکھتا ہے اور اللہ کی رضا کے لئے ہی دشمنی کرتا ہے۔جس کے نتیجے میں کل تک جو اس کے دوست ہوتے ہیں ،وہ دشمن قرار پاتے ہیں اور جو دشمن ہوتے ہیں وہ دوست بن جاتے ہیں اور اس کی زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔اسلام کی اپنی تہذیب،  اپنی ثقافت،  اپنےرہنے سہنے کے  طور طریقے اور اپنے تہوار ہیں ،جو دیگر مذاہب سے یکسر مختلف ہیں۔تہوار یاجشن کسی بھی قوم کی پہچان  ہوتے ہیں،اور ان کے مخصوص افعال کسی قوم کو دوسری اقوام سے جدا کرتے ہیں۔جو چیز کسی قوم کی خاص علامت یا پہچان ہو ،اسلامی اصطلاح میں اسے شعیرہ کہا جاتا ہے،جس کی جمع شعائر ہے۔اسلام میں شعائر مقرر کرنے کا حق صرف اللہ تعالی کو ہے۔اسی لئے شعائر کو اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔لہذا مسلمانوں کے لئے صرف وہی تہوار منانا جائز ہے جو اسلام نے مقرر کر دئیے ہیں،ان کے علاوہ دیگر اقوام کے تہوار  میں حصہ لینا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور اجتماعیت"محترم صدر الدین اصلاحی  صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اجتماعیت پر گفتگو کی ہے۔ال...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1564
  • اس ہفتے کے قارئین: 16292
  • اس ماہ کے قارئین: 35585
  • کل قارئین : 47818788

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں