کل کتب 268

دکھائیں
کتب
  • 51 #6021

    مصنف : عبد السلام رحمانی

    مشاہدات : 1132

    المنکرات فی العقائد والاعمال والعادات

    (اتوار 24 ستمبر 2017ء) ناشر : المکتب التعاونی للدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات، ریاض

    دینِ اسلام ایک سیدھا اور مکمل دستورِ حیات ہے جس کو اختیار کرنے میں دنیا و آخرت کی کامرانیاں پنہاں ہیں۔ یہ ایک ایسی روشن شاہراہ ہے جہاں رات دن کا کوئی فرق نہیں اور نہ ہی اس میں کہیں پیچ خم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا اوررسول پاکﷺ کی زندگی ہی میں اس کی تکمیل فرمادی۔عقائد،عبادات ، معاملات، اخلاقیات، غرضیکہ جملہ شبہائے زندگی میں کتاب وسنت ہی دلیل ورہنما ہے ۔ہر میدان میں کتاب و سنت کی ہی پابندی ضروری ہے۔ صحابہ کرام  نے کتاب وسنت کو جان سے لگائے رکھا۔ ا ن کے معاشرے میں کتاب وسنت کو قیادی حیثیت حاصل رہی اور وہ اسی شاہراہ پر گامزن رہ کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے ہمکنار ہوئے۔ لیکن جو ں جوں زمانہ گزرتا گیا لوگ کتاب وسنت سے دور ہوتے گئے اور بدعات وخرافات اور منکرات نے ہر شعبہ میں اپنے پیر جمانے شروع کردیئے اور اس وقت بدعات وخرافات‘ منکرات اور علماء سوء نے پورے دین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  ایسے منکرات کا تذکرہ ہی کیا گیا ہے جو اس وقت ہمارے معاشرے میں ناسور بنے ہوئے ہیں۔ اس کتاب کی اصل کافی ضخیم اور طویل تھی تو مؤلف نے اختصار سے مفہومی اور ضروری ابحاث لی ہیں۔ اس میں اصل  کتاب کا ترجمہ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ ان سے ابداع کو لے کر ذکر کیا ہے ۔ اس میں جہاں کہیں لکھا ہو کہ’شیخ نے لکھا یا فرمایا‘ تو اس سے مراد شیخ علی محفوظ ہوں گےاور ان کی کتاب ’الابداع فی مضار الابتداع‘ مراد ہوگی۔ یہ کتاب’’ المنکرات فی العقائد والاعمال والعادات ‘‘ عبد السلام رحمانی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 52 #5893

    مصنف : صالح بن فوزان الفوزان

    مشاہدات : 1897

    الولاء والبراء في الاسلام، اسلام کا پیمانہ محبت و عداوت

    (اتوار 23 جولائی 2017ء) ناشر : المکتب التعاونی للدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات، ریاض
  • 53 #4935

    مصنف : ابو اسعد محمد صدیق

    مشاہدات : 1431

    امانت کی تلاش

    (ہفتہ 03 دسمبر 2016ء) ناشر : مکتبہ نور نبوت فیصل آباد

    امانت داری ایک اعلی اخلاق ہے ۔ دین کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔ یہ ایک نادر اور بیش بہا صفت ہے۔ انسانی معاشرہ کے لیے جزء لا ینفک ہے۔ اس صفت میں حاکم و محکوم کے ما بین کوئی فرق نہیں ہے‘ تاجر وکاریگر ‘مزدور وکاشت کار ‘ امیر و فقیر ‘ بڑا اور نہ چھوٹا اور نہ ہی شاگرد و استاذ بلکہ ہر ایک کے لیے باعث شرف ومنزلت ہے۔انسان کا اصل سرمایاہے۔اور اس کے کامیابی وکامرانی کا ضامن ہے۔اور ترقی وارتقاء کی چابی ہے۔ہر ایک کے لیے باعث سعادت ہے۔امانت کا معنی بہت وسیع وعریض ہے اور جو لوگ امانت کے معنی کو صرف اس معنی میں محصور کردیتے ہیں کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے پاس کوئی چیز(سونا‘چاندی‘ روپیے پیسے وغیرہ ) ایک معین مدت تک جمع رکھے۔تو اس جمع شدہ چیز کو صاحب مال تک واپس کر دینا ہی امانت داری ہے تو ایک بہت بڑی کج فہمی ہے لیکن حقیقت یہ کہ امانت داری بہت وسیع معنی پر دلالت کرتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب"" محترم مولانا ابو اسعد محمد صدیق صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے امانت کے اسی وسیع مفہوم کو بیان کرتے ہوئے امانت کی مختلف  اقسام کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 54 #1763

    مصنف : عبد اللہ بن محمد المعتاز

    مشاہدات : 5907

    انسان اپنی صفات کے آئینے میں

    (بدھ 24 جولائی 2013ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    اللہ تعالی نے قرآن میں سینکڑوں مقامات پربراہ راست انسانوں سے خطاب کیاہے اور انہیں اپنی زندگی کےنصب العین کوکتاب وسنت کے مطابق ڈھالنے کاحکم دیاہے۔اسی حوالےسےاس کتاب میں ایک انسان کو کامیاب اسلامی زندگی بسرکرنےکی صراط مستقیم دکھائی گئی ہے۔ کتاب  کےپہلےایک تہائی حصے میں انسان کی پندرہ ایسی  کمزوریوں اور خصائل کاذکر کیاگیاہےجو اس کی شخصیت کےنفسیاتی عوارض اور منفی کردار کےمختلف پہلو عیاں کرتی ہیں۔قرآن کی متعدد آیات میں یہ کمزوریاں بیان کی گئی ہیں ۔انسانوں کاخالق ان کی بشری کمزوریوں ،جبلی ناہمواریوں اور فطری کوتاہیوں کوخوب سمجھتاہے،اسی باعث ان آیات میں محض ان کمزوریوں کاتذکرہ کرنےہی پراکتفانہیں کیاگیا بلکہ ان خرابیوں کےعلاج اور عوارض کےمداوے پرسیر حاصل بحث کی گئی ہے۔قرآن  کامطالعہ کرتےوقت ایک قاری کےسامنےیہ بات روشن ہوجاتی ہےکہ معروف ومنکر ،حلال وحرام ،ثواب وگناہ،نیکی  وبدی ،خیر وشر،توحیدوکفر،ظلمت ونور کی اصلیت کیا ہے۔ان ہر دو میں سے کسی  ایک کو اپنانے کے کیانتائج مرتب ہوتےہیں اور کسی خرابی کو اختیارکرنےسے نفس انسانی میں کیا عوارض پیداہوتےہیں اور انسانی شخصیت پرکیسے منفی اثرات مرتب ہوتےہیں۔یہ کتاب ان پہلووں پربھی روشنی  ڈالتی ہے۔(ع۔ح)
     

  • 55 #1753

    مصنف : روبینہ نقاش

    مشاہدات : 5693

    اپنے گھروں کو بربادی سے بچائیں

    (اتوار 14 جولائی 2013ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ دنیا کے کفار بالخصوص ہنود و یہود اور صلیبی امت مسلمہ کی تباہی کے لیے کمر بستہ ہو چکے ہیں۔ انھوں نے یہ سازشی منصوبہ بنایا ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کے اس مضبوط خاندانی نظام کو تباہ کر دیں کہ جس کی بنا پر ایسے افراد جنم لے رہے ہیں جونہ صرف ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرأت کرتے ہیں بلکہ ان کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ان کے ذرائع ابلاغ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا وغیرہ خاص طور پر ان کے مشن کو مسلمانوں میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ محترمہ روبینہ نقاش نے یہ کتاب اسی لیے ترتیب دی ہے کہ ان ذرائع و اسباب سے آگاہی حاصل کی جائے کہ جن کے ذریعے کفر ہمیں صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتا ہے، تاکہ اپنے خاندانوں اور مسلم گھرانوں کو تباہی و بربادی سے بچایا جا سکے۔ یہ بربادی کس کس طرح ہمارے گھروں میں داخل ہو رہی ہے؟ اور اس سے ہم نے اپنے آپ کو کیسے بچانا ہے؟ یہی اس کتاب کا موضوع ہے۔ کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلے حصے میں ان محرکات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی وجہ سے ہمارے گھر بربادی کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اور واقعتاً یہ ایسے محرکات ہیں جن کو معمولی سمجھنے کی وجہ سے ہم غیر محسوس طریقےسے ان میں جکڑے جا چکے ہیں۔ کتاب کا دوسرا حصہ ’گھر کو جنت کیسے بنائیں؟‘ کے عنوان سے ہے جس میں گھر کو پر سکون اور کامیاب بنانے کے طریقے درج کیے گئے ہیں۔ کتاب کا اسلوب بہت سادہ اور عام فہم ہے عوام و خواص کے لیے اس کا مطالعہ بہت مفید ہے۔(ع۔م)
     

  • 56 #2694

    مصنف : عبد العزیز سدحان

    مشاہدات : 3366

    اچھا عالم بننے کے لیے

    (اتوار 14 دسمبر 2014ء) ناشر : مسلم پبلیکیشنز لاہور

    علم  دين اہل اسلام کی بنیادی ضرورتوں میں سے سب سے زیادہ ضروری ہے  اس لیے  کہ یہ دنیا میں سعادت مندی اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ  مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد ہر دور میں علم ِدین کی  مشتاق رہی ہے اور علماء  وشیوخ کے حلقاتِ دروس سے  مستفید ہونے کے لیے اہل ایمان نے اپنے  گھر بار چھوڑے، دوسرے شہروں اور ممالک کی طرف لمبے لمبے سفر کیے اور علم کی پیاس بجھانے کی خاطر طرح طرح کی  صعوبتیں اٹھائی ہیں ۔حصو ل علم کاشوق اور رغبت پیدا ہونا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت  ہے  کیونکہ علم ایسی دولت ہے جوصرف اسے ملتی  ہے جس پر اللہ  کی رحمت ہوتی ہے ۔اس عظیم  وپاکیزہ علم کو پانے کے لیے  بہت  سے احباب جب تیار ہوجاتے ہیں تو  طرح طرح کے سوالات ان کےذہنوں میں تذبدب پیدا کرنے لگتے ہیں کہ میں  کہاں سے تعلیم  حاصل کروں؟ کو ن سا ادارہ اور کس ادارے کا  نصاب میرے لیے مفید ہوگا؟ اور تعلیم کےبعد میرا مستقبل کیا ہوگا ؟ توایسی صورت حال میں  ان سوالات کےجوابات مہیا کرنا اور اس کےبعد  متلاشیانِ علم کو کامیاب اورمثالی شخصیات بننے کےلیے  علم کے آداب ، حصول علم کے فوائد وثمرات اوراس کےاغراض ومقاصد  سے  متعارف کروانا بہت ضروری ہے ۔زیر تبصرہ کتاب’’اچھا عالم بننے کےلیے...! ‘‘ سعودی عرب کے  جید عالم دین  فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز السدحان کی ایک  عربی کتاب کا سلیس ورواں اردو ترجمہ ہے ۔جوکہ  طالبانِ  علوم نبوت کےلیے ایک  قابل قدر کاوش ہے  جس میں  مصنف موصوف نے   طلباء کے  تعلیمی مسائل وامور کے بارے میں  آیات قرآنیہ، احادیث نبویہ اور اسلاف کرام  کےمفید پندو نصائح وران کی محنت ہائے شاقہ کے  واقعات کے ذریعے بڑے احسن انداز میں  طالبانِ علوم نبوت کی راہنمائی کی  ہے۔دینی طلبہ  وطالبات کے علاوہ عصری علوم کےحاملین بھی اس سے برابر استفادہ  کرسکتے ہیں ۔حصولِ علم کے آداب ،مثالی طالب علم اور اچھا عالم بننے کے زریں اصولوں پر مشتمل اس  کتاب کاترجمہ کرنے  کی سعادت   فضیلۃ الاخ محترم  حافظ فیض اللہ ناصر ﷾(فاضل جامعہ لاہور اسلامیہ ،لاہور) نے  حاصل کی  ہے  موصوف اس کتاب کے  علاوہ  بھی تقریبا نصف درجن کتب کےمترجم ومرتب ہیں۔تصنیف وتالیف وترجمہ کے میدان میں موصوف کی  حسن  کارکردگی  کے اعتراف   میں  ان کی مادر علمی  جامعہ لاہورالاسلامیہ،لاہور  نے2014ء کے آغاز میں  انہیں اعزازی شیلڈ  وسند سے  نوازاہے ۔اللہ تعالیٰ ان کے  علم وعمل  اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے  (آمین)  (م۔ا)

  • 57 #5469

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 2646

    اچھائی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا

    (جمعرات 01 جون 2017ء) ناشر : ادارہ اشاعت اسلام علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

    امت مسلمہ صرف ’کلمہ گو‘ جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے ۔ یہ اس کے دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرافرازی اور آخرت کی سرخروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں ، بنی آدم کو اس کا درس اور اس کی مخالف سمت چلنے سے ان کو روکے ۔اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔ مسلم معاشرے کے ہرفرد کا فرض ہے کہ کلمہ حق کہے ،نیکی اور بھلائی کی حمایت کرے اور معاشرے یا مملکت میں جہاں بھی غلط اور ناروا کام ہوتے نظر آئیں ان کوروکنے میں اپنی ممکن حد تک پوری کوشش صرف کردے ۔ ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں ۔ برائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ ہوں او ر نیکی کا غلبہ رہے۔ برے لوگ کم ہوں اور برائی مغلوب رہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ﷩ کو مبعوث فرمایا اورانبیاء کرام کاسلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے حکمرانوں ،علماء وفضلاء کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کوعموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے ۔قرآن وحدیث میں اس فریضہ کواس قد ر اہمیت دی گئی ہے کہ تمام مومن مردوں اورتمام مومن عورتوں پر اپنے اپنے دائرہ کار اور اپنی اپنی استطاعت کےمطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکرپر عمل کرنا واجب ہے ۔اوراللہ تعالیٰ نےقرآن کریم کی ایک ایت کریمہ میں حکمرانوں کوبھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کامکلف ٹھہرایا ہے۔ نیز ان حکمرانوں سےمدد کا وعدہ فرمایا ہے جو حکومت کی قوت اور طاقت سے نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔اسلام صرف عقائد کانام نہیں ہے۔بلکہ مکمل نظام حیات ہے جس میں اوامر بھی ہیں اور نواہی بھی۔ بعض اوامر ونواہی کا تعلق تبلیغ ،تذکیر اوروعظ ونصیحت کے ساتھ ہے جس پر عمل کرنا والدین ، اساتذہ کرام، علماء وفضلاء اور معاشرے کے دیگر افراد پر واجب ہے جس سے افراد میں ایمان، تقویٰ ،خلوص، خشیت الٰہی جیسی صفات پیدا کر کے روح کا تزکیہ اور تطہیر مطلوب ہے ۔ بعض اوامر ونواہی کا تعلق حکومت کی طاقت اور قوتِ نافذہ کے ساتھ ہے ۔ مثلاً نظام ِصلاۃ ، نظام ِزکاۃ ،اسلامی نظامِ معیشت، اسلامی نظامِ عفت وعصمت اور قوانین حدود وغیرہ جس سے سوسائٹی میں امن وامان ، باہمی عزت واحترام اور عدل وانصاف جیسی اقدار کو غالب کر کے پورے معاشرے کی تطہیر اور تزکیہ مطلوب ہے۔ جب تک اوامرونواہی کے ان دونوں ذرائع کو موثر طریقے سےاستعمال نہ کیا جائے معاشرے کا مکمل طور پر تزکیہ اور تطہیر ممکن نہیں ۔عہد نبویﷺ میں رسول اللہ کی ذات مبارک خود بھی شریعت کے اوامر ونواہی پر عمل کرنے میں سب سے آگے تھی ۔ فرد اور پوری سوسائٹی کے تزکیہ اورتطہیر کے اعتبار سے آپ ﷺ کا عہد مبارک تمام زمانوں سے افضل اوربہتر ہے ۔رسول اکرمﷺ کی وفات کے بعد عہد صدیقی میں شدید فتنے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بڑی فراست ،دوراندیشی اور استقامت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہو کر تمام فتنوں کا استیصال فرمایا۔ اوراسی طرح سیدنا عمر فاروق نے بھی بعض دوسرے سرکاری محکموں کی طرح نظام احتساب اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کابھی باقاعدہ محکمہ قائم فرمایا۔ حضرت عثمان اور حضرت علی نےبھی اپنے عہد میں اس نظام کو مضبوط بنایا لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نےنظام احتساب کے حوالے سے ایک بار پھر حضرت عمر بن خطاب کی یاد تازہ کردی۔اموی ،عباسی اوربعد میں عثمانی خلفاء کےادوارمیں بھی امر بالمعروف عن المنکر کانظام کسی نہ کسی صورت میں قائم رہا ۔دین کے مرکز حجاز یعنی سعودی عرب میں آج بھی نظام احتساب کا ادارہ الرئاسة العامة لهئية الامربالمعروف والنهى عن المنكر کے نام سے بڑا موثر کردار کررہا ہے ۔روزانہ پانچ نمازوں کے اوقات میں تمام چھوٹی بڑی مارکیٹوں کے کاروبار بند کروانا گلی گلی محلے محلے نمازوں کے اوقات میں گھوم پھر کر لوگوں کونماز کےلیے مسجد میں آنے کی دعوت دینا، بے نمازوں کوتلاش کرنا ، انہیں پکڑ کر تھانے لانا چوبیس گھنٹے تک انہیں وعظ ونصیحت کرنا اورنماز پڑھنے کا وعدہ لے کر رہا کرنا ادارہ امربالمعروف ونہی عن المنکر کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔اور اسی طرح زکاۃ کی ادائیگی کے بغیر کوئی کمپنی سعودی عرب میں اپنا کاروبار نہیں کرسکتی، رمضان المبارک کے مہینے میں غیر مسلموں پر بھی رمضان کااحترام کرنا واجب ہے ۔ ہر سال احترام رمضان کے بارے میں رمضان سےقبل شاہی فرمان جاری ہوتا ہے اگر کوئی نام نہاد مسلمان یا غیر مسلم احترام ِرمضان کےفرمان کی پابندی نہ کرے تو اس کا ویزہ منسوخ کر کے اسی وقت اسے ملک بدر کردیا جاتا ہے ۔سعودی عرب میں رہائش پذیر ہر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ مملکت میں واقعی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ادارہ موجود ہے ۔ اور اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دے رہا ہے۔سعودی حکومت دیگر اداروں کی طرح امربالمعروف وعن المنکر اوردینی کی اشاعت وترویج میں مصروف عمل اداروں کو اسی طرح سالانہ بجٹ میں فنڈ مہیا کیے جاتے ہیں جس طرح مملکت کے دیگراداروں کومہیا کیے جاتے۔بلاشبہ سعودی حکومت اس معاملے میں تمام اسلامی ممالک کےمقابلہ میں ایک امتیازی شان رکھتی ہے۔ اور قرآن وحدیث کی روسے تمام اسلامی ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے ادارے قائم کریں اوراسلامی ریاست کو غیر اسلامی ممالک کے سامنے پورے اعتماد کے ساتھ ایک ماڈل کی حیثیت سے پیش کریں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ اچھائی حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا ‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کے ایک مختصر عربی رسالہ الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر کا ترجمہ ہے شیخ موصوف نے اس کتابچہ میں قرآن اور سنت کی روشنی میں اس موضوع پر اسلا م کا نقطہ نظر بیان کیا ہے ۔ جونہایت ہی قابل قدر عمل ہے ۔ محترم رانا خالد مدنی ﷾ نےاسی لیے اس کتابچہ کو اردو زبان میں منتقل کیا ہے كہ عوام الناس بھی اس پر عمل پیرا ہوسکیں۔ (م۔ا)

  • 58 #5479

    مصنف : امتیاز احمد

    مشاہدات : 1367

    اہل فکر کے لیے یاد دہانی

    (منگل 06 جون 2017ء) ناشر : نا معلوم

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ،جس میں زندگی کے ہر ہر گوشے سے متعلق  راہنمائی موجود ہے۔اس کی ایک اپنی ثقافت ،اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے ،جو اسے دیگر مذاہب سے نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اہل فکر کے لئے یاد دہانی "محترم امتیاز احمد صاحب، ماسٹر آف فلاسفی کی تصنیف ہے ، جس  کا اردو ترجمہ محترم ڈاکٹر حافظ سلمان الفارس نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں اسلام کی روشن تعلیمات اور آفاقی اصولوں پر روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 59 #473

    مصنف : امتیاز احمد

    مشاہدات : 11557

    اہل فکرکے لیے یاد دہانی

    (جمعرات 17 مارچ 2011ء) ناشر : المکتبۃ التعاونی للدعوۃ والارشاد

    اس وقت آپ کے سامنے"Reminders for people of understanding"  کا اردو ترجمہ’اہل فکر کے لیے یاد دہانی‘ کے نام سے ہے۔ جو محترم امتیاز احمد کی تصنیف ہے۔ فاضل موصوف کے اس سے قبل بھی دو کتابوں کے اردو تراجم اشاعت کے مراحل طے کر چکے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں انہوں نے انسانی زندگی کے مختلف مراحل پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے قرآن کو بنیاد بناتے ہوئے احادیث و اقوال سلف سے مدد لی ہے۔ انہوں نے متعدد عناوین کے تحت جہاں حضرت داؤد، حضرت سلیمان اور حضرت خضر علیہم السلام سے متعلق متعدد واقعات پر روشنی ڈالی ہے وہیں اسلامی اخلاقیات کے باب میں بھی اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ کتاب کا اردو ترجمہ حافظ سلمان الفارس نے کیا ہے۔ ترجمے کے حوالے سے یہ بات قابل غور ہےکہ انہوں قرآنی آیات ذکر کرتے ہوئے صرف اردو تراجم نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔ اگر ان کے ساتھ قرآنی عربی نصوص کا تذکرہ بھی ہوتا تو بہت بہتر ہوتا۔ اس کے علاوہ قرآنی آیات کے ذیل میں بیان کردہ احادیث اور اقوال سلف کی تخریج بھی نہیں کی گئی۔ اس کا اہتمام بھی ہوتا تو کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہو جاتا۔ بہرحال دین کے چیدہ چیدہ اصولوں سے آگاہی کے لیے یہ کتاب قدرے اہم ہے۔

     

  • 60 #5086

    مصنف : عبد الحمید صدیقی

    مشاہدات : 1501

    ایمان اور اخلاق

    (جمعہ 20 جنوری 2017ء) ناشر : البدر پبلیکیشنز لاہور

    تاریخ کے نامعلوم دور سے لیکر آج تک یہ سوالات ہر انسان کے سامنے رہے ہیں کہ یہ کائنات کیا ہے اور کس طرح وجود میں آئی ہے۔بلکہ خود انسان کس طرح پیدا ہوا ہے اور اس کا نجام کیا ہونا چاہئے۔کائنات میں موجود اشیاء کا باہمی رشتہ کیا ہے اور ان اشیاء سے انسان کا تعلق کیا ہے۔نیز اس تعلق کے تقاضے کیا ہیں۔ان گتھیوں کو سلجھانے کے لئے ہر دور کا انسان غور وفکر میں مصروف رہا ہے اور ہر دور نے ان سوالات کے جوابات کے لئے ایک مکمل فلسفہ حیات وضع کیا ہے جس کے نتیجے میں مختلف نظام ہائے زندگی ظہور میں آئے ہیں۔ہمارے موجودہ دور میں بھی زندگی کے مختلف فلسفے اور نظام موجود ہیں اور ان میں اعتقاد رکھنے والے اپنے اپنے مخصوص طرز زندگی کو صحیح اور بہتر ثابت کرنے میں کوشاں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" ایمان اور اخلاق"محترم پروفیسر عبد الحمید صدیقی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے کائنات کے نظام کے حوالے سے گفتگو کی ہے اور اس میں ڈارون کی خام خیالیاں، وجودخالق کائنات، اسلام میں خدا کا تصور،خدا اور رسولﷺ کی محبت کے تقاضے، انسان کا مقصد حیات، انسان اور رائج الوقت تہذیبیں،مادی ترقی اور انسان،انسان کا متاع دنیا سے تعلق، صبر وتوکل اور عورت کا مقام جیسے ابواب قائم کئے ہیں۔(راسخ)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 26 27 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1182
  • اس ہفتے کے قارئین 7167
  • اس ماہ کے قارئین 45561
  • کل قارئین49322283

موضوعاتی فہرست